سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
قصرِ سبز کی سیر نے دن بھر مجھے ایک ایسے زمانے میں بھٹکائے رکھا تھا جو اب تاریخ کی کتابوں اور عجائب گھروں میں محفوظ ہو چکا ہے۔ شام ڈھلی تو ہوٹل واپس آ گیا اور اگلی صبح مشہد روانگی کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ میری پرواز مہرآباد ہوائی اڈے سے تھی، اس لیے صبح تقریباً دس بجے سامان سمیٹ کر نیچے استقبالیہ پر آ گیا۔ ہوٹل کے کاؤنٹر پر وہی نوجوان موجود تھا جو گزشتہ روز بھی مسافروں کی آمد و رفت میں مصروف دکھائی دیا تھا۔ چابی اس کے حوالے کرتے ہوئے میں نے پوچھا:
"راستے میں کوئی ایسی جگہ آتی ہے جسے دیکھ کر تہران یاد رہ جائے؟”
اس نے چند لمحے سوچا، پھر مسکرا کر بولا:
"اگر آپ مہرآباد جا رہے ہیں تو ایک چیز ضرور دیکھیں گے۔ برجِ آزادی۔ تہران کا دروازہ۔”
"دروازہ؟”
"جی، شہر کا استقبال کرنے والا دروازہ۔”
میں نے اس کی بات ذہن میں محفوظ کر لی اور ہوٹل کے باہر آ کر ایک ٹیکسی کو ہاتھ دیا۔ گاڑی آہستہ سے میرے قریب آ کر رکی۔ سامان ویسے بھی زیادہ نہ تھا؛ ایک بیگ اور چند ضروری چیزیں۔ انہیں پچھلی نشست پر رکھا اور خود آگے ڈرائیور کے ساتھ جا بیٹھا۔
ڈرائیور کوئی پچیس چھبیس برس کا نوجوان تھا۔ صاف ستھرا لباس، روشن آنکھیں اور چہرے پر وہ اعتماد جو عموماً پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا ہے۔
گاڑی چلتے ہی اس نے روانی سے انگریزی میں پوچھا:
"مہرآباد ایئرپورٹ؟”
"جی ہاں۔”
"آپ سیاح ہیں؟”
"پاکستان سے آیا ہوں۔”
وہ مسکرایا۔”پھر تو ایران آپ کو بہت کچھ سنانے والا ہے۔”
یہ جملہ اس نے اِس انداز سے کہا کہ مجھے فوراً محسوس ہوا، یہ محض ٹیکسی ڈرائیور نہیں بلکہ گفتگو کا شوقین آدمی ہے۔
تہران کی شاہراہیں اس وقت پوری طرح جاگ چکی تھیں۔ گاڑیوں کا سیلاب اپنے اپنے رخ پر رواں دواں تھا۔ کبھی کوئی سفید پیکان آگے نکل جاتی، کبھی سرخ رنگ کی کوئی پرانی گاڑی برابر آ لگتی۔ جولائی کی دھوپ سڑک پر بچھی ہوئی تھی اور دور البرز کے پہاڑ ہلکی دھند میں لپٹے دکھائی دیتے تھے۔
چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اُفق پر ایک عجیب سا ہیولہ نمودار ہوا۔ پہلے پہل یوں محسوس ہوا جیسے کسی قدیم سلطنت کا دروازہ ہو جو جدید شاہراہ کے بیچوں بیچ آ کھڑا ہوا ہو۔ جوں جوں ہم قریب پہنچتے گئے، اس کی محرابیں واضح ہوتی گئیں۔
میں نے ڈرائیور سے پوچھا:
"یہی برجِ آزادی ہے؟”
اس نے شیشے سے باہر اشارہ کیا۔
"ہاں، تہران کی سب سے پہچانی جانے والی نشانی۔”
ٹیکسی سیدھی اسی سمت بڑھتی رہی۔ آج جو شخص برجِ آزادی کی تصاویر دیکھے، اسے شاید یقین نہ آئے کہ کبھی شاہراہ اس کی عظیم محراب کے عین نیچے سے گزرتی تھی۔ اب تو اس کے گرد وسیع سبزہ زار اور کشادہ میدان بنا دیا گیا ہے اور ٹریفک کافی فاصلے سے گردش کرتی ہے، لیکن جولائی ، 2001ء میں منظر مختلف تھا۔ ہماری گاڑی بھی دوسری بے شمار گاڑیوں کے ساتھ اس محراب کی طرف بڑھ رہی تھی جیسے کسی شہر کے دروازے میں داخل ہو رہی ہو۔مجھے اچانک ہوٹل کے نوجوان کی بات یاد آگئی:
"تہران کا دروازہ۔”
واقعی، یہ صرف ایک یادگار نہیں تھی۔ اسے اسی تصور کے تحت تعمیر کیا گیا تھا کہ مہرآباد ہوائی اڈے سے آنے والا مسافر شہر میں داخل ہوتے ہوئے سب سے پہلے اسی محراب کا سامنا کرے۔ گویا تہران اپنی بانہیں پھیلا کر آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ ٹیکسی جب اس کے بالکل قریب پہنچی تو میں نے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا۔ سفید سنگِ مرمر سے بنی محرابیں ایک دوسرے میں اس طرح پیوست تھیں کہ ان میں قدیم ساسانی طرزِ تعمیر کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی اور جدید دور کی جرأتِ اظہار بھی۔ ماضی اور حال شاید اسی مقام پر آ کر ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے تھے۔
ڈرائیور پورے راستے روانی سے انگریزی بولتا رہا تھا اور اب تک ہماری کئی موضوعات پر دلچسپ گفتگو ہو چکی تھی۔ میں نے برجِ آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا:
"اس برج کے بارے میں کچھ بتاؤ گے؟”اس کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔
"ضرور۔ تہران آنے والا ہر مسافر اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔”
گاڑی شاہراہ پر رواں دواں تھی اور ہماری گفتگو کا رخ اب برجِ آزادی کی طرف مڑ گیا۔
"یہ کب تعمیر ہوا تھا؟”میں نے پوچھا۔
"افتتاح سولہ اکتوبر 1971ء کو ہوا تھا، لیکن عام لوگوں کے لیے اسے جنوری 1972ء میں کھولا گیا۔ تب سے یہ تہران کی شناخت بن گیا ہے۔” اس نے جواب دیا۔
میں نے دوبارہ برج کی طرف دیکھا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑا ہوتا جا رہا تھا۔
"اس کا ڈیزائن کس نے بنایاتھا؟”
"حُسین امانت نے۔”
اس نے فخر سے نام لیا، جیسے کسی قومی ہیرو کا ذکر کر رہا ہو۔
"وہ اس وقت بہت نوجوان تھے۔ 1966ء میں ایک قومی مقابلہ ہوا تھا۔ پورے ایران سے ڈیزائن آئے لیکن حسین امانت کا خاکہ منتخب ہوا۔”
"اتنی بڑی ذمہ داری ایک نوجوان کو کیسے مل گئی؟”
وہ ہنس پڑا۔”شاید اس لیے کہ بعض اوقات نوجوانی ہی سب سے بڑی قابلیت ہوتی ہے۔”پھر اس نے مزید بتایا:
"امانت چاہتے تھے کہ اس منصوبے میں برطانوی انجینئرنگ کمپنی Arup بھی شامل ہو کیونکہ وہ سڈنی اوپرا ہاؤس جیسے منصوبوں سے متاثر تھے۔ کچھ ایرانی انجینئروں نے مخالفت کی لیکن آخرکار شاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ فرح نے ان کی حمایت کردی۔”
"یعنی معمار کو مکمل آزادی ملی؟”
"تقریباً۔ شاہ نے واضح ہدایت دی تھی کہ تخلیقی اور فنی فیصلے معمار خود کرے گا۔”
میں نے برج کی محرابوں کو غور سے دیکھا۔
"اس کے ڈیزائن میں خاص بات کیا ہے؟”
ڈرائیور نے رفتار ذرا کم کی، گویا جواب دیتے وقت وہ خود بھی اس عمارت کو دوبارہ دیکھنا چاہتا ہو۔
"نیچے والی بڑی محراب ساسانی دور کی یاد دلاتی ہے۔ اوپر جو ٹوٹی ہوئی محراب دکھائی دیتی ہے وہ اسلامی اور قرونِ وسطیٰ کے طرزِ تعمیر کی نمائندہ ہے اور ان دونوں کے درمیان جو سنگی جال ہے، وہ ایران کے مختلف ادوار کو آپس میں جوڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔”
مجھے اس کی بات پسند آئی۔گویا ایک عمارت نہیں، پورا ایرانی تاریخ نامہ پتھر میں ڈھل گیا تھا۔
"اسے کیوں بنایا گیا تھا؟”
"قدیم فارسی سلطنت کے ڈھائی ہزار سالہ جشن کی یاد میں۔”اس نے جواب دیا۔
"پہلے اس کا نام کیا تھا؟”
"شاہ یاد برج۔”
پھر مسکرا کر بولا:
"اور جانتے ہیں، ابتدا میں تو اسے دروازۂ کوروش (The Gate of Cyrus) کہنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔”
"پھر آزادی کب بنا؟”
"1979ء کے انقلاب کے بعد۔”
اس دوران ہم برج کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ سفید سنگِ مرمر دھوپ میں ہلکا سا چمک رہا تھا۔ڈرائیور نے خود ہی کہنا شروع کیا:
"یہ پورا ڈھانچہ اصفہان کے سفید سنگِ مرمر کے تقریباً آٹھ ہزار تراشیدہ ٹکڑوں سے بنایا گیا ہے۔”
"آٹھ ہزار؟”
"جی۔ اور ان پتھروں کے انتخاب کی ذمہ داری قنبر رحیمی کے پاس تھی جنہیں لوگ سلطانِ سنگِ ایران کہتے تھے۔”
اس نے ایک لمحے کے لیے برج کی طرف دیکھا اور پھر بولا:
"ایک دلچسپ بات اور بھی ہے۔”
"وہ کیا؟”
"اُس زمانے میں کمپیوٹر ابھی نئی چیز تھے۔ اس عمارت کی پیچیدہ سطحوں کا حساب لگانے کے لیے کمپیوٹر استعمال کیے گئے تھے۔”
میں نے بے اختیار کہا:
"یعنی یہ عمارت اپنے وقت سے آگے تھی۔”
"بالکل۔”
پھر اس نے ایک اور دلچسپ نکتہ بیان کیا۔
"آپ کو برج زیادہ اونچا محسوس ہو رہا ہے؟”
"ہاں۔”
"حالانکہ اس کی اونچائی صرف پینتالیس میٹر یعنی ایک سو اڑتالیس فٹ ہے۔”
"پھر ایسا کیوں لگتا ہے؟”
وہ مسکرایا۔
"کیونکہ معمار نے زمین کو ڈھلوانی انداز میں ترتیب دیا۔ جب آپ ہوائی اڈے کی سمت سے آتے ہیں تو پہلے نیچے اترتے ہیں اور پھر عمارت کی طرف بڑھتے ہوئے دوبارہ اوپر چڑھتے ہیں۔ اسی لیے برج اصل اونچائی سے زیادہ بلند محسوس ہوتا ہے۔”
واقعتاً، بعض اوقات معمار اینٹوں اور پتھروں سے زیادہ انسانی نگاہوں کو تعمیر کرتے ہیں۔
"اور اس کے اندر کیا ہے؟”میں نے پوچھا۔
"زیرِ زمین آزادی میوزیم، نمائش گاہیں اور ایک سمعی و بصری تھیٹر۔”
اس نے بتایا کہ وہاں شوش، شوش، جس کی خاک میں ایران کی چند قدیم ترین تہذیبوں کی یادیں دفن ہیں، جو قدیم ایلامی اور بعد ازاں ہخامنشی سلطنت کا ایک عظیم تاریخی دارالحکومت رہا تھا، سے ملنے والی مٹی اور سنگی تختیاں، میخی رسم الخط کی تحریریں، تاریخی ظروف، نایاب قرآنی مخطوطات، ایرانی منی ایچر مصوری کے نمونے اور فنِ عکاسی سے متعلق قدیم آلات رکھے گئے تھے۔ انقلاب سے پہلے وہاں سلنڈرِ کوروش کی نقل بھی نمائش کے لیے رکھی جاتی تھی۔ سلنڈرِ کوروش (Cyrus Cylinder) ایک قدیم مٹی کا بیلن نما نوشتہ ہے جو ہخامنشی سلطنت کے بانی بادشاہ کوروشِ اعظم (Cyrus the Great) کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ 539 قبل مسیح میں بابل کی فتح کے بعد تیار کیا گیا تھا اور 1879ء میں عراق کے قدیم شہر بابل کے کھنڈرات سے دریافت ہوا۔ اس سلنڈر پر اکدی زبان اور میخی رسم الخط میں ایک شاہی فرمان تحریر ہے۔ اس میں کوروش نے بابل کی فتح، وہاں کے لوگوں کے ساتھ اپنے طرزِ حکومت، مذہبی رواداری اور مختلف اقوام کے معبودوں اور مقدس اشیا کو ان کے آبائی علاقوں میں واپس بھیجنے کا ذکر کیا ہے۔ ایرانی قوم پرست اور بعض مورخین اسے دنیا کے اولین "منشورِ حقوقِ انسانی” کے طور پر پیش کرتے ہیں، اگرچہ بہت سے جدید ماہرینِ تاریخ اسے بنیادی طور پر ایک شاہی سیاسی اعلامیہ یا فتح نامہ قرار دیتے ہیں، جیسا کہ قدیم مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے بادشاہ بھی اپنی فتوحات کے بعد جاری کیا کرتے تھے۔
"اور تھیٹر؟” میں نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے دریافت کیا۔
"وہ اپنے زمانے کا عجوبہ تھا۔”
اس نے جواب دیا۔
"بارہ ہزار میٹر فلم، بیس ہزار رنگین سلائیڈز، درجنوں پروجیکٹر اور پانچ کمپیوٹروں کے ذریعے پورا پروگرام چلایا جاتا تھا۔ 70کی دہائی میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔”
میں نے دل میں سوچا کہ شاید اسی لیے یہ یادگار صرف ایک برج نہیں بلکہ ایک عہد کا خواب تھی۔ اسی دوران ہماری گاڑی برجِ آزادی کی عظیم محراب کے نیچے سے گزری۔ ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی یادگار کے نیچے سے نہیں بلکہ تاریخ کے ایک باب کے اندر سے گزر رہا ہوں۔
چند سیکنڈ بعد ہم دوسری طرف نکل آئے لیکن وہ منظر دل میں ٹھہر گیا۔ میں نے مڑ کر پچھلی کھڑکی سے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ سفید محراب دھیرے دھیرے دور ہوتی جا رہی تھی جبکہ اس کے درمیان سے ٹریفک اپنی معمول کی رفتار سے گزر رہی تھی۔
ہم دونوں گفتگو میں اس قدر محو ہو گئے کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ اچانک ڈرائیور نے سامنے اشارہ کیا۔
"مہرآباد ایئرپورٹ۔”
میں چونک کر سیدھا بیٹھ گیا۔واقعی ہم پہنچ چکے تھے۔سامان اٹھایا، کرایہ ادا کیا اور اس نوجوان سے مصافحہ کیا۔
"تم نے راستہ مختصر کر دیا۔”
وہ ہنسا۔
"نہیں، صرف کہانی لمبی کر دی۔”
میں بھی مسکرا دیا۔
بورڈنگ ہال میں کچھ دیر انتظار کے بعد مشہد جانے والی پرواز کا اعلان ہوا۔ یہ روسی ساخت کا ایک نسبتاً چھوٹا جہاز تھا۔ میں اپنی نشست پر جا بیٹھا اور کھڑکی کے ساتھ جگہ سنبھال لی۔
جہاز نے فضا میں بلند ہونا شروع کیا تو تہران آہستہ آہستہ نیچے سکڑنے لگا۔ کچھ دیر بعد ایک میزبان نے ٹرے لا کر رکھی۔ اس میں قہوہ، چائے، بادام، پستے اور چلغوزے تھے۔ ایرانی مہمان نوازی کا یہ ایک اور روپ تھا۔ مختصر سا سفر تھا لیکن اس میں بھی ایک گھریلو اپنائیت شامل تھی۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔نیچے خراسانِ رضوی کے خشک اور سنگلاخ پہاڑ پھیلے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں زمین پر گہرے بھورے رنگ کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے۔ ان پہاڑوں میں وہ سرسبزی نہیں تھی جو شمالی ایران کے جنگلات میں دیکھی تھی، لیکن ان کی خاموشی میں ایک الگ وقار تھا۔ جہاز مشرق کی سمت بڑھتا جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ سفر کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ ہر نئی منزل سے پہلے ایک نئی کہانی ضرور مل جاتی ہے۔ تہران نے مجھے الوداع کہتے ہوئے برجِ آزادی کی کہانی سنائی تھی، اور اب مشہد اپنی داستان سنانے کے لیے میرا انتظار کر رہا تھا۔









