ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

والدہ مرحومہ کی حیات مستعار کا اجمالی خاکہ

·

’ماں ‘ لفظ ہی ایسا ہے کہ قرب و جوار  مہک اٹھتا ہے۔ دل کی ساری ویرانیاں اس رشتے کا احساس کرتے ہی شادمانیوں میں بدل جاتی ہیں۔ ماں کی ہستی ایسی ہے کہ اس کی شان،اس کی محبت عقیدت کے اظہار کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کے قدموں میں جنت رکھ دی… اور اپنی رحمت، محبت اور شفقت کی مثال دینےکے لئے اپنے بندوں کو اپنی ذات کاعرفان دینے کے لئے اس ہستی کو مثال بنایا۔ ’’موت‘‘برحق ہے اس بات کا ہم جتنا بھی احساس و ادراک اور یقین رکھتے ہوں اس کی تلخی انسان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، اور اس آزمائش کو اللہ نے اپنے بندوں کے درمیان ایک کسوٹی بنادیا’’موت‘‘ کتنی بڑی حقیقت ہے، اس کا صحیح ادراک شاید آج تک دوران حیات کوئی نہیں کرسکا، اور جب ’’ماں‘‘ دنیا سے رخصت ہوجائے تو دل پہ کیا بیت جاتی ہے؟ماں کی جدائی سہنے والے جانتے ہیں،اور اس سے کہیں زیادہ وہ ذات جانتی ہے جو ہمارے دلوں کی مالک ہے، اور جس کی طرف ہم سب نے لوٹ کر جانا ہےاور کس نے کب لوٹ جانا ہے یہ کسی کو علم نہیں ہے۔ کامیاب وہی ہیں جو زندگی گزارتے ہوئے واپسی کے وقت کو یاد

رکھتے ہیں۔

میری والدہ’’امانت آراء‘‘ عظیم خاتون تھیں۔’’اُم شاہد‘‘ کے نام سے یا  ’’آپا امانت‘‘ کے نام سے معروف تھیں۔ہر ماں اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے، کہ وہ اپنی اولاد کے لئے ہر وقت قربانی ایثار اور محبت کا پیکر ہوتی ہے… میری ماں صرف اپنی اولاد کے لئے نہیں بلکہ ہر بچے کے لئے پیکر محبت و شفقت تھیں۔ان کی بہت سی نمایاں خصوصیات تھیں جو اس خیال سے احاطہ تحریر میں لارہی ہوں کہ یقینا پڑھنے والوں کے لئے مشعل راہ ہوں گی اور میری والدہ کے لئے صدقہ جاریہ کا باعث بنیں گی۔

میری والدہ اپنی زندگی کے واقعات ہجرت کے سفر سے شروع کرتی تھیں۔ان کی عمر اس وقت وہ تھی جب دودھ کے دانت ٹوٹنا شروع ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمر تھی جب بچہ نہ بہت چھوٹا ہوتا ہے کہ گود میں اٹھایا جائے نہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ میلوں پیدل فاصلہ طے کرنے پہ قادر ہو۔ میری نانی اماں کہتی تھیں’’صبر وشکر اس بچی کی گھٹی پہ پڑا تھا،ہجرت کے سفر میں اس نے اس کا ثبوت دیا۔ بھوکے،پیاسے، سخت گرمی، خوف کے عالم میں ہر ممکن دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف رہتی ۔‘‘۔میری والدہ کی زندگی کا یہ سفر ہی ان کی آئندہ زندگی کے لئے رہنما بنارہا… کئی مہینوں کا تھکا دینے صعوبتوں سے بھرپور، خوف و دہشت،قتل و غارت، لاشوں کے انبار اور خون کے دریا پار کرکے جب پاکستان پہنچے تو آزمائشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا… سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۵ میں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان مال کے نقصانات آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے آزمائے جانے کا ذکر ہے… پاکستان ہجرت کرنے والے ان سب آزمائشوں سے گزرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو صبرواستقامت کی دولت سے بھی مالا مال کیا۔ پاکستان آنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ۱۳دنوں میں قریب ترین رشتوں(باپ،جوان بھائی، چھوٹی بہن، خالو) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ میں تصور کرتی ہوں اپنی والدہ اور اپنی نانی اماں کے دل کی کیفیت کا، تو بے اختیار دل کی گہرائیوں سے درد بھری پکار اٹھتی ہے’’اے اللہ ان کے صبر کا بدلہ جنت عطا فرمائیے کہ آپ کا وعدہ ہے صبر کا بدلہ جنت ہے اور خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لئے۔’’کچھ ہی عرصہ میں ایک اور صدمہ میری والدہ اور نانی اماں کو سہنا پڑا۔ جس بیٹی کی شادی کی وہ زچگی کے دوران اللہ کو پیاری ہو گئی۔ یہی میری والدہ کی بڑی بہن تھیں۔جن کے ساتھ دوستی اور پیار کا ایسا رشتہ تھا کہ دل کابوجھ ان کو سنا کر دونوں شانت ہو جاتی تھیں۔ میری نانی اماں ایک عظیم خاتون تھیں

۔ میں نے ان کی  نہ ہی اپنی والدہ کی زبان سے تقدیرکا شکوہ سنا،اور نہ ہی ہندوستان میں چھوڑے ہوئے اثاثے، قیمتی یادوں کا رونا روتے دیکھا۔ ہجرت پورے جذبۂ ایمانی کے ساتھ کی۔ ہمیشہ پاکستان آنے اور ہجرت کرنے کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے دعا کرتیں کہ’’ اے اللہ ہمیں ان مہاجرین کے ساتھ شامل کرنا جومکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تھے…‘‘

اے اللہ! ان کی ہجرت کو قبول فرما۔آمین۔

اپنے گھرانے میں پے درپے قریبی عزیزوں کی اموات نے میری والدہ کو بہت رقیق القلب بنا دیا تھا۔ بیمارکی تیمارداری کرنے میں مستعد رہتیں۔ اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر راتوں کو اٹھ اٹھ کر سارے سوئے ہوئے گھر والوں کو جا کر دیکھتیں کہ سانس آرہا ہے یا نہیں… موت اتنی قریب سے دیکھی تھی گویا گھرکے کسی کونے میں گھات لگا کر بیٹھی ہے کہ کب کس کو اُچک کر لے جائے۔ ایک  نو عمر بچی کے دل کے احساسات کا تصور کریں تو رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان بنانے والوں کے دل کی ہر کیفیت کو گواہ بنایا جائے گا۔ جب اس پیارے ملک کے دشمنوں کے اعمال سامنے لائے جائیں گے۔

اے اللہ! ان قربانیوں جذبوں دلوں کی کسک ،درد کا واسطہ اس ملک کی حفاظت فرما آمین۔

میری خالہ نعمت بہت دانش مند خاتون تھیں، ہماری نانی اماں اور سب گھروالوں کے لئے ہمدردی اور محبت اور حوصلہ دینے میں مثالی کردار… ان کی شادی عبدالغنی احسن سے پاکستان بننے کے ابتدائی چند سالوں میں ہوئی۔ میری والدہ بتاتی ہیں کہ ’’میرے بہنوئی ہم سے باپ کی طرح شفقت کرتے تھے۔ سب گھروالوں کا خیال انہوں نے ہمارے والد کی طرح رکھا۔چھوٹی بہن، والد اور جوان بھائی کی وفات سے جو صدمہ ہمارے گھر میں رچ بس گیا تھا ۔ ان کی تسلی اور حوصلے سے سہارنا آسان ہو گیا تھا‘‘۔

اللہ کی حکمتوں کو کون جان سکتا ہے…خالہ نعمت پہلی زچگی کے دوران وفات پا گئیں اور میری والدہ اپنی ماں کے لئے حوصلے اور صبرواستقامت کی ردابن گئیں۔ اپنی امی کا غم ان کی روح کو گھائل کیے دیتا تھا…سکول میں سارا دن اپنی غم زدہ ماں کاچہرہ چین نہ لینے دیتا… نو عمر بچی، غموں کا پہاڑ، معاشی پریشانیاں۔ میری والدہ جب اس کیفیت کا ذکرکرتیں تو اندرونی کرب چہرے پہ صاف نظر آتا۔ مگر شکر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیتی تھیں۔ فرماتی تھیں اللہ کا شکر ہے۔ والدہ تو حیات تھیں۔ سب سے زیادہ جواظہار کرتیں وہ یہ کہ شکر ہے ایمان تو سلامت تھا

 اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مسلمان ہیں، صبر کرنے پر اجرکی توقع ہے۔

ہماری والدہ اس وقت کا ذ کر کرتیں جب ان کو سکول کی تعلیم چھوڑنی پڑی… یہ خلش وہ کبھی نہ بھول پائیں…میری والدہ کی ذہانت و فطانت، علمی کارکردگی،کردار و اخلاق کی مدح و ستائش کے ثبوت وہ خطوط تھے جو نانی اماں سکول کی معلمہ اور ہیڈ مسٹریس کی طرف سے لکھے گئے تھے۔

پے در پے موت کے صدموں سے نڈھال دل کی کیفیت کا تذکرہ کرتیں کہ ’’سکول جا کر مجھے اپنی اماں جی کا غمزدہ چہرہ بے چین رکھتا اور ہول آتا کہ کہیں کوئی فوت نہ ہوگیا ہو…‘‘۔

پھر نو عمری میں ہی میری والدہ کا نکاح ہو گیا۔

عبدالغنی احسن کو ہی دوبارہ اس گھر کا داماد بننے کے لئے منتخب کیا گیا۔ خیرخواہوں نے مشورہ دیا کہ اس سے بہتر سیرت و صورت میں داماد نہ ملے گا۔ عمروں کے بہت زیادہ تفاوت کے باوجود اس جوڑے نے ایک مثالی زندگی گزاری۔

 میرے والد اور والدہ نے اپنی بہن بھائیوں کا جتنا خیال رکھا، حقوق و فرائض کااحساس کیا،اس سے زیادہ دوسرے کے بہن بھائیوں اور گھر والوں کا خیال رکھا، اور اپنی خدمات کا دوسرے پہ احسان جتانے کی بجائے اپنے زندگی کے ساتھی کی ایثاروقربانی اور خدمات کا اعتراف زیادہ کیا، اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کی ہر نیکی کو وہ درجہ قبولیت عطا فرمائے جو رب کائنات کی نظر میں سب سے اعلیٰ ہوآمین۔

میری والدہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض کا شدت سے احساس رہتا تھا۔ نمازکی ادائیگی اوّل وقت پر ان کا طرۂ امتیاز تھا… دوسروں کے کرداروں کونماز کی ادائیگی کے حوالے سے جانچتی تھیں ۔ اپنی صحت کا پیمانہ بھی نماز کے ساتھ جوڑتیں،آخری عمرمیں ذ کر کرتیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج طبیعت بہت اچھی ہے ساری نماز کھڑے ہوکر ادا کی ہیں…اگر کوئی کسی کی تعریف کرتا تو سوال کرتیں کہ نماز کا پابند ہے؟۔سنن ونوافل کا اہتمام آخر تک کیا۔جوانی سے تہجد کی نماز شروع کی۔ کبھی صحت کی خرابی صبح کی نماز سے پہلے اٹھنے نہ دیتی تو بہت افسوس کااظہارکرتیں۔ سورۂ سجدہ کی تلاوت روزانہ عشا کی نماز کے بعد لازماً کرتیں اور دعا کرتیں 

اے اللہ! ان لوگوں میں مجھے شامل کیجیو جن کے لئے آپ نے وہ نعمتیں چھپا رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہ دیکھیں نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا‘‘۔

ان لوگوں اور نعمتوں کا ذ کر سورہ سجدہ میں کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس وقت کرتے ہیں جب لوگ ان کو نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ اس سے مراد شب بیداری برائے عبادت ہے۔

اے اللہ رب العزت میری والدہ کی اس آرزو کو پورا کردیجیئو اور ان کی وہ عبادتیں جو انہوں نے دنیا سے چھپا کر کی تھیں، قبول کرکے ان خاص نعمتوں سے نواز دیجیئوآمین۔

زیورکبھی  ان کے پاس نصاب سے زیادہ نہ ہوا   ۔ پھربھی زکوٰۃ ضرور نکالتیں اور چھپ کر صدقہ خیرات کرتی تھیں۔ ہر کام میں حکم الٰہی اور سنت نبویؐ کو مکمل شعور کے ساتھ مقدم رکھتیں۔ عام روز مرہ کے کام کاج کرتے ہوئے ضروروہ پہلو اجاگر کرتیں جس سے اس کام کا تعلق سنت رسولؐ سے جڑ جائے۔

ان کی سوچ’’ربانی سوچ‘‘ تھی۔ فکر و خیال پہ سنت  نبویؐ کی چھاپ تھی۔

قرآن پاک سیکھنے اور سکھانے والے کے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت درجات ہیں۔ نوعمری سے ہماری والدہ نے لڑکیوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینا شروع کردی تھی۔ ہماری نانی اماں بھی اپنے لڑکپن سے قرآن کی تعلیم دے رہی تھیں۔ ساتھ قرآن پاک کا ترجمہ،تفسیر اور عملی اصول بتاتی تھیں۔ اسی طرح ہماری والدہ نے قرآن اور احادیث کو صرف پڑھایا ہی نہیں، ان کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے طریقے بھی بتائے۔ تفہیم القرآن لفظا لفظا ساری مطالعہ کی تھیں۔ اسلامی لٹریچر، احادیث کا باقاعدہ مطالعہ کرتیں، خاص ڈائری میں نوٹس لیتی تھیں۔ پسندیدہ جملے، پیرا گراف، اقوال اور نظمیں ان کی ڈائری میں محفوظ ہو جاتیں۔ ڈائری لکھنا ان کی ہمیشہ سے عادت رہی تھی۔

حق بات کہنے اور پہنچانے میں کبھی دیر نہ لگائی اور کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کی۔ان کا خیال تھا کہ مصلحتوں کا شکار ہو کر حق بات کہنے کا موقع کھو دینا عقل مندی نہیں ہے۔

غریبوں، مسکینوں،مظلوموں اور بے بس لوگوں کے ساتھ ان کو خاص انس تھا۔اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لئے اللہ کی مخلوق سے محبت کرتی تھیں۔غریب، جاہل گھرانوں کی لڑکیوں کوقرآن پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھرداری کی تربیت بھی کی۔ اخلاق و کردار، حقوق العباد کی ادائیگی کے گر بھی سکھائے۔ گھرمیں کام کاج کرنے والی خواتین سے اتنی محبت اور اپنانیت سے ملتی تھیں کہ ہم حیران رہ جاتے۔ فرماتی تھیں۔ ’’مسکین لوگ دوسرے لوگوں کی نسبت پہلے جنت میں جائیں گے۔ پیارے نبیؐ کی دعا بھی تو ہے کہ اے اللہ!مجھے ’’ زمرۃ المساکین‘‘ میں شامل کردے۔

جب کسی خاتون کو گھر میں خدمت کے لئے یا کسی کام کے لئے بلایا جاتا مثلا گندم صاف کروانی ہے یا کوئی اور بڑا کام کرانا ہے تو ان کی خدمت میں لگ جاتیں۔ کبھی چائے بنا کر پلارہی ہیں۔ گرمی ہے تو شربت پلا رہی ہیں۔ اب تم تھک گئی ہوگی، اب آرام کر لو،اورپھر خود ساتھ کام کرنے لگ جاتیں کہ اکیلے تمہیں مشکل لگ رہا ہوگا۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ خدمت گاروں کو کوئی مشکل کام دوتو خود ہاتھ بٹائو۔اسی طرح ان کے کھانے پینے، لباس کا خیال رکھتیں، کھانا کھلا کر بھی دل کی تسلی نہ ہوئی تو ساتھ دے دیتیں کہ ماں کا دل کیا محسوس کرتا ہوگا کہ خود کھالیا اور نہ جانے گھرجا کر بچوں کو کیا کھلائے گی؟۔ پڑوس میں غریب گھرانوں کے گھروں میں سالن پہنچانا ایک عرصہ تک ان کا معمول رہا۔

سبزی، پھل کے چھلکے یا کوئی اور چیز جو جانوروں کو ڈال دینے والی ہوتی تو اس کو بھی جانوروں کے لئے تیار کرتی تھیں۔ پرندوں اور مرغیوں کے لئے الگ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتیں۔ گویاان کے لقمے بنا کر ہر جانور، پرندے کی آسانی کے لئے دسترخوان تیار کرتی تھیں۔ قربانی کے جانور کی خدمت کرتیں۔ جتنے دن بھی گھر میں رہتا، اس کو بہت پیار سے رکھتی تھیں کہ یہ اللہ کی راہ میں قربان ہو رہا ہے۔

تحریک اسلامی سے وابستگی شروع سے ہی تھی۔ گھر میں ہفتہ وار اجتماع کا ہمیشہ سے اہتمام کیا۔ اجلاس و اجتماع خواتین و اطفال کا پورا ریکارڈ رکھتی تھیں۔

جماعت اسلامی سے محبت و لگاو اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت تک پہنچنا آسان ہو جائے۔ ہر الیکشن میں جماعت اسلامی کے لئے ہمہ وقت کوشش میں لگی رہیں۔الیکشن کے دوران پولنگ ایجنٹ بھی بنیں۔ جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ سے قلبی لگاو اس قدر تھا کہ ہر نماز میں  کامیابی کی دعا کرتیں۔ حج و عمرہ پہ جانے والوں کو خصوصی تلقین کرتیں کہ جماعت اسلامی کے لئے دعا کریں۔ ہمارے والد حج کرنے گئے تو خاص طور پر تاکیداً خط لکھاکہ پاکستان اور جماعت اسلامی کے لئے خاص طور پر دعا کرنی ہے۔

ادب سے خاص نسبت  تھی۔الحسنات، نور، عفت،بتول اور دیگررسالے شروع دن سے گھرکی لازمی ضروریات میں شامل تھے۔آپا حمیدہ بیگم سے خط و کتابت بھی رہی۔ خود بھی لکھنے کا رجحان تھا چند مضامین بھی لکھے۔چونکہ ڈائری لکھنے کی عادت تھی اس لئے ان کا ادبی ذوق بہت عمدہ تھا۔مجھے قلم پکڑنے کا حوصلہ، لکھنے کا رجحان، اپنی والدہ کی محنت اور حوصلہ افزائی سے ملا۔ بچوں سے محبت کسی سے تدریجا زیادہ تھی تو اس کی وجہ دین، نماز، قرآن اور مقصد سے وابستگی تھی۔ میرے سکول میں ’’بزم ادب‘‘ ہفتہ وار پروگرام میں میری والدہ کو کئی بار مہمان اعزازی کے طور پر بلایا گیا۔

ہر بچے کو دعا دیتی تھیں تو حیا کی دعا دینا نہ بھولتی تھیں۔ ایمان کی سلامتی، شرم و حیا کے احساس کی دعاان کا خاص تحفہ ہوتا تھا۔ بول چال،  نشست و برخاست غرض ہر معاملے میں شرم و حیاکی تلقین کرتی تھیں اور کڑی نگاہ بھی رکھتی تھیں۔ اگر کوئی مانگنے والی ایسے لباس میں ہوتی جوساتر نہ ہوتا تو اس کو اپنے گھر سے ساترلباس پہنا کر بھیجتی تھیں۔ ایک بار ایسی خاتون نے عذر کیا کہ ہم نے تو دوسروں کے دیئے ہوئے کپڑے پہننے ہوتے ہیں،خود تھوڑا ہی سیتے سلواتے ہیں تو اس کو ساتر قمیض دی چلو میں تمہیں وہ دے دیتی ہوں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو پسند  ہے اور اس کی قمیض بدلواکر بھیجا۔ صرف نصیحت کردینا کافی نہ سمجھتی تھیں اس پہ عمل کرنے کیلئے تعاون کرتی تھیں اور نیک کام کی شروعات میں آسانی فراہم کرتی تھیں۔

انسانی رشتوں کے درمیان توازن و ترجیح قرآن و سنت کے مطابق رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی تھیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کا احساس عملا رہتا تھا۔ کسی کو ناراض نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ بچوں سے بھی پوچھتی رہتی تھیں کہ تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہونا؟۔ کبھی اپنی بزرگی یا رشتے کے بڑے پن کو انا کامسئلہ نہ بنایا۔ بچوں کو بھی سلام کرنے میں پہل کرتیں کسی بچے کی شکایت یا گلہ اس کے والدین سے نہ کرتی تھیں۔

والدین اور بہن بھائی اپنی بیٹیوں،بہنوں کی تعریف کریں تو یہ معمول کی بات ہے البتہ اگر قانونی رشتے، غیر رشتہ دار کسی کی تعریف کریں تو وہ غیر معمولی بات ہے۔ ہماری والدہ نے ہررشتہ نبھایا اور سب اس بات کے گواہ ہیں کہ سب کے ساتھ ان کا رویہ مشفقانہ،  اور تعلق خلوص  کا تھا۔

اکثر شعر سناتیں 

کرو مہربانی تم اہل زمین پر

خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر

ان کا اپنا سسرال ہویا بیٹیوں کا، ان کی زندگی کا الحمدللہ یہ ریکارڈ ہے کہ کبھی کسی کے ساتھ رنجش کامعاملہ نہیں ہوا۔ چھ بیٹیوں اور دو نندوں کے رشتے مختلف گھرانوں میں کیے مگر اللہ تعالی کی مہربانی اور ماں کی تربیت، اخلاق وخلوص کا  نتیجہ ہے کوئی بھی بیٹی یا بہن کبھی ایک دن کے لئے بھی ناراض ہوکر میکے نہیں آئی اور نہ ہی خاندان میں کسی کے سامنے کوئی نامناسب معاملہ آیا۔الحمد للہ سب اپنے اپنے گھروں میں اپنے حالات، ماحول میں ازدواجی، معاشی، معاشرتی، جذباتی طورپر مختلف میدان عمل میں مطمئن زندگی گزار رہی ہیں۔ حضوراکرمؐ کی طرف سے خوشخبری ان کی منتظر ہوگی ان شاء اللہ اس لیے کہ صرف اپنی بیٹیوں کی نہیں اور بھی بہت سے گھر میں پڑھنے والی لڑکیوں کی تربیت کرکے اورصبروقناعت سے زندگی گزارنے کے سبق سکھائے۔۔

اللہ ان کی ہر کاوش قبول فرمائے۔آمین۔

بچیوں کی تربیت کے لئے عملی اقدامات کرتیں مثلا بزرگوں کی خدمت، گھر داری کا سلیقہ، مہمان نوازی، صفائی ستھرائی، پاکیزگی، بول چال، نشست وبرخاست ان سب کی عملی تربیت کے لئے وہ اکثر پورا گھر ہمارے کھیلنے کو پیش کردیتیں۔ بچپن میں کھلونوں سے گھر گھر کھیلنے کا تجربہ تو سب نے ہی کیا ہوگا۔ ہماری والدہ نے تربیت کے جو انداز اپنائے وہ نرالے تھے۔ بھائی اور چچا کو ایمانداری، رزق حلال کی تلقین کرتیں۔ گھر میں ان کو کھیل کھیل میں دوکان دی اور خریدوفروخت کے گُر سکھائے۔ خود چھوٹی سی دکان بناکر، ترازو بناکردی۔ سودا، سامان لاکر دیا، خود سودا خریدتی تھیں اور فروخت بھی کرنا سکھاتی تھیں۔ گھر میں پڑھنے والی لڑکیاں، میری پھپھو، بہنیں اور چھوٹے بچے اس ’’تربیتی کھیل‘‘ میں شریک ہوتے تھے۔ باورچی خانہ اور سارا گھر ہمارے حوالے ہوتا۔ چند  بچوں کومہمان بنایا جاتا باقی لوگ مہمان نواز ہوتے۔ پورے دن کے اس کھیل میں آداب واخلاق اور خدمت کی تربیت دی جاتی۔ نوکروں کے ساتھ سلوک و گفتگو کے انداز سے لے کر مہمان بننے اور میزبانی کے آداب تک سب نگاہ میں رکھتیں۔ اگر کوئی قیمتی برتن ٹوٹ جاتا تو کبھی خفا نہ ہوتیں مگر نقصان پہ احساس ذمہ داری ضرور دلاتیں۔ ہر کام کو سنت کے مطابق کرنے کی تاکید کرتیں۔ غریب بچیوں کو بھی مہمان بنواتی تھیں اور اس طرح مسکین غریب لوگوں کی عزت نفس کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا یہ جذبہ ہمدردی اور تعلق بڑھتا گیا۔

مہمانوں کی خدمت کرنے میں مثالی کردار کی حامل تھیں۔ مکمل شرعی پردے کے ساتھ رہتے ہوئے دیور، بہنوئی، نندوئی اور سارے کزنز کی خدمت و مہمان داری کی۔ دوسروں کی طرف سے ہمدردی، حسن  خلق اور تعاون کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتیں۔ ماموں جی حکیم عبدالحمید نے ان کو ایک طواف بے پناہ رش کے دوران کرایا۔ اس بات کو بہت یاد کرتیں اور دعادیتی تھیں۔ اپنے بھائیوں کے ساتھ اتنا دلی تعلق تھا کہ بہت پیارے لفظوں میں ان کا تذکرہ کرتیں اور دعائیں دیتی تھیں۔ سب سے زیادہ محبت اپنے بھائی ڈاکٹر کفایت اللہ اور ان کے بچوں کے ساتھ تھا۔ بھائی کا ذ کر کرتیں تو مارے محبت کے رونے لگتیں۔ دعا کے بارے میں ان کا دل اس قدر وسیع تھا کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ بقول میری ساس جی کے ’’دعاوں کا منبع و سرچشمہ تھیں‘‘۔ اور اب کیسی محرومی سی محرومی ہے کہ دعا دینے والے لب خاموش ہو گئے۔ بس یہی محرومی روح کے لئے نارسائی کا موجب ہے۔ اب سکون کے لئے دنیا میں کوئی آغوش ہے نہ کوئی دل جس کے اندر محبت ودعا کا سمندر موجیں مارتا ہو۔دعا دیتی تھیں تو سلسلہ ختم نہ ہوتا۔ مثلا اگر کوئی تحفہ لا کر دیتا یا قیمتا بھی کسی سے کوئی چیز منگانی ہوتی تو لانے والے کو دعا دینا شروع کرتیں۔ پھر درمیان میں بنانے والے، دکاندار، ذریعہ سواری، جن چیزوں سے وہ بنائی گئی… آخر میں اس ذات باری تک پہنچ کر مطمئن ہوتیں کہ وہ ہی عقل دینے والی ذات ہے اسی نے یہ سب بنانے اور مجھ تک پہنچانے کے سارے انتظامات کیے۔ الحمدللہ رب العالمین۔ آسمان پر جہازنظرآتا تو سارے مسافروں کی حفظ و امان کی دعاکرتیں۔ جوان مسافروں کو چھوڑنے آئے تھے جوان مسافروں کا استقبال کرنے آئیں گے۔ سب کو دعا میں شامل کرتیں۔ انسانوں کو غائبانہ دعا دے کر

  ان شاء اللہ انہوں نے رب کے حضور بے حد ذخیرۂ اعمال صالحہ جمع کرلیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے مطابق ان کے جذبے اور عمل کو نشوونما عطا فرمائے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔

بندوں کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت کو نفلی عبادت و تسبیحات پر ترجیح دیتی تھیں۔ پڑوس میں یا رشتہ داروں میں کوئی خاتون بیمار ہوتی تو اس کی جا کر خدمت کرتی تھیں۔حمل و زچگی کا وقت ہر عورت کے لئے ایک امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ بہنوں بھابھیوں کی خدمت تو کرتی ہی تھیں غیروں کے ساتھ بھی مثالی ہمدردانہ عملی کردار نبھاتی تھیں۔ مگر اپنی خدمت کروانے سے حتی الامکان اور آخر وقت تک گریزاں رہیں۔ یہ ناچیز اپنی چھ بہنوں میں بڑی ہے۔ میں نے اپنی والدہ کو  دوسری بہنوں، بھابھیوں کی خدمت کرتے تو دیکھا مگر اپنی خدمت کروانا ان کو بے حد معیوب لگتا تھا۔

 تحمل،برداشت وصبران کا طرہ امتیاز تھا۔ پہلوٹھی کا بیٹا عین جوانی میں اللہ کو پیارا ہو گیا تو اس بات کا شکر ادا کیا کہ’’شاہد کے بعد چھ بیٹیاں اللہ نے دی ہیں۔ پھر بڑھاپے میں دو بیٹے دے کر اللہ نے ایک لے لیا تو اسی کا مال تھا۔جو دیا ہے اس کا بھی مالک وہی ہے۔’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کندن بنانے کے لئے آزمائش کی بھٹی میں تو ڈالنا ہی ہے۔ یہ تو اس کااصول ہے”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو صرف ایمان لانے کا دعویٰ کرنے پہ ہی جنت عطا کردیں گے…؟‘‘ اللہ نے تو کھرے اور کھوٹے کی پہچان کے لئے قواعد وضوابط بنائے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت تھی کہ میری والدہ بحیثیت بیٹی کے والدین وبزرگوں کی سعادت مند تھیں۔ بحیثیت بیوی کے وفادار، شوہر کے لئے باعث سکون وطمانیت تھیں۔ ہمارے والد ہم بیٹیوں کو ہماری والدہ کی مثال دیا کرتے تھے۔ ان کی خدمت خصوصا والد کے بہن بھائیوں کی پرورش وتربیت کے متعلق کہتے تھے کہ’’میں تمہاری والدہ کے احسانوں کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ میری آنکھیں تمہاری والدہ کے سامنے جھکی رہتی ہیں‘‘۔اپنی اولاد کی ہم عمر نندوں اور دیور کی بے حد محبت سے پرورش کی اور ہمیشہ اس  بات سے لرزاں رہتی تھیں کہ یتیم بچوں کا دل نہ دُکھے اور حق تلفی نہ ہو… میر ی عمر اس وقت سات، آٹھ سال کے قریب تھی۔ دو بہنیں مجھ سے چھوٹی تھیں اور دونوں پھپھو ہماری ہم عمرتھیں اور چچا بھائی کے ہم عمر تھے۔ ہماری والدہ خود ابھی کم عمرہی تھیں۔ لڑکپن میں شادی ہوجائے تو بھلا ابھی عمر ہی کیا ہو گی۔ مگر یہ ان کی قابل رشک نیک فطرت اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی۔ کبھی ہم سب بچوں کی طرف سے لڑائی مار کٹائی، ناراضگی حسد و رقابت والدین کے لئے وجہ آزار نہ بنی۔ میں سوچتی ہوں کہ اللہ کا خاص کرم اور میری والدہ کے بے لوث خلوص کا نتیجہ تھا کہ کبھی ہمیں یہ احساس نہ ہوا کہ ہمارے درمیان یکدم دوسرے کیوں شریک ہوگئے ہیں۔ ورنہ بعض اوقات تو سگے بہن بھائی بھی آپس میں مل کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ہماری پھپھو اور چچا اور ہم بہن بھائیوں کے درمیان رشتے دوہرے اور گہرے ہوگئے۔ بہن بھائیوں جیسی بے تکلفی اور محبت بھی اور چچا پھپھو والا پیار بھی۔ اسی حوالے سے مجھے ایک بات یاد آرہی ہے۔ سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ میری والدہ نے مجھے بڑی رازداری سے ایک بات بتائی مشروط طور پر یہ بات میں صرف تمہیں بتارہی ہوں، ہر کسی سے کہنے والی نہیں ہے(میرا خیال ہے کہ اب یہ بات سب کو بتائی جاسکتی ہے)۔ پہلے بسم اللہ پڑھی، پھر درود شریف استغفار پڑھنے کے بعد گویا ہوئیں۔” ایک خاتون مجھے ملنے آئی تھی خاص طور پر کہیں دور گاؤں سے … وہ اپناایک خواب سنا کر گئی ہے  ۔ میرے بارے میں ہے وہ خواب ۔۔

 پھر کچھ دیر خاموش رہیں اور کہنے لگیں۔”میں تو بہت گناہ گار ہوں۔ میری ایسی قسمت کہاں… اگر ایسا ہو جائے تو یہ اللہ کی مہربانی ہے…‘‘۔

مجھے بے چینی ہونے لگی مگر میں خاموش اپنی والدہ کا جائزہ لیتی رہی اور انتظار کیا کہ خود ہی آگے کچھ بتائیں۔ ہونٹ ہلتے دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ کوئی دعا پڑھ رہی ہیں۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر ایک گہرا سانس لیا اور بولیں۔’’وہ خاتون کہہ رہی تھیں کہ میں  نے خواب دیکھا کہ تم (میری والدہ) حوض کوثر پر کھڑی ہو…ہاتھ میں پانی کا چھوٹا ڈول ہے جس سے پانی حوض سے نکال کر لوگوں کو دینے کی تیاری کررہی ہو۔ شلوار کے پائینچے اور قمیض کے بازو تھوڑے اوپر اڑسے ہوئے ہیں۔ میں نے (خاتون نے) پوچھا امانت تم یہاں کہاں؟تو تم(میری والدہ) نے جواب دیا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ڈیوٹی حوض کوثر پہ اپنے ساتھ لگائی ہے، اور وہ خاتون بتاتی ہے کہ میری والدہ کے دائیں طرف تین بچے بھی کھڑے ہیں۔

 وہ خاتون کون تھی؟ مجھے یاد نہیں اور نہ ہی میں نے اس خاتون کے بارے میں پوچھا۔ مگر وہ خاتون میری والدہ کے بقول خوشخبری سنانے آئی تھی کہ یتیم بچوں کی پرورش اللہ نے قبول کرلی ہے۔ دو کام ایسے ہیں جن پہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن؍ مومنہ کو جنت میں اپنے برابر رہنے کی سعادت کی خوشخبری سنائی ہے۔ بیٹیوں کی پرورش، تعلیم وتربیت اور یتیم کی نگہداشت۔

اللہ رب العزت کی رحمت واسعہ سے امید واثق ہے کہ میرے والدین کو یہ سعادت پوری رحمتوں کے ساتھ نصیب ہوگی۔

ہمارے ماموں اور والد کا مشترکہ کاروبار کافی عرصہ رہا۔کبھی کوئی چیز گھر میں آتی اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہوتو عدل و توازن میں مبالغہ کی حد تک احتیاط کرتیں اور اس کے بعد اپنے حصے میں سے نکال کر دوسرے کو دے دیتیں۔ زیادہ بہتر چیز دوسرے کے پلڑے میں ڈالتیں اور یہ سب وہ ہم تین بہن بھائیوں کو ساتھ بٹھا کر کرتیں۔ اکثر نئے موسم کے پھل اور کھانے کی چیزیں بہن بھائیوں کے ہاتھ سے ہی حصے کرواتیں اور نوٹ کرتیں کہ کونسا بچہ کس مزاج کا ہے اور تقسیم کرنے میں کیا رجحان رکھتا ہے۔ سکھاتی تھیں کہ جو دینے والا ہوتا ہے وہ پہلے دوسروں کاحصہ نکالتا ہے پھر اپنے لئے رکھتا ہے۔دائیں طرف سے شروع کرنا،  بچے کودینا، بسم اللہ پڑھنا، شکر کرنا، غریب کا حصہ نکالنا…یہ سب عملی طورپر سکھایا کرتی تھیں۔ دوسروں کے راز کی حفاظت مکمل شعور کے ساتھ کرتی تھیں۔

لباس میں، خوراک میں ، گھرداری میں سادگی کو ترجیح دیتی تھیں۔ لباس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان یاد رکھتیں کہ ’’ جو بہترین قیمتی لباس بنانے پہ قادر ہونے کے باوجود سادہ اور کم قیمت لباس پہنے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو عزت وتوقیر کا لباس پہنائے گا‘‘۔ یہی معاملہ خوراک کے بارے میں تھا۔ نہ خوراک ضائع ہونے دیتی تھیں اور نہ ہی بہت زیادہ کھانوں کی رغبت رکھتی تھیں۔سادہ سالن روٹی ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔ البتہ مہمان کے لئے دسترخوان پہ بہت زیادہ اہتمام کرنے کی قائل تھیں۔ جب تک مہمان دستر خوان پہ رہتے، کچھ نہ کچھ کھانے کے لئے دستر خوان پہ رکھتی جاتی تھیں اور خود سادہ روٹی تھوڑے سے سالن کے ساتھ کھا لیتیں۔ دوسروں کو کھلا کر مطمئن ہوتیں۔’’میرے گھر سے کوئی مہمان یا ملاقاتی بھوکا نہ جائے‘‘۔ یہ جملہ اکثر ہی کہا کرتی تھیں۔

کسی کے بارے میں محسوس کرتیں کہ ناراض ہے تو خود اس کے گھر جا کر اس کو راضی کرتیں۔اپنی غلطی نہ بھی ہوتی تو معذرت کرتیں۔’’جومجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں‘‘ پر عمل کرتیں’’ تحفہ دینے اور سلام کرنے سے محبت بڑھتی ہے‘‘ اس کا عملی مظاہرہ کرتیں۔سلام کرنے اور مصافحہ ومعانقہ میں پہل کرتیں۔ تحفہ چاہے معمولی سی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ،اپنی ملاقاتی خواتین کو دیتیں اور اپنے لئے دعا کی تلقین کرتیں۔ ملاقاتی کے ذریعہ ہر اس شخص کے لئے جو ملاقاتی کا رشتہ دار ہو، ملنے والا، سب کے لئے غائبانہ سلام بھجواتیں۔

مجھے بچپن کی یادوں میں  اپنی والدہ کی زندہ دلی اور مزاحیہ باتوں کا انداز یاد آتا ہے۔ خود بھی خوب ہنستیں، ہم سے بھی لطیفے سنتیں، رسالوں سے ہلکی پھلکی مزاحیہ باتیں پڑھ کر سناتیں، ہمارے ساتھ بچوں والے کھیل کھیلتیں، رسی کودنا، آنکھ مچولی بھی کھیلتیں۔ مگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ حساس طبیعت نے  زندگی کے نشیب و فراز کے اثرات قبول کیے۔ صابرانہ مزاج کا رنگ گہراہوتا چلا گیا۔ بڑے بیٹے کی بیماری اور عالم جوانی میں وفات کے بعد گلے شکوے کاکوئی لفظ کبھی منہ سے نہ نکالا مگر دنیا سے بے رغبتی میں اضافہ ہو گیا۔ اپنے پیاروں کی یادوں کا ذخیرہ محفوظ کرنے میں کمال حاصل تھا۔ بہناپا اور دوستی کرنے کے لئے ہر اک سے خاص نسبت وتعلق جوڑ لینے کا ملکہ تھی۔

کسی کو غم یا تکلیف کی خبر سنانی ہوتی تو اس کے لئے جلدی نہ کرتیں۔ حکمت وتدبر سے بات کو پہنچاتیں۔ ایک بار ہمارے چچا مولانا عبدالوکیل علوی صاحب لاہور سے  جہانیاں آئے ہوئے تھے۔ ایک صبح ناشتہ سے پہلے خبر آئی کہ چچا کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ چچا جان ابھی سو رہے تھے۔ ہماری والدہ نے سب کو منع کردیاکہ ابھی انہیں کچھ نہیں بتانا۔ پھر جلدی سے وہ ناشتہ بنایا جو چچا جان کو پسند تھا۔ پورے اطمینان سے ناشتہ کروا دینے کے بعد بہت طریقے سے خود بات کی۔ میں تو ہر وقت چچا جان کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔ یہ بات چیت اور منظر مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔ پہلے چچا جان عبدالوکیل سے بچوں کے بارے میں فردا فردا پوچھا۔ مذکورہ بیٹے کا خصوصا پوچھا کہ طبیعت ٹھیک تھی؟ بچوں کی طبعیت تو پل بھرمیں خراب ہو جاتی ہے۔ اللہ کا مال ہوتی ہے اولاد…  چچاجان چونکے۔ پھر امی نے انا للہ واناالیہ راجعون پڑھا۔ وہ بچہ زندگی کے ابھی ابتدائی ایام میں ہی تھا۔ مجھے حضرت ام سلیمؓ کا واقعہ یاد آیا۔ ان کے نقش قدم پر میری والدہ نے سنت صحابیہ تازہ کردی۔

حج و عمرہ کی سعادت ملنے پر اللہ کی بے انتہا شکر گزار رہتیں۔ پورے شعوری ایمان کے ساتھ وہاں وقت گزارا۔ وفات سے بیس سال پہلے کی تاریخ کے ساتھ ڈائریوں میں اپنی وصیت اور آخری وقت کی دعائیں لکھی پائی گئی ہیں اور ہر سال ڈائری میں ان کا اعادہ کیاگیا ہے۔ حج و عمرہ کے موقع پر بھی اپنے لئے انہی دعاؤں کی کثرت رکھی۔

اللہ ایمان کے ساتھ نزع کا وقت لائے۔ اور نزع کا وقت تھوڑا اور آسان فرمائے۔

 نزع کے وقت سے بہت خائف رہتیں اور ہر نماز وتلاوت قرآن کے بعد دعا کرتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو قبول فرمایا۔ میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ میری والدہ آخری لمحات میں میری گود میں ہوں گی اور مجھے احساس بھی نہ ہوگا کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں گی۔ نہ سانس اکھڑانہ ہچکی لی، نہ چہرے پر تکلیف کے آثار نہ جسم پہ کوئی آزار… سبحان اللہ سبحان اللہ! جیسے خوشبو کی بوتل کا ڈھکنا کھول دیاجائے۔ ماتھے پہ پسینہ آیا۔ چہرے پہ انتہائی گہری مسکراہٹ جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ اللہ نے نزع کے وقت کی ہر تکلیف سے بچا لیا۔ ان کی التجاوں کو شرف قبولیت بخش دیا۔

نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ گئ

! رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّہ

اپنی وصیت میں لکھا کہ میری وفات کے بارے میں بہت زیادہ اعلان نہ کیے جائیں اور دور رہنے والے رشتہ داروں اور ملنے والوں کو تکلیف نہ دی جائے۔ بس جو جلدی اور آسانی سے آسکے۔ میری میت کو جلد از جلد مقام پہنچایا جائے۔ کسی کے انتظار کے لئے نہ رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی بندی کی  اس خواہش کا احترام کیسے کیا۔

کسی کو دور سے بلانا ہی نہ پڑا۔ سب لوگ دورونزدیک والے چھوٹے بیٹے بلال کے ولیمے کے لئے مہمان آچکے تھے اور نزدیک والے راستوں میں تھے۔ شہر والے اس گھر میں آنے کی تیاریاں کررہے تھے۔

یہ دن بھی عجیب ہی تھا۔ واقعی انسانوں کے ارادے اور پروگرام بالکل باطل ہیں۔ اللہ کے ارادے اور پروگرام حق ہیں۔ بلال کی شادی کا یہ دن خود ہماری والدہ نے اصرار سے رکھوایا اگرچہ یہ نہ اتوار تھا نہ جمعہ کہ آنے والوں کو چھٹی کا دن ملتا۔ ہماری والدہ نے شادی کے معاملات میں کسی بات پر اصرار نہ کیا لیکن یہ دن ان کی اپنی زبان سے مقرر ہوا۔

ہمارے والد،اللہ ان کو غریق رحمت کرے، کی وفات کے بعد تو ہر وقت اللہ کے پاس جانے کی بات کرتی تھیں۔’’تمہارے والد مجھ پہ تین بچوں کی ذمہ داریاں چھوڑ گئے ہیں وہ ادا ہو جائیں تو پھر کیا رہ جاتا ہے میرا کام۔

ویسے تو یہ بھی میرے بغیر ہو جائیں گے۔‘‘اسریٰ مریم اور محسن زاہد کی شادی کے بعد ایک ہی فقرہ کہتیں۔ بس بلال کا فرض ادا ہو جائے،بس اس کا نکاح ہو جائے تو بے شک اگلے دن ہی چلی جائوں۔

نائلہ فردوس نے ایک رات خواب میں والد مرحوم کو دیکھا جیسے وہ ہماری والدہ سے کہہ رہے ہیں کہ ’’تم نے آنے میں دیر کردی‘‘ تو ہماری والدہ نے جواب دیا’’بس بلال کا نکاح ہو جائے‘‘ اور یہی ہوا۔ بلال کا نکاح ہوا، دلہن گھر آئی، ہماری والدہ نے اپنے ہاتھ سے اس کو کنگن پہنائے۔ڈھیروں دعائیں دیں۔ دلہا دلہن کو دودھ کا گلاس دیا اور سنت یاد کرائی کہ پہلے دلہن پئے۔ پھر جہاں دلہن نے منہ لگا کر پیا اس جگہ بلال کو کہا کہ تم یہیں سے پیو، حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہؓ کا جھوٹا پیا تھا۔

یہ فرض ادا کرنے کے بعد جیسے کام ختم ہو گیا ہو۔ اگلے دن ولیمہ تھا مگر امی جاچکی تھیں۔

اس دن صبح خود وضو کیا،فجر کی نماز پڑھی، پھر چائے منگوائی مگر پی نہ گئی۔ اشراق وچاشت پڑھی، اذکار کیے، تسبیح میں مصروف تھیں۔ ہمارے فیصل آباد والے ماموں ڈاکٹر کفایت اللہ کو بلایا۔ ان کی گود میں سررکھ دیا۔ نقابت بہت زیادہ ہوگئی۔ انجکشن لگانے کی کوشش کی مگر نہ لگا اور پھر اسی نقابت میں مسکراتی ہوئی اپنے رب سے جاملیں۔ نفس مطمئنہ کی ساری نشانیاں ان کے چہرے میں نظر آرہی تھیں۔ چاندنی میں نہایا ہواخوبصورت جوان چہرہ! اللہ کی رحمت برستی ہوئی ظاہر بھی تھی تو ان شاء اللہ باطن بھی رحمت کی بارش سے سیراب ہوگا۔

کچھ باتیں ایسی تھیں کہ جوان کی پوری زندگی کا عکس ثابت ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی آخری وقت کی دو خواہشات پوری کیں جو ہم سب نے مل کر پوری کرنے پر قادرنہ تھے‘‘۔ سب بچے میرے پاس ہوں، کسی کو آنے پہ تکلیف بھی نہ ہو۔ مجھے اکثر کہتیں تم پردیسن ہو کہیں روتی نہ رہ جاو، جدائی لمبی نہ ہو جائے۔‘‘اللہ تعالیٰ کسی بچے کو اس وقت دور سے آنے کی تکلیف میں مبتلا نہ کیا۔’’میرا جنازہ جلد از جلد تیار کرنا‘‘۔ جو وقت طے کیا گیا تھا اس بھی پہلے چند گھنٹے کے اندر وہ اپنے مراحل طے کرکے ہم سے دور چلی گئیں لیکن دل کی طمانیت ہے کہ وہ اس دنیا سے بہتر مقام پہ گئی ہیں۔ اللہ ان کی قبرکونور سے بھر دے۔آمین۔

حضرت فاطمہؓ کی سادگی کی ہمیشہ مثال دیتیں۔ان کی حیا اور وفاداری کو سامنے رکھتیں۔ خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی وصیت کے مطابق لکھی کہ مجھے اندھیرے میں قبرستان لے جایا جائے، چھوٹے راستے اور تیزی سے لے جایا جائے، اور خود ایک ڈھکنا 

  خواتین کی میت کی چارپائی پہ رکھنے کے لئے بنوا کر مسجد میں رکھوایا ،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وصیت پہ عمل کرتے ہوئے…

 اس دن بارش اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عصر کے وقت ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بارش ہی کی وجہ سے میت کو پیدل لے جانے کی بجائے ایمبولینس میں لے جایا گیا۔ جلدی اور تیزی سے ابدی ٹھکانے کی طرف لے جانے کی ان کی خواہش پوری ہو گئی۔ مرد حضرات نے بتایا کہ بارش اتنی دیر کے لئے رکی رہی جتنی دیر تدفین کاعمل ہورہا تھا۔ جونہی کام مکمل ہوا، بارش پھر سے شروع ہوگئی۔

ہر کام وقت پہ کرنے کی عادی تھیں۔ کسی بھی تقریب کی تیاری وقت سے بہت پہلے کرلیتی۔

 سبحان اللہ جاتے جاتے بھی اس کا عملی مظاہرہ کرگئیں۔ انتقال سے پہلے ہی دریوں اور قناتوں کا بندوبست ہوگیا تھا، لوگ جمع ہوگئے تھے۔ ایک دلہن آئی توجنت کی دلہن اپنے وطن رخصت ہو گئی۔

گھر میں جب بھی دعوت ہوتی سب کھانے کو تیار کرکے خود عبادت میں مصروف ہوجاتیں دوسروں کو کھلا کراور کھاتا دیکھ کر خوش ہوتیں… اور دیکھو رب کی شان کہ اللہ کی بندی ولیمے کا کھانا تیار کرنے کا آرڈر دے کر خوب رب کی نعمتوں سے سرفراز ہونے چل دی۔ ان شاء اللہ ان سب غریبوں کی دعائیں ان کے جنتی کھانوں کاباعث بنیں گی۔ جنہوں نے مدرسوں، یتیم خانوں میں ولیمے کا کھانا کھایا۔کہا کرتی تھیں۔’’ کوئی مہمان میرے گھر سے بھوکا نہ جائے‘‘۔ کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میت کے گھر کھانا پہنچانے کی بجائے اس گھر سے لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچایا جارہا ہو اورآنے والے تعریف وتوصیف اور حمد وشکر کے ساتھ کھانا کھاکر دعائیں دے کر جارہے ہوں۔ اللہ اپنے نیک بندوں کے اعمال دنیا والوں کے سامنے بطور مثال زندہ رکھتا ہے اور دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان کی خوبیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جو کہ لوگوں سے مخفی ہوتی ہیں۔ شادیوں اور دیگر دعوتوں کے بارے میں اظہار خیال کرتیں کہ امیر لوگ اپنے جیسے لوگوں کو دعوتوں پر بلاتے ہیں، غریبوں کو بھول جاتے ہیں۔ میرا بس چلے تو سارا کھانا غریبوں کو کھلاوں اور ان کی یہ خواہش بھی اللہ تعالیٰ نے پوری کردی کہ شادی کاکھانا غربا وفقرا اور ضرورت مندوں کے پاس پہنچ گیا اور اپنے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی کسی پہ بار نہ بنیں بلکہ اپنے گھرمیں تعزیت کے لئے آنے والوں کی مہمان نوازی میں فرق نہ آیا۔

آخری آرام گاہ کے بارے میں ذکر کیا کرتیں کہ اپنی والدہ کے پہلو میں جگہ مل جائے۔ ہمارے ابی جان مرحوم کی وفات کے بعد ذ کر کیا’’ یا تو اماں جی کے پاس یا تمہارے ابی جان کے پہلو میں جگہ مل جائے۔ ویسے کام تو اپنے اعمال ہی آتے ہیں۔

جب ہماری والدہ کی آخری آرام گاہ کے لئے جگہ کا انتخاب کرنے گئے تو دونوں جگہ ایسی گنجائش نہ تھی… پھر منیر بھائی نے دوبارہ ابی جان کی آرام گاہ کے پاس ایک نظر دیکھ لینے کا مشورہ دیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو گویا زمین نے اپنی آغوش وا کردی ہو۔ اللہ نے اسی جگہ میں وسعت پیدا کردی اور ان کی خواہش کے مطابق جیون ساتھی کے پہلو میں ان کا مدفن بنا۔ اللہ رب العزت دونوں کو اپنی خصوصی رحمتوں کے سائے میں رکھے آمین۔ رب الرحمھما کماربیانی صغیرا۔

اے مالک دو جہاں رحمتوں کی وسعتوں کے مالک، تیری رحمت ہر شے پہ چھائی ہوئی ہے اور تیرے غضب پہ غالب ہے، میرے والدین کی نیکیوں کا بدلہ اپنی رحمت اور ظرف ووسعت کے مطابق کردے۔ میرے والدین کے ہرسانس کے بدلے اتنی رحمتیں نازل ہوں جس قدر گنتی آپ کے علم میں ہے۔اے اللہ!ایک زمانہ دونوں کی سچائی، خلوص محبت، ایثاروسادگی قناعت ہمدردی و خیر خواہی کا گواہ ہے۔ اے اللہ! ان کی سب گواہیوں کو قبول فرمالے۔ نیکیوں میں حقوق وفرائض میں بشری کمزوریوں کی بناپہ جو کمی، کوتاہی یا جھول رہ گیا ہو اے اللہ! اپنی خاص عنایت ومہربانی ورحمت سے اس کو درست فرما دے۔ آپ کی رحمت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ آپ ہی نیکیوں کے قدر دان اور خطاوں سے درگزرفرمانے والے ہیں۔

والدہ کی وفات کے چند دنوں بعد نائلہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع وعریض دسترخوان بیش نعمت و ان گنت نت نئے پکوان سے لبریز سجا ہوا ہے۔ جس پر بہت سے لوگ اور ہمارے والد مرحوم بھائی شاہد کے ساتھ بیٹھے ہیں لیکن کسی کے انتظار میں ہیں  ہماری والدہ کی آمد ہوتی ہے اور اسی اثناء میں بھائی جان اور ابی جان دونوں بے اختیار ہماری والدہ کا استقبال کرتے اور ان کے لئے دستر خوان پہ جگہ پیش کرتے ہیں۔ سبحان اللہ …دنیا میں ایک دعوت ولیمہ سے اٹھ کر جنت میں  اپنے سے پہلے پہنچ جانے والوں کے ساتھ دعوت طعام…اے اللہ! ہمیں اپنے والدین کے لئے صدقہ جاریہ بنادے۔ آمین۔

ہم آٹھ بہن بھائیوں، دو پھپھو ایک چچا جان کے لئے ماں نہیں رہی۔ دعاوں کا وہ مینارۂ نور ختم ہو گیا جس کی روشنی میں ہمیں دنیا کی پریشانیوں میں مثبت راہ سجھائی دیتی تھی۔ محبت کاوہ چراغ  گل ہوگیا۔جس کی لو ہمارے دلوں میں کدورتوں کی اندھیر نگری کو روشن رکھتی تھی۔ شفقت کا وہ سرچشمہ نہ رہا جس کے قرب میں ہم اپنی فکروں کو بھول جاتے تھے۔ایمان و خلوص کا وہ  دریا نہ رہا جس کے دھارے میں ہم مصائب و مشکلات کو معمولی چھینٹوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ ماں کا وجود ہماری نگاہوں اور چہروں سے جان جاتا تھا کہ کس کو اب کس قسم کی دعا و نصیحت کی ضرورت ہے کہ وہ نگاہ شناس تھیں۔ ریاکاری ودکھاوے سے سخت نفرت تھی۔ دوسروں کے انداز، نگاہ اور رویے کوگہرائی تک بہت جلد پہچان لیتی تھیں۔ مومن کی نگاہ بصیرت کی نگاہ ہوتی ہے اور وہ اللہ کے  نور سے دیکھتا ہے۔

اولاد کبھی بھی اپنے والدین خصوصا ماں کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی روشنی میں دل کو سکون نصیب ہوتا ہے کہ دنیا کی جدائیاں ہیں۔ جنت کے  رشتے اور نعمتیں ابدی و لازوال ہیں۔’’ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پہ چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم جنت میں ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔‘‘ (الطور:۲۱)

اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ کے ہم سب طلبگار ہیں۔ اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔

تیری امانت تھی تجھ کولوٹا دی

ہم سے ہی حق امانت ادا نہ ہوا

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں