ابن فاضل، کالم نگار سمندر کے کنارے کھڑ ے ہیں

بربادی کا نوبل پرائز

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ابنِ فاضل۔۔۔۔۔۔۔
نوبل انعام ہر سال فزکس کیمسٹری، میڈیسن، فزیالوجی اور امن کے شعبہ جات میں دنیا بھر میں سب سے بہترین کارکردگی دکھانے والے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ انعام حاصل کرنے والوں کو طلائی تمغہ کے ساتھ خطیر رقم بھی انعام میں دی جاتی ہے. پچھلے سال نوبل انعام یافتگان کو گیارہ لاکھ امریکی ڈالر یعنی قریب اٹھارہ کروڑ روپے فی کس دیے گئے۔

ایلفرڈ نوبل ایک سویڈش سائنسدان اور انجینئر تھا۔ وہ 1833 میں سٹاک ہوم میں پیدا ہوا۔ بنیادی طور کیمیادان تھا جس نے زندگی میں تین سو پچپن ایجادات کیں لیکن اس کی اصل وجہ شہرت دھماکہ خیز مواد ڈائنامائٹ کی ایجاد تھی۔ اس کے علاوہ دیگر ایجادات میں بھی بیشتر ڈائنامائٹ سے بھی طاقتور دھماکہ خیز مواد اور مختلف نوعیت کے اسلحہ ہی تھے۔ بم فیوز، ڈیٹونیٹر، توپ کے گولوں کی کئی اقسام، بغیر دھویں کے دھماکہ خیز مواد اس کی دیگر قابل ذکر ایجادات ہیں۔

اس کی قائم کردہ ایک فیکٹری نوبل ڈائنامائٹ کے نام سے جرمنی میں آج بھی کام کررہی ہے اور دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بہت سے دیگر کیمیکلز بھی بناتی ہے۔ اس میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب ہے۔

ایگزونوبل مختلف اقسام کے کیمیائی مواد بنانے والی ایک اور بہت بڑی کمپنی ہے جس نے حال ہی میں مشہور زمانہ آئی سی آئی کو خریدا ہے، اسی نے قائم کی تھی۔ اس کے علاوہ بھارت کے مشہور زمانہ بوفورس سکینڈل سے تو سبھی واقف ہوں گے، یہ بوفورس توپ اور دیگر اسلحہ بنانے والی بہت بڑی فیکٹری بھی ایلفرڈ نوبل کی ہی قائم کردہ ہے۔

ایلفرڈ نوبل کا چھوٹا بھائی اور کئی دیگر ملازمین ان کی ایک فیکٹری میں دھماکا خیز مواد کی تیاری کے دوران ہوئے حادثہ میں جان سے گئے تھے لیکن انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ آخر 1888 میں ان کے ایک اور بھائی کا انتقال ہوا تو ایک اخبار نویس نے جو غلطی سے سمجھا کہ ایلفرڈ کا انتقال ہوگیا ہے یہ سرخی لگائی..

"موت کا سوداگر بالآخر خود مارا گیا” . اس خبر میں اس نے ایلفرڈ نوبل کو "زیادہ لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے مارنے کے طریقے تلاش کرتے ہوئے امیر ہونے والا سائنسدان” قرار دیا.

اس خبر کا نوبل پر بہت اثر ہوا. موت سے پہلے یہ جان کر کہ مرنے کے بعد لوگ اس کو کن الفاظ میں یاد کرنے والے ہیں.. اس کی ذہنی روش تبدیل کردی اور 1895 میں اس نےاپنی 95 فیصد دولت ایک جو آج کے حساب سے تقریباً چالیس ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں کو بنک میں محفوظ کرتے ہوئے یہ وصیت لکھی کہ اس کے منافع سے انسانی بھلائی کیلیے کام کرنے والے پانچ لوگوں میں ہر سال تقسیم کی جائے۔ یوں نوبل پرائز کا آغاز ہوا۔

نوبل کا کہنا تھا کہ "اس کے ایجاد کردہ دھماکہ خیز مواد امن کے ضامن ہیں. جب لوگوں کو علم ہوگا کہ ڈائنامائٹ بہت تیزی سے فوج کو ختم کرسکتا ہے تو وہ لڑائی سے باز رہیں گے۔ اس طرح حقیقی امن قائم ہوگا”۔

میرے خیال میں یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ طاقت بہرحال امن کی ضمانت ہے بشرطیکہ وہ شیطان کے ہاتھ میں نہ ہو۔

جب میں سنتا ہوں کہ فیس بک کے موجد مارک زکر برگ نے اپنی 95 فیصد دولت خیرات کردی ہے تو مجھے بے اختیار ایلفرڈ نوبل یاد آتا ہے، تاہم میں ابھی یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ دونوں میں سے کس کی ایجاد نے انسانوں کو زیادہ برباد کیا ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں