سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
ہوٹلِ مشہد میں رات اچھی گزری۔ مسافر کی زندگی میں بعض راتیں ایسی بھی آتی ہیں جب نہ کوئی تشویش دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور نہ کوئی انجانی منزل خوابوں میں آواز دیتی ہے۔ یہ انہی راتوں میں سے ایک تھی۔ صبح آنکھ کھلی تو چند لمحے یوں ہی بستر پر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا۔ سفر میں جاگنے کے بعد پہلے چند لمحے ہمیشہ عجیب ہوتے ہیں۔ ایک دم ذہن کو یاد نہیں آتا کہ آپ کس شہر میں ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یادیں واپس آنے لگتی ہیں۔ ہوٹل کا کمرہ، پردوں کے پار کی روشنی، اور دور کہیں کسی گاڑی کے ہارن کی آواز۔ پھر اچانک یاد آیا، میں ایران میں ہوں۔
صبح اٹھتے ہی سب سے پہلا کام اگلے مرحلے کے سفر کو یقینی بنانا تھا۔ چنانچہ تہران سے مشہد جانے والی پرواز میں اپنی نشست بُک کروائی اور تصدیق شدہ ٹکٹ ہاتھ میں آ گیا۔ اب اگلے دن ایران ایئر کے جہاز نے مجھے مشہد پہنچانا تھا۔ یوں ایک منزل طے ہو گئی اور مسافر کے دل کو وقتی اطمینان نصیب ہوا۔
دفتر میں ٹکٹ جاری کرنے والی نوجوان لڑکی تیزی سے کمپیوٹر پر انگلیاں چلا رہی تھی۔ سر پر اسکارف تو موجود تھا، مگر شاید صرف رسمی حد تک۔ چند شوخ زلفیں اس کی گرفت سے آزاد ہو کر رخسار کے کنارے آ ٹھہری تھیں۔ چہرے پر ہلکا مگر مکمل میک اَپ تھا، جیسے تہران کی جدید زندگی اور روایت نے آپس میں کوئی خاموش سمجھوتہ کر رکھا ہو۔ پھر اس نے پرنٹ شدہ ٹکٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
"تمام ہو گیا۔ اب آپ آرام سے سفر کریں۔”
میں نے ٹکٹ ہاتھ میں لیا۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا۔ لیکن مسافر اچھی طرح جانتا ہے کہ بعض اوقات چند گرام وزن رکھنے والا ایک کاغذ آدمی کے آنے والے کئی دنوں کا نقشہ اپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے۔
شمالی ایران کی سیر
جب سفر کا اگلا باب محفوظ ہو گیا تو میں نے سوچا کہ باقی دن شمالی ایران کے نام کر دیا جائے۔ میرے پاس ایران کا ایک کاغذی نقشہ تھا۔ پرانے زمانے کے نقشوں میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔ وہ صرف راستے نہیں دکھاتے، خواہشیں بھی جگاتے ہیں۔ میں نے اسے میز پر پھیلایا۔ تہوں کے نشانات اب بھی اس پر موجود تھے۔ نقشے کے کنارے کچھ جگہوں سے گھس چکے تھے۔ ایسے نقشوں میں مجھے ہمیشہ ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، ان میں بے شمار نامعلوم راستے اور ممکنہ یادیں بھی بسی ہوتی ہیں۔ نقشے پر شمالی ایران سبز رنگوں میں نہایا ہوا دکھائی دیتا تھا، گویا کسی مصور نے اس حصے پر باقی ملک کی نسبت زیادہ فیاضی سے رنگ خرچ کر دیے ہوں۔
میں ہوٹل سے نکلا اور ایک ٹیکسی میں جا بیٹھا۔ ڈرائیور ادھیڑ عمر شخص تھا۔ اس کی مونچھوں میں سفید بال جھانکنے لگے تھے۔ گاڑی چلانے سے پہلے اس نے ریئر ویو مرر میں میری طرف دیکھا اور پوچھا:
"پہلی مرتبہ ایران آئے ہیں؟”
"جی۔”
اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔
"پھر ابھی آپ نے بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔”
اس نے یہ بات ایسے انداز میں کہی جیسے ایران کوئی ملک نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہو، اور میں ابھی اس کا صرف ابتدائی باب پڑھ رہا ہوں۔
ٹیکسی سعدآباد کے علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف سَرُو کے بلند و بالا درخت ایستادہ تھے۔ ان کی شاخیں ایک دوسرے کی طرف اس طرح جھکی ہوئی تھیں جیسے برسوں کے دوست کسی پرانی بات کو آہستہ آہستہ دہرا رہے ہوں۔ کہیں کہیں یہ قربت اتنی بڑھ جاتی کہ اوپر شاخیں آپس میں ملنے لگتیں اور سڑک ایک سبز سرنگ کا روپ دھار لیتی۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ ذرا سا نیچے کر دیا۔ خنک ہوا کا ایک جھونکا اندر آیا۔ پتوں کی ہلکی سی مہک اس میں گھلی ہوئی تھی۔ ایسے لمحوں میں آدمی منزل کے بارے میں کچھ دیر کے لیے بھول جاتا ہے اور راستہ خود سفر کا مقصد بن جاتا ہے۔
میں نے ڈرائیور سے پوچھا: ” یہاں کی فضا تہران کے باقی حصوں سے مختلف کیوں لگتی ہے؟”
وہ مسکرایا۔ "شمال قریب آ رہا ہے۔ جتنا آگے جائیں گے، سبزہ بڑھتا جائے گا۔”
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ درخت خاموش تھے، لیکن ان کی خاموشی میں ایک دعوت پوشیدہ تھی۔اب تک کے سفر میں بہت سے خوبصورت شہر دیکھے تھے۔ اصفہان کے پل، اس کے باغات اور اس کی تاریخ بھی کم دلکش نہ تھی، لیکن اس لمحے سعدآباد کی یہ سبز سرنگ میرے دل پر کچھ اور ہی نقش ثبت کر رہی تھی۔
بعض اوقات انسان کسی جگہ کو اس کی عظمت یا شہرت کی وجہ سے یاد نہیں رکھتا۔ صرف ایک ہوا کا جھونکا، درختوں کا سایہ، یا کسی اجنبی کی کہی ہوئی ایک معمولی سی بات برسوں ذہن میں رہ جاتی ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید یہ لمحہ بھی انہی لمحوں میں سے ایک ہے۔
میں نے نقشہ دوبارہ کھولا۔سبز رنگ شمال کی طرف مسلسل پھیلتا چلا گیا تھا۔ گیلان، مازندران، اور پھر بُحیرۂ کیسپین۔ نقشے پر انگلی آہستہ آہستہ سِرَکتی گئی اور جا کر اس وسیع آبی پھیلاؤ پر رک گئی۔
بُحیرۂ کیسپین۔۔۔
ایک ایسا نام جو برسوں سے معاشرتی علوم اور جغرافیہ کی کتابوں میں پڑھتا آیا تھا۔اچانک دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔کیوں نہ مشہد کا سفر چند روز کے لیے مؤخر کر دیا جائے؟کیوں نہ اس سبزے کے تعاقب میں شمال کی جانب نکل جاؤں؟کیوں نہ گیلان کے جنگلات سے گزرتا ہوا اس عظیم جھیل نما سمندر تک پہنچوں اور کسی کشتی میں بیٹھ کر اس کے پانیوں پر چند گھنٹے گزاروں؟ یہ خیال آیا تو دل نے فوراً اس کی تائید کی۔مگر جیب میں رکھا ہوا ہوائی جہاز کا ٹکٹ خاموشی سے ایک اور حقیقت یاد دلا رہا تھا۔ اگر شمال جانا تھا تو اس ٹکٹ کو منسوخ کرانا پڑتا۔ میں نے نقشہ تہہ کیا، پھر دوبارہ کھول لیا۔ یہ مسافر کی پرانی عادت ہے۔ جب دو راستے سامنے ہوں تو وہ نقشے کم اور اپنے دل زیادہ پڑھنے لگتا ہے۔
ایک طرف مشہد تھا، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔دوسری طرف بحیرۂ کیسپین تھا، جو ابھی صرف ایک خواہش تھا۔اور بعض اوقات سفر کی سب سے بڑی کشمکش یہی ہوتی ہے کہ انسان طے شدہ منزل کو چنے یا اس راستے کو جو اچانک دل میں اتر آیا ہو۔ ٹیکسی اپنی رفتار سے چلتی رہی، مگر میرے اندر ایک اور سفر شروع ہو چکا تھا۔
قصرِ سبز میوزیم۔۔۔
فی الحال میں نے ٹیکسی والے سے کہا:
"مجھے قصرِ سبز لے چلو۔”
اس نے ریئر ویو مرر میں میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے جیسے سوال ابھرا کہ شاید یہ اجنبی سیاح تہران کے عام بازاروں اور مشہور مقامات کے بجائے اس طرف کیوں جانا چاہتا ہے۔ پھر اس نے خاموشی سے سر ہلایا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ شمالی تہران کی شاہراہوں پر سفر شروع ہوا تو مجھے محسوس ہوا جیسے شہر آہستہ آہستہ اپنی رفتار بدل رہا ہو۔ کچھ دیر پہلے کے ہجوم، شور اور گرد آلود سڑکیں پیچھے رہ گئی تھیں۔ یہاں سڑکوں کے کنارے درخت زیادہ تھے، ہوا میں نمی بھی کچھ زیادہ تھی اور مکانوں کے چہرے بھی کسی قدر آسودہ دکھائی دیتے تھے۔
ڈرائیور نے خود ہی بات شروع کی۔
"آپ پاکستان سے ہیں؟”
"جی۔”
اس نے مسکرا کر کہا:
"پاکستانیوں کو یہاں آ کر دو چیزیں ضرور پسند آتی ہیں، ایک مشہد اور دوسری شمالی ایران۔”
میں نے پوچھا:
"اور تہران؟”
وہ ہنس پڑا۔
"تہران سے لوگ محبت کم اور ضروریات کا مطالبہ زیادہ کرتے ہیں۔”
میں بھی مسکرا دیا۔ بعض لوگ چند جملوں میں پورے شہر کی سوانح لکھ دیتے ہیں۔
قصرِ سبز کے دروازے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی غیر ملکی اور مقامی باشندوں کے لیے الگ الگ نرخ مقرر ہیں۔ ایرانی شہری تین سو تومان میں داخل ہو سکتے تھے جبکہ میرے لیے سات سو تومان کا ٹکٹ تھا۔کاؤنٹر کے پیچھے ایک نوجوان لڑکی بیٹھی تھی۔ اس نے رقم وصول کرتے ہوئے ٹکٹ میری طرف بڑھایا اور رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"خوش آمدید۔”
میں نے ٹکٹ ہاتھ میں لیا اور دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ مسافر جب اپنے وطن سے باہر نکلتا ہے تو اسے جلد ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا میں اس کی ایک نئی شناخت بھی ہے — "غیر ملکی”۔ اور اس شناخت کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔
یہ صرف ایک محل نہیں تھا بلکہ عجائب گھروں کا ایک پورا مجموعہ تھا جسے قصرِ سعد آباد کمپلیکس کہا جاتا ہے۔ ایک جانب فوجی عجائب گھر تھا۔ بتایا گیا کہ یہ کبھی شاہی فوج اور ساواک کے بعض انتظامی مراکز اور بیرکوں کا حصہ رہا تھا۔ انقلاب کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا تاکہ لوگ ماضی کی طاقت اور اس کے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
میں ابھی داخلی راستے سے آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک مانوس سی آواز سنائی دی۔ ایک ٹورسٹ گائیڈ مختلف ممالک سے آئے ہوئے سیاحوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو کچھ سمجھا رہا تھا۔ میں نے دور سے دیکھا، چند یورپی چہرے، ایک عرب خاندان، دو تین مشرقی ایشیائی سیاح اور چند ایسے لوگ جن کی قومیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔میں نے دل میں سوچا کہ سفر میں بعض نعمتیں بغیر مانگے مل جاتی ہیں، اور مفت کی رہنمائی ان میں سے ایک ہے۔ چنانچہ خاموشی سے اس گروہ کے پیچھے ہو لیا۔
گائیڈ کہہ رہا تھا:
"اس مقام کی بنیاد قاجاری دور میں رکھی گئی۔ 1922ء سے 1928ء کے درمیان اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ قاجاری حکمران گرمیوں میں یہاں قیام کیا کرتے تھے کیونکہ شمالی تہران کا موسم شہر کے دوسرے حصوں کی نسبت کہیں زیادہ خوشگوار ہے۔”
ایک فرانسیسی خاتون نے پوچھا:
"کیا اُس زمانے میں بھی تہران اتنا ہی گرم ہوتا تھا جتنا آج ہے؟”
گائیڈ مسکرایا۔
"شاید آج جتنا نہیں، لیکن شاہی خاندان کو ٹھنڈی ہوا ہمیشہ پسند رہی ہے، اسی لیے انہوں نے البرز کے دامن میں یہ مقام منتخب کیا۔”
میں نے گرد و پیش پر نظر دوڑائی۔ واقعی یہ جگہ موسمِ گرما کی قیام گاہ کے لیے موزوں تھی۔ بلند و بالا سرو، چیڑ اور چنار کے درخت آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ دھوپ براہِ راست زمین تک پہنچنے کے بجائے شاخوں اور پتوں کی کئی تہوں سے چَھن کر نیچے اترتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے روشنی بھی یہاں داخل ہونے سے پہلے درختوں سے اجازت طلب کرتی ہو۔ درختوں کے تنے تقریباً تین فٹ تک سفید رنگ سے آراستہ تھے۔ اس سفیدی نے پورے باغ کو ایک عجیب سی ترتیب اور شائستگی عطا کر دی تھی۔ رَوِشوں کے کنارے سے پانی بہہ رہا تھا۔ میں چند لمحے رکا۔ بِہتے پانی کی آواز میں نہ جانے کیوں کوئٹہ اور ہنہ اڑک کے پہاڑی نالوں کی آواز یاد آ گئی۔ آدمی ہزاروں میل دور نکل جائے، کچھ آوازیں اس کے اندر ہمیشہ زِندہ رہتی ہیں۔
گائیڈ آگے بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا:
"1925ء میں رضا شاہ پہلوی نے قاجاری سلطنت کا خاتمہ کیا اور پہلوی خاندان کی حکومت قائم کی۔ بعد ازاں اس کمپلیکس میں مزید توسیع کی گئی اور متعدد نئے محلات تعمیر ہوئے۔”
ایک نوجوان سیاح نے سوال کیا:
"کیا شاہی خاندان کے تمام افراد یہیں رہتے تھے؟”
گائیڈ نے جواب دیا:
"تقریباً ہر اہم فرد کے لیے الگ محل یا رہائش گاہ تھی۔ بعض محلات انتظامی مقاصد کے لیے تھے اور بعض مخصوص شاہی شخصیات کے لیے مختص تھے۔”
ہم چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ایک بڑی پتھریلی سل عموداً نصب تھی۔ اس پر فارسی زبان میں ایک عبارت کندہ تھی:
"خلیج فارس، ہمیشہ خلیج فارس خواہد ماند۔”یعنی:”خلیج فارس ہمیشہ خلیج فارس رہے گی۔”
گائیڈ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"ایران میں یہ صرف ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ قومی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔”
گروہ میں شامل ایک عرب سیاح نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا:
"اور اگر کوئی اسے کسی اور نام سے پکارے؟”
گائیڈ نے چند لمحے توقف کیا، پھر کہا:
"پھر اس موضوع پر ایک لمبی بحث شروع ہو جائے گی۔”سب لوگ ہنس پڑے۔ کیونکہ عرب اسے ” خلیج عرب ” کہتے ہیں۔
میں بھی مسکرایا مگر چند لمحے اسی پتھر کے سامنے کھڑا رہا۔ بعد کے برسوں میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگیوں کو یاد کیا تو محسوس ہوا کہ بعض نام محض نام نہیں ہوتے۔ لوگ ان میں اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے زخم بھی محفوظ کر دیتے ہیں۔
گائیڈ نے آگے چلتے ہوئے بتایا:”پہلوی دور میں اس مقام کو شاہ وَند کمپلیکس کہا جاتا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد اس کا نام سعد آباد کمپلیکس رکھ دیا گیا اور بیشتر محلات کو عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا گیا۔”
ایک جرمن سیاح نے سوال کیا:
"کیا انقلاب کے بعد نئی قیادت نے بھی ان محلات کو اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا؟”
گائیڈ نے نفی میں سر ہلایا۔
"انقلابی قیادت نے عمومی طور پر انہیں شاہی اسراف اور استکبار کی علامت سمجھا۔ اسی لیے یہ عوام کے لیے کھول دیے گئے۔”
یہ جواب سن کر مجھے امام خمینی کی سادہ رہائش گاہ یاد آ گئی، جس کی تصاویر میں نے دیکھی تھیں۔ ایک طرف یہ وسیع مَحلات، سنگِ مرمر کے فرش، آراستہ باغات اور شاہی جاہ و جلال تھا، اور دوسری طرف ایک سادہ سا گھر جہاں ایک انقلاب کی قیادت نے اپنی زندگی گزاری۔ شاید تاریخ کا یہی دلچسپ پہلو ہے۔ کبھی مَحلات طاقت کی علامت ہوتے ہیں اور کبھی عجائب گھر بن جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات ایک سادہ سا کمرہ تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیتا ہے۔میں نے پلٹ کر ایک بار پھر درختوں کی قطاروں کو دیکھا۔ ہوا اب بھی انہی پتوں سے کھیل رہی تھی، جیسے اسے اس بات سے کوئی غرض نہ ہو کہ یہاں کبھی بادشاہ رہے تھے یا انقلابی۔
قصرِ سبز کی دیوڑھی
قصرِ سبز کے مرکزی حصے تک پہنچنے سے پہلے ایک شاہی دیوڑھی سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ محض ایک داخلی راستہ نہیں تھا بلکہ گویا اس دنیا کا دروازہ تھا جہاں کبھی شاہی خاندان کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی۔دیوڑھی محرابی انداز میں خم کھاتی ہوئی آگے بڑھتی تھی اور اس کے دونوں اطراف شاہی محافظوں کے کمرے بنے ہوئے تھے۔ ان کمروں کے دروازے اب خاموش تھے، لیکن ان کی خاموشی میں بھی ایک عجیب سی آہٹ باقی تھی۔ بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں آدمی صرف دیواریں نہیں دیکھتا بلکہ ان کے اندر سے گزرتا ہوا وقت بھی محسوس کرتا ہے۔میں چند لمحوں کے لیے رکا۔خیال آیا کہ کبھی انہی دروازوں کے پاس وردی پوش محافظ کھڑے ہوتے ہوں گے۔ شاید ان کے بُوٹوں کی آواز پتھروں سے ٹکراتی ہوگی، شاید شاہی گاڑیوں کی آمد پر اچانک فضا میں حرکت پیدا ہو جاتی ہوگی، اور شاید کسی اجنبی کے قریب آتے ہی سوال کیا جاتا ہوگا:
"آپ کون ہیں؟ اور کس مقصد سے آئے ہیں؟”
آج وہ سوال کرنے والے کہیں نہیں تھے، صرف سوالوں کی گونج باقی تھی۔سیَّاح اس دیوڑھی سے گزر کر چند سیڑھیاں نیچے اتر رہے تھے۔ میں بھی انہی کے ساتھ آہستہ آہستہ نیچے اترا۔ سامنے نظر اٹھائی تو ایک پرشکوہ عمارت پورے وقار کے ساتھ ایستادہ تھی۔اس کی سبز رنگ کی چھت دور ہی سے نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔ غالباً اسی نسبت سے اس کا نام "قصرِ سبز” رکھا گیا تھا۔ مزید قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ عمارت کی بیرونی دیواروں میں ہلکے سبز رنگ کا سنگِ مرمر بھی استعمال کیا گیا ہے، جس نے اس نسبت کو اور واضح کر دیا تھا۔
سیڑھیوں سے تقریباً سو فٹ آگے یہ محل واقع تھا لیکن اس تک پہنچنے کے لیے ایک سیدھی اور کشادہ رَوِش سے گزرنا پڑتا تھا۔اس شاہراہ نما راستے کے عین درمیان پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں۔ رنگ برنگے پھول اپنی پوری رعنائی کے ساتھ کِھلے ہوئے تھے۔ ان کے اطراف باڑ کی صورت میں لگائے گئے پودوں کو اس مہارت اور نفاست سے تراشا گیا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی مصور نے سبز رنگ سے باریک نقش و نگار بنائے ہوں۔
میں چلتے چلتے ایک لمحے کو رک گیا۔سفر میں بعض منظر ایسے آتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے انسان قدم روک لیتا ہے، حالانکہ اسے کہیں پہنچنے کی جلدی بھی ہوتی ہے۔محل کے چاروں اطراف سَرُو اور سفیدے کے درختوں کی قطاریں تھیں۔ یہ درخت صرف باغ کا حصہ نہیں تھے بلکہ اس عمارت کے محافظ معلوم ہوتے تھے۔ ان کی بلند قامت شاخیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں اور ہوا کے جھونکوں کے ساتھ مدھم سی سرگوشیاں پیدا کر رہی تھیں۔
میرے قریب کھڑے ایک سیاح نے گائیڈ سے پوچھا:
"یہ عمارت زیادہ ایرانی لگتی ہے یا یورپی؟”
گائیڈ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"اگر آپ اسے ایک سمت سے دیکھیں تو ایرانی محسوس ہوگی، اور دوسری سمت سے دیکھیں تو یورپی۔ یہی اس کی اصل خصوصیت ہے۔”
میں نے دوبارہ عمارت کی طرف دیکھا۔واقعی قصرِ سبز ایرانی اور یورپی طرزِ تعمیر کا ایک دلچسپ امتزاج تھا۔ مرکزی دروازے کے دونوں جانب بلند و بالا کھڑکیاں تھیں جو یورپی طرزِ تعمیر کی یاد دلاتی تھیں۔ ہر کھڑکی کے اوپر سنگ تراشی سے بنائے گئے تزئینی نقش و نگار اور مجسمے موجود تھے جنہوں نے عمارت کو ایک شاہانہ وقار بخش رکھا تھا۔
ایک اور سیاح نے سوال کیا:
"کیا یہ تمام سنگِ مرمر ایران ہی سے لایا گیا تھا؟”
گائیڈ نے جواب دیا:
"اس محل کی تعمیر میں ایرانی سنگ تراشوں اور معماروں کی مہارت کا بڑا حصہ شامل ہے۔ اسی لیے اسے سنگ کاری کا ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔”
میں قریب جا کر دیواروں کو دیکھنے لگا۔سنگِ مرمر کے بڑے بڑے قطعات اس مہارت سے جوڑے گئے تھے کہ کہیں کوئی جوڑ نمایاں نہیں تھا۔ میں نے بے اختیار ہاتھ بڑھا کر دیوار کو چھوا۔پتھر ٹھنڈا تھا۔صدیوں سے پتھر کی یہی خوبی ہے، وہ سورج کی گرمی بھی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے مگر اپنے مزاج میں ٹھنڈک برقرار رکھتا ہے۔دھوپ اس پر پڑتی تو سطح سے ایک نرم سی چمک ابھرتی تھی، گویا عمارت خود روشنی کو جذب کرکے واپس لوٹا رہی ہو۔چھت لوہے کی چادروں سے بنائی گئی تھی جبکہ اطراف میں لکڑی کا استعمال کیا گیا تھا۔ پتھر، لوہا اور لکڑی — تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ اس توازن سے جمع ہوئے تھے کہ عمارت میں مضبوطی بھی تھی اور نزاکت بھی۔
میں محل کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ درختوں کی چھاؤں، پھولوں کی مہک، سنگِ مرمر کی ٹھنڈی سطح اور خاموش فضا مل کر ایک ایسا منظر پیدا کر رہے تھے جس میں ماضی ابھی پوری طرح رخصت نہیں ہوا تھا۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ محل آج بھی اپنے مکینوں کی واپسی کا منتظر ہو، حالانکہ اس کے کمروں میں اب بادشاہ نہیں، صرف تاریخ رہتی تھی۔
قصر ِ سبز کا اندرون
قصرِ سبز بظاہر جتنا دلکش دکھائی دیتا ہے، اس کا اندرونی حصہ اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے۔ یہ عمارت دو منزلوں پر مشتمل ہے؛ ایک منزلِ ارضی اور دوسرا تہ خانہ۔ منزلِ ارضی میں رضا شاہ پہلوی کی رہائش گاہ اور شاہی دفتر واقع تھا جبکہ زیرِ زمین حصہ گودام اور ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
جوں ہی میں عمارت کے اندر داخل ہوا، دو چیزوں نے فوراً اپنی طرف متوجہ کیا: گچ کاری اور آئینہ سازی۔ایرانی معماروں نے سفید گچ سے دیواروں اور چھتوں پر ایسی نفیس نقش گری کی تھی کہ پہلی نظر میں یقین نہیں آتا تھا کہ یہ محض پلاسٹر کا کام ہے۔ پھول، بَیلیں، محرابیں اور مختلف ہِندسی نقش اس مہارت سے تراشے گئے تھے کہ پتھر کا گمان ہونے لگتا تھا۔لیکن اصل حیرت آئینہ کاری تھی۔دیواروں اور چھتوں پر شیشوں کے بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس ترتیب سے جڑے ہوئے تھے کہ روشنی ان سے ٹکرا کر ہر سمت بکھر جاتی تھی۔
گائیڈ ہماری طرف مڑا اور بولا:
"قصرِ سبز کی آئینہ کاری ایران کے بہترین نمونوں میں شمار کی جاتی ہے۔”
میں نے بے اختیار کہا:
"یہ منظر تو کسی حد تک مغل دَور کے شیش محل کی یاد دلاتا ہے۔”
اس نے سر ہلایا۔
"جی ہاں، لیکن یہاں ایرانی روایت کے ساتھ یورپی ذوقِ تعمیر بھی شامل ہو گیا ہے۔”
چند قدم آگے ایک وسیع و عریض آئینہ ہال تھا۔اس میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے روشنی نے اپنے لیے مستقل گھر بنا لیا ہو۔چھت اور دیواریں سفید اور سنہری آئینوں سے مزین تھیں۔ جہاں بھی نظر جاتی، روشنی کے ننھے ننھے ستارے جھلملا اٹھتے۔ایک لمحے کے لیے مجھے خیال آیا کہ اگر یہاں ایک شمع روشن کر دی جائے تو شاید اس کی روشنی سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر پورے کمرے میں پھیل جائے۔یہ ہال شاہی تقریبات اور بین الاقوامی مہمانوں کے استقبال کے لیے مخصوص تھا۔
ایک یورپی سیاح نے ہال کے وسط میں کھڑے ہو کر سوال کیا:
"کیا یہاں سفارتی ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں؟”
گائیڈ نے جواب دیا:
"اہم غیر ملکی شخصیات اور خصوصی مہمانوں کا استقبال اکثر اسی ہال میں کیا جاتا تھا۔”
کمرے میں فرانسیسی ساخت کی بُھورے رنگ کی کرسیاں اور صوفے ایک خاص ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ ان کی نشستوں اور پشتوں پر وقت کے گزرنے کے باوجود شاہی نزاکت باقی تھی۔ فرش پر اعلیٰ درجے کے فارسی قالین بچھے ہوئے تھے جن کے رنگ اور نقش آئینہ کاری کی چمک کے ساتھ مل کر ایک دلکش منظر پیدا کر رہے تھے۔
آئینہ ہال سے نکل کر ہم ایک اور کمرے میں داخل ہوئے۔
گائیڈ نے بتایا:
"یہ رضا شاہ اول اور بعد میں محمد رضا شاہ پہلوی کا دفتر تھا۔”
یہ کمرہ نسبتاً سادہ مگر وقار سے بھرپور تھا۔ قدِ آدم کھڑکیاں باغات کی طرف کھلتی تھیں اور ان پر آسمانی نیلے رنگ کے پردے لٹک رہے تھے۔میں چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔یہی وہ جگہ تھی جہاں کبھی فیصلے ہوتے ہوں گے۔ فرمان جاری ہوتے ہوں گے اور شاید بعض اوقات ایسے فیصلے بھی کیے گئے ہوں گے جن کے اثرات ان دیواروں سے نکل کر پورے ایران میں پھیل جاتے ہوں گے۔
اس کے بعد ہم آخری کمرے میں پہنچے جو شاہی ضیافتوں کے لیے مخصوص ڈائننگ ہال تھا۔درمیان میں ایک طویل میز رکھی تھی۔ یورپی طرز کے نفیس برتن سجے ہوئے تھے۔ میز کے گرد رکھی کرسیاں خاموش کھڑی تھیں، گویا کسی ضیافت کے مہمانوں کا انتظار کر رہی ہوں۔کمرے کے ایک جانب آتش دان بنا ہوا تھا۔میں نے اسے دیکھا تو خیال آیا کہ شمالی تہران کی سرد راتوں میں جب باہر برف باری ہو رہی ہوگی تو اسی آتش دان میں جلتی ہوئی آگ کی حرارت اس شاہی خاندان کو سردی سے محفوظ رکھتی ہوگی۔
قصرِ سبز کی سیر مکمل ہوئی تو احساس ہوا کہ یہ محض ایک شاہی رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک عہد کی یادگار ہے۔یہاں سنگِ مرمر، آئینے، قالین، فانوس اور شاہانہ آرائش اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان سب کے درمیان وقت کی بے ثباتی کا سبق بھی چھپا ہوا ہے۔جن کمروں میں کبھی حکمران بستے تھے، آج وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح گھوم رہے ہیں۔
شمالی تہران میں ایک اور مشہور شاہی کامپلیکس بھی موجود ہے جسے Niavaran Complex کہا جاتا ہے اور یہ قصرِ سعد آباد سے تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔مزید مقامات دیکھنے کی خواہش موجود تھی، لیکن سیاح کی خواہشات ہمیشہ اس کے وقت اور جیب سے بڑی ہوتی ہیں۔
واپسی پر میں ایران ایئر کے دفتر اپنا ہوائی جہاز کا ٹکٹ کینسل کرانے کے لیے جا پہنچا تاکہ شمالی ایران کی سیر کے پروگرام کو یقینی بنایا جاسکے۔کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ایرانی دوشیزہ نے کمپیوٹر اسکرین پر چند لمحے نظریں جمائے رکھیں، پھر ایک ایسی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا جس میں ہمدردی تو تھی، اختیار نہیں تھا۔
اس نے بتایا:”ٹکٹ منسوخ تو ہو سکتی ہے، لیکن رقم واپس نہیں ملے گی۔”
یوں بُحیرۂ کیسپین کی لہریں ایک لمحے میں کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے کہیں گم ہو گئیں۔مسافر بعض اوقات منزل اپنی مرضی سے نہیں چنتا، بلکہ جیب میں رکھا ہوا ایک ٹکٹ اس کے لیے راستہ متعین کر دیتا ہے۔اگلی صبح میری پرواز مَشہد کے لیے روانہ ہونے والی تھی، اور سفر کا رُخ دوبارہ مشرق کی طرف مڑ چکا تھا۔










