کیا آپ پاکستان میں کمپیوٹر سائنس اور اس سے متعلقہ علوم میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم دینے والی یونیورسٹی کے بارے میں جانتے ہیں؟ شاید بہت کم لوگوں کا جواب ’ہاں‘ میں ہو اور زیادہ کا یقیناً ’ناں‘ میں ہوگا۔
کیوں؟ کیونکہ وہ یونیورسٹی کسی جعلی قسم کی درجہ بندی کے چکروں میں پڑتی ہے اور نہ ہمارے ناک کی سیدھ پر چلنے والے ’انفلوئنسر‘ اس کے بارے میں کچھ زیادہ جانتے ہیں کہ وہ ویوز کے چکر میں ہوتے ہیں اور انھیں کیا پڑی ہے کہ وہ اس طرح کی کسی ’شریف‘ جامعہ کا تعارف کروانے کی زحمت گوارا کریں۔
اس جامعہ کے بارے میں دل چسپ حقیقت تو یہی ہے کہ وہ کسی نمود و نمائش کے بغیر پاکستان میں کمپیوٹر اور ظہور پذیر سائنسی علوم کی تعلیم و تدریس میں سرفہرست ہے۔ اس کا ثبوت اس کے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات ہیں۔ دوسری جامعات بڑے جوش و خروش سے میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کرتی ہیں کہ ان کا فلاں درجہ بندی میں فلاں نمبر ہے۔ انھوں نے یہ اور وہ تیر مارے ہیں مگر اس جامعہ کا کسی رینکنگ میں آپ نے کبھی نام پڑھا اور سنا نہیں ہوگا۔ یہ جامعہ ہے:
نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹراینڈ ایمرجنگ سائنسز (نیوسیس) المعروف فاسٹ ہے۔
اس کی پرنسپل سیٹ اور مرکزی کیمپس ایچ 11اسلام آباد میں ہے۔ پانچ کیمپس لاہور، کراچی، پشاور، ملتان اور چنیوٹ، فیصل آباد میں قائم ہیں۔
جی ہاں، اگر آپ نے نام سنا ہے تو دوسری جامعات کے مقابلے میں بہت کم۔ کسی جاننے والے سے یا پھر داخلوں کے موسم میں۔ پھر بھی کچھ کر گزرنے کے شائق ہونہار طلبہ اسی جامعہ میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں اور ساتویں آٹھویں سیمسٹر میں پہنچنے تک ان طلبہ و طالبات کو پرکشش مشاہروں پر روزگار کی پیش کشیں شروع بھی ہوجاتی ہیں بلکہ تب تک بعض طلبہ تو اپنے اساتذہ سے بھی زیادہ کما رہے ہوتے ہیں۔ اب پھر داخلوں کی بہار آئی ہے اور فاسٹ کی بعض وڈیوز آپ نے ’کتاب چہرہ‘ پر ملاحظہ کی ہوں گی۔
یہ بھی ایک معما ہے، اس جامعہ کے کرتا دھرتا کیو ایس عالمی درجہ بندی، ٹائمز ہائیر ایجوکیشن یا شنگھائی رینکنگ کے چکروں میں کیوں نہیں پڑتے؟ انھیں اپنی نیک نامی کی تشہیر سے کوئی چڑ ہے کیا؟ نہیں۔ ان کے فارغ التحصیل طلبہ اور طالبات ہی ان کی حقیقی مگر خاموش تشہیر کا موجب ہیں۔ اسی لیے تو ہر سال اس کے یہاں مختلف شعبوں میں داخلے کا میرٹ سب سے بلند ہوتا ہے۔ اگر اس کو مبالغہ آرائی پر محمول کریں تو یوں سمجھ لیں کہ اس کا میرٹ اگر سب جامعات سے زیادہ نہ بھی ہو تو نسٹ کے برابر سرابر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ فاسٹ اور دوسری جامعات میں فرق کیا ہے؟ صرف ایک، اساتذہ اور انتظامیہ معیارِ تعلیم ( کوالٹی ایجوکیشن) پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ طلبہ و طالبات کی سرقہ بازی چیک کی جاتی ہے، اے آئی ٹولز کی مدد سے لکھوائی گئی اسائنمنٹس (مشقوں) کے نمبر سیدھے سبھاؤ کاٹ لیے جاتے ہیں اور حتمی امتحان میں سرقہ بازی ثابت ہوجائے تو سیدھا ’ایف‘ گریڈ یعنی فیل۔
طلبہ کو کسی بی ایس کورس کے پہلے سیمسٹر ہی میں پتا چل جاتا ہے کہ اے پی اے اسٹائل بُک (طرزِ تحریر)کس بلا کا نام ہے۔ اسی کے جملہ تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مشقیں لکھنا ہوں گی۔ پراجیکٹ مکمل کرنا ہوں گے۔ دوسری جامعات میں جو موضوعات مشق کے طور پر حل کرکے لانے کو دیے جاتے ہیں، اس جامعہ میں وہ پراجیکٹ کے طور پر دیے جاتے ہیں۔گویا طلبہ کی ’جماعتی‘ اصطلاح کے مطابق پہلے سیمسٹر ہی سے ’رگڑا‘ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ تعلیمی اور تدریسی ساکھ ایسے ہی تو نہیں بنتی۔
اساتذہ کے طریق ہائے تدریس اور حاصلاتِ تعلّم پر بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔ اساتذہ کے بارے میں طلبہ و طالبات سے فیڈ بیک لیا جاتا ہے اور کسی استاد کے مستقبل کا فیصلہ اسی فیڈ بیک کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔









