ہاشم بن عبد مناف اور غزہ ( فلسطین ) میں مسجد ہاشم جہاں ہاشم بن عبدمناف آرام فرما ہیں

عرب کا وژنری تاجر

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

رسول اللہ ﷺ کے جد امجد عمرو عرف ہاشم کی داستان جنہوں نے تجارتی دنیا میں نئے راستے کھولے

محمد اعجاز تنویر

بڑے ویژن کے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ یہ لوگ انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتے ہیں۔ بہت دور کی سوچتے ہیں اور عقابی نظر سے معاملات کو دیکھتے ہیں . سفر کی تمام تر مشکلات کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور منزل حاصل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے۔

وہ صرف خواب ہی نہیں دیکھتے، صرف دل ہی دل میں خواہشات نہیں پالتے بلکہ اپنے خوابوں کو پورا کر نے کیلئے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کامل حکمت کے ساتھ ہٹاتے ہوئے منزل مقصود کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

عمرو بھی ایک ایسا ہی فرد تھا جو اپنے لیے اور اپنی قوم کیلئے کچھ کر گزرنے کا عزم اور جذبہ رکھتا تھا۔ ابن حبیب اپنی کتاب ” المخق“ میں لکھتے ہیں :

” وہ مکہ کا باسی تھا۔ اس دور میں مکہ کا بزنس محدود تھا جو مکے کی سرحدوں سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ مقامی تاجر باہر سے آنے والے تاجروں سے اپنی ضروریات کا مال خریدتے۔ اسی طرح وہ اپنی اشیاء بھی انہی کے ہاتھ فروخت کر دیتے ۔ یہ ان کا ایکسپورٹ اور امپورٹ کا نظام تھا۔

اپنی اشیاءایکسپورٹ کرنے پر وہ بیرونی تاجروں کو کمیشن بھی دیتے تھے۔ یہ چیز ظاہر کرتی تھی کہ وہ محدود نطر اور سوچ کے حامل لوگ تھے کیونکہ وہ باہرکے تاجروں کی نظر سے دیکھتے تھے اور انہی کی دی ہوئی سوچ کو اپنی سوچ خیال کرتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں ان کی درآمد اور برآمد بیرونی تاجروں کی مرہون منت تھی۔

اس صورت حال کو دیکتے ہوئے عبد مناف کا بیٹا عمرو کچھ کرنا چاہتا تھا ۔ پھر اس نے ایک بڑا کام کرنے کا ارادہ کیا اور اپنا ایک چھوٹا سا قافلہ لے کر شام کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں اپنے پلان کے بارے میں سوچتا چلا گیا۔ جس قبیلہ کے قریب سے گزر ہوتا ‘ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور اس سے تعلقات بڑھاتا چلا گیا۔ اسے اپنے ملک اور تجارت کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتا۔ آخر کار اس نے بادشاہ قیصر کے علاقے میں قیام کر لیا۔

اس نے اپنے خیمے لگائے۔ ایک خیمہ جو قدرے بڑا تھا ، اسے مہمان خانہ اور ویٹنگ روم بنا دیا۔ اس نے اپنی قبائلی روایات کے مطابق آس پاس کی بستی کے افراد کو دعوت دی جو شام کے وقت ہوئی۔ اس میں پہلا گپ شپ کا سیشن جبکہ دوسرا کھانے کا تھا۔ گپ شپ میں مکہ کے لوگوں ‘ ان کی ثقافت کے بارے میں بتایا۔ آخر میں تجارت کے بہت سے پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی اشیاء کو متعارف کروایا۔ مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور وہاں کی اشیاء بالخصوص حجاز کے مشہور چمڑے کا ذکر کیا۔ وہاں کے کپڑے کی اقسام کے بارے میں لوگوں کو بتایا۔

ایک بہترین تاجر کی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی اشیاء کو متعارف اس طرح کروائے کہ لوگوں میں اس شے کے بارے میں طلب پیدا ہو جائے۔ ایسی تمام خصوصیات عمرو میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

وہ ہر روز اس قسم کی دعوتیں کرتا،آخر میں مہمانوں کو دیسی بکرے کی یخنی میں روٹی کے ٹکڑوں سے بنی عرب کی مشہور ڈش ثرید پیش کرتا۔ اس طرح جو لوگ بھی شام کی اس محفل میں آتے وہ بہت متاثر ہوتے۔ یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا ۔ عربی میں ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے کو ”ہاشم“ کہتے ہیں۔ عمروبھی روٹی کے ٹکڑے کرتا تھا اس لیے اس کا نام ہاشم مشہور ہو گیا۔

وہاں یہ بات مشہور ہوگئی کہ ایک قریشی آیا ہوا ہے جو روٹی کو چورا چورا کرکے اس پر شوربا ڈالتا ہے ، ساتھ دیسی بکرے کا گوشت ہوتا ہے۔ عرب سے باہر عام طور پر روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اس پر شوربا ڈالا جاتا تھا۔ اسی طرح بعض علاقوں میں سالن کو الگ پلیٹ میں ڈال کر پیش کیا جاتا تھا ۔ وہ لوگ روٹی کے الگ ٹکڑے کرکے انہیں سالن کے ساتھ لگا کر کھاتے تھے۔

لوگ عمرو کی شخصیت ، خوبصورت جسم ، مزیدار ثرید اور تجارت کے بارے میں نت نئی معلومات کے باعث بہت متاثر ہوئی تھے۔ ہر مجلس میں اس کا ذکر ہونے لگا۔ بالآخر یہ خبر شام کے بادشاہ قیصر تک پہنچائی گئی کہ عمرو نامی قریشی تاجر آیا ہوا ہے . بادشاہ نے اس کی تعریف سن کر اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اسے اپنے دربار میں آنے کی دعوت دے دی۔

عمرو عرف ہاشم نے موقع پیدا کیا۔ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پوری محنت سے ایک بہترین تعارفی تقریر تیار کی۔ اس نے عربوں کے تجارتی تجربہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمارے پاس بڑی مہارت رکھنے والے تاجر موجود ہیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو وہ آپ کے ملک شام میں اپنا سامان لے کر آئیں؟ یوں وہ آپ کی تجارتی سرگرمیوں کو بڑھائیں گے بلکہ وہ آپ کے تاجروں کو تربیت بھی دیں گے۔

دوسرا ہمارے ہاں کا اعلیٰ قسم کا چمڑا، کپڑا، میوہ جات اور دوسری بہت سی اشیاء آپ کے ملک کی منڈیوں میں پہنچائیں گے جس سے آپ کے ملک کی منڈیوں کی سپلائی پوری ہو جائے گی ۔ آپ کے شہریوں کو مناسب قیمت میں اشیاء زیادہ اقسام میں ملنا ممکن ہو جائیں گی ۔ اس کے الفاظ تاریخ کی کتابوں میں یو ں بیان ہوتے ہیں :

” اے باد شاہ ! میری ایک قوم ہے جو سارے عرب کی تجارت کی مالک ہے۔ بہت تجربہ رکھتی ہے اگر آپ مناسب سمجھیں اور ہمیں اپنے ملک میں تحفظ فراہم کریں تو ہم حجاز کا بہترین چمڑا اور کپڑا آپ کی مارکیٹ میں لے کر آئیں جوکہ آپ کو بہت سستا پڑے گا “۔

عمرو عرف ہاشم نے پہلے جس طرح رائے عامہ کو ہموار کیا، پھر اسی طرح بادشاہ کو بریف کیا تو بادشاہ اس سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اس کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کیا جسے مکہ والوں کا کسی دوسرے ملک کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ کہا جا سکتا ہے۔ بالآخر عمروعرف ہاشم کامیاب ہوا۔ لیکن یہ پہلا مرحلہ تھا ۔ اصل میں پہلا کام مشکل ہوتا ہے ۔اس تجارتی معاہدے تک پہنچنے میں عمرو عرف ہاشم نے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی :
1۔ اس نے عام لوگوں یعنی کسٹمرز میں اپنی بریفنگ کے ذریعے طلب پیدا کی۔
2۔ بادشاہ کو اس کی تجارتی ترقی کی طرف توجہ دلائی اس میں مکہ کے تاجروں کے کردارکا ذکر کرکے بادشاہ کو سوچنے اور معاہدہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ تھی اس کی ویژنری سوچ۔ اپنے آئیڈیاز کو مکمل کرنے کیلئے شیخ چلی بھی سوچتا تھا لیکن اسے اپنے منصوبے میں رنگ بھرنا نہیں آتا تھا جوکہ اصل مشکل کام ہوتا ہے۔

عمرو عرف ہاشم معاہدے کی کاپی لے کر واپس مکہ کی طرف سفر شروع کرتا ہے ۔ اس کی عقل کی داد دینا پڑے گی کہ اس نے شام کی طرف آتے ہوئے راستہ کی مشکلات کو دیکھ لیا تھا ۔ اس نے سوچا اگر ہم رسد کو شام تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ معاہدہ اور مکہ والوں کی تمام رقم ڈوب جائے گی۔ اس طرح یہ محنت جو اس نے اب تک کی ہے ختم ہو جائے گی۔

اس نے راستے کے سارے قبائل سے دوبارہ ملا قاتیں کیں، شام میں کیے ہوئے معاہدے اور اجازت نامہ کو تحریری صورت میں دکھایا اور پھر ان سے کہا کہ ہم سب کو ترقی کرنے کا حق ہے ۔ میں آپ سب کو یہ حق دلانا چاہتا ہوں ۔ آپ لوگ میرا ساتھ دو۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ کس قسم کا ساتھ لینےکی بات کرتا ہے؟

عمرو عرف ہاشم بولا: ”آپ مال مجھے دیں میں بغیر کمیشن کے اسے سیل کروں گا اور منافع سارے کا سارا آپ کو دوں گا۔ دوسرا آپ اپنے تاجر میرے ساتھ روانہ کریں میں انہیں ساتھ لے کر جاﺅں گا۔ اس کے بدلے میں مجھے راستہ کا امن یعنی تجارتی قافلوں کو پرامن گزر گاہ چاہیے۔ اس طرح اس کی نیک نیتی سے سارے قبائل متاثر ہوئے، انہوں نے اس کے ساتھ معاہدہ کیا۔ جسے ” ایلاف“ کا معاہدہ کہتے ہیں۔
یہاں بھی دونکات کاذکر بہت اہم ہے:
1َ۔ ان کا مال بغیر کمیشن کے لے کر جانا اور سارا منافع انہیں دینا۔
2۔ ان کے تجربہ کار تاجروں کو ساتھ لے کر جانا ، بدلے میں راستے کا امن لینا ۔

قائل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال عمرو عرف ہاشم اپنے ماسٹر پلان کا سب سے پہلا مرحلہ مکمل کر کے مکہ واپس لوٹ آیا۔ اب دوسرا اور اہم مرحلہ شروع ہونے جا رہا تھا ۔ اس نے تمام معاہدے مکہ والوں کے سامنے پیش کیے۔ یقیناً مکہ والوںکو تیار کرنے میں اسے بہت مشکل پیش آئی ہوگی۔ بے شمار سوالات کے جوابات دینا پڑے ہوں گے۔ کیونکہ یہ پہلا تجربہ تھا عملی طور پرکچھ نہیں تھا ، تمام چیزیں کاغذ اور زبان پر ہی موجود تھیں۔ تفصیلی مباحث کے بعد عمرو بن عبد مناف عرف ہاشم نے مکہ سے پہلا تجارتی قافلہ تیار کیا۔ سفر شروع ہوا۔ یقیناً وہ بھی اس مرحلے پر فکر مند ہوگا کیونکہ یہ اس کے تجارتی ماسٹر پلان کے مکمل ہونے کا وقت تھا۔

سفر میں جو مشکلات آتیں انہیں آگے بڑھ کر حل کرنے کی کوشش کرتا ، راستے میں جو قبائل آتے انہیں ” ایلاف“ کا معاہدہ یاد دلاتا ، انہیں وعدہ وفا کرنے کو کہتا۔ اسی طرح اس نے راستے کے بہت سے قبائل کے سرداروں کو اپنے ساتھ اس عظیم تجارتی قافلے کا ہم سفر بنالیا۔ اور پھر عمرو بن عبدالمناف عرف ہاشم کا یہ ماسٹر پلان کامیابی سے ہمکنار ہو گیا۔

اس دوران عمرو بن عبدالمناف کا تدبر، حکمت، پلاننگ ، معاہدے، جہدوجہد، مسلسل کوشش، صبرسب خوبیاں سامنے آئیں۔ اس نے ایک ایک کام کو ایسے انداز میں سر انجام دیا کہ تاریخ عمروعرف ہاشم کو ایک ویژنری تاجر کی حیثیت سے پکارنے لگی جس نے مکہ کو تجارت کے بہت بڑے گیٹ وے میں داخل کرایا۔

ابن سعد تحریر کرتے ہیں( طبقات ابن سعد، حصہ اول ص 43 تا 46) ہاشم اور اس کے برادران شام ، فلسطین ، عراق اور یمن کے علاقوں میں تجارتی راستے بنانے میں کامیاب ہوئے۔

عمروبن عبدالمناف المشہور ہاشم آخری مرتبہ شام کے سفر پر روانہ ہوا تو اس نے مدینہ کی ایک نوجوان بیوہ سلمیٰ سے نکاح کیا۔ یہ مدینہ کے مشہور سردار ابن الجلاح کی بیوہ تھیں۔ سیرت ابن ہشام صفحہ نمبر 88 میں تحریر کرتے ہیں کہ اس سردار کے محل کے کھنڈرات اب بھی مدینہ منورہ کے زائرین کو نظر آتے ہیں۔

اس عظیم مدبر تاجر اور لیڈر نے غزہ کے مقام پر وفات پائی ۔ اس کی وفات کے چند ماہ بعد سلمیٰ کے ہاں ایک بیٹے نے جنم لیا جس کا نام عبدالمطلب تھا جو باپ کی طرح مدبر ، ذہین اور حکمت والا تھا۔ اس کے بڑے بیٹے عبداللہ کے ہاں ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جس نے دنیا کو قیامت تک کیلئے نہ صرف ایک نئے نظام سے متعارف کروایا بلکہ ہدایت کی روشی بھی فراہم کی۔

حضرت محمد ﷺ کے دادا عبدالمطلب اور عبدالمطلب کے والد عمرو بن عبدالمناف المشہور ہاشم آپ ﷺ کے پردادا تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپﷺ کے دادا نے 110سال کی عمر پائی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمروبن عبدالمناف کا دور آپ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً 150سال پہلے کا ہے۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ جب آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت مختلف ممالک کے بادشاہوں کو دی تو وہ آپ ﷺ کے پردادا اور دادا کو پہلے ہی سے جانتے تھے۔

عبدالمناف کے بیٹے مطلب، عبد شمس ، نوافل اور عمرو عرف ہاشم ایسے روشن ستارے تھے جو ایک ویژن لے کر دنیا میں آئے تھے۔ تاریخِ اسلام کے اہم تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ عرب نے آج تک عبدالمناف کے بیٹوں اور عمرو کے بھائیوں جیسے خوبصورت ، مدبر ، حکمت والے اور کچھ کر گزرنے والے لوگ نہیں دیکھے۔

عمرو کے بعد اس کے بھائیوں نے مشکل کام کو تھام لیا ، وہ بھی اسی حکمت عملی پر چلتے رہے ۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بھائی مطلب نے یمن کا سفر کیا اور وہی حربہ اختیار کیا جسے عمرو بن عبد مناف نے اپنایا تھا۔ انہوں نے بھی یمن کے تاجروں سے ملاقاتیں کیں ، حکمرانوں سے تجارتی معاہدے اور راستے میں قبائل کے ساتھ پر امن راہ داری معاہدے کے معاہدے کیے۔

اس طرح عبدالشمس بن عبدالمناف حبشہ کی طرف چل نکلا۔ یہ ہاشم سے بڑا تھا۔حبشہ میں مکہ کے تجارتی قافلے داخل ہوئے۔ اسی طرح نوافل بن عبدالمناف جو سب سے چھوٹا تھا لیکن وہ بھی کسی سے کم نہیں تھا۔ اس نے عراق کی طرف تجارتی راستے دریافت کیے۔ اس طرح شام ، فلسطین ، عراق ، یمن اور حبش کی طرف تمام تجارتی راستے بنانے والے مناف اینڈ سنز نے مکہ اور عرب کے تاجروں کو ایک نیا ویژن دیا۔ تاریخ ان کا ذکر سنہری حروف میں کرتی ہے۔ آج پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک کے تاجروں کو عمرو جیسے ویژن ، حکمت ، تدبر، پلاننگ اور کچھ کر گزرنے والی فکر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

(اس تحریر کی تیاری میں ابن اسحاق ، ابن ہشام ، ابن سعد، ابن حبیب، ڈاکٹر حمید اللہ کی کتابوں سے لی گئی ہیں)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں