نواف عبید
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ، خطے میں ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔
برسوں تک سعودی عرب کے تحمل کو، غلطی سے، اس کی امریکا پر انحصار کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ ریاض نے اشتعال انگیزیوں کو برداشت کیا، غیر ضروری جنگوں سے گریز کیا، امریکا کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا، اور اپنی توجہ اندرونی تبدیلی اور ترقی پر مرکوز رکھی۔ لیکن یہ تحمل کبھی اس بات کا اعتراف نہیں تھا کہ امریکا کا وضع کردہ علاقائی سلامتی کا نظام ہمیشہ کے لیے قائم رہے گا۔
گزشتہ روز مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ یہ معاہدہ سنی مسلم دنیا کے تین طاقتور ترین اور بااثر ترین ممالک کو ایک صف میں لے آیا ہے۔ اب ان میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ ایک نئے علاقائی سلامتی ڈھانچے کا ادارہ جاتی آغاز ہے۔
امریکا ایران جنگ نے پہلے سے جاری اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیا۔ ایران کے جوابی حملوں نے خلیج میں امریکی اڈوں کے نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا اور بڑی تعداد میں جنگی افواج کی نئی تعیناتی ناگزیر بنا دی۔ کئی امریکی اڈے بالآخر بند ہو جائیں گے کیونکہ وہ اپنی حکمتِ عملی سے متعلق افادیت کھو چکے ہیں۔ واشنگٹن کے لیے پرانے دور کے وسیع تر عسکری پھیلاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے درکار وسائل کا جواز پیش کرنا مسلسل مشکل ہوتا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کا امریکا مشرقِ وسطیٰ سے مکمل طور پر غائب ہو رہا ہے۔ اس کے انٹیلیجنس تعلقات، عسکری قوت، ٹیکنالوجی اور معاشی اثر و رسوخ بدستور مؤثر رہیں گے۔ تاہم اس جنگ نے امریکی بالادستی کی حدود بھی آشکار کر دیں۔ اب علاقائی ممالک کے لیے اپنی سلامتی خود منظم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
نئے معاہدے کی عسکری منطق
اس نئے معاہدے کی عسکری منطق نہایت مضبوط ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی سب سے طاقتور فوج اور واحد ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔ ترکیہ دوسری سب سے طاقتور فوج، نیٹو کا تجربہ، خاصی بحری قوت اور جدید دفاعی صنعت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس بڑی فضائیہ موجود ہے، اگرچہ ان کے جنگی طیاروں کے بیڑے کا ایک بڑا حصہ اب پرانا ہو چکا ہے۔
سعودی عرب اس ترکیب کو مکمل کرتا ہے۔ رائل سعودی فضائیہ اب مسلم دنیا کی طاقتور ترین فضائیہ بن چکی ہے، جو جدید 4.5 نسل کے جنگی طیاروں کے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک، اور جدید انٹیلیجنس، کمانڈ اینڈ کنٹرول، فضائی دفاع اور درست نشانہ باز صلاحیتوں پر مشتمل ہے۔
علاقائی سلامتی کی فراہمی میں پاکستان کا کردار پہلے ہی نمایاں ہے۔ پاکستانی افواج سعودی افواج کے شانہ بشانہ تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع میں حصہ لے چکی ہیں۔ پاکستانی صلاحیتیں سعودی زیرِ قیادت ڈھانچوں میں شامل ہیں، جبکہ اسلام آباد نے تہران کو سعودی عرب کے کلیدی اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر پر مربوط حملوں سے خبردار بھی کیا ہے۔ ترکیہ اب اس پہلے سے قائم سعودی پاکستانی اسٹریٹیجک تعلق میں شامل ہو رہا ہے۔
باقی خلیجی ریاستوں کے لیے اگلا قدم
اگلا منطقی قدم باقی خلیجی ریاستوں کی شمولیت ہے۔ بحرین کے فرمانروا کے میڈیا مشیر، نبیل الحمر، خلیج تعاون کونسل سے آگے بڑھ کر ایک ’خلیجی اتحاد‘ کی حمایت کر چکے ہیں جس میں بحرین کا مستقبل کا دفاع سعودی عرب کے ساتھ مزید مربوط ہو۔ کویت اور قطر میں بھی مضبوط اجتماعی سلامتی کے حق میں ایسی ہی آوازیں اٹھی ہیں۔
باقی خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے اس ڈھانچے میں شامل ہونا چاہیے۔ سابقہ علاقائی نظام کی امریکی عسکری چھتری کے بغیر، کوئی بھی ملک تنہا اتنی عسکری قوت پیدا نہیں کر سکتا جو کسی بڑی علاقائی طاقت کے خلاف اسے تحفظ فراہم کر سکے۔
اس کا منطقی حل سعودی عرب کے گرد خلیجی انضمام کو مزید گہرا کرنا ہے۔ کسی ریاست کو شمولیت پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن جو ممالک باہر رہیں گے، انہیں اپنی نسبتاً محدود عسکری حیثیت کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں پالنی چاہیے۔ اہم علاقائی دفاعی ڈھانچے سے باہر رہنا اسٹریٹیجک تنہائی کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔
ایک وسیع تر عرب و مسلم دائرہ اپنی مرضی سے تشکیل پا سکتا ہے۔ مصر، الجزائر، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے بڑے ممالک اپنے مفادات کی مطابقت کی حد تک شریک ہو سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ یکساں دفاعی ذمہ داریاں اٹھائیں۔
بحری تعاون: ایک عملی مثال
بحری جزو اس بات کی عملی مثال پیش کرتا ہے کہ یہ ڈھانچہ کیسے کام کر سکتا ہے۔ سعودی زیرِ قیادت بحری اتحاد میں پہلے ہی پاکستان اور ترکیہ سمیت 11 دیگر ممالک شامل ہیں۔ یہ اتحاد بحیرہ احمر، باب المندب، آبنائے ہرمز، بحیرہ عرب اور خلیجی ساحل کی حفاظت کرے گا تاکہ ان راستوں سے گزرنے والی تجارتی اور توانائی کی نقل و حمل محفوظ رہے۔
سعودی جغرافیائی محلِ وقوع ریاض کو اس نظام کا فطری مرکز بناتا ہے۔ یہ خطے کی واحد بڑی ریاست ہے جس کے بنیادی مفادات براہِ راست آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں نظاموں پر محیط ہیں۔ یہ خلیج اور بحیرہ احمر کے سیکیورٹی حلقوں کو جغرافیائی، معاشی اور عسکری طور پر آپس میں جوڑتا ہے۔
معاشی اہمیت
معاشی حقائق اس جغرافیائی اہمیت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ سعودی عرب سب سے بڑی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کی معیشت، دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ، اوپیک کا قائد اور دنیا کی سب سے بڑی فاضل پیداواری صلاحیت کا حامل ملک ہے۔ اس کا پیٹرولیم انفراسٹرکچر محض ایک قومی اثاثہ نہیں، بلکہ اس کا مسلسل فعال رہنا عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے خطے کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے۔ ایران اپنی طاقت اور مسلح غیر ریاستی عناصر کے گرد بنے نظام کو اس وقت تک مستحکم نہیں کر سکتا جب تک ایک معاشی طور پر مضبوط اور عسکری طور پر مسلسل طاقتور ہوتا سعودی عرب عرب و مسلم دنیا کے مرکز میں موجود ہے۔ اسی لیے سعودی طاقت کو کمزور کرنا تہران کی علاقائی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاض کو تین محاذوں پر ایرانی حملوں کا سامنا رہا: مشرق میں براہِ راست ایران، شمال مشرق میں ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیائیں، اور جنوب مغرب میں یمن کے حوثی۔ براہِ راست ایرانی حملوں نے سعودی جوابی کارروائی کو جنم دیا اور بالآخر تھم گئے۔ تاہم عراقی اور یمنی محاذ اب بھی فعال ہیں۔
اس جارحیت کا نتیجہ اس کے برعکس نکلا جس کا ارادہ کیا گیا تھا۔ مملکت( سعودیہ) پر دباؤ نے دراصل اس کے اردگرد عسکری شراکت داریوں کے عمل کو مزید تیز کر دیا۔ جو حکمتِ عملی ایران نے سعودی طاقت کو محدود کرنے کے لیے اپنائی تھی، وہی اب ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دینے میں مددگار بن رہی ہے جو اس طاقت کو بے اثر کر سکتا ہے۔
فرقہ وارانہ تقسیم نہیں
اس ابھرتے ہوئے معاہدے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ شیعہ مخالف ہے، اور اسے ایسا کبھی نہیں بننا چاہیے۔ ایران ایک علاقائی طاقت ہے جس کے جائز سلامتی مفادات کو بالآخر تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ جو چیز جاری نہیں رہ سکتی، وہ ہے تہران کا پڑوسی خودمختار ریاستوں پر عسکری دباؤ ڈالنے کے لیے مسلح غیر ریاستی تنظیموں پر انحصار۔
ایران بار بار اس ماڈل کی حدود، اور بڑھتی ہوئی حد تک اپنی طاقت کی حدود کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ عراق میں ایران نواز ملیشیائیں پہلے ہی سعودی عرب اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ محاذ آرائی میں آ چکی ہیں اور اس کی بھاری قیمت چکا چکی ہیں۔ یمن میں، سعودی زیرِ قیادت مشترکہ فورسز کمانڈ یمنی اور اتحادی افواج کو ایک ایسی مہم کے لیے مجتمع کر رہی ہے جس کا مقصد حوثی عسکری صلاحیتوں کو کمزور اور بالآخر بے اثر کرنا ہے، تاکہ وہ سعودی سرزمین، بحری سلامتی اور پڑوسی ریاستوں کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔
ان تمام محاذوں پر سعودی زیرِ قیادت اتحادی ڈھانچے اب 650,000 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ یہ کوئی واحد فوج نہیں، بلکہ ایک مشترکہ علاقائی سلامتی مقصد کے گرد منظم خاصی مقامی عسکری طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ، بحری اتحاد اور نئے معاہدے کے ساتھ مل کر، ایران کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ اسے علاقائی سیاست کے حوالے سے اپنی جارحانہ حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
اسرائیل کے لیے بھی یہی اصول
یہی اصول اسرائیل پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسرائیلی مہم جوئی کو مختلف انداز میں نہیں دیکھا جائے گا۔ 9 ستمبر کو قطر پر کیا جانے والا حملہ اس بات کی مثال تھا کہ جب عسکری برتری کو لامحدود اسٹریٹیجک اختیار سمجھ لیا جائے تو کیا ہوتا ہے۔ کسی بھی خلیجی ریاست پر حملہ، خواہ وہ کوئی بھی کرے، ناقابلِ قبول ہے۔
اسرائیل کے جائز سلامتی مفادات ہیں، لیکن اسے خطے پر لامحدود عسکری ویٹو کا حق حاصل نہیں۔ ابھرتا ہوا یہ ڈھانچہ تہران اور اس کے پراکسیز کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے لیے بھی اسٹریٹیجک حدود قائم کرے گا۔ علاقائی طاقت کا نیا توازن دونوں فریقوں پر تحمل مسلط کرے گا۔
تشکیک پسندوں کے لیے جواب
شکوک و شبہات رکھنے والے مکہ معاہدے کو محض علامتی قرار دے کر مسترد کر دیں گے۔ لیکن پاکستانی افواج پہلے ہی سرگرمِ عمل ہیں، سعودی زیرِ قیادت بحری اتحاد تشکیل پا چکا ہے، یمن میں سعودی زیرِ قیادت عسکری ڈھانچے کام کر رہے ہیں، اور خلیج مزید انضمام پر غور کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ دراصل ایک ایسے ڈھانچے کو سیاسی شکل دیتا ہے جو پہلے ہی تعمیر ہو رہا ہے۔
یہ امریکا کے بعد کے مشرقِ وسطیٰ کا آغاز ہے — ایسا خطہ نہیں جس میں امریکا کا وجود نہ ہو، بلکہ ایسا خطہ جو اب اپنی سلامتی منظم کرنے کے لیے امریکی طاقت پر انحصار نہیں کرتا۔ شمولیت بدستور ہر ریاست کا خودمختار فیصلہ ہے، لیکن جغرافیہ اور طاقت کسی کے اختیار میں نہیں۔
اور اس نئے ابھرتے ہوئے نظام کا مرکزِ ثقل اب سعودی عرب ہے۔
نواف عبید کنگز کالج کے شعبہ وار اسٹڈیز میں سینئر فیلو اور ‘پراجیکٹ اورورا جیو سگنل MASINT سسٹم’ (ایک ملٹی ڈومین انٹیلی جنس فیوژن پلیٹ فارم) کے بانی ہیں۔ وہ عنقریب شائع ہونے والی کتاب ’سعودی عربز کوائٹ وکٹری ان ساؤتھ یمن: ہاؤ ریاض ریکلیمڈ دی بیٹل اسپیس تھرو C5ISR ڈومیننس‘ (ہیلیئن) کے مصنف ہیں۔









