عمران خان سابق وزیراعظم پاکستان اور ملیحہ لودھی سابق پاکستانی سفیر ( امریکا )

پاکستان امریکا کا غلام ہوتا تو کبھی جوہری ہتھیاروں والا ملک نہ بنتا : ملیحہ لودھی

امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ عمران خان نے اعتراف کرلیا ہے کہ ان کے خلاف سازش نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے پاکستان کو امریکا کا غلام قرار دے کر پاکستان کی بے عزتی کرائی ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو آج پاکستان ایک نیوکلیائی جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک نہ ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق چلا۔

امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرح سے عمران خان اعتراف کر رہے ہیں کہ سازش نہیں تھی۔ کیونکہ اگر سازش تھی تو اتنی آسانی سے کیسے اس معاملہ کو پس پشت ڈال سکتے ہیں؟ اگر یہ اعتراف ہے کہ سازش نہیں تھی ، تو یہ خوش آئیند بات ہے۔

” تاہم میں یہ ضرور کہوں گی کہ ایک متین سیاست دان ، ایک سنجیدہ رہنما کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ جو بھی پالیسی اختیار کرے ، اس پر چلتا رہے۔ ملکی سیاست میں بھی آپ کا تسلسل اہم ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک ہفتے کچھ کہیں اور اگلے ہفتے کچھ اور کہیں ، اس سے آپ کی کریڈیبیلیٹی پر برا اثر پڑتا ہے۔ “

ملیحہ لودھی نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ خان صاحب اب ملکی محاذ پر بھی تسلسل کے ساتھ چلیں گے اور بیرونی محاذ پر بھی۔ میرا سفارت کاری کا جو تجربہ ہے ، اس میں ، میں نے یہی دیکھا ہے کہ عزت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو فارن پالیسی میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ داخلی معاملات میں سیاست دان کبھی ادھر قلابازی کھائیں اور کبھی ادھر ، اسے بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

ملیحہ لودھی نے کہا جہاں تک خان صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات ایک غلام کے سے رہے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کا تھوڑا سا جائزہ لیں۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو آج پاکستان ایک نیوکلیائی جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک نہ ہوتا۔ امریکا نے ہمیں روکنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ۔

انھوں نے کہا کہ میں امریکا میں سفیر تھی۔ ہمیں بار بار کہا جارہا تھا کہ آپ جوہری پروگرام چھوڑ دیجیے ، آپ ہمیں پروگرام کا معائنہ کرنے دیجئے ، آپ اسے منجمد کر دیجئے ، میزائل نہ ڈویلپ کیجئے ، پاکستان نے ہر مرحلہ پر ” ناں ” کی۔ ہم نے کہا کہ ہماری قومی سلامتی پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ اپنی قومی سلامتی کے بارے میں فیصلہ ہم خود ہی کریں گے۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب سردجنگ تھی تو اس وقت امریکا نے ہمیں کہا کہ آپ چین کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں امریکا اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر بہت برا اثر پڑے گا۔ پاکستان نے امریکا کی ایک نہ سنی۔ اور اپنے قومی مفاد کے مطابق چلا۔

انھوں نے کہا کہ ابھی حالیہ مثال دے سکتی ہوں کہ امریکا نے افغانستان میں جو طویل جنگ لڑی ، اور وہ جیت نہیں پایا ، اس وقت امریکا کی طرف سے پاکستان پر بار بار الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ یہ معاملہ کیا تھا ؟

معاملہ یہ تھا کہ ہم نے طالبان کے ساتھ اپنے چینل آف کمیونیکیشن کھلے رکھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ایک روز امریکا ہمارے خطے سے اپنا بوریا بستر اٹھا کر چلا جائے گا لیکن ہم اپنے خطے سے کہیں نہیں جاسکتے۔ ہم اس خطے کا حصہ ہیں۔ ہمارا یہ چینل کھلا رکھنا بہت ضروری تھا۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس طرح کا بیان دینا کہ پاکستان امریکا کی غلامی کرتا تھا ، اس سے آپ ملک کی بے عزتی کرتے ہیں ۔ پاکستان نے پچھلے چار پانچ عشروں میں ایسی کوئی پالیسی اختیار نہیں کی جسے امریکا کی غلامی قرار دیا جاسکتا ہو ۔ ہم نے امریکا کے ساتھ اپنے اعتماد اور اپنے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے تعلقات قائم کیے۔ ہمارے امریکا سے تعلقات میں کبھی اتار آتا تھا اور کبھی چڑھائو آتا تھا، ایسا کیوں ہوتا تھا؟ اس لئے کہ ہم اپنی پالیسی پر چلتے تھے ، ان کی پالیسی پر نہیں چلتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا ، چین اور سعودی عرب ہمارے تین سٹریٹیجک ریلیشن شپس ہیں ۔ چین سب سے اہم ہے، سعودی عرب بھی بہت اہم ہے لیکن امریکا بھی اہم ہے۔ ان سے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہیے ، انھیں معمول پر لانا چاہیے۔ ہمیں الزامات کے ذریعے پورے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ برطانوی روزنامے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اب اپنے اقتدار کے خاتمے کا الزام امریکی انتظامیہ پر نہیں لگاتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ سے باوقار تعلقات چاہتے ہیں۔ جب ان سے ‘سازشی نظریے‘ کے بارے میں پوچھا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اب اس کو چھوڑ چکے ہیں۔ ”ہمارے امریکہ سے آقا اور غلام والے تعلقات رہے ہیں۔ ہمیں کرائے کی گن کے طور پر استعمال کیا گیا۔ لیکن ان سب باتوں کے لیے میں امریکہ سے زیادہ اپنے ملک کی حکومتوں کو الزام دیتا ہوں۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں