قرآن اور الفاتحہ کا دلچسپ تعارف

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ثمینہ سعید ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین

رمضان المبارک قرآن کا ماہ عظیم ہے۔
اللہ تعالی نے اس ماہ مبارک میں اپنے بندوں کو رمضان کے روزے فرض کیے اور دوسری خوشی قرآن کے نزول کی عطا کی۔
رمضان المبارک نیکیوں کو پروان چڑھانے کا مہینہ ہے۔
جس میں نوافل کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔

سورت البقرہ کی آیت نمبر 32 میں اللہ تعالی فرماتا ہے
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)
انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایا ہے، بے شک تو بڑے علم والا ہے۔
تعارف قرآن فی القران

سورت شعراء
آیت نمبر 192 سے 195 تک
اور بے شک وشبہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہوجائیں۔
صاف صاف عربی زبان میں ہے۔
اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا ذکر ہے۔
ان قرآن الفجر کان مشھودا
سورت بنی اسرائیل

قرآن کا موضوع انسان ہے۔
عقائد بتائے گئے ہے۔
توحید ۔۔رسالت ۔۔اخرت
اخلاق کے دائرے بتائے گئے۔
اعمال کا فرق بتایا گیا۔
آج کے مشکل حالات میں ہمارا رویہ کیا ہو، یہ بتایا گیا ہے۔
قرآن انسان کی زندگی کے تمام دائروں کو مخاطب کرتا ہے۔
قرآن بتاتا ہے کہ اس دنیا میں رہنا کیسے ہے۔
اس کا نظام کیا ھو
اس کا انصرام کرنے والے۔کیسے ھوں

القران ۔۔پڑھنا بیان کرنا
الفرقان ۔۔حق و باطل کا فرق کرنے والا۔
الکتاب ۔۔متعین اور معین، اس کا کوئی حصہ کھویا نہیں ہے
یہ منتشر اوراق کا نام نہیں ہے
تذکرہ ۔۔بیان ھدی شفا
ذکر اللہ کی اطاعت وفرمابرداری
تنزیل نازل ہوا قسطوں میں وقتا فوقتا
پہلی سورت فاتحہ
مکمل سورت کے لحاظ سے پہلی سورت سات آیات پر مشتمل
اس کو السبع المثانی والقران العظیم کہا گیا
بار بار دہرائی جانے والی آیات
دن میں کتنی مرتبہ دہراتے ہیں، کبھی اس کو جمع کریں 32 مرتبہ
سورت فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے
فاتحہ الکتاب آغاز کرنا
افتتاح کرنا
ام الکتاب
نماز میں بار بار پڑھی جانے والی فرض نوافل ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے

فاتحہ دعا ہے
آداب سکھائے گئے
پہلے اللہ کی حمد بیان کریں، پھر توضیح دعا
پھر استحقاق دعا یعنی کیا مانگا جائے گا؟ کس طرح مانگا جائے گا؟ صرف تجھ سے ہی مانگتے ہیں

اصل دعا
اھدنا الصراط المستقیم
یہ دعا جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے تجویز فرمائی ہے، ہدایت کی دعا کی تو پورا قرآن حاضر کردیا ، لو یہ ہے ہدایت۔
فضیلت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ صحیح بخاری میں ہے
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس جیسی کوئی سورت نہ تورات میں نازل کی گئی نہ انجیل میں اور نہ ہی زبور میں اور فرقان میں یہ بات بار دہرائی جانے والی سات آیات پر مشتمل قرآن عظیم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔

ھذا لعبدی ولعبدی ما سال
صحیح مسلم
سورت فاتحہ میں دعا کا حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہ سب کچھ ملےگا جو اس نے مانگا۔
ایک فرشتے نے آکر خبر دی آپ کو دو نورین مبارک ہوں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے ۔فاتحہ الکتاب اور سورت البقرہ کی آخری آیات آپ اس میں سے جس حرف کی تلاوت کریں گے وہ آپ کو دیا جائے گا۔
سورت فاتحہ ہر نماز کے لیے ضروری ہے۔
مضامین
اللہ کی ربوبییت، اس کا مستحق عبادت ہونا، طلب ہدایت، صراط مستقیم کی ہدایت طلب کرنا اور پورا قرآن اس کے جواب میں ہے۔
صراط مستقیم قرآن میں ملے گا جس کو ڈھونڈتے ہو، وہ یہ ہے۔
اللہ کی حمد سے آغاز
بندہ جب اپنی زبان سے الحمد اللہ کہتا ہے تو اللہ اس کے نامہ اعمال میں وہ بھلائی لکھ دیتا ہے جو سب سے بھاری ۔ہوتی ہے
الرحمن اللہ وہ ہستی ہے جس کی رحمت اپنی چوٹی اور بلندی پر ہے۔
دنیا میں رحمان اور آخرت میں رحیم ہو گا۔
ان شاءاللہ
عبادت اور استعانت بھی کسی اور کی جائز نہیں، اللہ کے علاوہ اورں سے مدد کیسے مانگتے ہیں، ان الفاظ میں شرک کا۔سدباب کیا گیا ہے۔
سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی کہ سیدھے راستہ پر چلنا منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے، اس کے بعد اللہ سبحانہ تعالی اس راستے کی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن ہر اللہ نے انعام فرمایا،
جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں، جن کی قسمت میں انعام لکھا گیا ہے ان کے نیک اعمال کی بدولت ان لوگوں کا راستہ جھنوں نے حق کو جانا، حق کا پرچار کیا، حق کو سچا جانا، اس کو مانا، اس کو غالب کیا، اس کے نظام کو قائم کیا یا اس کے لیے کوشش کی اور وہ جن کو حق نظر آیا مگر وہ محروم تھے، وہ معتوب ہوئے، گمراہ ہوئے، ہدایت ہی نہ پا سکے، حق کی طرف سچائی کی طرف نہ جا سکے۔ اللہ ہمیں بھی ان لوگوں کا راستہ دکھا جو انعام پانے والے ہیں، حقیقی اور پائیدار انعام۔ جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتا ہے نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے یہ مناظر نظر آتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانیاں کرنے والے دنیا کی عیش و عشرت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں