Sohail Afridi with others

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں شدید پھوٹ: پارلیمانی اجلاس میں تلخ کلامی، 70 سے زائد اراکین غیرحاضر

·

گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ہونے والا پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس شدید تلخ کلامی اور واک آؤٹ کے باعث وقت سے پہلے ہی ختم کرنا پڑا۔

یہ اجلاس 5 اگست کو پشاور میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور احتجاجی تحریک کے سلسلے میں منعقد کیے جانے والے جلسے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا، جسے وزیراعلیٰ نے پارٹی کے لیے ’سیمی فائنل‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، اجلاس کے آغاز سے ہی پارٹی کا اندرونی بحران واضح نظر آیا۔

پی ٹی آئی کے کل 128 قومی و صوبائی اراکینِ اسمبلی میں سے 70 سے زائد اراکین اجلاس سے غائب رہے اور محض 50 سے 55 ارکان نے شرکت کی، جس پر میڈیا میں کئی سوالات نے جنم لیا۔

اجلاس میں بدامنی کے بعد ناراض رکن فضل الٰہی، سجاد بارکوال، ادریس خٹک اور پختون یار سمیت دیگر اراکین اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے اور صحافیوں کو اندرونی کہانی بیان کر دی۔

بشریٰ بی بی یا علیمہ خان، تحریک انصاف کی قیادت کون کریں گی؟

جہانگیر ترین کے ساتھ تحریک انصاف کے 53 ارکان قومی اسمبلی ؟

” ملک بھر سے تحریک انصاف کے اراکین کے مسلم لیگ ن سے رابطے “

ناراض ارکان نے وزیراعلیٰ کی تقریر کے بعد ان پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ سابق صوبائی وزیر قاسم علی شاہ کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ماحول مزید گرم ہو گیا۔ ناراض دھڑے نے موقف اپنایا کہ کسی بھی بڑی تحریک یا جلسے سے قبل ورکرز کنونشن بلایا جائے اور تمام اراکین اسمبلی و عہدیداروں سے باقاعدہ حلف لیا جائے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تمام اراکین کو 5 اگست کے جلسے کی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے اعلان کیا کہ جلسے کا مقام کارکنوں کی سہولت کی خاطر پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے گئے مگر مخالفین نے مثبت جواب نہیں دیا، لہٰذا اب آئین کے تحت پرامن احتجاج ہی آخری طریقہ کار ہے۔

ذرائع اور برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، پی ٹی آئی اس وقت دو واضح دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک دھڑا بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان کے سخت گیر بیانیے کا حامی ہے جبکہ دوسرا دھڑا بیرسٹر گوہر علی خان اور موجودہ قانونی و سیاسی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔

علیمہ خان نے موجودہ قیادت پر چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ تحریک چلانے سے گریزرہی ہے اور بعض رہنما صرف اپنی نشستیں و مراعات بچانے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب مرکزی قیادت نے علیمہ خان کی عوامی احتجاجی مہم کو ان کا ’ذاتی عمل‘ قرار دیتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبائی صدر جنید اکبر، سیکرٹری جنرل علی اصغر خان اور دیگر صوبائی عہدیداروں کے درمیان بھی شدید اختلافات اور مفادات کی جنگ جاری ہے، اور پارٹی کی مرکزی قیادت اس وقت ’ڈیمج کنٹرول‘ کی کوشش کر رہی ہے جب سیاسی طور پر بڑا نقصان ہو چکا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں