موٹرسائیکل، سپیرپارٹس کی دکان اور دکان دار 127

نیا کاروبار: شروع میں خسارہ کیوں‌اٹھانا پڑتا ہے؟

ابنِ فاضل۔۔۔۔۔
یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سب سے پہلا کاروباری تجربہ موٹر سائیکل کے ایک پرزہ کی تیاری اور فروخت کا ہوا۔ کسی طور میکلوڈ روڈ لاہور کے ایک تاجر سے شناسائی ہوگئی۔ اس نے ایک پرزہ بنانے کیلئے دے دیا۔ پہلے آرڈر کی بہت خوشی تھی۔ پوری دیانت داری اور جانفشانی سے سیمپل بنائے اور چند روز بعد مع سیمپل ان کے پاس پہنچ گیا۔

بہت اچھے بنے ہوئے پرزہ جات دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ پھر اس نے قیمت پوچھی۔ ہم نے کہا: ‘‘بارہ روپے فی عدد۔’’
وہ ٹھٹھکا۔ ایک درجن کا پیکٹ سامنے میز پر رکھ کر گویا ہوا۔ یہ چھیانوے روپے کا میں بیچتا ہوں۔ تقریباً اسی معیار کا ہے جس کا آپ بناکرلائے ہو۔

بہت مایوسی ہوئی۔ میری کیفیت جان کر اس نے کہا: ‘‘بھائی! میں جھوٹ نہیں بول رہا، آپ یہیں بیٹھو۔ ابھی کوئی گاہک آتا ہے تو خود دیکھ لینا’’
اور وہی ہوا۔ کچھ دیر میں ایک گاہک کو اس نے واقعی چھیانوے روپے درجن دیا۔ پھر مجھ سے کہنے لگا: ‘‘آپ تھوڑا وقت لگاؤ، علم حاصل کرو کہ آپ کو کیوں مہنگا پڑ رہا ہے اور جو شخص مجھے بیچ رہا ہے اسے کیوں سستا پڑتا ہے’’۔
میری مایوسی تجسّس میں ڈھل گئی۔

کچھ تگ ودو کے بعد اس شخص کی فیکٹری پہنچا جو پہلے سے وہی پرزے بنارہا تھا۔ ایک نظر دیکھتے ہی لگا جیسے معمہ حل ہوگیا۔ وہاں مصری شاہ کباڑ مارکیٹ سے لایا گیا بہت سا پائپ پڑا تھا۔ ہم برانڈرتھ روڈ سے بالکل نیا درآمد شدہ پائپ لائے تھے۔ خام مال کی خریداری میں ہی پانچ روپے کا فرق نکل آیا۔ ہم بھی مصری شاہ گئے لیکن ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ جو سائز ہمیں درکار تھا مصری شاہ میں اس سے تھوڑا سا بڑا سائز دستیاب تھا۔

کچھ تجربہ کار دوستوں سے صلاح لی۔ انہوں نے کہا:‘‘ جو پائپ دستیاب ہے اس کا سائز ضرورت کے مطابق کیا جاسکتا ہے ایک ڈائی بنانا ہوگی’’۔
ڈائی بنائی گئی، پائپ کا سائز ضرورت کے مطابق ہوگیا۔ گو اس مرحلہ میں بھی ناتجربہ کاری کے بہت سے مسائل آئے لیکن بار بار کی کوشش سے وہ دور ہوتے گئے۔ اور یوں سیمپل دوبارہ بنائے گئے ، پھر سے قیمت نکالی اور اس بار سات روپے میں بیچ کر بھی دو ڈھائی روپے بچ رہے تھے جبکہ پہلے بارہ روپے میں بھی اسی قدر بچت تھی۔

سبق یہ سیکھا کہ
کسی بھی کام میں جب تک کچھ وقت گزار کر اچھی طرح بنیادی علم اوربہت سی باریکیاں نہ سیکھ لی جائیں، اس وقت تک اس کاروبار سے کماحقہ فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جو دوست جلدی میں بہت کم ہوم ورک سے کام شروع کردیتے ہیں اور پھر بہت جلد گھبرا کر اس کو بند کردیتے ہیں وہ ہمیشہ نقصان ہی اٹھاتے ہیں۔

اور دوسری طرف بہت سے دوست بہت سوچتے ہیں اور سوچتے ہی رہ جاتے ہیں جبکہ کامیابی ان دونوں کیفیات کے درمیان ہے۔ خوب سوچ سمجھ کرکام شروع کریں اور پھر گھبرائیں نہیں۔ اللہ کریم تھوڑا آزماتا ہے پھر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ تو
“کسی بھی کاروبار میں کامیابی کا سب سے بڑا فارمولا اس کام میں وقت گزارنا اور تجربہ حاصل کرنا ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں