امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

پینٹاگون پر ہیگستھ کی بڑھتی ہوئی گرفت

·

ڈیڑھ برس پہلے تک شاید ہی کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پینٹاگون جیسے طاقت کے قلعے پر اپنی گرفت جما سکیں گے۔ سینیٹ سے ان کی منظوری بھی بمشکل ممکن ہوئی تھی؛ سابق ملازمتوں میں مالی بے ضابطگی اور حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی کے الزامات ان کے نام کے ساتھ چپکے ہوئے تھے، جن سے وہ برابر انکار کرتے رہے۔

فوکس نیوز کے سابق میزبان اور ثقافتی معرکوں کے شوریدہ مزاج سپاہی بظاہر نہ اس منصب کے لیے مطلوبہ اہلیت رکھتے تھے، نہ ان تجربہ کار جرنیلوں اور ایڈمرلوں کے سامنے کوئی خاص وزن، جن کی کمان اب ان کے ہاتھ میں آنے والی تھی۔

مگر اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی کہانی نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ خفیہ معلومات کے غلط استعمال سے لے کر ماتحتوں پر پولی گراف ٹیسٹ مسلط کرنے تک، تنازعات کی یلغار بھی ان کے قدم نہ روک سکی؛ بلکہ وقت کے ساتھ ان کی گرفت اور مضبوط ہوتی گئی۔

آج ہیگستھ نہ صرف پینٹاگون بلکہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت پر بھی پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔اس بڑھتی ہوئی گرفت کا ایک نمایاں ہتھیار صفوں کی مسلسل تطہیر ہے۔ حریف ایک ایک کر کے راستے سے ہٹائے جا رہے ہیں، اور وہ افسر بھی جو ہیگستھ کی نظر میں وفاداری کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ یوں اصلاح اور تنظیمِ نو کے پردے میں اقتدار کی ایک خاموش چھانٹی جاری ہے، جہاں اہلیت سے بڑھ کر وفاداری کی قیمت لگتی دکھائی دیتی ہے۔

ہیگستھ کی اقتدار کش مہم کا تازہ شکار فوج کے سیکریٹری ڈَین ڈِرسکول (Dan Driscoll) ہیں۔ 31 اگست کو انہوں نے صدر کو استعفیٰ پیش کر دیا؛ مہینوں سے ہیگستھ سے سینئر افسران کی برطرفیوں اور فوج کے مستقبل پر ان کی کشمکش جاری تھی۔ فوجی حلقوں میں معتبر اور زیرک اصلاح پسند سمجھے جانے والے ڈرسکول کی رخصتی نے پینٹاگون کے ہنگامے اور اس بدلتی جنگی دنیا، جہاں ڈرونز نگرانی سے حملے تک جنگ کا نقشہ بدل رہے ہیں، میں فوج کی مجوزہ اصلاحات—دونوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ہیگستھ کی تطہیر بھی معمولی نہیں: منصب سنبھالنے کے بعد کم از کم 24 اعلیٰ فوجی افسر فارغ کیے جا چکے ہیں بہت سے افسران کو کسی ثابت شدہ قصور کے بجائے ان کی نسل، جنس یا یا ایسے افسروں سے وابستگی کے سزاوار ٹھہرے جنہیں ہیگستھ ناپسند کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی کانگریس کی رپورٹ کا سنسنی خیز انکشاف: ایران جنگ میں امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان ہوا، جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر تک جا پہنچے

ٹرمپ صاحب نے امریکا کو کتنا ’عظیم‘ بنا لیا؟

کون جائے ٹرمپ کی مدد کو؟

نیشنل گارڈ کے سابق اہلکار اور میجر رہنے والے ہیگستھ کے دل میں فوج کے لیے مدت سے ایک خاص کدورت ہے؛ ان کے اپنے لفظوں میں، فوج نے انہیں ’نگلنے سے پہلے ہی اگل دیا تھا۔‘

ہیگستھ کی تطہیری مہم نے فوجی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے منصب سنبھالنے کے بعد کم از کم 24 اعلیٰ افسر رخصت کیے جا چکے ہیں؛ کئی کی خطا بظاہر صرف نسل، جنس یا ایسے افسروں سے وابستگی تھی جو ہیگستھ کو ناپسند تھے۔

اپریل میں انہوں نے امریکا کے اعلیٰ ترین فوجی افسر جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا، جبکہ دو ماہ بعد فور اسٹار جنرل کرس ڈوناہیو کی کمان کا درجہ گھٹا کر انہیں بھی ریٹائرمنٹ کی راہ دکھا دی گئی۔ نتیجتاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باوجود امریکی فوج آج سینیٹ سے توثیق شدہ چیف آف اسٹاف، سیکریٹری اور یورپ میں مستقل کمانڈر سے محروم ہے۔

ڈرسکول کے نائب کی رخصتی بھی سر پر کھڑی ہے۔ ڈرسکول نے مقدور بھر مزاحمت کی اور کئی افسروں کو برطرفی اور ان کی ترقی کو رکنے سے بچایا، مگر میجر جنرل کے منصب کے لیے منظور شدہ 18 ناموں میں سے ہیگستھ کا سات ناموں کو  خارج کر دینا بالآخر وہ آخری وار ثابت ہوا جس نے ڈرسکول کو استعفے دینے پر مجبور کر دیا۔

یہ رخصتی ایسے وقت میں عمل میں آئی، جب پینٹاگون خود ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

ڈرسکول، جے ڈی وینس کے Yale کے ہم جماعت اور بااعتماد ساتھی، ایران کے معاملے پر ہیگستھ کے جنگ پسند رجحانات کے سامنے ایک اعتدال پسند آواز سمجھے جاتے تھے۔ استعفے سے چند روز پہلے انہوں نے ٹرمپ سے براہِ راست اپیل بھی کی تھی، اس بے چینی کی غمازی کرتے ہوئے جو پینٹاگون کے کئی حلقوں میں پھیل رہی ہے کہ ایران کی جنگ امریکی فوج کو تھکا رہی ہے، اور ہیگستھ کی صفوں میں مداخلت اس بوجھ کو مزید گراں کر رہی ہے۔

افراد کی  تبدیلیوں کی اس آندھی نے فوج کی جدیدکاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ فوج کے سیکریٹری پینٹاگون کی ڈرون خریداری مہم میں پیش پیش تھے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے انھیں بے تکلف طنز میں انہیں ‘Drone guy’ کہنا شروع کر دیا تھا۔ گزشتہ نومبر یوکرین میں انہوں نے ایک نازک توازن قائم رکھا کہ زیلنسکی کے کمانڈروں کو جنگ کی تلخ حقیقت سے آگاہ کیا کہ میدان ان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی یوکرین کے ڈرون ماہرین سے ٹیکنالوجی شراکت داری کی بنیاد بھی رکھ دی۔ گویا وہ میدانِ جنگ میں ابھرتی نئی حقیقت کو واشنگٹن کی عسکری حکمتِ عملی میں سمو دینے کی راہ ہموار کر رہے تھے۔

ڈرسکول کو ملنے والی پذیرائی بھی شاید ہیگستھ کو گوارا نہ ہوئی۔ وہ ان منصوبوں کو لپیٹنے  میں لگے ہیں جن پر ڈرسکول اور ان کے حلیفوں کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ جنرل رینڈی جارج نے جنوری میں ڈرون جنگ کی مہارت کے لیے فوج کی ایک نئی بٹالین قائم کی تھی، مگر جنرل کرسٹوفر لینیو، قائم مقام چیف آف اسٹاف اور ہیگستھ کے قریبی ساتھی، اب اسے بتدریج منظر سے ہٹانے میں مصروف ہیں۔

لینیو فوج کو اس کی بنیادی روایتوں کی طرف لوٹانے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کی خریداری اپنی جگہ، مگر ترجیحات اب زیادہ نمایاں طور پر ‘میک امریکا گریٹ اگین‘کے سانچے میں ڈھل رہی ہیں: یورپ میں فوجی موجودگی کم کی جا رہی ہے اور مغربی نصف کرۂ ارض پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ ڈرسکول سے ان کا ایک اور اختلاف فوج کے جسمانی فٹنس کے معیار کی ازسرِنو تشکیل پر تھا۔ یہ ایک ایسا شوق ہے جو  جو ہیگستھ کو بھی مدت سے لاحق ہے۔

ہیگستھ کی گرفت مزید مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کو ڈرسکول کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا تجربہ محدود ہے اور سینیٹ سے منظوری بھی دشوار ہوگی، مگر قائم مقام کا عہدہ  ان کے لیے راستہ ہموار کر سکتاہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ پینٹاگون رفتہ رفتہ اپنے سربراہ کے مزاج کا پرتو بنتا جا رہا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں