فاروق فیصل خان
تمہاری روشن آنکھیں ہیں یا جادو کی نگری ہے
جو دیکھے ایک نظر وہ ہوش و خرد بھول جائے
چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں اعتماد، کھلے ہوئے بھورے بال اور گفتگو میں وہ شائستگی کہ دیکھنے اور سننے والا ایک لمحے کے لیے سفارت کاری کے آداب بھول کر بے اختیار کہہ اٹھتا ہے
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے بھی ڈالی بری نظر ڈالی
لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے، اٹھنے والی ہر نظر حد ادب اور ممنونیت کے احساس سے بھرپور ہوتی ہے۔۔ کیوں نہ ہو کہ آپ مائی باپ ہیں اس لیے وقت کا وزیر اعظم اپنی کابینہ سمیت ہاتھ باندھے مودب کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔طاقت اور حسن کے دربار کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ان کے اسیر قربت کی خواہش رکھتے ہیں اور شاعر کے بتائے سبق کو نہیں بھولتے۔
دیکھنا بھی ان کو تو دور سے دیکھنا
شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
اپ سفارت کاری کے میدان کی شہسوار ہیں، جہاں مسکراہٹیں بھی قومی مفادات کے تحت تقسیم ہوتی ہیں اور کمزور دل (کمزور ممالک کے حکمران) بھول جاتے ہیں کہ شاعر کہہ گیا ہے
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
مگر کیا کیجیے انسانی دل بھی عجیب شے ہے۔ سفارت کار کا خوش اخلاقی سے حال پوچھنا بھی بعض لوگوں کو اپنی شخصیت کی عالمی پذیرائی محسوس ہونے لگتا ہے جیسے شوکت عزیز بارے کونڈیلا رائس نے اور انجیلا جولی نے یوسف رضا گیلانی بارے لکھا تھا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ شاید اگلے لمحے کسی تجارتی معاہدے یا سفارتی بریفنگ کے بارے میں سوچ رہی ہوں اور ادھر دل میں خیال جنم لے رہا ہوتا ہے۔
یہ کھلے کھلے سے گیسو، انہیں لاکھ تم سنوارو
میرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
بعض دوست کہتے ہیں کہ آپ کی مسکراہٹ میں بڑا اثر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اثر مسکراہٹ میں کم اور اس ملک کے عہدے اور طاقت میں زیادہ ہے جس کی آپ نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ احترام عہدے کا ہے یا شخصیت کا، اس بحث میں پڑنے سے کیا حاصل، سفارتی آداب محلوظ خاطر رکھتے ہوئے عرض ہی کہا جا سکتا ہے کہ مسکراہٹ کی مقدار کچھ کم ہو جائے کہ پنجابی کا شعر ہے
چِٹے دند ہسن تو نئیں رہندے
لوکی پیڑے شک کردے
سفید دانت ہنسنے سے باز نہیں آتے اور لوگ شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں
بھولا کہتا ہے، حسن اپنی جگہ ایک نعمت ہے، وقار اپنی جگہ ایک طاقت، اور عہدہ اپنی جگہ ایک اثر۔ جب یہ تینوں ایک شخصیت بالخصوص طاقتور ملک کی خاتون سفیر میں جمع ہو جائیں تو اس کی ایک مسکراہٹ دیکھنے والے کو غلط فہمیوں کے سمندر میں ڈبو دیتی ہے ۔۔۔۔۔اور ایام جوانی میں پڑھا ہوا شعر یاد آ جاتا ہے
پھر نہ کیجیے میری گستاخ نگاہی کا گلہ
دیکھیے پھر پیار سے دیکھا ہے آپ نے
۔۔۔اور لوگ دور کھڑے یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ مسکراہٹ کس کی طرف ہے، کیمرے کی طرف یا پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی طرف؟ سوال کا جواب بہت سادہ ہے ۔۔۔
’جناب، یہ سفارت کاری تھی، محبت نامہ نہیں۔‘
مگر دل ہے کہ مانتا نہیں۔
آپ کی یادداشتوں کا انتظار رہے گا۔









