سرخ گوشت 190

عید قربان، اچھی صحت کے لئے گوشت کیسے کھائیں؟

حکیم نیاز احمد ڈیال۔۔۔۔۔۔
عید قرباں مسلمانوں کا جہاں ایک مذہبی تہوار ہے وہیں گوشت کے شوقین حضرات کے لیے جی بھر کرگوشت کھانے کا ایک شاندار موقع بھی ہے۔ ایسے افراد جو اپنے کم وسائل کی وجہ سے روز مرہ گوشت کھانے کی گنجائش نہیں رکھتے عیدِ قرباں پہ انہیں بھی گوشت کی فراوانی میسر آتی ہے۔

عام طور پہ قربانی کے موقع پر بڑا گوشت بکثرت ہوتا ہے جبکہ بڑا گوشت بہت سے بدنی مسائل کا سبب بھی بنتا ہے۔

گوشت ہماری خوراک کا ایک لازمی اور ضروری حصہ ہے ۔یہ ہمارے بدن کی پہلی اور بنیادی ضرورت بھی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند آدمی کو روزانہ 100 گرام تک گوشت لازمی کھانا چاہیے۔ گوشت پروٹین،چربی،نمکیات اور پانی کا مجموعہ ہوتا ہے۔اس میں پروٹینی اجزا قدرے زیادہ پائے جاتے ہیں۔

چونکہ انسانی بدن کے رگ وریشے بھی پروٹین سے بنے ہوتے ہیں اور دورانِ حرکات و سکنات یہ پروٹینی مادے تحلیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ یوں ہمارے جسم کو پروٹینی اجزا کی ضرورت لازمی ہوتی ہے۔

ہماری صحت مندی کا ایک لازمی جزو پروٹینز ہیں جو ہم اپنی خوراک میں شامل گوشت اور دیگر پروٹینی غذاﺅں سے حاصل کرتے ہیں۔ماہرین غذا کے مطابق حیوانی پروٹینز نباتاتی پروٹینز سے بہتر طور پہ ہماری جسمانی ضروریات کو پورا کرسکتی ہیں لیکن فی زمانہ سہل پسندی اور تعیشانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے یہی پروٹینی مادے ہمارے بدن میں کئی مہلک اور موذی امراض کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

طبی نقطہ نظر کے مطابق گوشت موجودہ دور کی خطرناک اور مہلک بیماریوں مثلاًامراض قلب ،امراض گردہ،جگر ،مثانہ،یورک ایسڈ،کو لیسڑول ،جوڑوں کا درد اور ذہنی و دماغی مسائل کا سبب بن رہاہے۔

دانا کہتے ہیں کہ گوشت انسان کے اندرحیوانی خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ ذہن کو کند کرکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماند کرتا ہے۔ ہوش کی نسبت جوش اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتا ہے۔

اس کے علاوہ دانتوں میں گوشت کے ریشے پھنس کر امراض دندان کے مسائل بھی اکثر پیدا کردیتے ہیں۔ دھیان رہے کہ وہ لوگ جو امراض قلب،گردہ،جگر،ہائی بلڈ پریشر،ہائی کولیسٹرول قبض،جوڑوں کا درد،یورک ایسڈ ،ذیابیطس اور خرابی خون جیسے امراض کا شکار ہوں ان کے لیے بڑا گوشت انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔

قارئین! ہم یہاں گوشت کے فوائد، نقصانات اور استعمال کے مفید طریقے تحریر کیے دیتے ہیں تاکہ گوشت کا مناسب استعمال کرکے اثراتِ بد سے محفوظ رہا جاسکے۔

خصوصیات کے لحاظ سے اونٹ کا گوشت پٹھوں کو طاقت دینے والا،ہیپاٹائٹس کو ختم کرنے،پیشاب کی جلن دورکرنے اور ضدی بخاروں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔اس کی چربی کا لیپ بواسیری موہکوں کا خاتمہ کرتاہے۔ دھیان رہے کہ اونٹ کا گوشت دیر ہضم،کم غذائیت کا حامل،فاسد مادے پیداکرتاہے اور اس کا ذائقہ نمکین ہوتا ہے۔ مزاج کے لحاظ سے اونٹ کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے ۔یہ سرد تر مزاج والے افراد کے لیے منافع بخش ہوا کرتا ہے۔

گائے کے بارے میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ ”گائے کا گوشت بیماری ہے اور اس کا دودھ شفاءہے۔“گائے کا گوشت خراب خون پیدا کرتاہے،دیر سے ہضم ہوتا ہے اور سوداوی امراض ،اداسی،چڑچڑاپن،جنون،اتھرائیرٹس،شاٹیکا پین اور زہریلے بخاروں کا سبب بنتا ہے۔ مسوڑھوں پر ورمی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ گائے کے گوشت کا مزاج دوسرے درجے میں گرم خشک ہوتا ہے۔ اپنی انہی خصوصیات کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔

بھینس کا گوشت پہلے درجے میں گرم خشک ہوتا ہے اور تمام اخلاط کے فاسد مادے کثیر تعداد میں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔غیر ضروری استعمال سے سوداوی مادوں کو بڑھاوا ملتا ہے ۔ کم عمر اور جوان بچے کا گوشت کم مضرت کا حامل ہوتا ہے۔یہ پہلے درجے میں گرم خشک ہوتا ہے۔

بکرے کا گوشت ہر عمر کے افراد کے لیے مفید،عمدہ خون پیدا کرتا ہے،جلد ہضم ہوتا ہے اور اس کا مغز تازگی مہیا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ جوان بکرے کا گوشت بڑی عمر کے جانور کی نسبت زیادہ خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

کمزور اور نحیف مریضوں کے لیے بکرے کے گوشت کی یخنی اور پتلا شوربہ مفید مانا جاتا ہے۔اس کا مزاج گرم تر ہوتا ہے اور یہ سرد خشک مزاج کے حامل افراد کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بھیڑ کا گوشت گاڑھا خون پیدا کرتا ہے چونکہ اس میں چربی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے اس لیے کمزور معدہ والے افراد کو ہضم نہیں ہو پاتا۔مقوی اعضائے رئیسہ اور بدن کو موٹا کرتا ہے۔مزاج کے لحاظ سے بھیڑ کا گوشت گرم تر ہوتا ہے۔

دنبے کا گوشت گرم خشک خصوصیات کا مالک ہوتا ہے۔اس میں غذائیت کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔جسامت کو خوبصورت بناتا ہے۔اعضائے رئیسہ اور اعصاب کو طاقت ور بناتا ہے۔اس کی چربی پٹھوں کی سختی دور کر کے انہیں نرم بناتی اور ورم کو تحلیل کرتی ہے۔

جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد قربانی کے اس موقع سے خاطر خواہ فوائد اٹھا سکتے ہیں۔ایسے افراد جو کولیسٹرول کی زیادتی میں مبتلا ہوں اور وہ عیدِ قرباں کا گوشت کھانا چاہیں تو درج ذیل طریقے سے گوشت بنا کر استعما ل کر سکتے ہیں:

بکرے کا گوشت حسبِ ضرورت لے کر اچھی طرح چربی صاف کر لیں۔ایک کلو گرام گوشت میں لہسن100 گرام،پیاز 100 گرام کالی مرچ10 گرام، زیرہ سیاہ20 گرام اور الائچی کلاں دو عدد شامل کر کے حسبِ ذائقہ نمک سیاہ ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔

جب گوشت کے ریشے اچھی طرح نرم ہو جائیں تو بند گوبھی،ٹماٹر اور کچی پیاز کی سلاد اور بالائی اترے دہی کے ساتھ جی بھر کے کھائیں۔ کولڈ ڈرنکس کے قریب بھی نہ جائیں بلکہ لیمن گراس قہوے کا ایک نیم گرم کپ ضرور پئیں۔

ایسے افراد جو یورک ایسڈ کی زیادتی اور اس سے جڑے عوارض میں گرفتار ہوں وہ نیچے دیے گئے طرز پہ گوشت بنا کر کھا سکتے ہیں:

چربی سے صاف ایک کلو گرام گوشت میں ادرک100 گرام،پیاز100 گرام،لہسن100 گرام،لونگ5 عدد، تیز پات 3 عدد اور اجوائن، ہلدی و نمک سیاہ حسبِ ضرورت ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔

ریشے نرم ہونے پر مولی،پیاز ،سبز مرچ اور ادرک کی سلاد کے ساتھ استعمال میں لائیں۔یخ ٹھنڈے پانی اور کولا مشروبات پینے سے گریز کریں اور درج ذیل نیچرل قہوہ استعمال کریں۔

ادرک ایک گرام،میتھرے 15 دانے،پودینہ سبز 10 پتے، سبز چائے 10 پتے ایک کپ پانی میں اچھی طرح پکا کر لیمن کے چند قطرے شامل کر کے نوش فرمائیں۔ دھیان رہے کہ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک پاﺅ گوشت ہی کھایا جا سکتا ہے۔زیادتی کی صورت میں نقصان کا اندیشہ ہو گا۔

نوٹ:اوپر دی گئی مقداریں حسبِ ذائقہ اور حسب گنجائش کم یا زیادہ کی جا سکتی ہیں۔

ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ عیدِ قرباں کے گوشت کے استعمال کے حوالے سے اگر ہم اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو کئی ایک معاشرتی،بدنی اور اخلاقی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔جیسا کہ شرعی حوالے سے تو قربانی کے گوشت کو تین برابر حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ مساکین،فقراءاور دیگر مستحقین میں تقسیم کردیا جاتا ہے،

دوسرا حصہ عزیز و اقرباءاور ہمسایوں کو دے دیا جاتا ہے۔جبکہ تیسرا حصہ خود گھر میں رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے عید آ نے سے قبل گو شت جمع اور محفوظ کرنے کی تراکیب بنائی جاتی ہیں۔

اضافی فریزر اور فریج وغیرہ کا بندوبست کیا جاتا ہے۔رانیں روسٹ کرنے والوں کی طرف سے جا بجا بینرز اور اشتہارات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لوگ گوشت کو گھر میں ہی رکھنے کے بند وبست کرنے میں مصروف پائے جاتے ہیں۔ قربانی کا تاثر ایک مذہبی تہوار کے کم اور گوشت کھانے کا موقع زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

صاحب ثروت اور مالدار حضرات تو عام دنوں میں بھی پورا سال گوشت ہی کھاتے ہیں جبکہ غریب وغرباءکو سال میں چند دن گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔لہٰذا ہم قربانی کرنے کی سعادت حاصل کرنے والوں سے التماس کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے فرمانِ اقدس کے مطابق ہی گوشت کی تقسیم کریں تاکہ قربانی کے مکمل اور صحیح ثمرات سے فیض یاب ہونے والے بن سکیں۔

بڑے گوشت کی نسبت چھوٹا گوشت کم نقصانات کا حامل ہوتا ہے لہٰذا کوشش کریں کہ بڑے کی بجائے چھوٹے کو ترجیح دی جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر گوشت میں سبزیاں ملا کر پکایا اور کھایا جائے تو اس کے مضر اثرات کافی حد تک بے اثر ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا گوشت پکاتے وقت اس میں شلجم،مولی،پالک،گھیا،ٹینڈے اور کریلے شامل کرکے ہم اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سبز پتوں والی کچی سبزیوں کی سلاد،سلاد کے پتے،ٹماٹر ،پیاز اور بند گوبھی کو بھی بطور سلاد استعمال کرکے بھی ہم اس روزِ سعید کو اپنے اور اپنی صحت کے لئے پیغامِ شفاءبناسکتے ہیں۔

عام صحت مند افراد جب بھی گوشت کھائیں تو درج ذیل اجزاء سونف1/4 گرام،زیرہ1/4 گرام،ادرک1 گرام،الائچی دانہ5 دانے اور شکر سرخ نصف چمچ کو ڈیڑھ کپ پانی میں پکا کر بطورِقہوہ استعمال کریں۔ معدے سے جڑے کئی ایک مسائل سے محفوظ رہیں گے۔یخ ٹھنڈے کولا مشروبات پینے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں۔

قارئین!گوشت خود ضرور کھایئے مگر حقیقی مستحقین تک ان کا حصہ بھی ضرور پہنچائیے۔ قربانی کا دن دراصل ہمیں ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔ ہم اپنے مذہب، ملک و قوم،عزیز و اقربا،دوست و احباب اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کے لئے قربانی دینے والے بن جائیں۔

اپنی خواہشات،تعیشات اور ضروریات کو دوسروں کی خواہشوں اور ضرورتوں پرقربان کرنے والے بن جائیں۔ حضرت ابراھیمؑ کی تقلید کرتے ہوئے اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔

قربانی کرتے وقت ہمیں چاہئیے کہ ہم حسد،تکبر،نفرت،انتقام،کینہ، ریاکاری، ہوس، لالچ، طمع، خود غرضی،مطلب پرستی اور خود پسندی کے فن پھیلائے ان منہ زور درندہ صفات کو بھی ذبح کریں۔ تاکہ معاشرے میں پھیلی ہرسو بد امنی ،انتشار، خلفشار اور منافرت کا خاتمہ ہو۔

آئیے! اس عیدِ قرباں کے موقع پر عہد کریں کہ ہم ابراھیمی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا و خوشنودی ملحوظ رکھیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں