پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر، سعودی اور ترک فوج کے سربراہان کے ساتھ

مکہ دفاعی معاہدہ: اثرات، چیلنجز اور مواقع(2)

·


ایران کا ابتدائی ردعمل محتاط رہا ہے۔ تہران نے مکہ دفاعی معاہدے کو براہِ راست ایران مخالف اتحاد قرار دینے کے بجائے اسے علاقائی ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری سنھالنے کی علامت قرار دیا ہے۔ تاہم ایران اس امکان کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون گہرا ہونے کی صورت میں علاقائی طاقت کا توازن اس کے لیے کم سازگار ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے ایران کے ساتھ بھی سفارتی اور علاقائی تعلقات ہیں، اس لیے تہران فوری محاذ آرائی کے بجائے معاہدے کے عملی رخ پر محتاط نظر رکھے گا۔ خصوصاً اگر مستقبل میں یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ مسلح کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ اجتماعی دفاعی معاہدے کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ ردعمل سےایران کے لیے زیادہ مشکل اور  پیچیدہ معاملہ بن جائے گا، جبکہ تینوں رکن ممالک کو بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات، علاقائی امن اور اجتماعی دفاع کو  چیلنج درپیش ہو جائیگا۔

یہ جنگ معاہدے کی واحد وجہ نہیں، لیکن اس نے اس کی ضرورت کو ضرور تیز کیا۔ خلیجی ممالک نے محسوس کر لیا کہ بڑی علاقائی جنگ ان کی اپنی سرزمین، توانائی اور تجارت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ سعودی کا مشترکہ دفاعی تعاون کا ایک مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل کے بحران میں وہ کسی بیرونی طاقت کی فوجی ضمانت کا محتاج نہ ہو۔ اس کے باوجود مکہ معاہدہ صرف ایران کے خلاف صف بندی نہیں ہے-

اسرائیلی تھنک ٹینکس مکہ دفاعی معاہدے کو اہم پیش رفت سمجھتے ہیں، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی اہمیت کا تعین اس کے عملی نفاذ اور تینوں ممالک کے درمیان حقیقی دفاعی تعاون سے ہوگا۔وہ اس نقطہ نظر کا اظہار کررہے ہیں کہ تینوں ممالک کے مختلف علاقائی مفادات اور ایران کے ساتھ ان کے پیچیدہ تعلقات معاہدے کے باعث مل کر کام کرنے میں ان ممالک کو بہت مسائل کا سامنا رہے گا۔ جبکہ یروشلم انسٹی ٹیوٹ برائے سلامتی و خارجہ امور کے نزدیک یہ امریکی زیرِ قیادت علاقائی سلامتی کے نظام پر کم ہوتے اعتماد اور نئے دفاعی شراکت دار تلاش کرنے کی علامت ہے۔

اسرائیل کے لیے فوری فوجی خطرہ فی الحال محدود ہے، لیکن اگر معاہدہ مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس، فضائی و میزائل دفاع اور دفاعی صنعت میں مستقل تعاون کی شکل اختیار کرتا ہے تو درمیانی مدت میں علاقائی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ طویل مدت میں مزید ممالک، خصوصاً مصر، اس تعاون میں شامل ہوئے تو ایک ایسا علاقائی دفاعی نیٹ ورک تشکیل پاسکتا ہے جو اسرائیل کی موجودہ علاقائی برتری کو چیلنج کرے۔کیونکہ معاہدہ اصلاً اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ہے۔کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔

چین نے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو امن و استحکام کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ بیجنگ کے لیے سعودی عرب توانائی، پاکستان علاقائی اقتصادی رابطے اور ترکیہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان اہم شراکت دار ہے۔چین ایسے تمام علاقائی تعاون کو پسند کرے گا جو امریکی انحصار کم کرانے میں معاون ہو ساتھ ہی وہ یہ نہیں چاہے گا کہ معاہدہ ایران کے خلاف فوجی محاذ بن جائے۔

برطانیہ کے اہم مطالعاتی ادارے مکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی سلامتی میں بتدریج آنے والی تبدیلی کےآغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چیتھم ہاؤس کے نزدیک یہ معاہدہ علاقائی خود انحصاری کا ایک تجربہ ہے جس کے ذریعے سعودی عرب اپنی دفاعی شراکت داری متنوع بنانا اور امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ اسے علاقائی ممالک کی جانب سے زیادہ دفاعی ذمہ داری سنبھالنے کے امریکی رجحان اور ترکی کے ’علاقائی مسائل کے علاقائی حل‘ کے تصور سے ہم آہنگ سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹجک مطالعات کے مطابق اس معاہدے کی اصل اہمیت اس کے عملی نفاذ اور خطے کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن پر اس کے اثرات میں ہوگی۔ یوں برطانوی تجزیوں میں مکہ معاہدہ نہ امریکی نظام کا فوری متبادل دکھائی دیتا ہے اور نہ محض ایک علامتی اقدام-

امریکی اثر فوری طور پر ختم نہیں ہوگا۔ امریکہ کے پاس خلیج میں فوجی موجودگی، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، اسلحہ اور مضبوط سیاسی تعلقات بدستور موجود ہیں۔تاہم سعودی عرب اگر پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مؤثر دفاعی نظام قائم کرلیتا ہے تو دوسرے خلیجی ممالک کے لیے بھی دفاعی شراکت داری کے اور راستے کھل سکتے ہیں۔ یوں خطہ میں امریکی  اجارہ داری بہت کم ہوسکتی ہے۔

نئی دہلی کی بنیادی تشویش پاکستان کی دفاعی پوزیشن، ترکیہ کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط دفاعی شراکت داری ہے۔ بھارت خطے میں طاقت کے توازن پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات کو اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

دفاعی تعاون میں اضافے سے مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستانی دفاعی مصنوعات کی نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوسکتاہے، جبکہ ترکیہ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون صنعتی اور دفاعی شعبوں میں بہتری لاسکتا ہے۔اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان ان امکانات کو عملی شکل دینے میں اور س کے ساتھ ایران، امریکہ، چین اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے گا یا نہیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مکمل قانونی متن تاحال عوام کے سامنے نہیں آیا۔ تاہم 31 اگست 2026 کو استنبول میں ہونے والا اہم اجلاس معاہدے کے عملی پہلوؤں پر مزید روشنی ڈال سکتا ہے، جہاں دفاعی ذمہ داریوں، مشترکہ کمان، فیصلہ سازی اور نئے ارکان کی شمولیت سمیت اہم امور پر پیش رفت یا مزید وضاحت سامنے آسکتی ہے۔ اس لیے معاہدے کے ممکنہ اثرات کا حتمی اندازہ اس کے مکمل متن اور عملی نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں