اگر چینی کو خوراک سے نکال دیا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟

کیا آپ کو میٹھا کھانا پسند ہے ؟ اگر ہاں تو دنیا بھر میں 80 سے 90 فیصد افراد کے دلوں کو دن میں کم از کم ایک بار میٹھا کھانا ضرور پسند ہے۔

مگر اس وقت کیا ہو جب چینی کو اپنی غذا سے مکمل طور پر نکال دیں ؟

ایسا تجربہ معروف اداکارہ جینفر لوپز کررہی ہیں اور انہوں نے 10 دن تک چینی سے دوری کا چیلنج اپنایا ہے۔ اداکارہ نے اس چیلنج کے ایک دن بعد ہی انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا ‘جب آپ چینی استعمال نہیں کرتے، جب کاربوہائیڈریٹس کو غذا سے نکال دیتے ہیں، تو ہر وقت بہت زیادہ بھوکا رہنے لگتے ہیں، تو ہم نے اس کا علاج چند اچھی غذاؤں کی شکل میں نکالا ہے’۔

ان کے شوہر بھی اس چیلنج میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ابھی انہیں اس چیلنج پر عمل کرتے چند دن ہی ہوئے ہیں اور نتائج تو 10 دن بعد ہی معلوم ہوں گے مگر اس بارے میں طبی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

درحقیقت اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو فوری طور یر کچھ جسمانی تبدیلیوں کا امکان ہوتا ہے جو کہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔

ایک امریکی ماہر طب تمارا ڈیوکر فریومین نے بتایا کہ جب کوئی شخص چینی کا استعمال ترک کرتا ہے یعنی کسی بھی شکل میں اسے جسم کا حصہ نہیں بناتا تو گھنٹوں کے اندر ہی جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

خیال رہے کہ چینی سے ہٹ کر بھی خوراک کی شکل میں شکر یا مٹھاس جسم کا حصہ بنتی ہے تو یہاں بات صرف چینی کی ہورہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چینی نہ کھانے سے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہارمونز کی سطح میں تبدیلیاں آتی ہیں اور انسولین کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔

جیسا آپ کو علم ہوگا کہ انسولین جسم کے اندر مٹھاس کو کنٹرول کرنے اور اضافی گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے۔

اگر جسم میں انسولین کی بہت زیادہ مقدار گردش کررہی ہو تو جسمانی وزن میں کمی اور چربی گھلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

ماہر طب کے مطابق جب آپ چینی کا استعمال ترک یا بہت کم کردیتے ہیں تو جسم کے لیے ذخیرہ شدہ چربی تک رسائی اور توانائی کے لیے اسے گھلانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

چینی کا استعمال ترک کرنے کے چند دنوں یا ہفتوں بعد جسم میں لپڈ (شحم چربی) کی سطح بھی گرنے لگتی ہے جو کہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خون میں پائے جانے والی چربی کی ایک قسم ٹرائی گلیسیرائیڈز کی مقدار میں کمی لاتا ہے۔

اگر چربی کی یہ قسم خون میں زیادہ ہو تو یہ شریانوں کو سکڑنے یا سخت کرنے کا باعث بنتی ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی گرجاتی ہے۔

ایک اور بڑی تبدیلی جو طویل المعیاد بنیادوں پر دیکھنے میں آتی ہے وہ پیلیٹ یا تالو میں تبدیلی ہے جو چینی کو چھوڑنے کے عمل کو آسان بناتی ہے۔

واضح رہے کہ 2016 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ محض نو دن تک چینی کا بہت کم استعمال ہی صحت کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ چینی میٹابولزم کے لیے اپنی کیلوریز کے باعث ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ جسم پر بوجھ بڑھانے کے باعث خطرناک ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی کا استعمال کم کرنے سے میٹابولک سینڈروم کا خطرہ دور ہوتا ہے جو کہ ایسی علامات کا اجتماع ہوتا ہے جو دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

یہ سینڈروم ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ گلوکوز لیول، کمر پر اضافی چربی کے جمع ہونے اور کولیسٹرول لیول میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات معلوم ہوئی کہ چینی کا استعمال کم کرنے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم، جگر کے افعال میں بہتری جبکہ انسولین لیول ایک تہائی حد تک کم ہوگیا۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کی غذا میں چربی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز کی سطح تو یکساں رہی تاہم چینی کی مقدار کو 28 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا گیا اور مختصر وقت میں ان کی صحت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

اس غذا کے نتیجے میں ان کے جسمانی وزن میں کمی بھی دیکھنے میں آئی اور وہ صحت مند سطح تک پہنچ گیا۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل اوبیسٹی میں شائع ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں