کرپٹو کرنسی اور نقدی نوٹ

·

ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کی اس تصویر کو غور سے ‏دیکھیے۔ اس پر عین رقم کے نیچے لکھی عبارت پڑھیے۔

حامل ِ ہٰذا  کو مطالبہ پر ادا کرے گا

حکومتِ پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا۔

گورنر، بینک دولت پاکستان

اب آئیے ۔آمدم برسرمطلب۔ کیا آپ کو معلوم اس عبارت کی کیا ‏عملی معنویت ہے اور اس جملے’ حامل ِ ہٰذا  کو مطالبہ پر ادا کرے گا‘ کا کیا ‏مطلب ہے ؟

جی ،  کیا کہا۔ جانتے  ہیں۔ نہیں جانتے ۔ کسی سے کبھی اس  کا مطلب ‏پوچھا۔ نہیں پوچھا۔

تو جانیے ۔حکومتِ پاکستان کی ضمانت پر بینک دولت پاکستان کوئی ‏بھی کرنسی نوٹ جاری کرتا ہے تو اتنی ہی مالیت کا سونا اپنے پاس  ضمانت کے ‏طور پررکھتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک ہزار روپے کا نوٹ ہے اور آپ ‏چاہتے ہیں کہ اس کے بدل میں بینک دولت پاکستان سے سونا لے لیں تو آپ ‏ریاستی بینک کی کسی برانچ میں جائیں۔ وہاں جا کر نوٹ پیش کریں اور عملہ سے ‏کہیں کہ وہ اس کے بدل میں جتنا سونا آتا ہے، وہ دے دیں۔ یہ ایک مثال ‏ہے، ورنہ ایک ہزار روپے میں آپ کو سونا بس سونگھایا ہی جائے گا۔ چلیں، ‏ہم رقم کو ایک لاکھ روپے کر لیتے ہیں اور پانچ ہزار کے بیس کرنسی نوٹ لے ‏کر بینک دولت پاکستان کی اسلام آباد برانچ میں چلے جاتے ہیں۔ وہاں ہم عملہ ‏سے کہتے ہیں کہ اس کے بدل میں سونا دے دیجیے۔ وہ ایک لاکھ روپے کے ‏بدل میں تین یا چار گرام جتنا بھی سونا بنتا ہے،ہمیں دینے کا پابند ہوگا کیونکہ ‏اس کی ضامن حکومت ہے اور زرضمانت کے طور پر سونا رکھے بغیر کرنسی ‏نوٹ چھاپ سکتی  ہے اور نہ چھاپے جاتے ہیں۔

اگر کوئی حکومت اس بنیادی شرط کو پورا نہیں کرتی اور دھڑا دھڑ اپنی ‏مالی ضروریات کو پورا کرنے کے  لیے کروڑوں مالیت کے کرنسی نوٹ چھاپ ‏دیتی ہے تو اس سے  ملک میں افراطِ زر پیدا ہوجائے گا، روپے کی قدر گھٹ ‏جائے گی اور اس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیاء سے لے کر پُرتعیش اشیاء ‏تک ہرایک قیمت  پر مرتب ہوں گے۔ ان کی قیمتوں میں ان دیکھا اضافہ ‏ہوجائے گا اور روپے کی قدر گھٹ جائے گی۔

اگرکرنسی نوٹ چھاپنے کا اصول آپ کے ذہن میں واضح ہوگیا ہے تو ‏اب آئیے کرپٹو کرنسی کی طرف ۔ حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب کے ‏کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دینے سے متعلق حالیہ فتویٰ کی بنیاد یہی کرنسی ‏چھاپنے کا اصول  بھی ہے۔ ہم یہاں قدیم وجدید فقہاء کے مال  متقوم  سے  ‏متعلق  علمی مباحث میں نہیں پڑتے اور چند ایک اصولی باتوں کی وضاحت  ‏سادہ الفاظ و اصطلاحوں میں کردیتے ہیں ۔ یہ بات رکھیں  کسی ملک کے جاری ‏کردہ کرنسی نوٹ کی طرح کرپٹو کرنسی کے  لین  دین  اور اجراء میں:‏

‏1۔ کسی حکومت یا ریاست کی ضمانت نہیں۔

‏2۔یہ کوئی حقیقی مال یا وجود نہیں رکھتی بلکہ ڈیجیٹل اعداد ہیں  جو آپ ‏ڈالر یا روپوں کے بدل میں خرید کرسکتے ہیں مگر ان کا مادی وجود نہیں۔

‏3۔عام کرنسی کے برعکس اس کی قدر میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ ہوتا ‏ہے۔بہت سے لوگ اس کو مال بنانے کی جوا اسکیموں پر لگاتے ہیں ۔بہت سے ‏لُٹ رہے اور بہت سے لالچ میں مال لٹا رہے ہیں۔

‏4۔اس میں غرر(غیریقینی) اور جواکے امکانات بہت زیادہ ‏ہیں۔مثال کے طور پر’بِٹ کوائن ‘یا ’سولانا ‘کا کاروبار کرنے والی کمپنی اگر ‏اپنی ویب گاہ ہی بند کردے یا بھاگ جائے تو اس کے خریداروں  کے نقصان کا ‏کیسے ازالہ ہوگا۔

مفتی صاحب  اور کرپٹو کرنسی کو حرام قراردینے والے دیگر مفتیان ‏کرام کے فتویٰ کی بنیاد یہ اصول ہے کہ  یہ کوئی حقیقی مال نہیں۔جیسا کہ  کرپٹو ‏کرنسی سے متعلق  فتویٰ میں آن لائن خریداری کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ‏ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک فرد بٹ کوائن یا کسی اور  ڈیجیٹل کرنسی  ‏میں آن لائن خریداری کررہا ہے تو وہ ڈالر یا روپے میں ایسا کرنے سے کیوں ‏گریزاں ہے؟ اور ایک درست راستہ اپنانے کے بجائے کیوں ایسا راستہ اختیار ‏کررہا ہے جس سے اسے غیر معمولی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے یا اس کا بہت سا ‏نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ بات بڑی سادہ سی ہے۔شریعت سے ماخوذ اسلامی ‏معیشت نے دوتین اصول بڑے واضح انداز میں بیان کیے ہیں:‏

‏1۔آپ کا آمدن کا ذریعہ بالکل حلال ہونا چاہیے،اس میں حرام ‏ذریعے   سےحاصل شدہ یا غصب  شدہ مال یا جوا،فراڈ سے اکٹھے کیے گئے مال  کی ‏آمیزش  نہیں ہونی چاہیے۔

‏2۔آپ کو اس مال پر کلی اختیار ہونا چاہیے۔ مال کی یہ تعریف کی گئی ‏ہے کہ اس پر تصرف کا آپ کو مکمل  اور بلا شرکت غیرے  ہر وقت اختیار ہو۔ ‏کیا کرپٹو کرنسی میں ہمہ وقت  بندے کو ایسا اختیار حاصل ہوتا ہے؟

بعض علماء نے مشروط طور پر کرپٹو کرنسی کو حلال قرار دیا ہے لیکن اگر ‏عملی طور پر دیکھا جائے تو ان کی عاید کردہ  تمام شرائط پر کرپٹو کرنسی پورا نہیں ‏اترتی ہے۔

‏ اب ایک سوال، اس کا تعلق قومی حمیّت سے ہے اور یہ   ہم سب کے ‏غور وتدبر کے لیے ہے۔کیا آپ نے سوچا ، آپ جو بھی ڈیجیٹل کرنسی خرید ‏کرتے ہیں، اس کے بدل میں رقم ( ڈالر یا کوئی دوسری  غیرملکی کرنسی) کہاں ‏جاتی ہے؟ یہ تمام رقوم کہاں جاکر جمع ہوتی ہیں۔ ان سے کس کو فائدہ پہنچتا ‏ہے؟کرپٹو  کرنسی کا دھندا کرنے والی کمپنیوں یا ویب گاہوں کے ’سروَر‘ ‏کہاں ہیں؟ ویب میزبانی کہاں  ہوتی ہے؟ان تمام سوالوں کا شاید ایک ہی ‏جواب ہے ، امریکا۔آپ اپنے ڈالروں سے امریکی استعمار اور اس کے سرمایہ ‏داروں  کی تجوریوں کو بھر نے کا  عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں  تو اس  کے بدلے ‏میں کیا حاصل  ہو گا؟ ہماری اشرافیہ یہی کام پہلے بڑی خوبی اور مستعدی سے ‏کررہی ہے، جج کیا اور سابق جرنیل اور اعلیٰ بیوروکریٹ کیا، وہ کماتے پاکستان ‏سے ہیں، تن خواہیں ، پینشن ، ’کک بیکس‘  یہاں سے وصولتے ہیں اور ان ‏رقوم سے عیاشیاں امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں کرتے ہیں۔ ‏

گزرے برسوں پروفیسر نوم چومسکی نے ایک انٹرویو میں ہماری ‏اشرافیہ کی اس روش کے بارے میں بڑی پتے کی بات کی تھی کہ ان کی حتیٰ ‏الوسع کوشش  امریکا کا گرین  کارڈ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ آخری منزل مقصود ‏امریکا یا کینیڈا ہیں ۔ بس وہاں کسی طریقے سے مستقل  طور پر بس (سیٹل ہو) ‏جائیں۔اس کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ اس شرم ‏ناک حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے۔

پس تحریر: اب کچھ تذکرہ فتویٰ کے حامی اور مخالفین  کا۔ان کی ‏سوشل میڈیا پر تحریریں  دیکھ کر اندازہ ہوا کہ انھیں ایک ثقیل ، گہرے اور ‏دور رس نتائج کے حامل علمی وفقہی مسئلے پر مغز ماری کے بجائے بنیادی اخلاقی ‏آداب بالخصوص اختلافی مسائل میں آداب  سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔خود ‏کو لبرل قرار دینے والوں کو ہم دوش نہیں دیتے  کیونکہ اعلیٰ  درجے کی ‏بدتمیزی ان کا ٹریڈ  مارک ہے۔ ہمیں ان سے گلہ ہے جن پر عالم اور مفتی ‏ہونے کی تہمت ہے۔ حد تو یہ  ہے کہ طرفین ایک دوسرے کو  نستعلیق قسم  ‏کی ننگی گالیاں دے رہے ہیں اور شجرہ ہائے نسب کو پھرول رہے ہیں۔ کیا ‏ایک علمی مسئلے پر اس طرح مباحث آگے بڑھتے ہیں۔ بعض ’بساطیوں‘ ‏نے تو اس فتوے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا وہی گھساپٹا موقف  ہے کہ ‏مولویوں کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید ڈیجیٹل کرنسی  کے تصورات کا کیا علم؟ ‏انھیں اس پر رائے دینے کا حق نہیں ، وغیرہ بھئی ،آپ مسلمان ہیں  توپھرآپ ‏نے  حلال وحرام  کے اسلامی معیارات کو بھی دیکھنا ہے۔آپ کا تقویٰ کیا ہوا؟ ‏مال بنانے میں احتیاط کے تقاضے کیا ہوئے؟ کسی مفتی کا کام آپ کو حلال اور ‏حرام سے آگاہ کرنا ہے۔ فتویٰ ایک رائے ہوتا ہے ، کوئی پابند قانون نہیں کہ ‏جس کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ مستوجب سزا ہوں گے۔ ‏

اب آپ پوچھیں گے کہ یہ ’بساطی‘ کون  سی مخلوق ہیں۔ ویسے تو یہ  ‏ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور   جیسے تیسے  کہیں  کوئی مالی فائدہ  نظر آرہا ہو تو اس کے ‏انتظار میں  بساط بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب مذکورہ فتوے سے انھیں اپنی بساط ‏لپٹتی نظرآئی تو وہ علماء کے لتے لینا شروع ہوگئے  لیکن دراصل ان کا تعلق ان ‏بساطیوں سے ہے  جو  ماضی قریب میں لاہور میں لٹن روڈ پر میانی صاحب  ‏قبرستان کے کنارے بساط بچھا کر بیٹھے ہوتے تھے اور قبرستان میں جنازوں کی ‏آمد کا شدت  سےانتظار کیا کرتے تھے۔ وقت گزاری کے لیے  سارا دن  تاش  ‏کی بازی  چلتی تھی اور بعض لڈو یا شطرنج   بھی کھیل لیتے تھے۔ جونہی کوئی  ‏جنازہ آتا تو ان میں شرط بندھ جاتی؛ میّت مرد کی ہے یا عورت کی؟پھر مرحوم ‏جوان  ہے یا بوڑھا؟  مردہ بچّہ ہے یا بچّی؟  ان کے اصول بڑے پکے ہوتے تھے  ‏کہ کوئی اٹھ  کر میّت کی طرف نہیں جائے گا  بلکہ میّت  کے قریب آنے کا ‏سب انتظار کریں گے۔ جب   چارپائی قریب پہنچتی تو   جنازے کے شرکاء سے ‏پوچھ لیتے کہ بھائی  کس کی میّت  ہے۔ یوں تصدیق کے بعد  ہارنے والا گروہ ‏جیتنے والوں کو جوے کی طے شدہ رقم  ادا کرتا اور یہ سلسلہ صبح  سے شام تک ‏جاری رہتا تھا۔

یہ قصۂ ماضی ہے۔ آج کا حال ہمارے لاہوری دوست ہی بتا سکتے ہیں ‏وہاں بساطی اب بھی بیٹھتے ہیں یا مر کھپ گئے اور ان کے والی وارثوں نے ‏کوئی اور دھندا ڈھونڈ لیا۔یہ دشنام طرازی کرنے والے ناقد بساطی اسی قبیل ‏سے تعلق رکھتے ہیں۔   ‏

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔