پانچ روپے کا پاکستانی سکہ 141

سرمایہ دار سے سویٹ نہیں سکہ لیجئے

رقیہ اکبرچودھری۔۔۔۔۔۔۔
آج اپنے بچوں کیلئے کچھ خریداری کرنے میں ایک قریبی سپر سٹور پر گئی۔ کچھ اشیاء خریدیں ان کی ادائیگی کی تو اسی دوران میرے بیٹے دائود جو میرے ساتھ تھا، کے پائوں پہ ہلکی سی چوٹ لگ گئی۔ کاوئنٹر گرل سے ایک عدد ’سنی پلاسٹ‘ مانگا۔ سنی پلاسٹ کی رقم اس بچی نے میرے بل میں ایڈ کی اور بقایا رقم مجھے ادا کرتے ہوئے ایک سویٹ عرف عام ٹافی میرے ہاتھ میں پکڑا دی: ” سوری! میم چھٹا نہیں ہے “۔

میں نے کاونٹر گرل سے کہا: سوری! میں یہ ٹافی نہیں لوں گی۔ آپ کے پاس سکہ نہیں تو یہ میری ذمہ داری نہیں، کس حساب سے آپ میری رقم چاہے (وہ پانچ روپے ہی کیوں نہیں) کے بدلے مجھے ایک ٹافی پکڑا کر چلتا کر دیں گی۔

ایک عدد سنی پلاسٹ کی رقم جو شاید پانچ روپے سے بھی کم ہے اس کو تو بل میں”ایڈنا” لازم ہے کیونکہ سیلر مجھے مفت میں کچھ بھی نہیں دے گا مگر پانچ کے سکے کے بدلے مجھے وہ ٹافی پکڑا دیں جس کی نہ مجھے ضرورت نہ میری ڈیمانڈ۔

مطلب اپنے لئے ہر کسٹمر سے “پانچ کا مفتا” جائز اور کسٹمر کیلئے ایک سنی پلاسٹ بھی فری میں نہیں۔۔
میں نے کہا بی بی یا تو سنی پلاسٹ کی رقم بل سے منہا کردو یا میری رقم کی مکمل ادائیگی۔۔۔

میری طرح آپ میں سے بھی بیشتر لوگوں کے ساتھ بارہا یہ واقعہ پیش آیا ہو گا کہ خریداری کی ادائیگی کے بعد دکاندار آپ کو آپ کی بقایا رقم کی واپسی پر پانچ روپے کا سکہ یا دس روپے کا چھٹا واپس کرنے کی بجائے ایک سویٹ ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے۔۔اور بارہا یہ معاملہ مختلف افراد نے ہائی لائٹ بھی کیا مگر نہ سرمایہ دار نے اپنی روش بدلی نہ ہم جیسے کسٹمرز نے۔

کیوں؟
ایسا کیوں ہے اور آپ اور میں اس پر خاموشی سے چپ سادھے وہ “ٹافی” اٹھا کر گھر کیوں آجاتے ہیں؟
اس پر احتجاج کیوں نہیں کرتے۔

کیا آپ جانتے ہیں ایک درمیانے درجے کے سپر سٹور پر ایک دن میں اندازاً کتنے گاہک آتے ہوں گے؟
شاید کم سے کم دو تین سو۔۔اور ہر کسٹمر اگر پانچ کا ایک سکہ ان سرمایہ داروں کی جیب میں فی سبیل اللہ ڈالتا جائے تو سوچئے شام تک اس سرمایہ دار کی جیب میں کتنا “مفتا” چلا گیا جو پہلے ہی کسٹمر سے بہت کچھ اینٹھ چکا ۔

اور ساتھ ساتھ اس نے اپنی وہ پروڈکٹ بھی سیل کر دی(ٹافی) جو کسی نے لینی بھی نہیں تھی۔
اس سے قبل مختلف اشیاء کی قیمتوں میں روپے کے ساتھ ننانوے پیسے ،پچاس اور پچیس پیسوں کی “پخ” پر بھی کئی ایک ماہرین نے آواز اٹھائی مگر چونکہ یہ بڑے پیمانے کی گیم ہے اور اتنی بڑی تبدیلی آپ کے اور میرے اختیار میں نہیں تو کم از کم جو آپ کے اور میرے اختیار میں ہے اس پر تو بات کی جا سکتی ہے۔
خود کو تبدیل کرنے کی کوشش تو ہم کر ہی سکتے ہیں ناں!

جناب یہ وہ سرمایہ دار ہے جو حکومت کو اپنا شناختی کارڈ اور سیلز ٹیکس دینے سے انکاری ہے جسے اپنے حقوق کا مکمل ادراک ہے بلکہ شاید اپنے حق سے بھی زیادہ مراعات حکومت سے وصول کرنا چاہتا ہے مگر کنزیومر کے حقوق غصب کرنے سے ذرا بھی نہیں چوکتا۔۔وجہ؟

کیوں کہ ہم پانچ روپے کی ادائیگی پر بحث کرنا خلاف شان سمجھتے ہیں۔۔
کیا ایسا نہیں؟

کیا وجہ ہے آخر کہ ہم سرمایہ دار کے “سکہ نہیں سویٹ ” کے اس اصول کو چپ چاپ برداشت کر رہے ہیں؟

ہم جو حکومتوں کے روپے روہے کا حساب رکھنا چاہتے ہیں سرمایہ دار کی اس دادا گیری پہ چپ کیوں سادھ لیتے ہیں۔۔؟

آپ کا کیا خیال ہے؟
اپنی رائے سے نوازیئے۔۔
اور آج سے “سویٹ نہیں سکہ”
کیا کہتے ہیں آپ ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں