شبانہ ایاز ، اردو مضمون نگار

انصاف میں تاخیر بھی ناانصافی ہے

شبانہ ایاز

چند روز پہلے راولپنڈی میں ایک ایسا معاملہ پیش آیا جس نے میرے ذہن میں بہت سارے سوالات اٹھا دیئے۔۔ معاملہ زمین پر قبضہ کا تھا۔ چند عیسائی خواتین نے ایک مسلم خاتون کے پلاٹ پر اپنی تعمیر کے دوران تجاوز کیا۔یعنی انھوں نے مسلم خاتون کی اراضی کا کچھ حصہ اپنے گھر کی تعمیر میں شامل کر لیا ۔لڑائی جھگڑا ہوا ، بات تھانہ ، کچہری اور عدالت تک جا پہنچی ۔

یہاں پر عیسائی خواتین غلطی پر تھیں ۔ نہ وہ عدالتی احکامات مان رہی تھیں اور نہ ہی پولیس کے ساتھ تعاون کررہی تھیں۔ واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ انہیں کسی طاقتور شخصیت/ ادارے کی سرپرستی حاصل ہے ۔بلکہ وہ اپنے عیسائی ہونے کی بنیاد پر ، غیرملکی این جی اوز کو ساتھ ملا کر کچھ کر گزرنے کی دھمکیاں دے رہی تھیں۔

آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہمارے حکام غیر ملکی این جی اوز سے کس قدر مرعوب رہتے ہیں۔ پولیس حکام بھی نہیں چاہتے کہ وہ ایسے کسی بکھیڑے میں پڑیں۔

وہ مسلمان خاتون جماعت اسلامی سے وابستہ ہے ۔ اس نے اس معاملے میں اپنی جماعت کو خبر نہ دی ۔ اگر جماعت اسلامی کے لوگ اس مسلمان خاتون کی طرف داری میں میدان میں نکل آتے ، پھر ایسی اقلیتی خواتین یا ان کی این جی اوز وغیرہ کو جوتے چھوڑ کر بھاگنا پڑتا ۔ یا پھر ممکن ہے کہ یہ مسلم عیسائی جھگڑا بن جاتا ، اس کے کیا نتائج و عواقب ہوتے ، انھیں سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ہماری پولیس بر وقت انصاف فراہم کرکے ایسی کشمکش کو روک سکتی ہے۔ گربہ کشتن روز اول کے مصداق اسے ایسے تنازعہ کو پہلے روز ہی ختم کروانا چاہیے انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق۔

بعدازاں بیس ہزار روپے دے کر مدعی نے عدالتی کمیشن مقرر کروایا لیکن اس کمیشن کے وکیل کو فریق مخالف یعنی ان اقلیتی خواتین نے رشوت دے کر بروقت رپورٹ جمع کرانے سے روک دیا۔ رپورٹ جمع کرا دی جاتی تو فریق مخالف پر توہین عدالت کے جرم میں ایف آئی آر درج ہو جاتی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی .

دیکھا جائے تو اقلیتی گروہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور عام طور پر ان کے حقوق کے لیے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر بہت آواز اٹھتی ہے لیکن انہی میں سے کچھ لوگ مظلومیت کی آڑ میں ظلم و زیادتی کے مرتکب ہو جاتے ہیں ۔ وہ اس خود ساختہ زیادتی پر ڈرامہ بازی کرتے ہیں اور معاشرے کی ہمدردیاں بٹورتے ہیں ۔اور اس ساری صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلیک میل بھی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اقلیتی گروہ کے ہوں یا اکثریتی گروہ کے ،اپنی پوری کمیونٹی کو بدنام کررہے ہوتے ہیں۔

جس کمیونٹی کا یہ حصہ ہوتے ہیں ان کے متعلق پھر دنیا کی رائے اور احساسات بدل جاتے ہیں۔ یہی اصل میں وہ کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جو اپنے غلط فعل سے اپنی کمیونٹی کو معاشرے میں بدنام کرتے ہیں۔ اور اس پر دھبہ لگاتے ہیں۔پھر
ایسی کمیونٹی معاشرے کی مجموعی ہمدردی سے محروم ہو جاتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں کو لگام دی جائے تاکہ پوری کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ ہو سکے اور وہ بدنام ہو نے سے بچ سکے۔

دوسری جانب آپ سب کے علم میں ہے کہ ہمارا تھانہ کلچر کیسا ہے۔۔!
رشوت اور سفارش کی بنیاد پر کیس کو کوئی بھی شکل دی جا سکتی ہے ۔ میری بات وہ لوگ بخوبی سمجھ جائیں گے جن کا تھانے اور پولیس سے کبھی واسطہ پڑا ہو گا۔
ویسے تو پولیس کا سسٹم اپڈیٹ ہوا ہے۔ آپ کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ ہو جائے آپ 15 پر کال کریں اور اپنے مسئلہ کے ساتھ ساتھ علاقے کی حدود اور متعلقہ تھانے کا نام بتائیں۔ پھر اس متعلقہ تھانے سے گھنٹے دو گھنٹے بعد کال آئے گی کہ “جی فرمائیے ! مسئلہ کیا ہے ؟ ” حالانکہ 15 پر کال کرنے کے بعد 5 سے 10 منٹ تک ریسپانس کا حکم ہے۔

تھانے سے آنے والی کال پر مسئلہ سننے کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔ فرد تھک کر خود تھانے پہنچ جاتا ہے ۔ تھانے میں پہنچ کر اس فرد کے پاس لکھی ہوئی درخواست ہو تو اس کا اندراج کر کے ایک رسید اسے تھما دی جاتی ہے کہ جس کے خلاف آپ نے درخواست دی ہے اس سے رابطہ کرکے آپ کو بلایا جائے گا ۔

ہفتوں گزر جاتے ہیں۔ زیادتی کرنے والے فرد کو جب پتہ چلتا ہے کہ اس کے خلاف تھانے میں درخواست آئی ہے تو وہ پولیس کو رشوت دینے اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے باعث ٹال مٹول سے کام لیتا ہے اور پیش ہی نہیں ہوتا۔نتیجتا کاروائی/شنوائی رکی رہتی ہے، ایسے میں پولیس درخواست گزار ہی کو ڈرا دھمکا کر درخواست کو نمٹا دیتی ہے ۔

بظاہر پولیس دونوں فریقوں کو یہی تاثر دیتی ہے کہ وہ دونوں کے ساتھ ہے ۔ جس فرد کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی ہے وہ پولیس سے مایوس ہو کر یا پولیس کیس بننے کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ وکیل کی فیس بھر کر عدالت میں چارہ جوئی کی درخواست کرتا ہے۔ عدالتوں میں کیسوں کی بھرمار کے باعث معاملہ چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھتا ہے ۔بندہ جتنا بھی سر پٹخ لے ، آرڈر ملتے ملتے ہفتوں ، مہینوں گزر جاتے ہیں

جو مسئلہ 15 پر کال کرنے کے بعد منٹوں/ گھنٹوں میں حل ہوسکتا تھا وہ طول پکڑ کر مہینوں/ سالوں پر چلا جاتا ہے۔
معاملہ پراپرٹی کا ہو تو تعمیرات مکمل ہو چکی ہوتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے کا ہو تو جھگڑا مزید سنگین شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ اور اگر قتل کا ہو تو بہت حد تک شواہد مٹ چکے ہوتے ہیں۔

ابھی کل ہی ایک صاحب کا موبائل فون، چوک پر چھیننے کی واردات ہوئی ۔ وہ بھاگے بھاگے سامنے کھڑی پولیس وین میں دو پولیس نوجوانوں کے پاس آئے اور کہا کہ ابھی ابھی موٹر سائیکل سواروں نے ان کا موبائل فون چھینا ہے ۔ آپ ان کے پیچھے جائیں ، وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے مگر ان پولیس والوں نے ان صاحب سے کہا کہ آپ 15 پر کال کریں یعنی فوری انصاف اور داد رسی کو تو بھول ہی جائیں آپ ۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں پولیس پہلے نمبر پر اور عدلیہ تیسرے نمبر پر کرپٹ ترین ادارہ ہے۔ یہاں پر صرف طاقت ور طبقے کوانصاف مل رہا ہے اور صرف اسی طبقہ کی شنوائی ہوتی ہے ۔ راتوں رات عدالتوں کا کھل جانا ، عوام الناس کی آنکھیں کھول چکا ہے کہ اس اشرافیہ اور طاقت ور طبقے کو آئوٹ آف دی وے جاکر انہیں ان کی مرضی کا انصاف دیا جارہا ہے۔

رہ گئی پولیس تو جس فریق کا پلڑا بھاری ہو ، اثر و رسوخ زیادہ ہو ، پولیس اس کی باندی بن جاتی ہے ۔ ایف آئی آر میں فریق مخالف پر پولیس کی جانب سے ایسی دفعات لگا دی جاتی ہیں جنھیں بھگتتے بھگتتے سالہا سال لگ جاتے ہیں۔

رہ گئی غریب عوام تو اسے انصاف کی فراہمی صرف اسی صورت ممکن ہے کہ اس کی رسائی کسی طاقتور شخصیت تک ہو جائے تو اس کی بات سنی جاتی ہے۔ بصورت دیگر انصاف اور اپنے بنیادی حق کے لیے اسے کہاں کہاں دھکے نہیں کھانے پڑتے۔

بروقت انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ ہی کی نہیں بلکہ پولیس کی بھی ذمہ داری ہے، کیونکہ پولیس کی جانب سے داد رسی نہ ہونے کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد عدالتوں کا رخ کرتی ہے جس کی وجہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا ہے۔ جبکہ پولیس اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بروقت چالان عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح گواہان اور فریقین کے غیر سنجیدہ رویے بھی بروقت انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہیں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی اپنی ذمہ داری درست طریقے سے نبھائیں تو نظام عدل بہت جلد ٹھیک ہو سکتا ہے کیونکہ انصاف کی بروقت فراہمی میں تاخیر بھی نا انصافی میں شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں