برطانوی خاتون مہم جو روزی اسٹینسر نے اپنی دیگر ساتھی خواتین کے ہمراہ سعودی عرب کے قدیم تجارتی راستے ’ بخور ‘ پر 69 دن میں 2000 کلومیٹر کا طویل سفر مکمل کرکے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ یہ سفر انہوں نے اونٹوں کے ساتھ مگر مکمل طور پر پیدل طے کیا۔
معروف سعودی اخبار ’ عرب نیوز‘ کے مطابق برطانوی مہم جو روزی اسٹینسر نے سعودی عرب کے جنوب مغرب سے شمال مغرب تک پھیلے قدیم بخور تجارتی راستے پر اپنی خواتین ٹیم کے ساتھ 69 روزہ تاریخی مہم کامیابی سے مکمل کرلی۔ یہ ان کی اب تک کی سب سے پُرعزم اور مشکل ترین مہم تھی جس میں وہ روزانہ 30 کلومیٹر تک پیدل چلتی رہیں۔ جھلسا دینے والی گرمی، اڑتی ریت اور ہر قدم پر آزمائش کرنے والے خطوں کے باوجود انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور مہم مکمل کی۔
سفر کا آغاز اور راستہ
مہم کا آغاز سعودی عرب کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع تاریخی تجارتی مرکز نجران سے ہوا۔ راستے میں ٹیم نے دو بڑے صحراؤں ربع الخالی اور نفود کو عبور کیا، سروات پہاڑی سلسلے سے گزریں اور سعودی عرب کے مغربی حصے کے اہم ثقافتی مراکز اور تاریخی مقامات سے ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ان میں حمّاء، بیشہ، مدینہ منورہ، خیبر، العُلا اور تبوک شامل تھے۔ مہم نیوم سے گزرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحل پر اختتام پذیر ہوئی۔
زندگی بدل دینے والا تجربہ
مہم کی تکمیل کے بعد گفتگو میں روزی اسٹینسر نے کہا کہ یہ سفر ان کی زندگی بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا:
’مہم جوئی کا اصل مقصد نامعلوم کو دریافت کرنا اور غیر متوقع حالات و واقعات کا سامنا کرنا ہے۔ اس سفر نے نہ صرف مجھے بلکہ پوری ٹیم کو سعودی عرب کی عظمت اور اس کے حیرت انگیز تنوع سے روشناس کرایا جو ہمارے پہلے سے قائم تصورات سے کہیں بڑھ کر تھا۔‘
قدیم ورثے کا دیدار
روزی اسٹینسر نے بتایا کہ پہلے ہی دن حمّاء میں دس ہزار سال پرانے پتھر پر کندہ نقوش کے سائے میں کھانا کھانا ان کے لیے ایک انمول تجربہ تھا۔ حِجر کی پراسرار خاموشی نے قدیم تہذیبوں کی یادیں تازہ کردیں جبکہ العُلا نے وہ احساس جگایا جو کبھی اونٹوں کے قافلوں سے گونجتے اس نخلستانی شہر میں ہوتا ہوگا۔
سعودی مہمان نوازی
ٹیم کو راستے بھر مقامی آبادیوں کا بھرپور استقبال ملا۔ روزی اسٹینسر نے کہا:
’ہر جگہ، ہر طبقے کے لوگ بلا استثنا انتہائی مہمان نواز اور فیاض تھے۔ لوگوں کے گھروں میں کھانے کی دعوتیں قبول کرنے پر مجبوراً حد مقرر کرنا پڑی ورنہ ہم آگے ہی نہ بڑھ پاتے!‘
خواتین کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوئیں
مہم کے اہداف میں سعودی خواتین کے کردار سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ بھی شامل تھا۔ اسٹینسر نے بتایا کہ انہوں نے کاروباری خواتین سے لے کر اساتذہ، دستکار اور گھریلو خواتین تک، ہر طبقے کی خواتین سے ملاقات کی اور سب اپنے بدلتے کردار سے نہ صرف مطمئن بلکہ پُرجوش نظر آئیں۔
پائیدار مستقبل کا عزم
اسٹینسر کے مطابق انہوں نے پورے سفر میں پانی کے تحفظ کے اقدامات، قابلِ تجدید توانائی کے بڑے منصوبے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے واضح شواہد دیکھے اور لوگوں میں سعودی وژن 2030 کے لیے بھرپور جوش و جذبہ محسوس کیا۔
جسمانی آزمائشیں
مہم ہر طرح کی آزمائشوں سے بھری رہی ۔گہری گرمی، کڑکڑاتی سردی، مشکل راستے اور سانپوں و بچھوؤں جیسے ’مہمان‘ بھی ملتے رہے۔ روزی کی سب سے بڑی ذاتی آزمائش یہ رہی کہ مدینہ کے لاوے کے میدانوں میں انہیں پیر کی تکلیف دہ بیماری لاحق ہوگئی اور انہیں باقی کے 800 کلومیٹر لنگڑاتے ہوئے طے کرنا پڑے۔
ٹیم اور سپانسرز
مہم میں پام اولیور، روزی سیسل، اریبیلا ڈورمین، آندریا ٹینینٹ، لی واٹس اور شہزادی ابیر آلِ سعود شامل تھیں۔ مہم کو فورڈ ناغی موٹرز نے سپانسر کیا۔ ساتھ میں اونٹ سامان اٹھانے کا کام کرتے رہے، بالکل اسی طرح جیسے صدیوں پہلے قدیم تاجر کیا کرتے تھے۔
آئندہ منصوبے
اپنے مستقبل کے عزائم کے بارے میں اسٹینسر نے کہا: ’میں ‘ساٹھ کی دہائی’ میں ہوں لیکن ابھی جوتے اتارنے کا ارادہ نہیں! بخور روٹ مہم میرے صحرائی سہ گانے کا اختتام تھا۔ اب کسی نئے ماحول کی تلاش ہے۔ سعودی عرب ہمیشہ میرے دل میں رہے گا۔‘









