سیلی رونی،ایوارڈ یافتہ آئرش ناول نگار

’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت پر برطانوی حکومت کی معروف ناول نگار سیلی رونی کو دھمکیاں

·

برطانوی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی ممنوعہ تنظیم کو فنڈ دینا جرم ہے، یہ انتباہ اُس وقت دیا گیا جب ایوارڈ یافتہ آئرش مصنفہ سیلی رونی نے فلسطینیوں کے حامی گروہ کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔

برطانیہ کی حکومت نے آئرش ناول نگار سیلی رونی کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’فلسطین ایکشن‘ کو فنڈ نہ دیں۔ یاد رہے کہ سیلی رونی نے اس گروپ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ گروپ گزشتہ ماہ لیبر حکومت کی جانب سے ’دہشتگرد‘ قرار دے کر پابندی لگا دیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے دفتر نے کہا:
‘کسی ممنوعہ تنظیم کی حمایت کرنا دہشت گردی ایکٹ کے تحت جرم ہے‘ اور خبردار کیا کہ ایسی تنظیموں کی پشت پناہی سے گریز کیا جائے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ممنوعہ تنظیم کی حمایت اور کسی مقصد کے حق میں جائز احتجاج کے درمیان فرق ہے۔

سیلی رونی، جو Normal People اور Conversations with Friends جیسی بیسٹ سیلر ناولز کی مصنفہ ہیں، نے آئرش ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں حکومت کے فیصلے پر تنقید کی۔
انہوں نے لکھا کہ وہ کارکن جو نسل کشی کرنے والے رجیم کو اسلحہ کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، ممکن ہے چھوٹے قوانین توڑ رہے ہوں، لیکن وہ ایک اعلیٰ قانون اور انسانی ذمہ داری کی پاسداری کر رہے ہیں: ایک قوم اور ثقافت کو صفحۂ ہستی سے مٹنے سے بچانے کی ذمہ داری۔

یہ گروپ 2020 میں قائم ہوا اور برطانیہ کی اسلحہ صنعت کو ‘براہِ راست کارروائی‘ کے ذریعے متاثر کرتا رہا ہے۔ گروپ کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے نسل کش اور نسلی امتیاز پر مبنی نظام میں دنیا کی شمولیت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یاد رہے کہ جون میں اس گروپ کے کارکنوں نے وسطی انگلینڈ میں ایک فوجی اڈے میں گھس کر دو جہازوں پر سرخ رنگ پھینکا۔ اس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی جنگ میں برطانیہ کی حمایت کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے نتیجے میں اب تک 62,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے جنوری 2024 میں کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں فسطینیوں کی ’نسل کشی کے مترادف‘ہیں۔ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گلانت کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ جاری کیے۔

رونی نے کہا کہ انہوں نے فلسطینیوں کے حامی گروہ کی حمایت کا اعلان آئرلینڈ کے اخبار میں اس لیے کیا کیونکہ برطانوی اخبار میں ایسے اعلان کی اشاعت غیر قانونی پاتی۔

انہوں نے لکھا ’ برطانیہ کا سرکاری نشریاتی ادارہ مجھے رائلٹی فیس دیتا ہے۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں اس آمدنی اور اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کر کے ’فلسطین ایکشن‘ اور نسل کشی کے خلاف اس کی براہِ راست کارروائی کی حمایت جاری رکھوں گی۔

اب تک 700 سے زائد ’فلسطین ایکشن‘ کے حامیوں کو برطانیہ میں گرفتار کیا جا چکا ہے، زیادہ تر مظاہروں میں۔

رونی نے کہا:
میں ایک بار پھر کہنا چاہتی ہوں کہ میں بھی ان سینکڑوں مظاہرین کی طرح فلسطین ایکشن کی حمایت کرتی ہوں۔ اگر برطانوی قانون کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ’دہشت گردی کی حمایتی‘ ہوں، تو ایسا ہی سہی۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اس گروپ کو ’سیکورٹی ایڈوائس اور جوائنٹ ٹیررازم اینالیسس سینٹر‘ کی سفارش پر کالعدم قرار دیا گیا۔ پابندی 5 جولائی کو نافذ ہوئی۔ اس سے چند روز قبل ’فلسطین ایکشن‘ کے کارکنوں نے ایک برطانوی فوجی اڈے میں گھس کر دو طیاروں کو 7 ملین پاؤنڈ (9.3 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچایا۔

اب فلسطین ایکشن کی رکنیت یا اس کی حمایت برطانیہ میں دہشتگردی ایکٹ 2000 کے تحت جرم ہے، جس کی سزا 14 سال قید تک ہو سکتی ہے۔ اس گروپ کو قانونی طور پر داعش اور القاعدہ کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

9 اگست کو لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں ایک مظاہرے کے دوران 500 سے زائد افراد کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ وہ اس گروہ کے حق میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ برطانیہ میں کسی ایک احتجاج میں ہونے والی سب سے زیادہ گرفتاریاں بتائی جاتی ہیں۔

وزیرِ داخلہ یویٹ کوپر نے کہا کہ برطانیہ کی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ کوئی پرامن تنظیم نہیں ہے۔

دوسری طرف سیلی رونی نے اپنے مضمون میں حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کر رہی ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بچا سکے۔

سیلی رونی آج کے دور کی اُن معدودے چند ادیباؤں میں سے ہیں جنہوں نے کم وقت میں عالمی شہرت حاصل کی اور اپنی تحریروں کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مؤقف کے باعث بھی نمایاں مقام بنایا۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب ناول نگار اور اسکرین رائٹر ہیں بلکہ انسانی حقوق، خصوصاً فلسطینی عوام کے حق میں اپنی جرات مندانہ آواز بلند کرنے کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہیں۔

سیلی رونی 1991 میں آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ادب اور تخلیقی تحریر کو اپنا میدان بنایا اور جلد ہی وہ اپنے ہم عصر ادیبوں سے آگے نکل گئیں۔ تیس برس کی عمر میں ہی وہ عالمی سطح پر مقبول ناول نگاروں میں شمار ہونے لگیں۔

رونی کے ادبی سفر کا آغاز 2017 میں ان کے پہلے ناول Conversations with Friends (دوستوں سے مکالمت) سے ہوا۔ یہ کتاب جدید تعلقات اور سماجی مسائل کے عمیق مشاہدے کی عکاس تھی۔
اگلے ہی سال یعنی 2018 میں ان کا دوسرا ناول Normal People (عام افراد) منظرِ عام پر آیا۔ یہ ناول اتنا مقبول ہوا کہ نہ صرف بہترین آئرش ناول قرار پایا بلکہ اس پر بننے والی ٹی وی سیریز نے بھی دنیا بھر میں خوب شہرت حاصل کی۔
2021 میں ان کا تیسرا ناول Beautiful World, Where Are You (خوبصورت دنیا، تم کہاں ہو) شائع ہوا جسے قارئین نے بے حد پسند کیا۔

رونی کے اسلوب کو سادہ مگر گہرا قرار دیا جاتا ہے۔ وہ عام کرداروں اور روزمرہ زندگی کے تجربات کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ قاری فوراً ان سے جڑ جاتا ہے۔ ان کے ناولوں میں رشتوں، جذبات اور جدید معاشرتی مسائل کی عکاسی نمایاں نظر آتی ہے۔

سیلی رونی کو ان کی تخلیقات پر کئی اعزازات ملے:

  • 2017 میں Sunday Times کی جانب سے ینگ رائٹر آف دی ایئر کا خطاب
  • 2018 میں Normal People کو بہترین آئرش ناول قرار دیا گیا
  • 2019 میں ویمن پرائز فار فکشن کے لیے نامزدگی

ان کی شہرت صرف ناولوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے فن پاروں پر بننے والی ٹی وی سیریز نے بھی عالمی سطح پر ان کا نام روشن کیا۔

سیلی رونی کی شہرت کا دوسرا پہلو ان کا سیاسی شعور ہے۔ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اور اسرائیلی ریاست کی پالیسیوں کو کھل کر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔
2021 میں انہوں نے اسرائیلی پبلشر مودان کو اپنی تیسری کتاب کے عبرانی ترجمے کے حقوق دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ کسی ایسے ادارے کے ساتھ معاہدہ نہیں کریں گی جس نے اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں سے واضح لاتعلقی اختیار نہ کی ہو۔
یہ فیصلہ عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنا اور ان کے ناقدین اور حامی دونوں نے ہی اس پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

ان کے ناولوں پر بننے والی سیریز نے بھی انہیں نئی نسل میں بے حد مقبول کیا۔

  • Normal People پر بنی سیریز BBC اور Hulu پر نشر ہوئی اور عالمی سطح پر بے مثال کامیابی حاصل کی۔
  • Conversations with Friends پر بھی ڈرامہ سیریز بنائی گئی، جو ناظرین میں مقبول رہی۔

سیلی رونی کو ’ملینیئل ناول نگار‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ خاص طور پر نوجوان نسل کے تجربات، تعلقات اور تضادات کو اپنی تحریروں کا مرکز بناتی ہیں۔ ان کے ہاں محبت، سیاست اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

الغرض سیلی رونی محض ایک کامیاب ادیبہ نہیں بلکہ ایک باشعور دانشور ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کو بھی دنیا کے مظلوم عوام، خاص طور پر فلسطینی قوم کے حق میں استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج صرف ایک ناول نگار کے طور پر نہیں بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کے علَم بردار کے طور پر بھی پہچانی جاتی ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

One response to “’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت پر برطانوی حکومت کی معروف ناول نگار سیلی رونی کو دھمکیاں”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    سیلی رونی کی عظمت کو سلام ۔۔۔