صحافی کم یوٹیوبر یا پوڈ کاسٹر اپنے ساتھی صحافیوں کو کسی امتحان میں ڈالنے سے قبل گیٹ کیپر اور گیٹ کیپنگ کے تصورات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ وہ یہ بات یاد رکھیں، وہ جو بھی وڈیو یا مواد تیار کرتے ہیں، اس کی نشر و اشاعت کے حتمی ذمے دار وہی ہوتے ہیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس مواد کا سوشل میڈیا کے ذریعے اشتراک کریں گے یا کس جملے یا گفتگو کو حذف کریں گے۔ حال ہی میں پاکستان بھر میں مختلف صحافیوں کے خلاف مقدمات اور ان کی گرفتاریوں کے بعد اس پہلو پر زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
چند روز قبل لاہور میں ایک اینکر اور یوٹیوبر ریحان طارق کو اپنے ایک مہمان کی متنازع گفتگو کی تشہیر پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس تمام معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ آخری گیٹ کیپر ریحان صاحب ہی تھے۔ کوئی یوٹیوب چینل لائیو تھوڑی ہوتا ہے۔تمام مواد اس کے مالک، ایڈیٹر یا تخلیق کار کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اس کی جانچ پرکھ اسی گیٹ کیپر کی ذمے داری ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ایسے حضرات کو گل افشانیِ گفتار کے کسی مظاہرے سے قبل خوب سوچ بچار کرلینی چاہیے۔کسی سوال پر اگر ان کے مہمانِ گرامی نے کوئی متنازع بات کہ دی ہے، تو اس کو حذف یا نشرکرنا یا روکنا یہ اس پروگرام /پوڈکاسٹ کے میزبان یا مدیر کی ذمے داری ہے، وہی ادارتی فیصلہ ساز ہے۔ وہی مواد کو ادارتی چھلنی سے گزارتا ہےکیونکہ بعضے لوگوں کو حق بیانی کی علت نچلا نہیں بیٹھنے دیتی اور وہ ایسے موضوعات پر گفتگو کر دیتے ہیں جن پر کبھی بند کمرے یا چاردیواری میں طلاقت لسانی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا، مگراب سوشل میڈیا کے ذریعے ان پامال موضوعات پر گفتگوئیں سرعام ہونے لگی ہیں اور ان کے نتائج معاشرے میں انتشار وافتراق کی صورت میں سب کے سامنے ہیں۔
جس کا جو بھی عقیدہ اور نظریہ ہے، اس کا اظہار کسی مناسب طریقے، سلیقے سے کرے اور کسی دوسرے فردکی دل آزادی کا سبب تو نہ بنے۔ یہ کیا ہے؟ اگلے کو پھنسا کر خود پتلی گلی سے نکل لیے۔
پھر ہر جہالتِ تامہ کا اظہار ضروری بھی نہیں ہوتا اور اس کے ردِعمل میں دشنام طرازی اور گالم گلوچ کی بھی میڈیا کی کسی کتاب میں ہدایت نہیں کی گئی ہے۔ اسلامی اخلاق وآداب تو بہت بعد میں آتے ہیں۔ ہمارے یہاں بعض لوگوں کو متنازع باتیں کرنے اور دوسروں کے بزرگوں کا ٹھٹھا اڑانے کی بھی علت ہے، انھیں کسی اچھے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے، شاید وہ گہرے احساسِ کمتری کا شکار ہوں اور اپنی خفت کو مٹانے کی خاطر ایک اور غلط راہ پر چل نکلے ہوں۔
ہمارے یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود وقیود کیا ہیں؟ دستور کی دفعہ 19 اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 19 کے تحت ہرفرد کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے لیکن اس کااستعمال کیسے کیا جائے گا، معلومات کی تشہیر کس انداز میں کی جائے گی، ارباب اقتدار وسیاست کے طبع نازک پر کون سی بات گراں گزرے گی اور پاکستان ایسے معاشروں میں حساس مذہبی معاملات سے کیسے نمٹا جائے گا؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب بھی ہم نے خود دینا ہیں۔
کیا محض پیروکاروں کی تعداد بڑھانے (فین فالوئنگ) کے چکر میں ہمیں کسی بھی فریق کے انتشاری مواد کی تشہیر کرنی چاہیے؟ نیز بہ طور صحافی ہمارا مواد کی گیٹ کیپنگ میں کردار کیا ہونا چاہیے؟ بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تو الیگورتھم کے ذریعے مواد کنٹرول کرتے ہیں، مگر وہی جو ان کے خود ساختہ معیارات کے مطابق ہوتا ہے، جس سے ان کے صارفین کی تعداد یا آمدن میں اضافہ ہو یا اشتہاری پارٹیوں کی مصنوعات کی تشہیر خوب ہورہی ہو تو اس کو نہیں روکتے ہیں۔انھیں کیا پڑی ہے کہ وہ اپنی چلتی دکان کا شٹر ڈاؤن کریں۔









