ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیان غالب
آوارہ گردی کا یوں تو ہمیں بچپن بلکہ شیرخوارگی کی عمر ہی سے شوق رہا۔ اسکول کے زمانے میں ’آوارہ گرد کی ڈائری‘ پڑھی تو یہ دوآتشہ ہو گیا اور ابن بطوطہ بننے کے شوق نے انگریزی اور اردو کا سفر خوب کروایا۔ ہمارے مالی حالات کبھی قابل رشک نہ رہے مگر وہ جو کہتے ہیں :
دل والوں کی دور پہنچ ہے ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
انگریزی کا محاورہ when there is a will there is a way یعنی جہاں چاہ وہاں راہ ہمارے او پر کچھ زیادہ ہی صادق آتا چلا گیا۔ دنیا کو بازیچۂ اطفال بنانے کے شوق نے سن 2000میں بذریعہ قاہرہ یورپ کا سفر کروایا۔
دیکھ ذرا کرتار کےکھیل
بحیرۂ احمر کو پار کر کے مصر پہنچنے کا ہمارا خواب بھی بہت پرانا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں اپنے عمرے کے سفر کے دوران مکّہ مکرّمہ میں بڑی تعداد میں مصریوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ بحری جہاز کے ذریعہ عمرے اور حج کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔ اسی وقت نقشہ کھنگالا گیا تو پتہ چلا سعودی عرب کی بندرگاہ ینبوع سے مصر کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں۔ اسی وقت سے یہ خوا ہش بیدارہوئی کہ بحیرۂ احمر کو پار کر کے سنّت موسیٰ پر عمل کی سعادت حاصل کی جائے۔ گو ان کے تعاقب میں فرعون کی فوج تھی اور ہمیں کوئی ایسی مجبوری لاحق نہیں تھی۔ ایک عشرے بعد یہ خواہش کچھ اس طرح تکمیل کو پہنچی کہ مشیت الہی نے ہمیں بحیرۂ عرب کے ساحلوں سے اٹھا کر سزمین حجاز پر مصر کے انتہائی قریبی مقام پر لا پٹخا۔
دیکھ ذرا کرتار کہ کھیل
(کرتار بمعنی خالق یا خدا )
حسن(میرے شوہر) کو سعودی منسٹری آف ہیلتھ میں ایک اچھی آفر ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ حجاز کی سرزمین پر رہائش ہماری دیرینہ خواہش تھی جس کے لیے ہم عرصے سے بیتاب تھے۔ حسن نے ہمیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ تم پہلے اپنی پڑھائی مکمّل کرلو پھر چلیں گے لیکن کعبہ نامی اس حسین قیامت سے پہلی ہی نظر میں جو عشق ہوا، اس ’لوایٹ فرسٹ سائٹ‘ کے بعد سے اللہ کے گھر نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تھا۔ یہ تصوّر ہی روح کو سرشار کر دینے والا تھا کہ بغیر ویزا اور ایئرٹکٹ کے جب دل چاہے گا محبوب کے گھر جا کر، جو اب بذات خود بہت محبوب ہو گیا تھا، اس سے راز و نیاز کر سکیں گے۔ اور سچی بات تو یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاحت کی خواہش جودل میں انگڑائی لیتی رہتی تھی وہ بھی اب منہ ہاتھ دھو کر چلنے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔
حسن کی تعیناتی تبوک میں ہوئی تھی مگر ان کی روانگی کے بعد معلوم ہوا کہ اصل پوسٹنگ تبوک شہر میں نہیں بلکہ ایک قریبی ساحلی شہر میں ہے۔ انٹرنیٹ سے رجوع کیا ، قریب ترین ساحلی شہر ضباالشمال نامی بندرگاہ جہاں سے مصر کے شہرغردقہ Hurgada، سفا گا Saffaga، شرم ا لشیخ اور اردن کی بندرگاہ عقبہ کے لیے جہاز آپریٹ ہوتے ہیں۔ مکّہ اور مدینہ سے فاصلے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا مدینے کے مقابلے میں بیت المقدس یعنی یروشلم سے فاصلہ قدرے کم۔ گو فلسطین پر اسرائیلی کنٹرول کے سبب بیت المقدس کا سفر پاکستانی پاسپورٹ پر شدید خواہش کے باوجود تقریباً ناممکن۔ خصوصاً اس صورت میں کہ آپ سعودی عرب میں ملازمت و رہائش رکھتے ہوں۔
اور یوں نومبر 2006میں ہم اپنے ٹیلی کام PhD کو نامکمّل چھوڑ کر آئی بی اے IBA کی تدریسی ذمہ داریوں سے ایک سال کی طویل رخصت پر بچوں سمیت مملکت کی شمالی سرحد پر واقع اس چھوٹے سے شہر میں آ پہنچے۔ تبوک کی پہاڑیوں اور دوسری طرف بحر احمر کے درمیان اس سہانے سے شہر کی چوڑائی محض ڈیڑھ سے دو کلومیٹر اورلمبائی ساحل کے ساتھ ساتھ کوئی مشکل چھ سے آٹھ کلومیٹر، آبادی کوئی 20سے 25ہزار تھی۔
کراچی کے مقابلے میں خوب کھلی کھلی سڑکیں صا ف پانی تازہ ہوا۔ شہر بھر میں صرف دو ٹریفک سگنل۔ ہم مصطفیٰ کمال کا ادھڑا ہوا زیر تعمیر کراچی چھوڑ کے گئے تھے جہاں گاڑی رینگتی بھی مشکل سے تھی۔ ایک کراچی والا ہی ہمارے جذبات کا صحیح اندازہ کر سکتا ہے۔
ساحل پر واقع ہمارے گھرکے داخلی راستے ، کھڑکیوں، چھت اور سیڑھیوں سے سمندر کا نظارہ۔ گھر کے پیچھے مصنوعی تالابوں، پلے ایریا اور واکنگ ٹریکس سے مزیّن خوبصورت کارنش۔ ہم نے خواب میں بھی کبھی بحر احمر کو اپنے پچھلے صحن میں نہیں دیکھا تھا۔
اب ضبا پہنچ کر نہ لیکچر تیار کرنے کی مصروفیت نہ کلاس میں پہنچنے کی جلدی نہ خوفناک اسائنمنٹس نہ منتھلی ایگزامز کی تیاری نہ دقیق ریسرچ پپرز اور نہ پریزنٹشنز اور نہ ہی کانفرنسز۔ نہ یونیورسٹی جانے سے پہلے جلدی جلدی کھانا پکانے اور گھر کے کام کاج کی فکر۔ یعنی ہم یک جنبش طیارہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئے تھے۔ یہ اور بات کہ بچوں کے لیے انگلش میڈیم اسکول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ذاتی بچوں کی ہوم اسکولنگ اب ہمارا فریضہ بن گئی۔ چلیں جی بچوں کو صبح صبح تیار کر کے اسکول بھیجنے کی ذمہ داری اور روز ان کے کپڑوں جوتوں کی فکر بھی ختم۔
حسن شہر کے واحد چیسٹ اسپیشلسٹ تھے اور آٹھ گھنٹے کے علاوہ بھی مسلسل کال پر رہتے۔ یکایک معمول میں تبدیلی سے ہمیں بے خوابی رہنے لگی۔کہاں کراچی میں سونے کا وقت نکالنا شہد کی نہر کھودنے کے مترادف تھا اور کہاں رات گزارنا مشکل ہو گیا۔
راتوں کو انٹرنیٹ کی تلاوت ہمارا معمول بن گئی۔ تاریخ کا مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا یہ علاقہ تاریخی طور پرقرآن میں مذکور مدین کا حصّہ رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ سلام ) مصر سے پہلی مرتبہ ہجرت کے بعد یہیں مقیم ہوئے۔ گو مدین کی جغرافیائی حدود کا آغاز دریاۓ اردن سے ہوتا تھا۔کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر شمال میں مقنہ شہر کے نزدیک کچھ کھنڈرات قریہ شعیب یعنی شعیب کی بستی کہلاتے۔ وہیں ایک کنواں ‘عین موسیٰ’ جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کی بکریوں کو پانی پلایا۔ سمندر کے اس پارصحراۓ سینا کے پہاڑ بھی نظر آتے۔
اور مقنہ سے کوئی پچاس کلومیٹر سمندرمیں نکلا ہوا خشکی کا ٹکڑا جس کا آخری کنارہ راس حمید کہلاتا۔ (خشکی کا پانی میں آگے کو نکلا ہوا حصّہ عربی میں راس کہلاتا ہے ) یہاں سے مصر اتنا قریب کہ موبائل پہ مصر سے رومنگ سگنل آنا شروع ہوجاتے۔ صحراۓ سینا کے پہاڑ اور واضح نظر آتے۔
راس حمید سے ایک سمندری پل کے ذریعہ مصر اور سعودی عرب کو خشکی کے راستے ملانے کا منصوبہ، کئی دہائیوں سے اسرائیل کے اعتراض کی وجہ سے التوا کا شکار۔ صحرائے سینا اور راس حمید کے درمیان طیران اور سنافیر نامی دو جزیرے، سعودی عرب کی ملکیت، مگر بعض مستند خبروں کے مطابق بین الاقوامی نگرانی کے نام پر اسرائیل کے زیراستعمال۔کوئی تین سو کلومیٹر شمال ہی میں اردن، مصر، سعودی عرب اور فلسطین کی سرحدیں ایک دوسرے کو قطع کرتیں۔ مکّہ، جدّہ اور مدینہ تینوں جنوب میں الگ الگ لیکن ضبا سے تقریباً برابر یعنی آٹھ سو کلومیٹرکی مسافت پر۔
ایک شامی مصنف ڈاکٹر شوق الخلیلی کی ترتیب کردہ اطلس القرآن ( Quranic Atlas ) وغیرہ کے مطالعہ اوراس علاقے کا قرآن میں تذکرہ ہونے کے سبب ہماری دلچسپی ارض قرآن میں بڑھتی چلی گئی جو جغرافیائی لحاظ سے ہمیں گھیرے ہوۓ تھا۔ ہمارا سارا سال اردن مقبوضہ فلسطین اور اس سے آگے شام ترکیہ اور بحراحمرکے پار مصر کی سیاحت کے خواب دیکھتے گزر گیا۔ ان میں مصر اوراردن جو ہم سے صرف تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر تھے، کی سیاحت کا زیادہ اشتیاق رہا۔
ایک نوزائیدہ سعودی سیاحتی چینل پر مصر کی ایک ٹریول ڈاکیومنٹری میں جنوبی مصر میں موجود فراعنہ کے مقابر اور عالیشان مندر، قاہرہ کی اسلامی دور کی مسجدیں اور قلعے، اسکندریہ کے یونانی اور رومی ادوار کے کھنڈرات دیکھ کر ہمارا دل للچانے لگتا۔ اور ہم نے مصمم ارادہ کر لیا کہ مصر کا ایک تفصیلی دورہ ضرور کرنا ہے اور اس دفعہ کندھوں پر سامان لاد کر بنجاروں کی طرح یعنی بیک پیکنگ ٹرپ کی صورت کرنا ہے۔
حسن ابتدا میں بچوں کے ساتھ اس نوعیت کی آوارہ گردی کے لیے راضی نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کا شوق مجھے بھی ہےمگر میں تمھاری طرح دیوانہ نہیں ہوں۔ ہم کیا جواب دیتے انشا جی پہلے ہی ہمارے لیے کہہ گئے تھے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
بدقت تمام سال کے آخر تک حسن راضی ہو ہی گئے اور اس سے قبل کامیابی کی امید پر ہم مصر کے قابل دید مقامات کے تاریخی تذکرہ اور سیاحتی احوال وغیرہ کا اپنا ہوم ورک تقریباً مکمّل کر چکے تھے۔ سفر کا پلان بھی تیار تھا جس کے مطابق ضبا سے غردقہ، وہاں سے الاقصر، وہاں سے قاہرہ اور قاہرہ سے اسکندریہ اور پھرغردقہ واپسی شامل تھے لیکن سمندر پار کے مختصر سفر سے پیشتر ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر دور جدّہ جا کر ویزا لینا بھی ضروری تھا۔
چلیے آپ بھی کیا یاد کریں گے، آپ کو بھی مصر نامی اس حسینہ سے ملواتے ہیں جس نے اپنے عجائبات سے تمام عالم کو ہزاروں سال سے اپنے سحر میں جکڑرکھا ہے۔
ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیان غالب









