امریکی کانگریس کی رپورٹ کا سنسنی خیز انکشاف: ایران جنگ میں امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان ہوا، جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر تک جا پہنچے

·

امریکی ادارے ‘کانگریشنل ریسرچ سروس’ (سی آر ایس) کی ایک تازہ ترین سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اب تک امریکی فوج کے کم از کم 42 جنگی طیارے اور ڈرونز تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ اس مہم، جسے ‘آپریشن ایپک فیوری’ کا نام دیا گیا ہے، کے اخراجات بڑھ کر تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور فضائی اثاثوں کے نقصانات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکی کانگریس کے تحقیقی ادارے ‘کانگریشنل ریسرچ سروس’ (سی آر ایس) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاری فضائی کارروائیوں، درجہ بندی (کلاسیفکیشن) اور نقصانات کے حتمی تعین جیسے عوامل کے باعث ان اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں پینٹاگون نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے تحت ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے اخراجات بڑھ کر تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ 12 مئی کو ہونے والی ایک پارلیمانی سماعت کے دوران پینٹاگون کے مالیاتی سربراہ جولز ہرسٹ سوم (Jules Hurst III) کا کہنا تھا کہ ’اخراجات میں اس بھاری اضافے کی بڑی وجہ فوجی سازوسامان کی مرمت اور ان کی جگہ متبادل طیاروں کی فراہمی کے تخمینوں کو حتمی شکل دینا ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق ضائع ہونے والے فضائی اثاثوں میں 4 عدد ایف-15 ای (F-15E Strike Eagle) فائٹرز، ایک جدید ترین ایف-35 اے (F-35A Lightning II) اسٹیلتھ طیارہ، اور زمین پر نشانہ بنانے والا ایک اے-10 (A-10 Thunderbolt II) جنگی طیارہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ فضا میں ہی ایندھن بھرنے والے 7 کے سی-135 (KC-135 Stratotanker) طیارے، فضائی نگرانی اور کنٹرول کا حامل ایک ای-3 سینٹری (E-3 Sentry AWACS) طیارہ، خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال ہونے والے 2 ایم سی-130 جے (MC-130J) طیارے اور فضائی ریسکیو مشنز کا ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو (HH-60W) ہیلی کاپٹر بھی نقصانات کا حصہ بنے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ڈرونز کو پہنچا ہے جن میں فضا میں طویل وقت تک رہنے والے 24 ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) ڈرونز اور بلند پرواز کرنے والا ایک ‘ایم کیو-4 سی ٹرائٹن’ (MQ-4C Triton) جاسوس ڈرون شامل ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے اب تک جنگی نقصانات کی کوئی جامع یا باضابطہ فہرست خود شائع نہیں کی ہے۔ یہ تفصیلات ‘سی آر ایس’ نے مرتب کی ہیں جو امریکی کانگریس اور اس کی کمیٹیوں کو قانونی و پالیسی امور پر تجزیاتی معاونت فراہم کرتا ہے۔

ادارے نے یہ اعداد و شمار مختلف میڈیا رپورٹس، پینٹاگون کے بیانات اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے وقت فوقتاً جاری ہونے والی معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اکٹھے کیے ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں