نیوزی لینڈ : دہشت گرد نے 24 گھنٹے پہلے فیس بک پر کیا لکھا تھا؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر دہشت گرد حملوں میں 49 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد اب تک 4 حملہ آوروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اس حوالے سے نیوزی لینڈ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور دہشتگردی کی واچ لسٹ میں نہیں تھے اور انہوں نے اس حملے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی تھی۔

مگر اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ مساجد پر حملے سے 24 گھنٹے پہلے ہی ایک 74 صفحات پر مبنی منشور آن لائن سامنے آچکا تھا جس میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کا اعلان کیا گیا تھا۔

حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے موجود ٹوئٹر اکاﺅنٹ (جو اب معطل ہوچکا ہے) میں اس منشور کا لنک حملے سے قبل پوسٹ کرتے ہوئے اس حملے کی تفصیلات بھی بیان کی گئی تھیں۔

اس منشور میں لکھا تھا ‘میں ایک عام سفیدفام شخص ہوں، جس نے اپنے لوگوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا’۔

اس میں کہا گیا کہ وہ ایک حملہ کرے گا تاکہ یورپی سرزمین پر غیرملکیوں کے باعث ہونے والی لاکھوں اموات کا انتقام لے سکے۔

اس دستاویز میں لکھا تھا کہ جب تک ایک بھی سفیدفام زندہ ہے، یہ لوگ ہماری زمین کو فتح نہیں کرسکیں اور ہمارے لوگوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔

اسی طرح یھی بتایا گیا کہ لکھنے والے نے دسمبر میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس پر اب عمل ہوگا اور یہ ایک دہشت گرد حملہ ہوگا جسے لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔

اس دستاویز کو میسجنگ بورڈ 8Chan میں پوسٹ کیا گیا اور اس کا لنک حملہ آور نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر شیئر کیا جہاں سے یہ حملے سے پہلے آن لائن پھیل چکا تھا جسے اب سوشل میڈیا کمپنیاں ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں۔

اس دستاویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور امریکا کی انتہا پسند سفید فام تحریک اور وہاں فائرنگ کے بڑے واقعات سے متاثر تھا۔

اور اس نے حملے پر جو رائفل استعمال کی، اس میں چند ماس شوٹنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے نام بھی درج تھے جن میں سے الیگزینڈر بسونیٹی کا نام بھی لکھا تھا جس نے 2017 میں کینیڈا میں ایک مسجد پر فائرنگ کرکے 6 افراد کو جاں بحق کردیا تھا ، جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

اسی طرح حملہ آوروں کے ہتھیار پر خلافت عثمانیہ کی ایسی جنگوں کے حوالے تھے جن میں انہیں شکست کا سامنا ہوا۔

خیال رہے کہ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جو کچھ سال قبل تک نیوساﺅتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں ایک جم میں ٹرینر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں حملہ آوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کردی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد 4 حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں