نقاش احمد عباسی
7 مئی 2025 پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے اور بمباری نے خطے کو ایک خطرناک جنگی صورتحال میں دھکیل دیا۔ مگر اس کے جواب میں پاکستان، خصوصاً پاکستان ایئر فورس نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، اس نے نہ صرف قوم کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی کی خبریں عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں بنیں اور دنیا نے محسوس کیا کہ جنوبی ایشیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی قوتوں نے فوری مداخلت کی اور جنگ بندی کی کوششیں تیز ہوئیں۔
پاکستانی قوم نے اپنی مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ، کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ ان کا آئینی، پیشہ ورانہ اور قومی فریضہ تھا، جسے انہوں نے بطریقِ احسن انجام دیا۔ ایک قوم کے طور پر ہم سب اس کامیابی پر خوش اور متحد نظر آئے۔ مگر اسی جشن اور قومی جذبات کے درمیان ایک تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں۔
یہ فاصلے اچانک پیدا نہیں ہوئے۔ ان کی جڑیں ہماری سیاسی تاریخ میں گہری ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بار بار اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی غیر منتخب قوتوں نے سیاست میں مداخلت کی، اس کے نتائج ریاستی عدم توازن، عوامی بے چینی اور جمہوری کمزوری کی صورت میں سامنے آئے۔ 1958 سے لے کر 1999 تک متعدد مارشل لاز، منتخب حکومتوں کی برطرفیاں، سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور توڑ پھوڑ، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
سپریم کورٹ کے سامنے اصغر خان کیس میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ذریعے آئی جے آئی بنانے اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے رقوم تقسیم کی گئیں۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے خود عدالتی سطح پر اعتراف سامنے آیا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ یہ صرف فرد واحد کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ریاستی نظام کی ساکھ کا مسئلہ تھا۔
حالیہ برسوں میں بھی سیاسی انجینئرنگ کے الزامات شدت سے زیرِ بحث رہے۔ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کردار پر عوامی سطح پر سوالات اٹھے۔ حکومتوں کی تشکیل، سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد و اختلاف، احتسابی عمل اور حتیٰ کہ عدالتی فیصلوں تک میں ’ان دیکھی قوتوں‘ کی مداخلت کے تاثر نے عوام کے اندر شدید اضطراب پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک بڑا طبقہ اداروں سے محبت کے باوجود نظامِ انصاف، انتخابی شفافیت اور آئینی بالادستی کے سوالات اٹھا رہا ہے۔
یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کی فوجی قوت نہیں ہوتی بلکہ مضبوط معیشت، مستحکم ادارے اور عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب سرمایہ کار کو انصاف پر یقین ہو، ووٹ کو عزت ملے، اور ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو معیشت مضبوط ہوتی ہے، اور جب معیشت مضبوط ہو تو دفاع بھی ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو آج اسی سمت بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بطور قوم یہ طے کرنا ہوگا کہ:
آئین سب سے بالاتر ہوگا۔
تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں گے۔
شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا۔
عوام کے فیصلے کو قبول کیا جائے گا۔
عدلیہ مکمل آزادی کے ساتھ فیصلے کرے گی۔
احتساب صرف سیاسی مخالفین نہیں بلکہ سب کے لیے برابر ہوگا۔
یہ مطالبات کسی ایک جماعت یا طبقے کے نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کے تقاضے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستانی قوم سیاسی شعور حاصل کر چکی ہے۔ آج نوجوان سوال بھی کرتا ہے، دلیل بھی مانگتا ہے اور آئین و جمہوریت کی اہمیت بھی سمجھتا ہے۔ یہی شعور مستقبل کی امید ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فوج اور عوام ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی ریاستی جسم کے دو اہم حصے ہیں۔ جب دونوں کے درمیان اعتماد بحال ہوگا، آئین مشترکہ بنیاد بنے گا اور قانون سب پر برابر لاگو ہوگا، تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں مضبوط، مستحکم اور خوشحال بن سکے گا۔
قومیں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتتیں؛ وہ انصاف، اتحاد، قانون اور اعتماد سے جیتی جاتی ہیں۔
عوام زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
پاکستان زندہ باد
آئینِ پاکستان زندہ باد










