Mazar Imam Musa bin Ali Raza, Mashhad

خاکِ فارس کا مسافر (37)

·

تہران سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز مشہد کے ہوائی اڈے پر اترا۔ گھڑی میں دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے۔ ہوائی اڈے سے باہر قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے ایک اور ایران میرا منتظر ہو۔ تہران کی چہل پہل سے مختلف، اس شہر کی فضا میں ایک عجیب سا سکون اور وقار تھا۔ شاید اس کی وجہ وہ عظیم ہستی تھیں جن کے نام سے یہ شہر دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے۔

امیگریشن اور سامان کی کارروائی مکمل کر کے باہر نکلا تو ٹیکسی والوں کی نظریں ہر نئے آنے والے مسافر کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ایک سفید بالوں والے ڈرائیور نے قریب آ کر مسکراتے ہوئے پوچھا:

"حرم؟”

میں نے بھی مسکرا کر جواب دیا:

"بلہ، حرم.”

اس نے خاموشی سے میرا سامان ڈگی میں رکھا اور گاڑی شہر کی طرف چل پڑی۔ سڑکیں کشادہ تھیں، ٹریفک منظم تھی اور زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں تھی۔ اچانک ڈرائیور نے سامنے کی طرف ہاتھ اٹھایا۔

"گنبدِ طلا…”

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دور اُفُق پر ایک سنہرا گنبد دوپہر کی دھوپ میں اس طرح چمک رہا تھا جیسے سورج نے اپنی چند کرنیں اسی کے لیے محفوظ کر رکھی ہوں۔ اس کے ساتھ دو مینارے بھی دکھائی دے رہے تھے، اگرچہ بعد میں معلوم ہوا کہ حرم کے چار مینارے ہیں، مگر دور سے دو ہی نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلی ہی نظر میں احساس ہو گیا کہ یہی مشہد کی شناخت ہے اور یہی اس شہر کا دھڑکتا ہوا دل۔ حرم یا مزار کے قریب ایک سستے مہمان پذیر میں قیام کیا۔ کمرہ نہایت سادہ تھا۔ اس میں دو چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں، لیکن کرایہ دونوں کا ادا کرنا تھا، خواہ استعمال ایک ہی کی کرنا ہو۔ ہوٹل کےاستقبالیہ پر بیٹھے شخص نے رجسٹر میری طرف بڑھایا اور کہا:

"گذرنامہ۔” یعنی پاسپورٹ

میں نے پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا۔ اندراج مکمل کرنے کے بعد اس نے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فارسی میں کہا کہ  اس کمر ے میں دو تخت ہیں۔آپ کو دونوں تختوں کا کرایہ دینا ہوگا۔

میں نے مسکرا کر پوچھا:

"تخت؟”

وہ ہنس پڑا۔ معلوم ہوا کہ حرم کے قرب و جوار میں واقع اس مہمان پذیر میں برصغیر سے آنے والے زائرین کثرت سے قیام کرتے ہیں، اسی لیے وہ خاصی اچھی اردو سمجھنے اور بولنے لگا تھا۔ میری الجھن بھانپتے ہوئے اس نے فوراً اردو میں وضاحت کی:

"تخت… یعنی چارپائی۔ اس کمرے میں دو تخت ہیں، دو چارپائیاں۔ یہاں کمرہ نہیں، تخت کے حساب سے کرایہ ہوتا ہے۔ آپ اکیلے ہیں، اس لیے دونوں تختوں کا کرایہ آپ ہی کو دینا ہوگا۔”

میں نے ایک نظر کمرے میں بچھی ہوئی دونوں چارپائیوں پر ڈالی، پھر مسکرا کر سر ہلا دیا۔ سفر میں بعض اوقات ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نئے ملک کے رہن سہن سے آشنا کر دیتی ہیں۔ میں نے مطلوبہ کرایہ ادا کیا، سامان ایک چارپائی کے ساتھ رکھا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ فارسی کا ایک اور لفظ آج میری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے: "تخت”۔

سفر کی تھکن اتارنے کے لیے کچھ دیر آرام کیا۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا تو وضو کیا اور مزار کی طرف چل پڑا۔ نماز میں نے مزار کے ساتھ مسجد گوہر شاد میں پڑھنی تھی۔

سنہ جولائی 2001 میں مشہد میں حرم کے اطراف آج کی طرح بڑے ہوٹلوں کی بہتات نہیں تھی۔ اس  زمانے میں بہت سے پاکستانی، ہندوستانی اور دیگر غیر ملکی زائرین مہمان پذیر (مہمان‌پذیر) یا سادہ گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرتے تھے۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے حرم کا طلائی گنبد اور مینار دور سے دکھائی دیتے تھے۔ اُ س زمانے میں حرم کے چند ہی صحن تھے ، اور نہ حرم کے نیچے سے سڑک (underpass) بھی نہیں گزرتی تھی۔

اب سورج اپنی تیزی کھو کر مغرب کی سمت جھکنے لگا تھا۔ گلیاں آہستہ آہستہ زائرین سے بھر رہی تھیں۔ کوئی خاندان بچوں کا ہاتھ تھامے جا رہا تھا، کہیں بوڑھے تسبیح ہاتھ میں لیے خاموش قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے، اور کہیں نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے قافلے تھے جن کے چہروں پر عقیدت نمایاں تھی۔ جوں جوں میں مزار کے قریب پہنچتا گیا، سنہرا گنبد اور مینارے مزید واضح ہوتے گئے۔ شام کی نرم روشنی میں گنبد کی سنہری چمک آنکھوں کو خیرہ نہیں کرتی تھی بلکہ دل کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ وسیع صحن میں قدم رکھا تو بے اختیار رفتار آہستہ ہو گئی۔ سفید سنگِ مرمر، کشادہ احاطے، ہر سمت آتے جاتے زائرین، دھیمی آوازوں میں ہونے والی دعائیں اور ایک عجیب سا سکون… ایسا سکون جو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ایک نوجوان خادم میرے قریب سے گزرا۔ اس نے مسکرا کر کہا:

"خوش آمدید.”

میں نے جواب دیا:

"ممنون۔”

دو اجنبی انسانوں کے درمیان صرف دو لفظوں کا تبادلہ ہوا، مگر ان میں مہمان نوازی اور احترام کی پوری داستان سمٹ آئی۔ زائرین اس پورے احاطے کو احتراماً حرم شریف کہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مسلمان مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کو مختصراً حرم کہتے ہیں۔ حرم کا احاطہ نہایت وسیع ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والے شیعہ زائرین کے لیے الگ الگ احاطے اور مجلس گاہیں قائم کی گئی ہیں تاکہ ہر قوم اور ہر زبان کے لوگ اپنی سہولت کے مطابق دینی پروگراموں میں شریک ہو سکیں۔ برصغیر سے آنے والے زائرین کے لیے رواقِ غدیر کے نام سے ایک مخصوص مجلس گاہ  یا برآمدہ سن 2001 میں موجود نہیں تھا جیسا کہ آج موجود ہے۔ البتہ بین الاقوامی امور زائرین  کے تحت اردو بولنے والوں کے لیے الگ مجالس کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

میں کچھ دیر خاموش کھڑا لوگوں کو دیکھتا رہا۔ ہر شخص کا لباس مختلف تھا، زبان مختلف تھی، رنگ مختلف تھا، لیکن سب کے قدم ایک ہی سمت اٹھ رہے تھے۔ شاید عقیدہ بھی ایک ایسی زبان ہے جس کے لیے کسی مترجم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی لمحے میرے دل میں خیال آیا کہ سفر صرف میلوں کا نام نہیں۔ سفر تو انسان کے اندر بھی ہوتا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا تھا، لیکن دل کو اس مقام تک پہنچنے میں شاید کئی برس لگ گئے تھے۔

حرم کے وسیع صحن میں چلتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار ایک سوال ابھر رہا تھا کہ آخر وہ کون سی شخصیت ہے جس کی محبت نے صدیوں سے لاکھوں انسانوں کے قدم اس شہر کی طرف موڑ رکھے ہیں؟امام علی بن موسیٰ الرضاؒ اہلِ تشیع کے آٹھویں امام ہیں۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کے والد امام موسیٰ کاظمؒ تھے اور نسب کے اعتبار سے آپ خالص عرب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا شجرہ صاحبزادی رسول ﷺ حضرت فاطمہ ؓ سے جاملتا ہے، گویا جس شخصیت کے مزار پر آج دنیا بھر سے لوگ حاضری دینے آتے ہیں، ان کی زندگی کا آغاز عرب کی سرزمین پر ہوا تھا، نہ کہ ایران میں۔ بلکہ اُس دور کا خراسانِ رضوی عربی اور سُنی تھا۔ شیعہ مذہب اس وقت تک پیدا نہیں ہواتھا  اور نہ اس وقت شیعہ فقہ  جعفری کا کوئی وجود تھا۔ اہل بیت بھی سنی طریقے کے مطابق نماز ادا کرتے تھے۔ شیعت  تشیع میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ شیعانِ علی کا مطلب سیاسی لحاظ سے حضرت علی کے حامی ہونے کا تھا۔لیکن مذہب ایک ہی تھا۔ نماز روزہ اور عبادات  فقہ ایک ہی تھی۔ مشہور معتدل  و اصلاحی شیعہ عالم و محقق جناب ڈاکٹر  موسی الموسوی  کی اپنی کتاب "اصلاح شیعیت” میں اس کا ذکر کیا  گیاہے۔ ڈاکٹر موسیٰ الموسوی سید ابوالحسن اصفہانی کے پوتے تھے۔

اسی زمانے میں عباسی خلافت کا سیاسی مرکز بغداد سے خراسان کے شہر مرو منتقل ہو چکا تھا۔ خلافت کے علمی، دینی اور سرکاری حلقوں میں عربی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، جبکہ خراسان اور ایران کے عام باشندوں کی زبان فارسی تھی۔ اسی لیے امام رضاؒ جب مدینہ سے خراسان تشریف لائے تو زبان ان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ عربی پورے عالمِ اسلام کی علمی اور دینی زبان تھی، جس سے یہاں کے اہلِ علم بخوبی واقف تھے۔

امام رضاؒ نے اپنی زندگی میں تین عباسی خلفاء—ہارون الرشید، امین اور مأمون الرشید—کا دور دیکھا۔ شیعہ روایات کے مطابق مأمون الرشید کی دعوت پر آپ مدینہ منورہ سے خراسان تشریف لائے۔ یہیں آپ کی عمر تقریباً پچپن برس ہوئی، اور یہیں آپ کا وصال ہوا۔ اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ آپ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔

حرم کے صحن میں کھڑے ہو کر میں ایک اور تاریخی حقیقت پر غور کر رہا تھا۔ یہ ایک سنی  عرب فرزند کا مزار ہے، مگر اس کے گرد آباد ہونے والی پوری تہذیب آج شیعہ فارسی رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ صدیوں کے سیاسی اور ثقافتی تغیرات، خصوصاً صفوی دور کے بعد، ایران کی شناخت پہلے سے کہیں زیادہ فارسی اور  شیعہ  ہو گئی۔ آج زائرین کی اکثریت فارسی بولتی ہے، بازاروں میں فارسی سنائی دیتی ہے اور شہر کی روح بھی فارسی تہذیب میں رچی بسی محسوس ہوتی ہے، مگر اس فارسی ماحول کے عین مرکز میں آرام کرنے والی شخصیت مدینہ کی عرب سرزمین سے تعلق رکھتی ہے۔ تاریخ کبھی کبھی ایسے دل چسپ تضادات بھی اپنے دامن میں سموئے رکھتی ہے جن پر  بعد کے ادوار میں ایک عام شخص کے لیے  یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

حرم کے مرکزی دروازے پر پہنچا تو سب سے پہلے میری نگاہ وہاں کھڑے خدام اور مجاوروں پر پڑی۔ ان کی وردی دیکھ کر میں چند لمحوں کے لیے ٹھٹھک گیا۔ انہوں نے ہوائی جہاز کے پائلٹوں سے مشابہ چھجے والی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں، استری کی ہوئی نفیس وردی زیبِ تن تھی اور ان کی چال ڈھال بھی کسی جدید سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں جیسی تھی۔

میں نے بےاختیار قریب کھڑے ایک خادم کو سلام کیا۔

"السلام علیکم۔”

اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

"وعلیکم السلام، خوش آمدید۔ زیارت قبول ہو۔”

میں نے حیرت سے اس کی وردی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:

"آپ لوگوں کی وردی تو کسی ہوائی جہاز کے پائلٹ یا کسی باقاعدہ سرکاری افسر جیسی معلوم ہوتی ہے۔”

وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا:

"ہم زائرین کی خدمت کے لیے مقرر ہیں۔ اللہ ہمیں اس خدمت کی توفیق دے۔”

میں نے شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گیا، لیکن اس مختصر گفتگو نے میرے دل میں ایک خوشگوار تاثر چھوڑ دیا۔ میرے ذہن میں اس تاریخی اور مقدس مقام کا ایک بالکل مختلف نقشہ تھا۔ میں تصور کیے ہوئے تھا کہ اس قدیم عمارت کے محافظ لمب جُبے ، سروں پر عمامے سجائے، روایتی انداز میں آنے والے زائرین کا استقبال کر رہے ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس تصور سے یکسر مختلف نکلی۔ جدید طرز کی وردی میں ملبوس یہ مجاور میرے لیے ایک غیر متوقع منظر تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان میں مزاروں کے مجاوروں کی جو تصویر ہمارے ذہن میں نقش ہوتی ہے، وہ درویشوں، سجادہ نشینوں یا ملنگوں کے روایتی لباس سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں یہاں کے مجاور زیادہ تر کسی منظم سرکاری ادارے کے تربیت یافتہ اہلکار دکھائی دیتے تھے۔

میں ابھی اسی حیرت میں تھا کہ ایک مجاور میری نظروں کے سامنے سے گزرا۔ اس کی پشت پر عرقِ گلاب  کا ایک بڑا سا ٹینک بندھا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ سے وہ پمپ کو مسلسل دبا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک لمبی، باریک دھاتی نلکی تھامے ہوئے تھا۔ نلکی کے دہانے سے عرقِ گلاب   کے نہایت باریک قطرے فوارے کی صورت فضا میں بکھر رہے تھے۔ چند ہی لمحوں میں اردگرد کی ہوا گلاب کی لطیف خوشبو سے مہک اٹھی۔ زائرین خاموشی سے اس خوشبو میں سانس لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، گویا خوشبو بھی اس روحانی فضا کا حصہ بن چکی تھی۔

داخلی راستے کے ساتھ جوتے رکھنے کے لیے بڑے بڑےrack بنے ہوئے تھے۔ کچھ زائرین اپنے جوتے انہی خانوں میں رکھ کر اندر جا رہے تھے، جبکہ بہت سے لوگ اپنے ساتھ کپڑے کی چھوٹی تھیلیاں لائے ہوئے تھے۔ وہ جوتے ان تھیلیوں میں ڈال کر اپنے ساتھ ہی حرم میں لے جاتے تھے۔ اس منظر سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں لاکھوں زائرین کی آمدورفت کے باوجود نظم و ضبط اور سہولت کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔

جب میں آج ان یادوں کو دہراتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ عمارتیں بدل گئی ہیں، راستے وسیع ہو گئے ہیں، رواق بڑھ گئے ہیں اور سہولتیں کئی گنا زیادہ ہو چکی ہیں، لیکن گلاب کی وہ خوشبو، خدام کی مسکراہٹ اور پہلی زیارت کی کیفیت آج بھی میرے حافظے میں اسی طرح محفوظ ہے جیسے 16 جولائی 2001 کی صبح تھی۔

حرم کے داخلی دروازوں پر ایک اور منظر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچی۔ بہت سی خواتین اور نوجوان لڑکیاں جدید طرز کے لباس میں حرم کی طرف آ رہی تھیں۔ بعض نے جینز اور فیشن ایبل ملبوسات پہن رکھے تھے، مگر جیسے ہی وہ داخلی دروازے کے قریب پہنچتیں، اپنے پرس سے ایک لمبی سیاہ چادر نکالتیں اور اسے سر سے لے کر قدموں تک اوڑھ لیتیں۔ گویا حرم کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے لباس کا ایک الگ ہی آداب نافذ ہو جاتا تھا۔دوسری طرف، جو خواتین حرم سے باہر نکل رہی تھیں، ان میں سے بعض اس کے برعکس کرتی نظر آئیں۔ وہ اپنی سیاہ چادریں اتارتیں، تہ کر کے پرس میں رکھتیں اور پھر شہر کی مصروف اور جدید زندگی میں واپس شامل ہو جاتیں۔ چند نوجوان لڑکیاں شاید اس ضابطے سے پوری طرح واقف نہ تھیں یا بے خیالی میں بغیر چادر کے اندر جانے لگیں۔ داخلی دروازے پر کھڑے وہی جدید وردی میں ملبوس خادم یا مجاور  نہایت شائستگی سے انہیں مخاطب کرتے:

"خواہر… حجاب، لطفاً.”

کبھی کوئی خادم  ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہہ دیتا:

"بہن! حجاب کرو… چادر پہن لو۔”

ایران میں اس لمبی سیاہ اوڑھنی کو سادہ لفظوں میں "چادر” کہا جاتا ہے، اور حرم میں داخل ہونے والی خواتین کے لیے یہ لباس کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

اسی دوران ایک جنازہ حرم کے صحن میں لایا گیا۔ زائرین خاموشی سے راستہ چھوڑتے گئے۔ میری آنکھوں کے سامنے میت کے اوپر حرم کے قالینوں کی گَرد بطورِ تبرک جھاڑی گئی۔ وہاں موجود لوگوں کے چہروں سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس عمل کو عقیدت اور برکت کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد ایک تنگ سے دروازے سے گزر کر زائرین میت کو مسجد گوہر شاد میں لے گئے ۔ آج یہ تنگ سا راستہ موجود نہیں ہے۔ آج بہت سے راستے ہیں لیکن اس طرح سادہ اور سیدھا راستہ جو مسجد گوہر شاد کے صحن میں حرم سے جانکلتا تھا، وہ بعد کے ادوار کی توسیع میں کہیں غائب ہوگیا۔

روضہ  کے گرد اس زمانے میں شیشے کی ایک حفاظتی دیوار قائم تھی۔ میں نے دیکھا کہ بعض زائرین اس شیشے پر اپنے رومال، کپڑے یا خواتین کی چادریں ڈالنے کی کوشش کرتے، پھر انہیں واپس لے کر اپنے چہروں یا جسم پر پھیرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ تبرک حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ بعد کے برسوں میں، سن 2001 کے بعد، اس حصے میں تبدیلیاں کی گئیں اور اس حفاظتی انتظام کی شکل بدل دی گئی۔اب روضہ کے گرد  یہ شیشے کی  دیوار موجود نہیں ہے۔

مزار کے اوپر سبز رنگ کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، جن کی سبز شعاعیں پورے احاطے کو ایک منفرد منظر عطا کر رہی تھیں۔ میں نے بعض زائرین کو مزار کی سمت رخ کر کے نفل ادا کرتے بھی دیکھا۔ یہ  روضہ سے عقیدت میں   غلو کا ایک مظہر تھا۔ ایسے مناظر اہل سنت کے مزاروں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔

حرم کی اندرونی دیواروں پر نہایت نفیس کاشی کاری کی گئی تھی۔ ہزاروں ننھے ننھے آئینے روشنی کو اس انداز سے منعکس کرتے تھے کہ پوری فضا جگمگا اٹھتی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے روشنی بے شمار ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر ہر سمت بکھر گئی ہو۔ اس منظر نے بے اختیار لاہور کے شیش محل اور اصفہان کے بعض تاریخی محلات کی یاد تازہ کر دی۔

احاطے کے ایک حصے میں "درِ شفاء” کے نام سے ایک سنہری جالی تھی۔ وہاں غیر معمولی رش تھا۔ لوگ اس جالی سے لپٹ کر دعائیں مانگ رہے تھے۔ بعض زائرین کے متعلق لوگوں نے بتایا کہ انہیں کچھ دیر کے لیے اس جالی کے ساتھ باندھا بھی جاتا ہے۔ وہاں موجود افراد کا عقیدہ تھا کہ امام رضاؒ  انہیں شفا عطا فرماتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مشرکانہ عقیدہ ہے۔حرم کے وسیع صحن میں ایک چھوٹا سا گنبد بھی ہے جسے "سبیلِ مولا علی” کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں ایک ایسے چشمے کی روایت بیان کی جاتی ہے جسے امام رضاؒ سے منسوب کیا جاتا ہے، جس طرح مسجدِ حرام میں آبِ زمزم کو ایک خاص نسبت حاصل ہے۔

جب میں نے جولائی 2001 میں یہاں کی زیارت کی ، اُس زمانے میں حرم کے گرد چند ہی صحن تھے۔ بعد کے سالوں میں امام رضاؒ کے مزار کے گرد متعدد وسیع صحن تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان کشادہ صحنوں میں دن رات دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی آمدورفت جاری رہتی ہے، اور ہر صحن اپنی الگ وسعت، تعمیراتی حسن اور روحانی فضا کا احساس دلاتا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں