محمدعامرخاکوانی، کالم نگار،دانشور 137

کورونا وائرس اور سازشی تھیوریز

محمدعامرخاکوانی:
کورونا وائرس کے حوالے سے سازشی تھیوریز تراشنے کی مجھے تو کم از کم کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔ پہلی بار ایسی وبا نہیں آئی ، اس کا ایک پیٹرن ہے، سارس نے بھی خاصی پریشانی پھیلائی تھی، بدقسمتی سے حالیہ کورونا وائرس زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والا ہے۔ اس وبا نے بہت لوگوں کو پریشان کیا ہے، اللہ کرے یہ آفت جلد ٹلے اور سکون ہوجائے۔

کورونا کے بارے میں یہ سازشی تھیوری عجیب سی ہے کہ وائرس کسی لیبارٹری میں بنا اور بیالوجیکل وار فئیر کا حصہ ہے، کوئی عالمی سازش ہے اور اس سے کسی خاص شعبے کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے۔

فلمیں مجھے بھی پسند ہیں، طرح طرح کے مختلف آئیڈیاز والی فلمیں دیکھتا رہتا ہوں، وبائوں اور اس طرح کی سازشی تھیوریز پر بہت سی فلمیں دیکھ رکھی ہیں، زندگی مگر فلم نہیں ہوتی، دنیا کے قاعدے قانون بھی فلم ڈائریکٹر کی مرضی سے نہیں چلتے۔

اس وبا نے ہر جگہ تباہی پھیلائی ہے، عالمی قوتیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں، چین کی اکانومی کو شدید دھچکا لگا، انگلینڈ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک بھی متاثر ہوئے، اٹلی اور سپین اس لئے زیادہ ڈیمیج ہوئے کہ یہ یورپ کے مرد بیمار ہیں،نسبتاً زیادہ گنجان آبادی، بڑی عمر کے لوگ زیادہ، جوائنٹ فیملی اور آپس میں میل جول،گلے ملنے، مصافحہ کا باقی یورپ سے زیادہ رواج اس کی وجہ ہے۔

حال یہ ہے کہ امریکا اس وبا سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے، وہاں ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور معلوم نہیں کہ آفت ٹلنے تک کتنے ہزار لوگ چل بسیں، اگر وبا امریکا پر روس کی طرح بہت زیادہ اثرانداز نہیں ہوئی ہوتی تو پھر سازشی تھیوری آج بے حد پاپولر ہوچکی ہوتی۔ اب تو خیر اس کا کوئی جواز نہیں۔

مجھے ذاتی طور پر سازشی تھیوریز سے کوئی مسئلہ نہیں، لوگ ویلے گھر بیٹھے ہیں، کچھ نہ کچھ سوچیں گے ہی، سوچتے رہیں۔ میرا مسئلہ صرف یہ ہے کہ پہلے ہی ہمارے ہاں جہالت انتہا کی ہے، لوگ منطقی انداز میں غور نہیں کرتے اور بنی بنائی سازشی تھیوریز کو قبول کرتے، اسے فوری پھیلاتے ہیں۔

اس طرز فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں بلاجواز تقویت پہنچائی جائے۔ کورونا ایک بڑی آفت ہے، ابھی تو اس سے بچنے کی تعبیر کی جائے، اس کا سراغ بھی لگایا جا رہا ہے اور آئندہ کے لئے سدباب بھی۔ اللہ نے چاہا تو اگلے برسوں میں اس سے نجات مل جائے گی، جیسے سارس کے معاملے کو ہم اب بھول ہی چکے ہیں۔

ہم سازشی تھیوریز کی کیوں مخالفت کرتے ہیں؟
یہ سوال بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر آپ سازشی تھیوری پر طنز کیوں کرتے ہیں؟ کیا سازشیں نہیں ہوتیں؟ آخر سازشی تھیوریز کے پس پردہ بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، تب ہی تو فسانہ بنتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

درست بات ہے کہ سازشیں ہوتی ہی ہیں، تاریخ انسانی کے ہر دور میں سازشیں ہوتی رہی ہیں، ہوتی رہیں گی۔ سازش کے وجود سے کسی کا اختلاف نہیں۔ ہمارا اعتراض صرف یہ ہے کہ سازشی تھیوریز اور ان پر یقین رکھنے والے ایک خاص حلقہ فکر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو ہر معاملے میں کسی نہ کسی فرضی، مفروضہ سازش کی بو سونگھنے لگتے ہیں۔

اس کے دو تین نقصانات ہیں، ایک تو آدمی منطقی انداز میں سوچنے، کامن سینس سے کام لینے کے بجائے بلاوجہ مفروضوں کا اسیر ہوجاتا ہے، دوسرا بیشتر اوقات یہ سازشی تھیوریز کوئی نہ کوئی شدت پسند تنظیم یا گروہ استعمال کرتا ہے اور اس کا مقصد بنیادی طور پر نفرت یا بدگمانی پھیلانا ہوتا ہے، کسی بھی سازشی تھیوری کو استعمال کر کے یہ لوگ اپنی پسند کا نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بدگمانی بعد میں بہت سی مثبت مگر حقیقی باتوں کو جھٹلانے کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک ضمنی نقصان یہ بھی ہے کہ ہم اپنا احتساب کرنے، اپنی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے سارا قصور کسی خارجی فیکٹر ، غیر ملکی عوامل پر ڈال دیتے ہیں ، خود بے قصور ہوگئے اور تمام تر ذمہ داری سازشی عناصر کی نکل آئی۔

مثال کے طور پر نائن الیون کا خاص پیٹرن ہے، القاعدہ نے اسے استعمال کرتے ہوئے بعد کے برسوں میں دنیا بھر میں ریکروٹنگ کی، مگر چونکہ نائن الیون کے حملے میں بے گناہ اموات ہوئیں، شہری مرد ، عورتیں نشانہ بنے ، اس لئے مسلم آبادی میں کسی بھی قسم کے ردعمل سے بچنے کے لئے القاعدہ اور ان کے حامیوں نے یہ شوشا چھوڑ دیا کہ نائن الیون کا پورا واقعہ مینوفیکچرڈ تھا، یہ حملہ امریکا نے خود کرایا وغیرہ وغیرہ،

اس میں وزن ڈالنے کے لئے یہ سازشی تھیوری گھڑ لی گئی کہ نائن الیون کے دن ٹوئن ٹاورز میں کام کرنے والے تمام یہودی چھٹی پر تھے، گویا جس نے بھی سازش کی ، اس نے پہلے ٹوئن ٹاورز کے تمام دفاتر، ریسٹورینٹس وغیرہ میں کام کرنے والے یہودیوں کے نام پتے حاصل کئے، پھر انہیں ای میل یا فون سے آگاہ کیا کہ خبردار کل دفتر نہ آنا ، کچھ ہونے جا رہا ہے۔ کیا یہ بات ماننے والی ہے؟

دلچسپ بات ہے کہ امریکی میڈیا میں ٹوئن ٹاورز میں مرنے والے یہودیوں کے نام پتے شائع ہوئے، اس واقعے کی برسی پر یہودی عبادت گاہوں میں ان مرنے والے یہودیوں کے لئے دعائیہ تقریبات ہوئیں، یہ سب شائع شدہ مواد انٹرنیٹ پر گردش بھی کرتا رہا، مگر آج بھی بہت سے ایسے ہیں جو اس بے پر کی تھیوری پر یقین کرتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ امریکی سازش نہیں کرتے، سی آئی اے اور دیگر عالمی ایجنسیاں اپنے مفادات کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں، بےشمار سازشیں ہوتی رہتی ہیں، مگر ہر جگہ سازش نہیں ہوتی ۔ جب ہم کسی بھی کمزور مفروضے کو سازش قرار دیں گے ، جب وہ غلط ثابت ہوجائے گا تو پھر اچھی بھلی مضبوط سازشی تھیوری بھی بے وزن ہوجائے گی۔

اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ جو چیز جیسے ہے، ویسے پیش کی جائے۔ جہاں سازش کی کوئی ٹھوس وجہ، دلیل ملے وہاں اس کی نشاندہی ضرور کی جائے، مگر ہر معاملے میں سازش کی بو سونگھنے کی کوشش کی جائے تو پھر سچ مچ کے دھواں کی بو بھی نہیں آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں