غیر مشروط کردیا تم کو
خود کو پرواز کی اجازت دی
’یہ دو مصرعے نہیں، ایک تجربہ ہے۔ جیسے محبت کی انتہا پر کوئی زنجیر ٹوٹ جائے اور انسان کی خودی کو پرواز کا اِذن مل جائے۔‘
‘استاد نے پڑھایا کہ اللہ نے ساری کائنات کو بے انتہا محبت سے بنایا۔ یعنی پوری کائنات کی تخلیق کے پیچھے سب سے مضبوط وجہ ہے محبت، بے انتہا محبت، غیر مشروط محبت۔
استاد نے کہا کہ
قرآن میں فرمایا گیا ہے اللہ نے اپنی نشانیاں کائنات میں بھی رکھی ہیں اور ہمارے اندر بھی ۔۔۔
غیر مشروط محبت بھی انہی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ غیر مشروط محبت ہے کیا؟ کیونکہ عام انسانی محبت تو بدلے میں محبت چاہتی ہے۔
غیر مشروط محبت وہ ہے جو بدلے کی کوئی شرط نہیں رکھتی۔ یہ وہ محبت ہے جو محض دینے میں خوشی پاتی ہے۔ اللہ کی محبت اسی لیے کامل ہے کہ وہ ہمیں ہماری کمیوں، کوتاہیوں اور غفلتوں کے باوجود نوازتا ہے۔ ہم شکر کریں یا ناشکری، وہ اپنی نوازشوں اور عطاؤں سے ہمیں محروم نہیں کرتا۔ یہ ہے غیر مشروط محبت جس میں توقع نہیں، صرف بخشش ہے۔
غیر مشروط محبت دراصل ایک فلسفہ ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کو ان کی خامیوں، کمزوریوں اور غلطیوں سمیت قبول کریں۔ یہ محبت ہمیں خود غرضی کے حصار سے نکال کر وسیع تر شعور تک لے جاتی ہے۔ جس دل میں یہ روشنی اتر جائے وہاں نفرت کی کوئی طاقت نہیں چلتی۔ نفرت کا ہتھیار تبھی اثر کرتا ہے جب دل شرطوں اور توقعات کے بوجھ تلے دبا ہو۔ مگر غیر مشروط محبت دل کو آزاد کر دیتی ہے۔
انسانی رشتوں میں جب یہ فلسفہ داخل ہو جائے تو تعلقات کی فضا بدل جاتی ہے۔ میاں بیوی کے تعلق سے لے کر والدین اور اولاد، دوستوں اور ساتھیوں تک، ہر رشتہ بوجھل توقعات سے نکل کر سکون اور آزادی کا تجربہ بن جاتا ہے۔ یہ محبت دوسروں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ انہیں جیسے ہیں ویسا قبول کرنے کا حوصلہ دیتی ہے
لیکن ہم تو معمولی انسان ہیں۔ ہم بدلے میں محبت چاہتے ہیں، ملکیت اور حق چاہتے ہیں، حاصل کرنا اور پابند کرنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ غیر مشروط محبت کیسے؟ یہ تو سمجھ سے باہر ہے۔
ہم محبت کو ہمیشہ شرطوں کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بدلے میں چاہا جائے، یاد رکھا جائے، وفا کی جائے۔ ہماری محبت اکثر ملکیت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ہم اپنا حق چاہتے ہیں، اپنا تصرف، اپنا تسلط۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ جسے چاہیں وہ ہمارا ہو کر رہے، ہماری مرضی کے مطابق جیے۔ رشتوں کی صورت میں، احسان جتا کر، مجبور کرکے یا کبھی جذباتی دباؤ سے ہم دوسروں کوجوڑے رکھنا چاہتے ہیں۔۔
یوں ہماری محبت خواہشوں کی قید میں آ جاتی ہے۔ ہم اسے کسی قیمتی شے کی طرح مُٹھی میں زور سے بند رکھتے ہیں۔ مُٹھی کھولنا تو دور، گرفت بھی ڈھیلی نہیں کرنا چاہتے، اس خوف سے کہ کہیں سب کچھ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ اور یہ سب ہم
’محبت‘ کے نام پر کرتے ہیں۔ اپنی possessiveness کو رومانس بنا کر پیش کرتے ہیں۔
درحقیقت شرطوں میں لپٹی ہوئی محبت خوف کا دوسرا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک محبت قبضے کی زنجیروں میں جکڑی ہے، وہ خالص نہیں ہو سکتی۔ حقیقی محبت خوف سے آزاد ہے۔
مشروط محبت انا کا دوسرا نام ہے۔
مراقبے میں ایک مراقبہ ’موت‘ کہلاتا ہے۔
صوفیاء اسے ’موت قبل از موت‘ کہتے ہیں۔ یعنی ابھی جیتے جی اپنی انا اور شرائط کو فنا کرنا۔۔۔
میں نے غیر مشروط محبت پر تدبر کیا، اسے پریکٹس کرنے کی کوشش کی۔ جب میں نے اس پر غور کیا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے یہ موت کا استعارہ ہے۔ جی ہاں… میں ابھی مراقبہ موت تک تو نہیں پہنچی، مگر میرا یقین ہے کہ غیر مشروط محبت بذاتِ خود مراقبہ موت ہے۔ آخر موت اور کیا ہے ..انا کا فنا ہونا ۔ اپنے وجود پر اپنی ذات کی گرفت چھوڑ دینا، ملکیت ، توقعات ، اختیار سے دستبردار ہوجانا۔ خواہشات کی قید سے آزاد ہوجانا ۔۔۔
’موت ہمیں ہر چیز سے آزاد کر دیتی ہے… غیر مشروط محبت بھی یہی کرتی ہے۔‘
کبھی کبھی کسی کو آزاد کردینا ، غیر مشروط کردینا ہی اس کی بقا، بہتری اور خوشی کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
غیر مشروط کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے کسی کو چھوڑ دیا ۔۔رشتہ توڑ دیا ۔۔۔ بلکہ اس کا مطلب ہے اپنی خود غرضی سے پاک کردیا ۔۔ کسی کو اس کی خوشی، مرضی اور اختیار سے جینے دینا ۔۔
حقیقی محبت میں قبضہ نہیں، بھروسہ ہوتا ہے۔ محبت وہ نہیں جو قید کرے، بلکہ وہ ہے جو چھوٹ جانے کے خوف کے باوجود بھی دوسرے کو رہائی دے۔
کبھی کسی کو آزاد کرنا نہ صرف اس کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے بلکہ اپنی ذات کی ارتقا کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے ۔۔۔
اس سے
انسان اپنے خوف، اپنی خودغرضی اور اپنے قابو پانے کی خواہش سے بلند ہوتا ہے۔۔
محبت جب شرطوں کے ساتھ ہو تو وہ دراصل لین دین بن جاتی ہے، ایک حد تک محدود رہتی ہے۔ لیکن جب محبت غیر مشروط ہو جائے تو وہ اپنی ذات کی حدود توڑ دیتی ہے۔ پھر وہ صرف رشتے، نفع، یا کسی مقصد کی محبت نہیں رہتی بلکہ
وہ روح کی گہرائیوں سے پھوٹتی ہے،
انسان کو بقا کے خوف سے نکال کر ارتقاء کی طرف لے جاتی ہے،
اور آخرکار وہ محبت، انسان کو خودی کی پرواز عطا کرتی ہے۔ یعنی اپنی اصل پہچان، اپنی حقیقت اور الوہی ربط کو پانے کی قوت۔
یوں غیر مشروط محبت، محدود سے لامحدود تک کا سفر ہے ۔۔
میں جب اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی تو ایک دل کو چھونے والی ویڈیو نظر سے گزری ۔۔ اس کی وضاحت کے طور پر اس سے زیادہ خوبصورت جیتی جاگتی حقیقی مثال مجھے اور کوئی نہیں لگی ۔۔
ویڈیو میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ایک شخص اپنی بھینسوں کے گلے سے رسی نکال رہا ہے
اگر رسی بندھی رہی تو ان کے پاس ہلنے جلنے یا نکلنے کا موقع نہیں ہوگا، اور وہ پانی میں پھنس کر مر سکتی ہیں۔
رسیاں کھول دینے کا مطلب تھا ، اگر نصیب میں ہوئیں تو واپس مل جائیں گی، اگر نہ بھی ملیں تو کم از کم ان کی جان بچ جائے ۔۔۔
شاید یہی حقیقی محبت ہے۔ کسی کو آزاد کر دینا، اس کی بقا کو اپنی ملکیت پر فوقیت دینا۔
’محبت قید نہیں، رہائی ہے۔ غیر مشروط محبت وہ ہے جو ہمیں اپنی ذات سے اوپر اٹھا کر خدا کی نشانیوں اور اس کی روشنی کے قریب کردے ‘۔۔
تبصرہ کریں