مسلمان اور علم کا محدود تصور از ڈاکٹر غلام قادر لون

مسلمان اور علم کامحدود تصور

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

تعلیم کا عمل اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے نہایت ہی مؤثر معاشرتی عمل ہے اور اسی وجہ سے ہر دور کے مفکرین اسی عمل کو زیادہ جامع اور مفید نتائج کاحامل بنانے کے لیے افکار پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ عمل درحقیقت انسان کی ذہنی و اخلاقی تدریج کاعمل ہے اور اس کے پیدا کردہ نتائج ہی خودانسان کی ترقی کا پیمانہ قرار پاتے ہیں۔ عصرحاضر مختلف نظریاتی لہروں اور فکری سمتوں کی باہمی آویزش اور ٹکر کا دور ہے۔ تصادم اور کشمکش کی اس فضا میں کمزور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی اقوام زبردست خطرے میں ہیں۔ طاقتور اقوام کی طرف سے تمدنی، علمی اور تہذیبی یلغار نے بھرپور حملے کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ ان پر آشوب حالات میں کوئی ایسی قوم ابھر ہی نہیں سکتی جو دوسروں کے ذہنی افکار کی دریوزہ گری کرتی پھرے اور جس کے پاس ایک مضبوط فکری و علمی انقلاب بپاکرنے کے لیے الہامی ہدایت پر مبنی کوئی نظریاتی سرمایہ نہ ہو۔

          ’ مسلمان اور علم کا محدود تصور ‘کتابچہ ڈاکٹر غلام قادر لون (حدی پورہ، بارہمولہ) کاچشم کشا مضمون ہے جس کی افادیت کے مدّنظر سہیل بشیر کار صاحب نے اسے کتابی شکل دی ہے۔ ڈاکٹر لون صاحب تابناک ماضی کے حُدی خواں ہیں اور مسلمانوں کی موجودہ حالت پر نوحہ کناں بھی؛ لکھتے ہیں:

          ’ عہدِعروج میں مسلمانوں کا تصورِ زندگی ارفع اور تصور علم وسیع تھا۔ ان کی بلندنگاہی؛ وسیع القلبی؛ رواداری؛ صبروتحمل ؛ بلندہمتی؛ روشن خیالی؛ علم دوستی اور انصاف پسندی کاشہرہ دنیا میں عام تھا۔ان ہی صفات حسنہ کی بدولت وہ صدیوں تک روئے زمین کے بہت بڑے حصے کے امین اور وارث بنے رہے۔ دورِ زوال کے مسلمان ان تمام صفات سے عاری ہیں۔ اس لیے اپنی سرزمین پر بھی پردیسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ع

                                                   در دیار خود غریب افتاد است‘‘ (ص5)

          موجودہ دور میں مسلمان وہ بد قسمت قوم ہے جس کے پاس علم کے جویا ابتدا سے بہتے رہے لیکن اب اس چشمہ صافی سے خود بے بہرہ ہیں۔ ہمارے اسلاف نے دوسرے اقوام کی علمی و فکری رہنمائی کی اور آج اُن کے اخلاف نے ’علم‘ کو مذہبی اور دنیاوی خانوں میں بانٹ دیا۔ قرآن و حدیث نے یہ تفریق نہیں کی۔ یہ تفریق دور ظلمت میں مغرب کے مذہبی پیشواؤں نے کی اور المیہ یہ ہے کہ مسلمان مذہبی رہنماؤں کی اکثریت فرسودہ نظریے کی تقلید کرتے ہوئے سائنس، فلسفہ، طبیعیات، فلکیات ، ریاضیات، علوم کو ’دنیاوی علم ‘ کا لیبل چسپاں کیے ہوئے ہیں، جس سے عصر حاضر کا مسلم نوجوان اپنے دین و عقیدے کے بارے میں عجیب مخمصے کا شکار ہو چکا ہے۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں طب، طبیعیات، فلکیات، ریاضیات، ادب، معدنیات، حیوانیات اور نباتیات وغیرہ علوم کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں لیکن ہم نے ان علوم کی اہمیت کو گھٹا کر شجرممنوعہ کی سطح پر لاکھڑا کیا، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔کل تک غیر ہمارے اسلاف کے علمی کارناموں سے مرعوب تھے اور آج وہی صورت عالم اسلام کی ہے۔ مصنف اس حوالے سے گویا ہیں:

          ’ عہدِ عروج کے مسلمان علم کوخدا کے نزدیک بلندی درجات کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک علم پیغمبروں کا ورثہ اور مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ علم کومحدود نہیں سمجھتے تھے اور نہ ان کے ہاں قدیم و جدید کی تقسیم تھی۔ ان کے اندر پاتال سے ثریّا تک ہر چیز کے بارے میں آگاہی پانے کا جذبہ تھا۔ وہ دینی علوم کے حصول کے لیے جس طرح دور دراز کے سفر کرتے تھے؛ اسی طرح دنیاوی علوم و فنون کے اکتساب کے لیے بھی دوردراز شہروں کا رخ کرتے تھے۔ــ ‘(ص6)

ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر

          ہمارے اسلاف کئی میدانوں کے شہسوار تھے۔ مدرسہ و مروجہ علوم میں وہ درجہ احسان پر فائز تھے، چند اہل علموں کاحوالہ دیتے ہوئے صاحبِ کتاب لکھتے ہیں:’امام غزالیؒ دینی عالم اور مفکر ہونے کے ساتھ ساتھ ریاضی اور فلکیات کے ماہر تھے۔ ابن رشدؒمفکر؛ سائنس داں اور بلندپایہ فقیہ تھے۔ابن النفیسؒ بے مثال طبیب تھے؛ جنہوں نے دوران خون دریافت کیا؛ وہ فقہ شافعی کے بھی بڑے عالم تھے۔ ابن الشاطرؒ عظیم سائنس داں ہیں جن کی تحقیق سے کو پرنکسؔ نے استفادہ کیا۔ وہ جامع مسجد دمشق اموی کے ُموقِت تھے۔ انہوں نے جامع مسجداموی کے منارے کے لیے دھوپ گھڑی بنائی تھی۔ قطب الدین شیرازیؒ ریاضی داں، فلکی، طبیب اور صوفی تھے۔ ‘(ص 6)

          ایک نقاد نے کس قدر سچ کہاہے کہ ’ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کرلیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر بھی یورپ کے مردوں نے فتح پالی ہے ‘۔ ہر موقع اور ہرمحل پر شجاعت، ہمت، غیرت، علم وفن، غرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کے بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم میں ابتدا سے اخیر تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لیے جب فضائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا زبان پر آتا ہے، جن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ حالانکہ یورپ میں نشاۃ الثانیہ کی بنیاد مسلمانوں نے ہی ڈالی۔ یونان، ایران، مصر، روما و ہند کا سارا فلسفہ، ادب، منطق، طب، ہندسہ، تاریخ، سب کچھ عربی میں ڈھال کر اغیار کو وہ سرمایہ مہیا کیا گیا کہ وہ آگے بڑھ گئے۔ ابن جوزیؒ دو سو کتابوں کے مصنّف تھے، ابن جریر طبریؒ مسلسل 40سال تک روزانہ لگ بھگ 28صفحات کے حساب سے لکھتے رہے۔ محدث حمیرہؒ جب عراق کی گرمیوں میں لکھتے لکھتے تھک جاتے توٹب(Tub) میں بیٹھ کر لکھتے تھے۔ اسلام کامعجزہ کثرت تالیف کہا گیا ہے۔ ابن خلدونؒ سے بڑھ کر فلسفہ تاریخ پر کس نے قلم اٹھایا؟ امام غزالیؒ ، ابونصر فارابیؒ، بوعلی سیناؒ، امام رازیؒ، الکندیؒ جیسے فلسفی کہاں دیکھے گئے ہیں؟ رومیؔ، جامیؔ، فردوسیؔ، سعدیؔ ، حافظؔ، حالیؔ، شبلیؔ، میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ جیسے شعراء اب کہاں؟ امیرخسروؔ نے 5 لاکھ اشعار کہے۔ غرض تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی ندرت و جدت کی دھوم رہی۔اب تحقیق وتفتیش میں مسلمانوں نے موت کا روپ دھار لیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ آندھی کی طرح اٹھے، طوفان کی طرح چھاگئے اور اب گرد کی طرح بیٹھ گئے ہیں۔

          اہل علم کا فرض ہے کہ وہ قوم کے محسن بن کر حُسن و قبح کو واضح کریں؛ زمانے کی رَو میں بہنے کے بجائے، ناخدا بن کر ملت کو کنارہ تک رہنمائی کریں؛ عروج و زوال کے تقاضوں سے خود بھی آگاہ ہوں اور عوام کو بھی مطلع کریں لیکن زوال کے آسیب میں جب یہ ملت گرفتار ہوئی تو علماء کارول کیا تھا، تاریخ کے اوراق اس پر نوحہ کناں ہیں:

          ’1789ء کا سال انقلاب فرانس کا سال تھا؛ جس نے اہلِ مغرب کوخوابِ غفلت سے جھنجوڑ کر جگایا اور حریت، اخوت اور جمہوریت کے الفاظ سے فرانس کے در و دیوار آشنا ہوئے۔اسی سال خلافت عثمانیہ کے تخت نشیں سلطان سلیم ثالث(1789۔1807ء) ہوئے جو بیدار مغز اور روشن خیال تھے۔ انہوں نے عثمانی فوجوں کی کمزوری دیکھ کر فوجی اصلاحات پر توجہ دی۔’نظام جدید‘کے تحت سلطان نے فوج کی تربیت کے لیے یورپ سے ماہرین منگوائے۔ توپیں ڈھالنے کے کارخانے قائم کیے اور پرانے ہتھیاروں کی جگہ نئی رائفلیں منگوائیں۔مگر علماء نے فتوٰی دیا کہ یہ کافروں کا ہتھیارہے اور مسلمانوں کے لیے اس کااستعمال کرناحرام ہے۔ سلطان نے فوج کے لیے نئی وردی مقرر کی تو علماء نے فتوٰی دیا کہ یہ نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے اور تشبیہہ کی ممانعت آئی ہے۔‘(ص8)

          یہ ہماری حِرماں نصیبی تھی جو ایسے ’رہبر‘ نصیب میں تھے۔کاش! انہوں نے سیرتِ پاکﷺکا بالاستیعاب مطالعہ کیاہوتا تو وہاں پاتے کہ رسالتمآب ﷺنے بعض اوقات یہودیوں سے ہتھیار مستعار لیے تھے۔اور ہمارے ہاں ان علماء نے نئے ہتھیاروں کو کافروں کے ہتھیار بتاکر مسلمانوں کے لیے ان کااستعمال ناجائز ٹھہرایا اور شکست و زوال کو دعوت دی۔

          ڈاکٹر لون مزید لکھتے ہیں:

          ’1798ء میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو حاکمِ مصر مراد بکؔ نے جامع ازہرکے علماء کو جمع کیا اور ان سے مشورہ مانگا کہ ہمیں کیا کرناچاہیے؟ علمائے ازہر نے بالاتفاق رائے دی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے۔ اس رائے پر عمل کیا گیا مگر ابھی صحیح بخاری کاختم اختتام کو نہیں پہنچا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کاخاتمہ کردیا۔‘(ص13)

          قرونِ وسطیٰ تک عالم اسلام میں عظیم پیمانے پر علم کی جستجو شروع ہوگئی تھی۔ بغداد، قاہرہ، طلیطلہ و چین کے تمام علوم آٹھویں صدی عیسوی تک عربی میں منتقل ہوچکے تھے۔ مسلمانوں نے ان علوم کا صرف عربی میں ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ انہیں سمجھنے کے بعد قابل فہم بنایا اور ارتقاء علوم کی منازل طے کیں۔تاریخ انسانی میں مسلمانوں سے قبل کسی قوم کو بنی نوعِ انسانی کے علوم کے تمام جواہر کسی ایک خزانے میں منتقل کرنے کا افتخارحاصل نہ ہوسکا تھا۔ مغرب کی سرحدوں پر ان علوم کے دو مراکز قائم کیے گئے تھے۔ ایک قرطبہ، دوسرا سسلی۔ مسلمانوں کے قائم کردہ ان دو مراکز سے علوم کے مشامِ جانفزا مغرب میں بھی پہنچنے لگی۔ اس دور کا مغرب حقیقی تہذیب سے ناآشنا، قومی نظریات سے نابلد، مختلف ریاستوں پر مشتمل تھا اور ایک مشترک مذہبی قدرمیں منسلک تھیں۔ رومن چرچ ان سب پرحکمراں تھا۔ عقل وفہم کے تمام شعبے انہی مذہبی اجارہ داروں کی ملکیت تصور کیے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں بابِ علم پر انہی کا پہرہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب عالم اسلام پر رشک کرتا تھا کیونکہ عالم اسلام صنعت وحرفت، حرب وتجارت میں ہی ممتاز نہ تھا بلکہ فلسفہ، سائنس، طب وقانون غرض ہر میدان میں لاثانی تھا۔ اس کے برعکس علم کے محدود تصور نے دورِ زوال میں مسلمانوں کو جس طرح نقصان پہنچایا؛ اس کی تصویر کشی مصنف یوں کرتے ہیں:

          ’الگ الگ مسلکوں اور فرقوں میں منافرت کی خلیج دن بدن بڑھتی گئی۔اب حالت یہ ہے کہ مسلماں اور غیرمسلم سفروحضر میں ایک دوسرے کے ساتھ شِیروشکر ہوکر رواداری سے رہ سکتے ہیں؛ مگر دو مسلکوں کے ماننے والے ایک مسجد میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ ‘(ص20)

          قدیم نصاب تعلیم سے وابستہ اہل علموں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ مصنف جدید اداروں کی تاریکیوں سے بھی پردہ کشائی کرتے ہیں۔ جدید اداروں کے فارغین کے متعلق رقمطراز ہیں:

          ’انھیں اپنی روشن خیالی؛ حریت فکر؛ بود و باش اور زمانہ شناسی پر فخرہے مگرحقیقت یہ ہے کہ ان کی روشن خیالی بھی اپنے اندر تہہ در تہہ تاریکیاں لیے ہوئے ہے۔ تمام تر قدامت پسندی کے باوجود قدیم نصاب کے فارغین کے پاس بہت کچھ فخر کرنے کو ہے جبکہ نئے تعلیم یافتہ حضرات کا دامن یکسر خالی ہے۔ ‘(ص23)

          نشاۃ ثانیہ کے لیے صاحب مضمون نے اربابِ حل وعقد پر زور دیا ہے کہ وہ قدیم و جدید نظامِ تعلیم پر دوبارہ سنجیدگی سے غور کرکے نصابِ تعلیم کو افادی بنانے کی ہرممکن کوشش کریں۔ طرزِ تعلیم کی اصلاح سے ہی زوال میں پسی ہوئی موجودہ امت مسلمہ عروج کا باب وا کرسکتی ہے؛ اپنی اس تجویز کو وہ یوں پیش کرتے ہیں:

          ’مدارس کے ذمہ داروں کوچاہیے کہ وہ نصاب تعلیم اور طرزِ تعلیم دونوں میں اصلاح کرنے کی طرف توجہ دیں۔ یہی وقت کی آواز ہے۔ جدید نصاب تعلیم کو بھی تبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارا نصاب تعلیم ہماری پستی کاسب سے بڑا ذمہ دارہے۔‘(ص31)

          مسلمانوں کی صدیوں کی کاوش کا ثمر مغرب کو ملا اور مغرب نے اپنے علوم کی بنیاد مسلم علوم پر رکھی اور استفادہ کاسلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مغرب نے کلیسا کے دباؤ کے تحت اسلامی روح کو قبول کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ اس نے اسلام سے صرف مادی اثرات قبول کیے۔ یہی مادّی اثرات تھے جو بے روح علم بن کر مغرب کے ہاتھوں میں پہنچے، جسے انہوں نے عیسائی فضا میں پروان چڑھایا۔وہ تناور درخت جس میں اسلامی روح نظر نہیں آتی، مسلمانوں کا لگایا ہوا پودا ہے، جو خود عالم اسلام میں نشوونما نہ پاسکا اور ناموافق حالات میں ٹھٹھر کر رہ گیا۔

          اس موضوع پر ڈاکٹر غلام قادر لون کی شہرہ آفاق ضخیم کتاب ’قرونِ وسطٰی کے مسلمانوں کے سائنسی کارنامے ‘ مفصّل بحث کرتی ہے، جو پاک و ہند میں چھپ کر علمی حلقوں میں پزیرائی پاچکی ہے اور کئی یونیورسٹیوں میں شاملِ نصاب بھی ہے۔ شائقین اپنی تشفی کے لیے اس کابھی مطالعہ کریں۔

          زیرتبصرہ مضمون کوکتابی صورت’القلم پبلکیشنز‘ بارہمولہ نے دی ہے۔کتابچہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں:9906653927

                                                                        ٭٭٭

                                                                                                        [email protected]

                                                                       ٭٭٭


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے