پاکستان کے یوم آزادی پر جشن، قائد اعظم کا پورٹریٹ

سن 2047 میں پڑھا جانے والا کالم

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبید اللہ عابد

یہ سطور سن 2023 میں اس سوچ کے تحت لکھی گئی تھیں  کہ جانے مصنف 2047 میں منعقدہ صد سالہ جشن آزادی پاکستان میں شریک ہوسکے یا نہ ہوسکے۔

جس طرح دنیا کے کسی بھی انسان کو علم نہیں کہ اس کی زندگی کا آخری دن کون سا ہوگا؟ بعینہ اسی طرح مصنف بھی بے خبر ہے۔ تاہم خواہش اور دعا ضرور ہے کہ مصنف شاندار صحت کے ساتھ جشن میں شریک ہو۔ اس کے باوجود احتیاطاً مصنف 10 اگست سن 2047 بروز ہفتہ شائع ہونے والا کالم آج ہی لکھنا چاہتا ہے۔

مصنف کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے، جب پوری پاکستانی قوم 14 اگست کو صد سالہ جشن آزادی کی خوشیوں سے سرشار ہے، دانش وروں کا ایک حلقہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مشہور و معروف’ 11 اگست 1947 والی تقریر‘ پر کالم لکھنے اور تقاریر کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے، ان کالموں اور تقاریر میں  ثابت کیا جائے گا کہ قائد اعظم کی اس تقریر کو جان بوجھ کرغائب کردیا گیا۔

بعض دانش ور کہیں گے کہ اس تقریر کو ریڈیو پاکستان کی لائبریری میں رکھا ہی نہیں گیا تھا۔ بعض کا خیال ہوگا کہ تقریر لائبریری میں تھی لیکن ایک اسلام پسند فوجی ڈکٹیٹر نے اسے چوری کرکے، اپنی خاکی پینٹ کی کسی جیب میں ڈال لیا تھا، پھر جب ڈکٹیٹر دورہ کراچی پر گیا تو وہ رات کی تاریکی میں، دبے پاؤں بحیرہ عرب کے ساحل پر پہنچ گیا۔

اگرچہ اندھیرا اس قدر تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، اس کے باوجود اس نے ایک مکمل سنسان جگہ کے انتخاب کو یقینی بنایا۔ اور پھر کمال احتیاط سے اپنی جیب سے قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست والی تقریر نکالی، پھر وہ نیچے بیٹھا، اس نے زمین پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک  چھوٹا لیکن بھاری پتھر پکڑا، اسے مضبوطی سے تقریر کے ساتھ باندھا اور پوری طاقت سے دور بلکہ بہت دور سمندر میں پھینک دیا۔

اگرچہ سمندر کی لہروں کا شور کافی تھا لیکن پھر بھی وہ تقریر کے سمندر میں گرنے کی آواز سننا چاہتا تھا۔ تاہم اسے شدید مایوسی ہوئی کہ سمندری لہروں کا شور پورے ماحول پر غالب رہا۔

ڈکٹیٹر جس طرح دبے پاؤں ساحل تک پہنچا تھا، اسی طرح واپس اپنے کمرے میں آکر بستر پر لیٹ گیا۔ اس نے ایک لمبی سانس بھری، خود کلامی کی کہ آج پوری کائنات 11 اگست کی تقریر سے پاک ہوگئی اور پھر گہرے اطمینان کی نیند سوگیا۔

11 اگست 2047 کے روز ایک ایسے دانش ور کا کالم بھی شائع ہوگا جسے قائد اعظم کی مذکورہ بالا تقریر ازبر ہے، اس کے خوابوں، خیالوں میں یہی تقریر گونجتی رہتی ہے۔ برسوں پہلے اسے خیال گزرا کہ ممکن ہے کہ یہ تقریر 1947 میں شائع ہونے والے کسی اخبار میں شائع ہوئی ہو، آل انڈیا ریڈیو یا بی بی سی لندن کے ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہو، لیکن تلاش بسیار کے باوجود کسی لائبریری، کسی آرکائیو میں نہ ملی۔

اس دانش ور کو بھی بھنک پڑی تھی کہ 80 کی دہائی میں ایک ڈکٹیٹر نے یہ تقریر غائب کردی تھی، تاہم جب اس نے اس خبر کے ثبوت اور شواہد تلاش کیے، وہ بھی نہ ملے۔ اس کے باوجود اسے یقین ہے کہ قائد اعظم نے یہ تقریر ضرور کی ہے۔ اس میں بانی پاکستان نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق پر بہ طور خاص زور دیا اور کہا تھا :

’ آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

2047 میں وہ طبقہ بھی موجود ہے جس کے خیال میں قائد اعظم نے ایسی کوئی تقریر نہیں کی۔ اگر انھوں نے تقریر کی ہوتی تو پاکستان یا بیرون ملک کہیں نہ کہیں تو اس تقریر کا وجود ہوتا۔ برصغیر پاک و ہند میں بے شمار اخبارات شائع ہو رہے تھے، ہر اخبار کے تمام شمارے، مکمل ریکارڈ بے شمار لائبریریز میں موجود ہے، ان اخبارات کے شماروں میں کہیں نہ کہیں اس تقریر کی کوئی خبر مل ہی جاتی۔ برطانیہ کے کتب خانوں، آرکائیوز میں باقی سب کچھ موجود ہے لیکن یہ تقریر کہیں نہیں ہے۔

 2047 میں ایک تیسرا طبقہ بھی موجود ہے جو اس ساری بحث کے درمیان حیران کھڑا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ آخر 11 اگست کی تقریر کے وجود اور عدم وجود کے حق میں دلائل کے انبار لگانے والے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ عدم وجود والے بھی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے حامی ہیں، اس سے اختلاف کسی کو بھی نہیں ہے۔

مذہبی طبقہ بھی ایمان رکھتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ میں غیرمسلموں کو مکمل مذہبی آزادی دی تھی، وہاں یہودی بھی تھے اور عیسائی بھی۔ سب اپنی عبادات، دیگر رسوم و رواج میں مکمل آزاد تھے، خلفائے راشدین کے دور حکومت میں بھی غیرمسلموں کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ ان کے بعد بھی مسلمانوں کی ہر حکومت میں اقلیتیں مکمل مذہبی آزادی سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔ کسی مسلمان حکمران نے کب کہا کہ اقلیتیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد نہیں ہوں گی؟ کب کسی مسلمان حکومت میں کسی کو اس کی مذہبی اور نسلی شناخت سے محروم کیا گیا؟

دنیا میں جو حکومتیں سیکولرازم کا نعرہ لگاتی ہیں، جمہوریت ہونے کی دعوے دار رہی ہیں، ان کے ہاں اقلیتوں سے سلوک کی تاریخ کا کوئی مطالعہ کرے تو سہی! بہت دور نہ جائیں، بھارت کی تاریخ ہی دیکھ لیں، لاکھوں مسلمانوں کو مسلمان ہونے  کی بنیاد پر قتل کیا گیا، ہزاروں عیسائیوں کو عیسائی ہونے کے سبب قتل کیا گیا، انھیں ہر قسم کے حقوق سے محروم کیا گیا۔ سن 2023 میں، ریاست منی پور میں صرف  2 روز میں عیسائیوں کی 400 سے زائد عبادت گاہیں جلا دی گئیں۔

آج 2047 میں، جب کہ پاکستان کو قائم ہوئے 100 برس مکمل ہوچکے ہیں، کوئی حساب کتاب کرے کہ پاکستان میں کتنے ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا؟ کتنے مندر، کلیسا اور گورودوارے جلائے گئے؟ یہ حساب کتاب کرتے ہوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کے پور بھی بہت کافی ہوں گے۔

آج 2047 میں کوئی بتادے کہ گزشتہ ایک سو برس میں کتنے پاکستانی ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کو ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے روکا گیا؟

قائد اعظم نے 11 اگست 1947 کو تقریر کی تھی یا نہیں کی تھی، انھوں نے اقلیتوں کی مکمل مذہبی آزادی کی بات کی تھی یا نہیں کی تھی، اس سوال سے قطع نظر پاکستان میں گزشتہ ایک سو برس میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی اور اگلے 100 برس میں بھی رہے گی اور اس سے اگلے 100 برس میں بھی۔

قائد اعظم کی تقریر حاصل کرنے کے لیے دنیا کا کونا کونا چھان مارنے والے کسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا حصہ بن کر بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کام کرتے تو آج بھارت کا منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا!

( بادبان، عبید اللہ عابد)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں