پیارے قاریو اور لکھاریو!
مُلّائیت ، ملّائیت کی مالا جپتے رہا کریں۔
یہ شہرتِ عامہ کا کارآمد نسخہ ہے۔
’’کتاب چہرہ‘‘ پر ہر ایسےایرے غیرے کا صفحہ کھڑکی توڑ رش لیتا ہے جس میں مُلّائیت کا ورد بہ کثرت ہو۔
آپ کے حامی اور مخالف سب تبصرہ نگاری کو کود پڑتے ہیں۔
کسی بات کے حامی مدح سرائی کرتے ہیں تو مخالفین چپت لگا کر یہ جا اور وہ جا۔ بعض ٹھٹھا اڑائیں گے تو بعض آپ کے افکارِ عالیہ کی تائید میں زمین آسمان کے قلابے ملائیں گے۔
ہاں ،جو نچلا نہ بیٹھ رہے ہوں۔ بات بات پہ ہجو کرتے ہوں اور
جلی کٹی سنانے سے باز نہ آتے ہوں، توان کے سکرین شاٹ لو۔
اگر آپ کی کسی تحریر میں بازاری اور سوقیانہ پن کامسالا بڑھ گیا ہے تو اس کو فی الفور حذف کردیں اور پھر سرے سے اپنے فرمودے ہی سے منکر ہوجائیں۔ اگر اختلافی مسئلہ بیان کرنا ہو تو اس کی تائید میں ’چھجو کریلے‘ کا حوالہ دیں اور کہیں اس نے اپنی مشہور کتاب ’ ابیضاتِ بین العالم‘ میں یہی لکھا تھا۔
یاد رکھیں ،یہ سکرین شاٹ بڑے کام کی چیز ہوتے ہیں کیونکہ ’میڈیم ہی پیغام ہے‘۔
Medium is the message.
بس ان کی ترتیب وار موٹی سی فائل تیار کرو۔
پھر کسی مغربی سفارت خانے کو جا دکھاؤ۔
اورخوب واویلا کرو۔ کیا؟دیکھیے جی میں تو آپ کے روشن خیال اعتدال پسندی اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل پیرا اور ان ہی کا پرچارک ہوں۔ ملّائیت کے خلاف سر بہ کف ہوں، اس مشن میں سب کشتیاں جلا چکا ہوں مگر ان کے جذباتی پیروکار’ موئے‘ میری جان کو آتے ہیں۔کچھ ہمارے حال پہ رحم کھائیے، ہمیں جان کے لالے پڑے ہیں، کچھ دست گیری کیجیے اور ہماری پناہ گیری کی درخواست پر غور فرمائیے۔
ذرا نیہڑے نیہڑے آجائیں ۔ راز کی بات بتاؤں۔ یہ کسی بھی مغربی ملک ترجیحاً جرمنی ،نیدرلینڈز اور کینیڈا وغیرہ میں پناہ کا سب سے آزمودہ اور کارآمد نسخہ ہے۔لوگ برسوں سے اس پر عمل پیرا ہیں۔
ہاں، اگر درخواست مسترد کردی جاتی ہے تو ملّائیت کے خلاف مالا جپنے کی ’خوراک‘ دُگنا ، تین گنا کردیجیے۔ پھر بھی کام نہ بنے تو راہ چلتے کسی ڈاڑھی والے کو ایسے ہی دھکا دے دیجیے یا ٹکر ماردیجیے، پھر اپنے کپڑے پھاڑیے، رونا دھونا کیجیے۔اس میں ایک ہی تکرار ہو ، اے جی ان ناہنجار ملّاؤں سے میری جان کو خطرہ لاحق ہے۔ کچھ کرلیجیے ۔اگر کسی مغربی سفارت کار کے کان پر جوں تک نہ رینگے تو وہ کیا کہتے ہیں، چیٹ جی پی ٹی کے وزن پر ایل جی بی ٹی کیو۔ہاں یہی اصطلاح اور مخففات ہیں۔بس ان کے حق میں دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر پوسٹیں داغنا شروع کردیجیے۔ یہ نسخہ سونے پر سہاگا ثابت ہوگا اور کسی مغربی ملک میں پناہ پکی۔
ہیں۔اتنا آسان عمل۔
ابے، اتنا نہیں خوش ہونے کا۔ابھی مقامات سود وزیاں تو آئے ہی نہیں۔
پہلے مُلائیت کی اصطلاح تو واضح کردیجیے۔ کیا ایک شیخ الحدیث، ایک جیّد عالم ، کسی مدرسے کے دنیا سے بے رغبت استاد بھی اس تضحیک آمیز اصطلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی حیثیت بھی کیا ایک چند چور اور فنڈ ہڑپ جتنی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر آپ اس مہم پر روانہ ہونے سے قبل ہی بازی ہار چکے؟
کسی مخلص عالم کا ایک سنجیدہ اور رنجیدہ دل سے نکلا ہوا بول آپ کی تمام ڈاکٹریٹ ، ڈی فل اور پوسٹ ڈاکٹریٹ زمین بوس کردے گا۔ پھر آپ کے پلے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ہوا اکھڑ جائے تو کیا رہ جاتا ہے۔اعتباریت، ساکھ،علم وحلم ، تواضع ، سب کچھ کھوہ کھاتے چلےجاتے ہیں۔
سیانے ایک سبق دے گئے ہیں،جس برتن میں کھاتے ہیں،اس میں چھید نہیں کرتے۔
اب یہ نہیں کہ دینا ، یہ چھید کیا ہوتا ہے اور کیا بیچتا ہے۔
تھوڑی سی علمی ساکھ تو برقرار رہنی چاہیے۔









