محمد نثار خان
ترکیہ کی عالمی سطح پر مقبول تاریخی سیریز ’سلطان مہمت فاتح‘ اس وقت اپنے تیسرے سیزن کے ساتھ ناظرین کو سحر زدہ کیے ہوئے ہے، جہاں قسطنطنیہ کی عظیم فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی حدود میں توسیع کے کٹھن مراحل دکھائے جارہے ہیں۔
ڈرامائی تشکیل کے اعتبار سے سیریز کی حالیہ اقساط والاچیا مہم کا احاطہ کر رہی ہیں جو تاریخی طور پر 1462 میں پیش آئی تھی، تاہم یہاں پروڈکشن نے تاریخی ترتیب میں کچھ تبدیلیاں کرتے ہوئے بوسنیا مہم کو پہلے ہی دکھا دیا ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سلطان محمد فاتح کی 1465 تک کی بیشتر بڑی فتوحات پردہ سیمیں پر پیش کی جاچکی ہیں، لیکن کہانی کا اصل موڑ اب شروع ہوتا ہے جہاں کئی اہم معرکے اور کرداروں کے انجام ابھی باقی ہیں۔
تاریخی حقائق کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو 1465 کے بعد سلطان کی زندگی فتوحات اور مہمات سے بھری پڑی ہے، جن میں کرمانیوں کی بغاوت کا خاتمہ اور البانیہ کے مشہور رہنما سکندربیگ کے خلاف طویل جدوجہد شامل ہے، جس کا اختتام 1468 میں سکندربیگ کی موت پر ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
کورلوس اورحان میں یغیت اور ڈیفنی: عثمانی ریاست کے خلاف خفیہ سازشوں کی کہانی
بھارتی فلم ’دھُرندھر‘ کا جواب ’میرا لیاری‘، فٹ بال کھیلتی لڑکیوں کی کہانی
اس کے بعد جمہوریہ وینس کے ساتھ ایک طویل جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس میں 1470 میں نیگروپونٹے پر قبضے نے عثمانی بحری طاقت کا سکہ جما دیا۔ تاریخ کا ایک اور اہم باب 1473 کی ’اوٹلوکبیلی‘ کی مشہور جنگ ہے، جہاں سلطان محمد نے عزون حسن اور آق قیوونلو ریاست کو شکست دے کر مشرقی اناطولیہ میں عثمانی غلبے کو حتمی شکل دی۔
اس کے فوراً بعد مالڈویا کی مہمات، واسلوئی کی مشکل جنگ اور پھر والیہ البا میں سلطان کی ذاتی قیادت میں حاصل ہونے والی فتح تاریخ کے اہم صفحات ہیں۔ اسی دوران کریمیا کی مہم نے بحیرہ اسود کو عثمانیوں کے لیے ایک محفوظ جھیل بنا دیا تھا، جبکہ سلطان کے آخری ایام میں روڈس کا محاصرہ اور جنوبی اٹلی کے شہر ’اوٹرانٹو‘ پر قبضہ وہ واقعات ہیں جنہوں نے پورے یورپ کو لرزا دیا تھا۔
سیریز کے موجودہ کرداروں کے انجام کے حوالے سے بھی کئی سوالات گردش کررہے ہیں۔ معتبر تاریخی ذرائع کے مطابق زگانوس پاشا کا انتقال والاچیا مہم کے چند سال بعد تقریباً 1464 کے آس پاس ہوا تھا، تاہم ڈرامائی اثر پیدا کرنے کے لیے سیریز میں ان کی موت کو طاعون سے جوڑا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب شہزادہ مصطفیٰ کی 1474 میں محض 24 سال کی عمر میں موت وہ المناک واقعہ ہے جس نے سلطان کو شدید غصے اور رنج میں مبتلا کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں محمود پاشا کی برطرفی اور بعد ازاں پھانسی عمل میں آئی۔ اگر سیزن 3 کا اختتام 1476 میں ولاد ڈریکولا کی موت پر ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سیریز ایک ہی سیزن کے اندر تقریباً 12 سال کا بڑا ٹائم جمپ کرے گی۔
اس ممکنہ ٹائم جمپ کے نتیجے میں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ زگانوس پاشا، محمود پاشا اور شہزادہ مصطفیٰ جیسے اہم کرداروں کی موت کے واقعات کو شاید سرسری دکھایا جائے یا بالکل ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ سیزن 4 کی تصدیق کے ساتھ ہی شائقین میں یہ تجسس بڑھ گیا ہے کہ اب کہانی کس سال سے شروع ہوگی اور کیا ان 12 سالوں کے دوران ہونے والی بڑی جنگوں کو اسکرپٹ کا حصہ بنایا جائے گا یا نہیں۔
اگر سیزن 4 کی شروعات 1476 کے بعد سے ہوتی ہے تو اس کا مرکز اوٹلوکبیلی کی فتح کا مابعد منظرنامہ اور اٹلی پر حملے کی وہ عظیم تیاری ہو سکتی ہے جو سلطان کی وفات کی وجہ سے ادھوری رہ گئی تھی۔ بہرحال، سلطان محمد فاتح کی زندگی کا یہ آخری عشرہ فتوحات اور قربانیوں کی ایسی داستان ہے جسے دیکھنے کے لیے مداح بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔










