محمد نثار خان
تاریخی ترک ڈرامہ سیریز ’ کورلوس اورحان ‘ کے حالیہ سیزن (جسے بعض ناظرین اورہان غازی کے دور کے آغاز کی مناسبت سے یاد کرتے ہیں) میں یغیت اور ڈیفنی دو ایسے منفی کردار بن کر ابھرے ہیں جنہوں نے اپنی چالاکیوں سے عثمانی ریاست کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں۔ ان دونوں کرداروں کی خاصیت ان کا میدانِ جنگ میں سامنے آنا نہیں، بلکہ پسِ پردہ رہ کر وار کرنا ہے۔
تاریخی ڈراموں میں جہاں بہادری اور شمشیر زنی کو اہمیت دی جاتی ہے، وہیں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو تلوار کے بجائے دماغ اور دھوکے کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ یغیت اور ڈیفنی اسی قبیل کے دو مہرے ہیں جنہوں نے اپنی فطرت کے مطابق عثمانیوں کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی۔
یغیت کا کردار: خفیہ دشمن اور اندرونی خطرہ
یغیت کا کردار ایک ایسے شخص کی عکاسی کرتا ہے جس میں سامنے سے لڑنے کی ہمت نہیں، اس لیے وہ ایک چوہے کی مانند اندھیروں اور بلوں میں چھپ کر وار کرنے کا ماہر ہے۔
خفیہ چالیں: یغیت کی سب سے بڑی طاقت اس کا پوشیدہ ہونا ہے۔ وہ اپنوں کے درمیان رہ کر دشمن کا کام کرتا ہے اور ایسی جگہوں پر گھاؤ لگاتا ہے جہاں سے عثمانیوں کو حملے کی توقع نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے
” خوش قسمت ہوں کہ مجھے’ سلجان خاتون ‘ کا کردار دیا گیا “
ارطغرل غازی/ دریلش ارطغرل، کیسے گیم چینجر سیریل ثابت ہوا ؟
کیا ارطغرل شاہکار ہے یا محض ایک پروپیگنڈا؟
جس طرح ایک چوہا آہٹ پاتے ہی بل میں گھس جاتا ہے، یغیت بھی خطرہ محسوس ہوتے ہی منظرِ عام سے غائب ہو جاتا ہے۔ اس کا وار بزدلانہ ہوتا ہے، زہر دینا، جاسوسی کرنا یا سوتے ہوئے وار کرنا اس کے پسندیدہ طریقے ہیں۔
وہ وفاداری کا لبادہ اوڑھ کر غداری کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اسے گھر کے بھید معلوم ہوتے ہیں۔
ڈیفنی کا کردار: ذہین مگر مکار سازشی عورت
دوسری طرف ڈیفنی کا کردار ایک لومڑی کی طرح ہے جو اپنی ذہانت، مکاری اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔ اگر یغیت اندھیروں کا مسافر ہے، تو ڈیفنی دن کے اجالے میں مسکراہٹیں بکھیر کر جال بنتی ہے۔
ذہانت کا غلط استعمال: ڈیفنی کا دماغ بجلی کی طرح چلتا ہے۔ وہ حالات کو بھانپنے اور لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے میں ماہر ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کس کو کس طرح استعمال کرنا ہے اور کسے اپنے سحر میں گرفتار کرنا ہے۔
لومڑی کی طرح وہ دشمن کو تھکاتی ہے اور پھر اپنی چالاکی سے اسے ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں وہ خود ہی پھنس جاتا ہے۔ اس کے وار جسمانی کم اور نفسیاتی زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ رشتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور جذبات سے کھیلنے میں کمال رکھتی ہے۔
بے رحم مصلحت: اس کے لیے کوئی رشتہ یا وفاداری مقدم نہیں، اسے صرف اپنے مقصد سے غرض ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر حد پار کرسکتی ہے۔
یغیت اور ڈیفنی: عثمانی سلطنت کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ
یغیت اور ڈیفنی کے اتحاد یا ان کے انفرادی کرداروں نے ثابت کیا کہ ریاست کو صرف بیرونی قلعوں سے خطرہ نہیں ہوتا، بلکہ یغیت جیسے بزدلوں اور ڈیفنی جیسی مکار لومڑیوں سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یغیت کا خوف اسے چھپ کر وار کرنے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ ڈیفنی کا تکبر اور مکاری اسے سازشیں بننے پر اکساتی ہے۔ یہ دونوں کردار ’کورلس اورحان‘ کی کہانی میں وہ زہریلے کانٹے ہیں جو بار بار ہیرو کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور ناظرین کے دلوں میں اپنے لیے نفرت پیدا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
حاصل یہ کہ اگر یغیت ایک موزی چوہا ہے جو جڑوں کو کاٹتا ہے، تو ڈیفنی وہ لومڑی ہے جو شکاری کو ہی شکار کرنے کا فن جانتی ہے۔ ان دونوں کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے، کیونکہ سچائی اور بہادری کے سامنے مکر و فریب کی دیوار ریت کی طرح ڈھیر ہو جاتی ہے۔










