مولانافضل الرحمن، امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان 114

نتھا خود کشی کرے گا؟

عزیزی اچکزئی۔۔۔۔۔۔۔
مولانا صاحب کا قدم پیچھے ہٹانا ایک درست اور صائب فیصلہ ہے ، احتجاجی مارچ کی اپنے مقصد کی حصول میں ناکامی کا واقعہ ان کیلئے افسوس ناک تو ہے لیکن یہ صورتحال اس سے بہت کم افسوس ناک ہے جس کا سامنا انتہائی حد تک جانے کی دھمکی پر عمل کی صورت میں خود انہیں اور ملک کو کرنا پڑتا۔

مارچ کے دوران یہ بات سب نے نوٹ کی ہوگی کہ مولانا مسلسل پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی غیر حاضری اور سرد مہری کیلئے تاویلیں پیش کرتے رہیں ، مثلاً اگر ان کے کارکنوں کی حاضری نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تیاری اس سطح کی نہیں ہوئی اور اگر قیادت موجود نہیں ہے تو بھی ہمیں ان کی ” اصولی حمایت ” کو کافی سمجھنا چاہیے لیکن کل یہ سرد مہری اور غیر حاضری کھل کر لاتعلقی کی اظہار تک پہنچ گئی۔

ماتھا ٹھنکنے کیلئے تو یہ اشارہ بھی کافی تھا کہ کل چوہدری برادران بھی معاملے کو ” خوش اسلوبی ” سے طے کرنے کیلئے میدان میں آگئے ۔ ان کے مبارک قدم جہاں پڑ جاتے ہیں وہاں پھر کسی شر اور شرارت کا گزر نہیں ہوتا مثلاً نواب اکبر خان بگٹی کے مسئلے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کی آخری کوشش انہوں نے ہی کی تھی ، کہا جاسکتاہے کہ وہ بیچ میں نہ آتے تو نواب صاحب شہادت سے محروم رہ جاتے ۔

لال مسجد واقعے میں بھی سلسلۂ جنبانی انہی کی توسط سے آگے بڑھا تھا ۔ کل ایک بار پھر انہوں نے افہام و تفہیم کا عَلَم بلند کیا ۔ بقول کسے چوہدریوں کی اس جوڑی کے انگلیاں چھونے سے ہر گرہ اس لئے مزید سخت ہوجاتی ہے کیونکہ معاملہ ” افہام و تفہیم ” کا ہوتاہے ،لیکن ان میں سے چوہدری شجاعت حسین سے تفہیم اور پرویز الٰہی سے افہام کا کام لیا جاتا ہے حالانکہ ہونا اس کے برعکس چاہیے ۔

ہمارے علاقے سے ایوب خان اچکزئی نامی ایک شخص پشتونستان کا ” انقلاب ” برپا کرنے کیلئے یہاں سے جلاوطن ہوکر کابل گئے تھے ، ان کا اپنے بارے میں کہنا تھا کہ میرا منہ طبعی اور دانت غیر طبعی ہے ، اس لئے منطوقات اور ملفوظات میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ، بڑے چوہدری صاحب کو تفہیم میں درپیش مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی لگتاہے ۔ واللہ اعلم
بہر حال خدا کا شکر ہے کہ مولانا اور جمعیت کے کارکن اس افہام وتفہیم کی برکات سے فیض یاب نہیں ہوئیں۔

باقی سیاست تو چلتی رہے گی لیکن اس مرتبہ مولانا کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل جوا کھیلا مگر پھر اس غلطی کی اصلاح کی کوشش یوں کی کہ ہارنے سے ذرا سے ہی فاصلے پر کھیل سے دستبردار بھی ہوگئے ۔

انہوں نے کل اپنے خطاب میں جب یہ فرمایا کہ مجھے اشتعال دلانے والے لوگ بھی میرے دوست نہیں ہیں ، تو مجھے پتا نہیں کیوں ہماری صحافت کا ” شورش ” حامد میر یاد آگئے ، دھرنے سے پہلے وہ کہتے تھے کہ مولانا کے پاس ایسے کارکن ہیں جنہیں اگر ایک مرتبہ بٹھادیا جائے تو پھر اٹھانا مشکل ہوجائے گا اور اب دو دن پہلے کہہ رہے تھے کہ مولانا کی خواہش ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے ، یہ صرف حامد میر ہی نہیں کئی ایک دوسرے صحافیوں اور اپوزیشن لیڈروں کی بھی کوشش رہی کہ ” نتھا ” خود کشی کرلے۔

ایک کہانی میں نتھا نامی کاشت کار مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشی کا فیصلہ کرتا ہے اور حکومت اس کو منانے کی کوششیں کر کے کہتی ہے کہ نتھا خودکشی نہیں کرے گا جبکہ اپوزیشن نتھا کے گھر جا کر کہتی ہے نتھا سے بات ہو گئی ہے، نتھا خود کشی کرے گا ،

لیکن بقول کسے مولانا تو بہ یک وقت دین ، سیاست ، تجارت اور سفارت کے ماہر ہے ۔ جو اپوزیشن انہیں خودکشی کے جانب دھکیل رہی تھی اب وہ اسی اپوزیشن کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے واپس چلے جائیں گے ، گائے کے دُم والی کہانی یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ تو آپ نے مولانا صاحب سے پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد دوبارہ پارلیمنٹ واپسی کے موقع پر سنی ہی ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں