چائے خانہ وکیل، کرمان، ایران

خاکِ فارس کا مسافر(18)

·

نیکٹر اور لینا سے بازار میں ملاقات کیا ہوئی، یوں سمجھ لیجیے کہ میرا مقدر ہی بدل گیا۔ دونوں نے نہایت اصرار بلکہ ضد کے قریب پہنچ کر انگریزی میں کہا کہ ’مسٹر ہاشمی! اس قدیم ثقافتی چائے خانے میں ضرور جانا، ورنہ تمہارا ایران کا سفر ادھورا رہ جائے گا۔‘

چنانچہ، حمام گنج علی خان سے نکلنے کے بعد، میں نے اپنی ’سیاحتی ٹانگوں‘کو ہلکی سی حرکت دی اور بازار کی گلیوں میں نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑا سا چلنے کے بعد سامنے ایک محرابی دروازہ جھانکتا نظر آیا۔ یہ محراب بھی کچھ عجیب تھا، ایسا لگتا تھا جیسے پتھروں کو خود ہی اپنی خوبصورتی پر ناز ہو اور وہ اس بازار کے دوسرے دروازوں کو چِڑانے کے انداز میں کھڑا ہو۔

یہ بازار ’وکیل بازار‘ کہلاتا تھا اور گنج علی خان کمپلیکس کے ساتھ ہی جُڑ کر بیٹھا تھا۔ حمام سے نکل کر چھتہ دار بازار کی گزرگاہوں میں کچھ ہی قدم چلیں تو یہ چائے خانہ آ جاتا تھا۔ عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ حمام گنج علی خان اپنی جگہ کمال تھا، مگر اس چائے خانے کی عمارت گویا یہ پیغام دے رہی تھی:

بھائی صاحب، نہانے دھونے کی ساری عظمت اپنی جگہ، مگر چائے پینے’ کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں۔‘

یہ تہ خانہ دو منزلوں پر مشتمل تھا۔ دو منزلہ تہ خانہ سن کر شاید آپ چونکیں، لیکن ایران کی سرزمین میں یہ بھی ممکن ہے کہ زمین کے نیچے بنی عمارتیں زمین کے اوپر کھڑی عمارتوں سے زیادہ جاذبِ نظر اور جاندار لگیں۔

پہلی منزل میں ’چائے خانہ وکیل‘ اپنی تمام ثقافتی آن بان کے ساتھ موجود تھا، اور اس کے عین نیچے ایک اور تہہ میں ریستوران آباد تھا۔میں نے آہستہ آہستہ زینے اترنا شروع کیے۔ ابھی دوسرے یا تیسرے قدم ہی پر تھا کہ نیچے سے ایک خوشبو کا جھونکا آیا۔ چائے کی بھاپ اور پرانی لکڑی کی سوندھی خوشبو کا امتزاج۔ اور پھر میرے سامنے ایک کشادہ کمرہ نمودار ہوا۔

دیواریں، محرابیں اور چھت سب ہی نقش و نگار سے مزین تھے۔ یوں لگا جیسے کوئی صفوی شہزادہ کہیں سے نکل کر مجھے حکم دے گا: ’سیاح صاحب! یہاں بیٹھ کر صرف قہوہ پیا جاتا ہے، گلے میں لٹکے کیمرے سے تصاویر کھینچنا سخت منع ہے!‘

میری نظر سب سے پہلے اس دیوہیکل تانبے کی چمکتی ہوئی کیتلی پر جا ٹھہری جو اپنی جسامت کے حساب سے کسی توپ کا گمان دیتی تھی۔ اس میں پانی کھول رہا تھا اور بھاپ یوں اٹھ رہی تھی جیسے ابھی ابھی قلعے کی فصیلوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو۔ اس کے پاس ایک روایتی لباس پہنے چائے بنانے والا کھڑا تھا۔ کمال کی بات یہ کہ میں ابھی زینے کے وسط ہی میں تھا کہ اس نے دور سے ہی خوش آمدید کا ہاتھ ہلایا۔ دل میں آیا کہ اگر یہ مہمان نوازی کا عالم ہے تو نیچے جا کر شاید گلے بھی لگا لے۔

بیٹھنے کے لیے کرسیاں بھی رکھی گئی تھیں اور لکڑی کے تخت بھی۔ تختوں پر قالین بچھے تھے اور ٹیک لگانے کے لیے تکیے۔ گویا یہ فیصلہ ہر مسافر پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ مغرب کی طرز پر سیدھی کمر کرسی پر بیٹھے یا مشرق کی روایت نبھاتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو۔

میں چونکہ شلوار قمیض میں تھا اور شلوار قمیض کا دامن کرسی پر بیٹھتے ہوئے اکثر ضدی ہو کر گھٹنوں میں اٹک جاتا ہے، اس لیے میں نے بلا تردد تخت پر بیٹھنے کو ہی اپنی عزت اور آرام کے لیے بہتر جانا۔

ایک سو تومان میں ایک چائے کا کپ آرڈر ہوا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ایک سو تومان سن کر آج کا قاری چونکے گا کہ یہ تو جیسے ایک روپیہ بھی نہیں بنتا۔ مگر اس زمانے میں یہی ایک سو تومان بڑے ٹھاٹھ سے آپ کو ایک بھرپور پیالی نصیب کر دیتا تھا۔ایک سو تومان اس وقت دس روپے کے برابر تھا۔

میں چائے کا ایک گھونٹ لیتا، پھر نگاہ اس تہ خانے کی دیواروں اور چھت پر دوڑتی، اور اگلے لمحے ناک میں چائے کی پتی کی خوشبو بھرتا۔ کانوں میں اردگرد کی فارسی بولیوں کی شیرینی ایسے رس گھول رہی تھی جیسے گلاب جامن میں شربت۔

چائے ختم ہوئی تو میں تخت سے اتر آیا۔ تین قدم نیچے اتر کر تہ خانے کے عین بیچ میں پہنچا جہاں ایک چھوٹا سا تالاب تھا، اور اس میں سرخ رنگ کی مچھلیاں بے فکری سے تیر رہی تھیں۔ چائے بنانے والا اپنی بلند جگہ پر اسی طرح کھڑا تھا، جیسے کوئی فنکار اپنے اسٹیج پر۔ اس کے قریب ہی ایک محرابی دروازہ تھا۔ میں چار سیڑھیاں چڑھ کر اس دروازے تک پہنچا تو سامنے ایک اور جہان کھل گیا۔

سامنے ’ریستوران وکیل‘ تھا۔ سفید دیواروں اور سفید چھت والا، مگر کمر تک کی آدھی دیواریں نیلے رنگ میں رنگی ہوئی۔ سفید اور نیلے کا یہ امتزاج آنکھوں کو یوں بھایا جیسے بادلوں کے بیچ سے اچانک نیلا آسمان جھانک لے۔

ریستوران کے وسط میں ایک تالاب تھا جس میں مچھلیاں تیر رہی تھیں، اور اس نیلے پانی پر چھت کے روشن دان سے سورج کی کِرنیں پڑ کر دیواروں پر روشنی کے نقش و نگار بنا رہی تھیں۔ وہ منظر کسی جادوئی تماشے سے کم نہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے نیلا زمرد تالاب میں رکھ دیا ہو اور اس کی کِرنیں کمرے میں ایک روحانی سا سماں پیدا کر رہی ہوں۔

تالاب کے عین بیچ ایک تخت رکھا تھا جس پر ایک انگریز جوڑا پورے انہماک سے کھانا کھا رہا تھا۔ جوڑا بھی کچھ عام نہ تھا، انتہائی حسین۔ مرد کی وجاہت اپنی جگہ، مگر خاتون کے چہرے پر ایک نرمی اور شگفتگی تھی جو پورے منظر کو اور روشن کر رہی تھی۔ اچانک اس کی نظریں مجھ اجنبی پر پڑیں اور بے ساختہ اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔

میرے ہاتھ میں کیمرا تھا اور دل چاہا کہ اس لمحے کو قید کر لوں۔ انگلی شٹر پر جا پہنچی مگر پھر یک دم رک گیا۔ سوچا، اگر یہ جوڑا بُرا مان گیا تو ساری مسکراہٹ، ساری شگفتگی یک دم خفا ہو جائے گی۔ اس لیے کیمرے کو ذرا سا جھکایا اور یوں ظاہر کیا جیسے میں صرف عمارت کے عکس کھینچنے آیا ہوں۔

اردگرد فضا میں چلو کباب اور پلاؤ کی خوشبو بکھری ہوئی تھی، گویا ناک بھی اپنے حصے کا کھانا کھا رہی تھی۔ باقی میزوں اور کرسیوں پر ایرانی خاندان بیٹھے تھے۔ چھت سادہ تھی مگر ہر طرف محرابیں تھیں اور ستون سے ستون جڑ کر صفوی دور کی یاد دلا رہی تھیں۔

چونکہ میں کھانا پہلے ہی کھا چکا تھا، اس لیے باقی وقت صرف تصویریں کھینچنے پر اکتفا کیا۔ میرے کینن کیمرے کی ٹک ٹک آواز نے ماحول میں ایک اور نغمگی بھر دی، اور پھر میں اس حسین لمحے اور ہلکی سی حسرت کو دل میں سمیٹے باہر نکل آیا۔

ریستوران وکیل سے باہر نکلا تو ایک دم سے یوں لگا جیسے میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا ہوں۔ ابھی چند لمحے پہلے میں صفوی فنِ تعمیر کے طلسمی جھروکوں میں گم تھا اور اب اچانک ہجوم، آوازوں اور خوشبوؤں کے جنگل میں آن کھڑا ہوا۔

یہ تھا بازار وکیل۔ ایک ایسا بازار جہاں دیواریں بھی صدیوں پرانی تاریخ کا قصہ سناتی ہیں اور دکان دار بھی۔ ہر طرف چھتہ دار گزرگاہیں، محرابی دروازے اور نیم اندھیرے میں جگمگاتے چراغ۔ بازار کی فضا ایسی تھی جیسے کسی پرانے مستند ڈرامے کا اسٹیج جہاں سب کردار اپنی اپنی صدی سے نکل کر جمع ہو گئے ہوں۔

ایک طرف قالین فروش اپنی گَدی پر نیم دراز بیٹھا تھا۔ قالینوں کی تہیں اس کے اردگرد یوں بچھی تھیں جیسے ہزار داستان کا دفتر کھلا ہوا ہو۔ مجھے دیکھتے ہی بولا:

’آغا، یہ سب ہاتھ کا بنا ہوا ہے، شاہِ ایران بھی یہی خریدتا تھا۔‘

میں دل ہی دل میں مسکرایا، بیچارہ یہ نہیں جانتا کہ شاہِ ایران کو تخت سے اتارے بھی دہائیاں بیت گئیں۔

کچھ فاصلے پر تانبے کے برتن جگمگا رہے تھے، اتنے چمکدار کہ اگر آپ کو اپنا منہ دھونے کا موقع نہ ملے تو بس ایک پیالہ اٹھایے اور اپنا عکس دیکھ لیجیے۔

مصالحہ فروش کی دکان کے قریب پہنچا تو زیرہ، دارچینی اور زعفران کی خوشبو نے ناک کو یوں جھنجھوڑا جیسے خاص طور پر اعلان کر رہی ہو: ’یہ ایران ہے، بھائی جان، یہاں خوشبو بھی دولت ہے!‘

بازار میں ہر قدم پر رنگ، آواز اور خوشبو کا ایک نیا دھماکہ تھا۔ عورتیں ایرانی چادر میں لپٹی ہوئی خریداری میں مصروف تھیں، اور لڑکیاں لمبے کوٹ اور پتلون میں مٹر گشت کر رہی تھیں۔اور مرد دکاندار بلند آواز میں گاہک کو اپنی جانب کھینچنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔

کہیں کہیں نوجوان قہوہ نوشی کے بعد ایسی بلند آواز میں قہقہے لگا رہے تھے کہ یوں لگے جیسے وہ قہقہہ بھی کسی صفوی بادشاہ کے زمانے سے ہی چلا آ رہا ہو۔

بازار وکیل صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں تھا، یہ دراصل کرمان کی روح تھا—جہاں وقت تَھم بھی گیا تھا اور ایک ہی سانس میں صدیوں کے فاصلے بھی طے ہو رہے تھے۔ (جاری ہے)

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے