Millions mourn Iran’s Ali Khamenei, Tehran, Iran.

سابق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا جنازہ، تہران کے مناظر دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

·

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں ایرانی عوام کی بڑی تعداد اور ان کے غم کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ Axios کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے صحافی باراک راوِد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’میں حیران رہ گیا، مجھے تو لگتا تھا کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔‘

یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنھیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک خواب دکھایا تھا کہ پہلے ہی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کو ہلاک کردیا جائے تو ملاؤں کے نظام سے نفرت کرنے والے ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے، ایرانی اداروں کے مراکز پر قبضہ کرلیں گے۔ یوں ایک ہی دن میں رجیم تبدیل ہوجائے گا۔

اٹھائیس فروری کو پہلے ہی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے افراد اور اہم ساتھیوں سمیت شہید کردئیے گئے، لیکن ایران کی سڑکوں پر وہ منظر دیکھنے کو نہ ملا جس کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو یقین تھا۔ اس کے بجائے ایرانی قوم اپنے گھروں میں نوحہ کناں ہوگئی۔

امریکہ اور اسرائیل کے اگلے حملوں میں ایران کی دیگر اہم ترین سیاسی و فوجی قیادت بھی ختم کردی گئی لیکن ملاؤں کے نظام سے ناراض ایرانی پھر بھی سڑکوں پر نہ نکلے، انھوں نے اہم سرکاری مراکز پر قبضہ نہ کیا۔ بلکہ الٹا ایران پر حملہ کرنے والوں کے خلاف غضب ناک ہوئے۔

اگلے دنوں میں امریکی و اسرائیلی حملوں نے عشروں سے پابندیوں کے شکار ایران کو ملبے کا ڈھیر بنادیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی توقعات پوری نہ ہوئیں، لوگ اپنی حکومت کے خلاف باہر نہ نکلے، اس کے برعکس ایران میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھتی رہی۔

اب جب پانچ ماہ بعد، جب سابق ایرانی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ ہورہی ہے، گرینڈ مصلیٰ تہران میں لاکھوں افراد کی آمد ایران پر حملے کرنے والوں کو زیادہ واضح پیغام دے رہی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع گرینڈ مصلیٰ، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے دورِ قیادت میں متعدد اہم خطابات کیے، آج قومی سوگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد گرینڈ مصلیٰ پہنچ رہی ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔ لوگوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جا رہی ہے۔

یہاں کی فضا انتہائی رنج و غم سے بوجھل ہے۔ متعدد سوگوار اشکبار ہیں، جبکہ بہت سے افراد ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں اور دعائیں بھی کر رہے ہیں۔

اس موقع پر عوامی جذبات کے ساتھ سیاسی نعرے بھی سنائی دے رہے ہیں، جہاں شرکا مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل (’امریکہ مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘) کے نعرے لگا رہے ہیں وہاں متعدد افراد آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

یہ جنازہ ایران کی نئی قیادت کے لیے سیاسی اعتبار سے بھی ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے، جہاں غیر یقینی صورتحال کے ماحول میں قومی اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سارا منظر مخالفوں کو ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ ایران میں ریاستی تسلسل برقرار ہے، اختیار کا استحکام بھی ہے اور سیاسی استحکام بھی موجود ہے۔

تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات صرف سوگ کی تقریبات نہیں بلکہ ان کے ذریعے ایران عالمی برادری کو ریاستی تسلسل، استحکام اور پالیسیوں کے برقرار رہنے کا پیغام بھی دے رہا ہے۔

محمد اسلامی نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا مقصد صرف انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینا بھی ہے کہ ایران کا ریاستی نظام اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ایرانی تاریخ کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو جنگ کے دوران اپنے مخالفین کے حملے میں مارے گئے۔ خامنہ ای صرف احکامات جاری کرنے والے رہنما نہیں تھے بلکہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف جدوجہد میں عملی طور پر پیش پیش رہے، اور یہی پہلو انہیں ایرانی تاریخ میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

محمد اسلامی کے مطابق ایران کی حکومت جنازے کی تقریبات کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی علاقائی اور حکومتی پالیسیوں کا تسلسل ان کے بعد بھی برقرار رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئی قیادت کے سربراہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ غیر موجودگی کو سیکیورٹی نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ان کی حفاظت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

محمد اسلامی کے بقول اس نازک مرحلے پر مجتبیٰ خامنہ ای کی اولین ترجیح اپنی قیادت کو مستحکم کرنا اور ریاستی نظام کو محفوظ بنانا ہے، اسی لیے ان کی توجہ زمینی حقائق اور قیادت کے استحکام پر مرکوز ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں بڑی تعداد میں سرخ پرچم لہرائے گئے، جنہیں ان کے حامیوں نے انتقام کی علامت قرار دیا۔

محمد اسلامی نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں نظر آنے والے سرخ پرچم دراصل انتقام کے مطالبے کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم سپریم لیڈر کے حامی ایرانی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای محض ایک سربراہِ مملکت نہیں تھے بلکہ ان کی حیثیت اس سے کہیں زیادہ اہم تھی، اسی لیے ان کی ہلاکت نے ان کے پیروکاروں میں گہرے جذبات کو جنم دیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران کے لیے صرف ایک قومی رہنما کی تدفین نہیں بلکہ چار دہائیوں پر محیط ایک ایسے دور کے اختتام کی علامت ہیں جس نے ملک کے ریاستی اداروں، دفاعی حکمت عملی، خارجہ پالیسی اور علاقائی کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

آیت اللہ خامنہ ای 1989 میں ایران کے سپریم لیڈر بنے، جب ملک آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے بعد بحالی کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ان کی قیادت میں سپریم لیڈر کا دفتر ریاستی نظام کا سب سے بااثر مرکز بن گیا، جو مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری نشریاتی اداروں اور اہم ریاستی تقرریوں کی نگرانی کرتا تھا۔

ان کے دورِ قیادت میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) ایران کے سلامتی، سیاست اور معیشت کے شعبوں میں ایک انتہائی طاقتور ادارے کے طور پر ابھری اور ملکی نظام میں اس کا کردار نمایاں طور پر بڑھا۔

اسی عرصے میں ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی تیزی سے وسعت دی، جسے تہران نے امریکہ اور خطے کے اپنے حریفوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی اور مؤثر باز deterrence کا ذریعہ قرار دیا۔

تاہم ایران کا جوہری پروگرام عالمی سطح پر سب سے زیادہ متنازع مسئلہ بن کر سامنے آیا۔ آیت اللہ خامنہ ای مسلسل اس مؤقف پر قائم رہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، لیکن یورینیم افزودگی کو اپنا قانونی حق قرار دیتے رہے۔ اس مؤقف کے باعث امریکہ اور یورپی ممالک نے ایران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔

علاقائی سطح پر خامنہ ای کی حکمت عملی اتحادی حکومتوں اور مسلح گروہوں کی حمایت پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں ایران کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھا، تاہم خلیجی عرب ممالک اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔

ایرانی حکام نے ان کی ہلاکت کو ریاست کے مرکز پر حملہ قرار دیا، جبکہ ان کے حامیوں کا ایک حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ خامنہ ای کی وفات سے ایرانی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔

تہران میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق علی اکبر دارینی نے کہا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ایک ایسا مضبوط اور ’مزاحم‘ حکومتی نظام تشکیل دیا جسے ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا گیا، تاکہ ریاست کا انحصار کسی ایک شخصیت پر نہ رہے۔

دارینی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران، پہلے ہی روز سپریم لیڈر اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی ہلاکت کے باوجود ایران کا ریاستی نظام برقرار رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگی حالات کا سامنا کرنا اور ریاستی ڈھانچے کا فعال رہنا آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

دارینی کے مطابق خامنہ ای نے ایسا ادارہ جاتی نظام قائم کیا جو قیادت میں تبدیلی یا غیر معمولی حالات کے باوجود ریاستی امور کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں 70 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاریخی تقریب ایران اور دوست ممالک کے درمیان تعلقات میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب کو ایک ’تاریخی تعزیتی اجتماع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دوست عرب ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ تقریب اور اس میں مختلف ممالک کی شرکت ایران اور ان دوست ممالک کے درمیان مشترکہ تعلقات کی تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش یادگار کے طور پر ہمیشہ محفوظ رہے گی۔

قطر کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک ماہر  پال مسگریو نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم سیاسی اور سفارتی پیغام دے رہا ہے۔ ان کے مطابق جنازے میں عوام کی بڑی تعداد اور مختلف ممالک کے رہنماؤں کی شرکت ایران کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے۔

پال مسگریو نے کہا کہ جب کسی رہنما کے لیے عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سوگ اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت کو ملک کے ایک بڑے طبقے کی حمایت اور قبولیت حاصل ہے۔

پال مسگریو نے کہا کہ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں ایران کے اندر ایسی قومی یکجہتی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ہونے والی جنگ کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی اور عوام میں اتحاد کا احساس نمایاں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے باہر بھی جنازے کی تقریب خاصی اہمیت کی حامل رہی، کیونکہ عراق، ترکیہ، عمان اور چین سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے اس میں شرکت کی۔

ان کے مطابق مختلف علاقائی اور عالمی رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک حد تک یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو چکا ہے، تاہم نئی قیادت کو داخلی اختلافات، اقتصادی دباؤ، بین الاقوامی پابندیوں اور جنگ کے اثرات سمیت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینے ایران کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد وجود میں آنے والا نیا ایران داخلی سطح پر مکمل طور پر یکساں مؤقف کا حامل نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کے اندر بھی اہم معاملات پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق ایران میں اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ آیا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اب بھی کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی دوران فیصلہ سازی کا دائرہ بھی تبدیل ہوا ہے، جہاں اختیارات پہلے کے مقابلے میں زیادہ محدود حلقے میں مرتکز ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور پالیسی سازی میں زیادہ سخت مؤقف نمایاں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کو بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں، مسلسل معاشی دباؤ، مہنگائی، جنگ کے اثرات اور عوامی تھکن جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو مستقبل میں دوبارہ بڑے عوامی احتجاج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق بعد از خامنہ ای دور ایک ایسے وقت میں تشکیل پا رہا ہے جب ایران کو بیک وقت داخلی اور خارجی دباؤ کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ موجودہ ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ، خطے میں زیادہ فعال اور کشیدگی بڑھانے کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم اسی کے ساتھ وہ پہلے سے زیادہ حساس اور دباؤ کا شکار بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر نئی قیادت کے اقدامات کو مکمل اور مستقل حکمت عملی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، بلکہ یہ ایک نئے رہنما کی جانب سے اپنی سیاسی اور ریاستی اتھارٹی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب جنگ ختم ہوگی، عوامی جذبات معمول پر آئیں گے اور ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس کا نیا دور صرف محاذ آرائی پر استوار ہوگا یا وہ زیادہ دیرپا اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے گا۔

تہران کے ایک محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور جارحانہ خارجہ پالیسی کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق نئی قیادت کی اولین ترجیحات میں آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول، قومی اتحاد اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

تہران میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق علی اکبر دارینی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ 60 روز کے دوران آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی حکمت عملی کے معمار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے سپریم لیڈر اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ حقیقت پسند (ریئلسٹ) ہیں اور خارجہ امور میں زیادہ واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

دارینی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو حالیہ عرصے میں ایران کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کی اولین ترجیح ملک کی سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔

محقق نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ نئے سپریم لیڈر کو مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی بے چینی جیسے سنگین داخلی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان کے بقول، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے منصوبوں میں داخلی سطح پر قومی اتحاد کو فروغ دینا اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے باوجود ایران کا ریاستی نظام برقرار رہا، تاہم نئی قیادت کے تحت ملکی اور علاقائی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں زیادہ سخت خارجہ پالیسی، بازدارانہ حکمت عملی اور خطے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر زور شامل ہے۔

ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای نے قیادت سنبھالنے کے بعد خود کو مضبوط انداز میں منوانے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے برعکس انہوں نے داخلی اور خارجی سطح پر زیادہ سخت اور براہِ راست مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی بھی مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ واشنگٹن ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل نہیں کر سکا، تاہم اس کی کارروائیوں نے ایرانی نظام کے اندر تبدیلیوں کی رفتار ضرور تیز کر دی ہے۔

ان کے بقول نئی حکمت عملی کی بنیاد ’بازدارانہ قوت‘ (Deterrence) پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ مستقبل میں اس کے خلاف کوئی بھی جنگ صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول اسی حکمت عملی کا سب سے نمایاں اظہار ہے۔ تہران کا مؤقف یہ ہے کہ اگر ایران کو استحکام میسر نہیں ہوگا تو خطے میں تیل کی تجارت بھی معمول کے مطابق جاری نہیں رہ سکے گی۔

ادھر امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی اور جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات بھی ایک دوسرے کے ردعمل پر مبنی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی حدود اور ردعمل کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کے اثرات خطے کے دیگر ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے لبنان کی صورتحال کو بھی اپنی وسیع تر سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا ہے اور بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے کے بعد جوابی اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عراق میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ نجف اور کربلا جیسے مقدس شہروں میں جنازے کی تقریبات کے انعقاد کے ذریعے ایران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ شیعہ دنیا میں اس کا اثر و رسوخ اور مذہبی و سیاسی کردار آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں