تحریر: سید بدر سعید
سوشل میڈیا برانڈنگ اکثر اوقات مونیٹائزیشن سے زیادہ پیسے دیتی ہے۔ جو لوگ برانڈنگ پر کام کرتے ہیں، وہ پھر کم ہی مونیٹائزیشن کے معاملات کی فکر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ مونیٹائزیشن سے ایک ماہ میں 100 ڈالر کماتے ہیں تو ڈالر کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے یہ رقم تقریباً 25 ہزار سے 35 ہزار روپے بنتی ہے۔ 400 ڈالر کا مطلب لگ بھگ ایک لاکھ روپے ہے۔ اس کے بعد اگلے ماہ پھر آپ کو اسی دوڑ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہوتی ہے یا پہلے سے بہتر بنانی ہوتی ہے۔
دوسری طرف برانڈنگ میں آپ براہِ راست پیسے کما رہے ہوتے ہیں اور اس میں یوٹیوب، فیس بک یا کسی اور پلیٹ فارم کو حصہ دار نہیں بناتے۔ لاہور میں ہی ایسے سوشل میڈیا نام موجود ہیں جو ایک ڈیل یا ویڈیو کے 7 لاکھ روپے تک چارج کرتے ہیں۔
میں آغاز میں بڑے برانڈز کی بات نہیں کر رہا۔ یہ بھی درست ہے کہ ڈیجیٹل پہچان بنائے بغیر برانڈز ہمیں اسپانسر نہیں کرتے۔ ہم چھوٹے کینوس پر بات کرتے ہیں، لیکن اس سے پہلے آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی اپنی ’دیہاڑی‘ کتنی ہے، تاکہ آپ برانڈنگ کے ریٹ کا اس سے تقابل کر سکیں۔
شاید ’دیہاڑی‘ کا لفظ آپ کو بُرا لگے۔ مجھے بھی پہلی بار برا لگا تھا جب 12 برس قبل نوائے وقت میں آغا عمیر ناصر اور میں نے اپنی ’دیہاڑی‘ چیک کی تھی۔
ایک دن لنچ بریک میں آغا میرے پاس آیا اور کہا، ’شاہ جی! آپ کی دیہاڑی کتنی بنتی ہے؟‘ میں چونک گیا۔ پھر ہم نے کیلکولیٹ کیا تو ہم دونوں شرمندہ ہو گئے۔ ہم تب دو، تین اداروں کا تجربہ رکھتے تھے، ہر ہفتے ہمارا نام شائع ہوتا تھا، میں ایم فل کر رہا تھا اور آغا بھی ماسٹر ڈگری کا حامل تھا، لیکن ہماری دیہاڑی ایک مزدور سے بھی کم بنتی تھی۔ سرکاری اداروں کے چپڑاسی کی دیہاڑی بھی ہم سے زیادہ تھی۔
اس کے بعد میں منہ پھٹ ہو گیا اور ماہانہ تنخواہ کو دیہاڑی پر تقسیم کرنے لگا۔ میں ملازمت کے لیے اپنے کام کے گھنٹوں، محنت اور معاوضے کا تقابل کرنے لگا کہ روزانہ 8 گھنٹے کام کرنے کا معاوضہ 500، ایک ہزار یا 2 ہزار روپے بنتا ہے؟
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 26 کے پہلے نصف میں ریکارڈ $557 ملین کیسے کمائے؟
فری لانسنگ کیسے اور کہاں سے شروع کی جائے؟
فری لانس مارکیٹیں ، آپ کے لئے بہتر کون سی ہے؟
ملازمت کے دوران جب بھی کوئی نئی آفر آتی، میں اسی وقت اس تنخواہ کی ’دیہاڑی‘ کیلکولیٹ کرکے سامنے رکھ دیتا۔
نوائے وقت میں اس وقت مجھے 24 ہزار روپے ملتے تھے۔ مجھ سے کئی سینئر ایسے تھے جن کی تنخواہ اس سے بھی کم تھی۔ میں نے اگلی جمپ 60 ہزار روپے پر کی۔ 24 ہزار سے 60 ہزار کی جمپ میرے لیے اچھا موو تھا، پھر 70 ہزار کی ایک چھوٹی جمپ ہوئی اور اس کے بعد اگلی جمپ ڈبل تھی۔
میں نے گھنٹے، محنت اور دیہاڑی کیلکولیٹ کرکے ڈیڑھ لاکھ روپے مانگے۔ سامنے بیٹھے باس نے کیلکولیٹر اٹھایا اور ایک لاکھ 30 ہزار روپے پر فائنل کیا۔
کچھ عرصہ بعد ادارے نے اسی بنیاد پر مجھ سے معذرت کی کہ میں وہ تنخواہ اپنی ٹیم اور اپنی عیاشی پر لگا دیتا تھا۔ دفتر کے قریب میکڈونلڈز، کے ایف سی اور گلوریا جینز تھے۔ میں اچھا رزلٹ لینے کے لیے مقابلے کرواتا اور پھر ہم جا کر پارٹی کرتے۔
ادارے کو لگا کہ میں ’جوان خون‘ خراب کر رہا ہوں۔ میرا مسئلہ تنخواہ نہیں رہا تھا، کیونکہ میں اس وقت تک دیہاڑی سے ’گھنٹوں‘ پر آ چکا تھا۔ اس لیے اپنی تنخواہ پیٹرول، دفتر اور دوستوں کے ساتھ روٹی پروگرام اور ٹورز پر خرچ کرتا تھا۔
فری لانسنگ میں دیہاڑی کی بجائے گھنٹوں کا معاوضہ ہوتا ہے۔ میں 2015 میں ملازمت کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ پر آ گیا تھا۔ تب اے آر وائی مجھے ایک اسکرپٹ کے 6 ہزار روپے دیتا تھا۔ دفتر کے بعد رات گئے تک روزانہ ایک اسکرپٹ لکھتا تھا اور تین دن بعد اکاؤنٹ میں 18 ہزار روپے آ جاتے تھے۔
دوسری طرف نوائے وقت سے مجھے ساتھ ساتھ 24 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی اور میں روزانہ 8 گھنٹے کام کرتا تھا۔ پھر چینلز میں معاوضہ 10 ہزار روپے فی اسکرپٹ ہوا اور آخر میں 40 ہزار روپے فی اسکرپٹ تک پہنچ گیا، لیکن اب روزانہ کی بجائے ہفتے میں دو اسکرپٹ رہ گئے تھے۔
فری لانسنگ کے ’گھنٹوں‘ کے بعد مجھے پتا چلا کہ برانڈنگ میں اس سے بھی اچھا معاوضہ ہے۔ میں نے اس پر بھی کام کیا۔
میری ادارے والی تنخواہ آج بھی گھر تک نہیں پہنچتی۔ یہ کچھ یتیم بچوں کے تعلیمی اخراجات پر مستقل خرچ ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے ملازمت جانے یا بے روزگاری کا ڈر نہیں رہتا، کیونکہ جن یتیم بچوں کی ذمہ داری میں نے اٹھا لی تھی، ان کی تعلیم مکمل ہونے میں ابھی کافی وقت ہے۔
اگر 12 برس قبل آغا عمیر ناصر مجھے ہماری ’دیہاڑی‘ نہ بتاتا تو شاید میں بھی مطمئن رہتا اور آج بھی 24 ہزار روپے پر کام کر رہا ہوتا، کیونکہ اداروں نے تنخواہ نہیں بڑھائی۔
اس لیے لازم ہے کہ اپنی محنت اور موجودہ ’دیہاڑی‘ کیلکولیٹ کر لیں۔
اگر آپ کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے تو 26 دن کے حساب سے آپ تقریباً 3 ہزار 846 روپے کی دیہاڑی پر کام کر رہے ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں یہ کسی بھی طرح آپ کی محنت کے مطابق جسٹیفائی نہیں ہوتا۔ کم از کم الفاظ میں کہیں تو یہ آپ کے ساتھ ظلم ہے۔
آپ سب سے پہلے لوکل مارکیٹ میں برانڈنگ کریں۔
سوشل میڈیا پر ایسے ہی کام کریں جیسے ملازمت کرتے ہیں۔ وقت دیں، اچھا کانٹنٹ بنائیں اور اپنی ڈیجیٹل پہچان بنائیں۔ اس میں کچھ وقت لگتا ہے، لیکن یہی آپ کی مستقل دکان بن جاتی ہے۔
اس کے بعد کیلکولیٹ کریں۔ آپ اپنے فالورز اور ریچ کی بنیاد پر 5 ہزار روپے لے کر کسی کے لیے پوسٹ لگا سکتے ہیں۔ کہیں کھانا کھانے کی پوسٹ، کسی جگہ وزٹ کی پوسٹ، کسی سوٹ، کریم، پرفیوم یا حتیٰ کہ ہیئر ڈریسر کے حوالے سے ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ کسی تعلیمی ادارے کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی یا پراپرٹی پراجیکٹ کا تعارف کرا سکتے ہیں۔
مشہور ہونے اور مارکیٹنگ کے لیے 5 ہزار روپے ہر کوئی دے دیتا ہے۔ بس جھوٹ نہ بولیں۔ پہلے خود تسلی کریں، پھر ریویو دیں۔
اب کیلکولیٹ کریں۔ ایک لاکھ روپے تنخواہ کا مطلب 3 ہزار 846 روپے کی دیہاڑی ہے، جبکہ روزانہ ایک پوسٹ لگانے کی کم از کم دیہاڑی 5 ہزار روپے ہے۔ محنت بھی کم ہے اور فری وقت بھی زیادہ مل جاتا ہے۔ یہ کام ملازمت کے ساتھ ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں جیسے جیسے پہچان بنتی جائے اور ریچ بڑھتی جائے، اچھا کانٹنٹ لگاتے رہیں۔ آپ کی دیہاڑی بڑھتی جائے گی۔ محض ایک سے ڈیڑھ سال میں آپ کی دیہاڑی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہم اس پر ایک مکمل سیشن رکھ سکتے ہیں اور پورا روڈ میپ بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک سال کی انتھک محنت ہے۔ اس کے بعد حالات بدل جاتے ہیں۔
’دیہاڑی‘ کا لفظ برا لگتا ہے۔ اس پر معذرت چاہتا ہوں، لیکن اس لفظ کے بغیر یہ سمجھنا مشکل تھا کہ مالکان ہمارا استحصال کیسے کرتے ہیں اور اوپن مارکیٹ میں ہماری یہی محنت کتنی ویلیو رکھتی ہے۔
ہم کانٹنٹ کری ایٹر ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا پر سب سے زیادہ اہمیت اسی کام کی ہے۔








