میں سوچتاکیاہوں، ہوتا کیا ہے؟؟؟؟

ubaid Abid Avatar

عبیداللہ عابد۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر نئی صبح عزم کرتاہوں کہ آج تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کچھ نہیں لکھوں گا بلکہ ملک و قوم کے کسی دوسرے دشمن گروہ کا نقاب اتاروں گا۔ تاہم حکومت ہر روز کچھ نہ کچھ ایسا اقدام کرتی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر لکھنا پڑتا ہے۔

آج صبح میں نے سوچاتھا کہ تحریک انصاف کی تعریف کروں گا کہ وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے عزم پر قائم ہے،مجھے خوشی ہورہی تھی کہ مجوزہ صوبہ کے مخالف کیمپ میں کوئی سیاسی جماعت موجود نہیں۔

اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاتھا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن مہم کے دوران عوام سے جنوبی پنجاب کے صوبے کا وعدہ کیا تھا۔ جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے ہم نے قراردادیں پاس کروائی تھیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ شہباز شریف نے اس معاملے پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی نے بھی پیشکش کی ہے کہ عمران خان جنوبی پنجاب صوبے کا منصوبہ اسمبلی میں تو لائیں ہم ساتھ دیں گے۔

جب پارلیمان میں موجود تمام بڑی جماعتیں اس صوبہ کے حق میں ہیں تو انتظامی بنیاد پر ایک نیا صوبہ بنادینا چاہئے۔ اگرچہ اس میں کچھ پیچیدگیاں درپیش ہوں گی لیکن جب حکومت کو بڑی اپوزیشن جماعتوں کا مکمل تعاون حاصل ہو تو پھر پیچیدگیاں اپناوجود برقرار نہیں رکھ سکیں گی۔اس تناظر میں جنوبی پنجاب صوبے کا قیام سامنے دیوار پر لکھا نظرآرہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک خوشی کی بات ہے۔

ابھی اسی موضوع پر کچھ لکھنے کا سوچ رہاتھا کہ ٹیلی ویژن کی سکرین پر ایک دھماکہ خیز انداز میں خبر نشر ہونے لگی کہ حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کردیاہے۔
یقینا حکومتی بھونپو اس اقدام کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بیان کریں گے، فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان ایسے حکومتی ترجمان کوئی نہ کوئی مضحکہ خیزبیان جاری کریں گے۔دنیا میں فلاحی ریاستیں اپنے ہاں صحت اور تعلیم کو کمرشلائز نہیں ہونے دیتیں، ایک عمران خان کی “ریاست مدینہ” ہے کہ وہ ہرشعبے میں عام لوگوں کو شکنجے میں کس رہی ہے۔

کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ پہلے سے بدحال قوم کے لئے کتنی بڑی مشکل ثابت ہوگا۔ اعدادوشمار مرتب کرنے والے ادارے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اب ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والوں میں بڑااضافہ ہوگا۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت نے مریضوں کو صحت دینے کے بجائے موت کی طرف دھکیلا ہے۔