میری کتاب بیتی از ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

 مکہ مکرمہ میں پہلا رمضان المبارک

·

 اللہ تعالی نے مجھے پہلا عمرہ کرنے کی سعادت اگست 1977ء میں نصیب فرمائی  اور یہ شعبان المعظم  1397ہجری کا آخری عشرہ تھا ۔

پہلا عمرہ ادا کرکے ہم واپس جدہ ڈاکٹر مقبول صاحب کے گھرچلے آئے۔

 پھر شعبان کی آخری تاریخ تھی جب ہم نےاپنا مختصر سا سامان لے کر مکہ مکرمہ میں رہائش رکھی۔

سوق صغیر کے ایک پرانے محلے میں ایک کمرہ ہمارا مسکن تھا جس کے مکین عتیقی صاحب (خواجہ صاحب کے دوست) ان دنوں پاکستان گئے ہوئے تھے اور ہم نے اس کمرے میں پورا رمضان مبارک گزارا۔

سوق صغیر، مکہ کا وہ بازار جو آج حرم کی توسیع میں گم ہو گیا۔ پچاس سال پہلے یہ مسجد الحرام کے سامنے ہی  تھا۔  جہاں آج  ’کلاک ٹاور‘ ہے۔

تصور کی آنکھ سے دیکھیں توباب الملک عبدالعزیز سے نکلتے ہی سامنے آج جہاں کلاک ٹاور، صفا، مروہ کی نئی توسیع، اور حرم کا صحن ہے ، وہ سارا سوق صغیر ہوا کرتا تھا۔ 

سوق صغیر کے پاس سوق کبیر بھی ہوتا تھا ۔

سوق صغیر کی گلیاں تنگ ، لکڑی کی چھت یا چادریں دھوپ سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتی تھیں ۔

دکانیں چھوٹی چھوٹی، لکڑی کے تختوں والی سادہ سا ماحول ۔

مختلف قسم کے  عود، بخور، الائچی اور لونگ کے قہوے کی خوشبوئیں   تازہ روٹی کی مہک۔ حرم کی اذان  ،دکانداروں کی  ملی جلی آوازیں، زائرین کے  عقیدت و اشتیاق سے لبریز دل ماحول کو  ایک  مقدس سماں  سے باندھے دیتے تھے ۔ پچاس  سال پہلے اس بازار سے زائرین روز مرہ  اور تبرک کے طور پہ لے جانے والی  اشیاء کی خریداری کرتے نظر آتے۔

سوق صغیر میں سونے کی دکانوں  سے لے کر سرمے ۔ تسبیح ۔جائے نماز ، کھلونے،  کپڑے کی دکانوں پہ بھاو تاؤ کرتے زائرین موجود رہتے ۔

سبزی ،پھل گوشت اور کریانے کی دکانیں بھی اس میں ہی شامل ہوتی تھیں ۔

ہم جس عمارت میں تھے  حرم شریف سے نکلتے تو راستے میں گوشت سبزی کی دکانیں زیادہ تھیں ۔

روٹی کے تنور جہاں تمیس، موٹی روٹی، سمولی یا سمون، فول، فلافل ، چنے،  ایک ریال کا مکمل ناشتہ مل جاتا تھا ۔

 قرآن پاک ، دینی کتابوں ، تحائف کی دکانوں پہ اپنی رونق ہوتی تھی۔

 اکثر دکان دار مکہ کے قدیمی خاندان آل بوقس، آل بن دہش، آل سمان سے تعلق رکھتے تھے اور آبائی کاروبار چلا رہے تھے ۔ نشست و برخاست کھانے پینے ،پہننے اوڑھنے مہمان نوازی میں سادگی اور بے تکلفی ہر جگہ نظر آتی تھی ۔ تصنع نہ ہی زائرین میں تھا اور نہ ہی مکینوں میں ۔انڈیا، پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ،مصر کے زیادہ  زائرین اپنی اپنی زبان میں بولتے خوش ہوتے نظر آتے اور باہم سلام دعا سے بھائی چارے کی فضا قائم رکھتے۔

 اذان ہوتے ہی سب  دکانیں کھلی چھوڑ کر حرم کی طرف دوڑ پڑتے۔ اس وقت ایسا منظر ہوتا جیسے کوئی مقناطیسی کشش سب کو ایک مرکز کی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہ منظر اور با جماعت نماز کا منظر دنیا کا سب سے خوبصورت نظارہ ہوتا ہے ۔

مختصر سے سامان کے ساتھ ہم جس کمرے میں مقیم تھے اس عمارت میں بلکہ مکہ مکرمہ کی ہر عمارت رمضان المبارک میں زائرین سے بھر جاتی تھیں ۔

مقامی لوگ اپنے گھر رمضان سے حج تک کرایے پہ چڑھا دیتے تھے اور خود کسی ایک کمرے میں سمٹ جاتے تھے ۔ ہمارے ساتھ والے کمرے بھی زائرین سے بھر گئے ، اس وقت حاجیوں کو رمضان المبارک سے حج تک رہنے کی اجازت ہوتی تھی ۔ زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی تھی ۔

خواجہ صاحب سحری کے بعد کچھ دیر آرام کرتے اور پھر جدہ کے لیے روانہ ہو جاتے تھے ۔ میں کام کاج سے فارغ ہوکر ظہر کے بعد حرم شریف چلی جاتی ،  اپنی کوکھ میں پرورش پاتے وجود کو مخاطب کرکے طواف کرتی، حرم شریف کے ہر حصے میں بیٹھتی، بیت اللہ کی ہر سمت سے زیارت کرتی۔ وہیں کسی کونے میں آرام کر لیتی ۔ کتنا سہانا وقت تھا جب طواف کے ہر چکر میں بغیر کسی رکاوٹ کے حجر اسود کا بوسہ نصیب ہو جاتا تھا۔ باب ملتزم کی چوکھٹ پہ گھنٹوں فقیروں کی طرح کھڑے رہنے پہ کوئی دھکا نہیں لگتا تھا۔ حطیم میں جب چاہو اور جس قدر چاہو عبادت کرو، جگہ چھوڑنے یا جگہ کا انتظار کرنے کا جھنجھٹ نہ تھا ۔

وہ سہانا وقت دل میں زندہ ہے جب چوبیس گھنٹے ہر لمحہ بیت اللہ کی زیارت سے دل شاد اور آنکھیں ٹھنڈک محسوس کرتی تھیں۔ صبح کا پرنور اجالا، طلوع شمس کا خوب صورت وقت ، اشراق ادا کرتے اللہ کے پیارے بندے، سورج کی تپش میں تپتے فرش پہ دیوانوں کا کعبہ کے گرد چکر لگانا، اور بیت اللہ کی ہیبت سے دل کا دھڑکنا، ڈھلتے سورج کی نرم روشنی میں چہروں کی تابناکی اور بیت اللہ سے پھوٹتے پر نور احساس کا ماحول پہ چھا جانا اور رات کی روشنیوں میں منظر کے حسن کا نیا جلوہ، تہجد کے وقت کی سکینت جو روح کو شاد کر دیتی تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان عظیم کا ہر وقت شکر ادا کرتی کہ اس نے اپنے گھر کی اس طرح زیارت کا موقع عطا فرمایا ۔اس کے شکر کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ذالک فضل اللہ

لک الحمد کلہ ولک الشکر کلہ

افطاری اور سحری کا اہتمام سادگی اور قناعت کا منہ بولتا ثبوت نظر آتا۔ گھروں سے کھانا لے کر آنا ممنوع نہیں تھا۔

ہر زائر دوسرے کو دینے میں پہل کرتا اور مقامی افراد اتنی عاجزی سے مہمان داری کرتے گویا وہ فقیر ہیں اور زائر ان کو کچھ عطا کرکے احسان کر رہا ہے۔

زمزم اتنی آسانی سے میسر نہ تھا ۔ چھوٹی کٹوریوں سمیت صراحیاں تھامے کچھ افراد پانی پلاتے نظر آتے تھے۔ کوئی پیسے کا مطالبہ کم ہی کرتا تھا۔ براہ راست  زم زم کنوئیں سے جا کر پانی پینا ہوتا تھا جو اصلی کنوئیں کے ساتھ ہی سادہ سے ٹونٹیوں سے لیتے تھے ۔

شہر مکہ  مکرمہ میں پانی کی شدید قلت تھی ۔ حرم شریف سے متصل زائرین کے لیے بیت الخلاء انتہائی مخدوش حالت میں ہوتے تھے جن کا ذکر ناگفتہ بہ ہے ۔

اس وقت کے امام وہ تھے جن کی تلاوت ریڈیو پر سن کر لاکھوں لوگ رو پڑتے تھے۔

ان دنوں عبداللہ الخیاط اور عبداللہ ابن سبیل حرم شریف مکہ کے امام تھے ۔ دس ، دس تراویح دونوں ادا کرواتے ۔

امام  و خطیب مسجد الحرام 1928 سے 1984 تک ان کو  56 سال  حرم شریف میں امامت کی سعادت حاصل ہوئی۔

امام نماز پڑھا کر سوق صغیر سے گزر کر گھر جاتے۔ شیخ خیاطؒ کا گھر "اجیاد” میں تھا۔ راستے میں دکاندار کھڑے ہو کر سلام کرتے۔ کوئی کھجور پیش کرتا، کوئی زمزم۔ 

 لوگ مسئلے پوچھتےتو تحمل سے جواب دیتے۔ ضرورت ہوتی تو  فتویٰ وہیں لکھ دیتے۔

آواز نرم، باوقار، حجازی لہجہ۔ تلاوت میں ٹھہراؤ۔  نماز تراویح  میں  سورت یوسف ان کی زبان سے سن کر اکثر نمازی  بے اختیار روئے لگے جیسے زائرین کو اپنی اولاد کی جدائی نے دلگداز کر دیا ہو۔

طاق راتوں میں نوری و حضوری کیفیت دو آتشہ ہو جاتی۔  ہر طاق رات ہی شب قدر محسوس ہوتی ۔ ختم قرآن والی تراویح میں نمازیوں کی ہیجانی کیفیت کو محسوس کیا جا سکتا تھا، آخری سیپارے کی چھوٹی سورتیں عموماً سب کو یاد ہوتی ہیں، اس لیے  شعوری بیداری کے احساس  سے پنکھوں کی سرسراہٹ بھی فرشتوں کے پروں کی آواز جیسی  محسوس ہوتی تھی۔ ختم قران کی دعا آسمانوں کے دروازوں پہ دستک دیتی محسوس ہوتی تھی اور جیسے اوپر سے پکار کا جواب بھی آرہا ہو۔ 

ایک ایک دن گزرتے پتہ ہی نہ چلا اور عید آ گئ۔

فجر کی صلات کے بعد حرم شریف مکہ میں ہی رکیں تو صلات العید میں آسانی رہتی ہے ۔ فجر کے بعد طواف ،اشراق کے نوافل ادا کرتے ہی زائرین نے صفیں بنانی شروع کر دی تھیں ۔

ہم بھی ختم قران کے بعد اپنے کمرے میں آگئے اور عید کی تیاری کرکے فجر کے وقت حرم شریف پہنچ گئے اور حجر اسود کے سامنے والے برآمدے والی صف میں بیٹھ گئے ۔ صحن حرم شریف میں اجالا پھیل رہا تھا اور نمازیوں کا  نئے لباس اور خوشبوؤں کے احساس کے ساتھ اضافہ ہو رہا تھا۔ مقامی افراد کے ساتھ بچے ٹافیوں چاکلیٹس کی چھوٹی چھوٹی ٹوکریاں اٹھائے آرہے تھے۔

نماز عید کے بعد ہم ایک پاکستانی گھرانے کے مہمان تھے۔ وہاں سے ہم شام تک جدہ  ساحل سمندر پہ گئے پھر ڈاکٹر مقبول صاحب کے گھر پہنچ گئے ۔

اگلے دن راجہ اکبر صاحب کے گھر عید کی دعوت تھی ۔ یہاں سے ہم عید کی چھٹیاں گزارنے طائف روانہ ہوئے ۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے