حمیرا ریاست علی رندھاوا، اردو کالم نگار

صبا لوڈ والی نے ” بول گیم شو“ شروع کردیا ہے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

حمیرا ریاست علی رندھاوا :

چند دن پہلے میں نے ایک نجی ” بول “ ٹی وی کے ایک پیج پر ” ایپلائی “ کا لفظ پڑھا اور اس پر ایپلائی کر دیا، اشتہار کے مطابق ایپلائی کرنے والوں کو ایک پریسٹیجئیس بول کارڈ دیا جائے گا جس کے بہت سے فوائد ہوں گے۔ انھوں نے اسے ” سوشل میڈیا پروگرام “ کا عنوان دیا تھا۔ یہ بھی لالچ دیا گیا کہ آپ کی جیب میں‌ بول کا کارڈ ہوگا تو آپ کو اپنے معاشرے میں ایک نمایاں ‌مقام حاصل ہوگا۔

میں نے بھی ایپلائی کردیا، جو انھیں معلومات مطلوب تھیں، مہیا کردیں حتیٰ کہ اپنا موبائل فون نمبر بھی ۔ گزشتہ روز میں نے نوٹ کیا کہ میرے واٹس ایپ میں‌ایک نیا گروپ سامنے آگیا، اس میں مجھے بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس کا سکرین شاٹ اسی تحریر کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں‌اس گروپ کے ایڈمن کا نمبر بھی ہے۔ پھر ایک ویڈیو کلپ مجھے موصول ہوا جس کے مطابق میں دس لاکھ روپے اور ٹویوٹا گاڑی جیت چکی ہوں۔ اس ویڈیو کا سکرین شارٹ‌ بھی اسی تحریر میں شامل ہے۔

اس پر ایک نمبر بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس پر فون کال کریں اور اس کے نتیجے میں آپ کو 30 ہزار روپے سے لے کر 80 ہزار روپے تک مختلف ذرائع سے بھیجے جائیں گے ۔

یقیناً اب تک بڑی تعداد میں لوگ فون کالز کرچکے ہوں گے کیونکہ ” بول “ کا نام خاصا مقبول ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک بار کال کرنے کے بعد یہ نمبر آپ کے لئے بند کردیا جائے گا۔ بعد میں نہ یہ نمبر چلے گا نہ علی رضا ملے گا ۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بول ٹی وی والوں‌کا پیج ہے؟ کیا اس کے نتیجے یہ بول ٹی وی والے ریٹنگ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یا پھر بول ٹی وی کا کوئی فرد اس فراڈ میں شامل ہے؟

اگر یہ بول ٹی وی والوں کا فیس بک پیج اور واٹس ایپ نہیں تو اب تک بول ٹی وی والوں نے اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ کہا جاتاہے کہ میڈیا والے بہت کچھ کرلیتے ہیں تو آخر ان کا نام استعمال کرکے فراڈ کرنےو الوں کو اب تک پکڑوا کیوں نہیں سکے؟ اس کا مطلب ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے اور اس میں بول ٹی وی والے دانستہ یا نادانستہ طور پر شامل ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایس ایم ایس کے ذریعے 25 روپے کا ایزی لوڈ مانگنے والی صبا پکڑی گئی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا انتقال ہوگیاہے کیونکہ اب صبا کے ایس ایم ایس نہیں آرہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صبا نے سچے دل سے توبہ کرلی ہے۔۔۔

لیکن ان سب لوگوں کی خدمت میں اطلاعاً عرض ہے کہ صبا نے نام بدل لیا ہے، اب وہ پچیس روپے کا لوڈ نہیں مانگتی بلکہ ہزاروں روپوں کا چونا لگاتی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے ، وہ کس کے ایما پر” بول “ کے نام پر فراڈ پراجیکٹ‌کررہی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ اگر ” بول ٹی وی “ والے ان فراڈ پراجیکٹس میں شامل نہیں ہیں تو وہ کھلے عام اس کی تردید کریں اور فراڈ کرنے والوں کو بے نقاب کریں تاکہ معصوم عوام ان فراڈیوں سے محفوظ رہیں ۔ اگر یہ فراڈ نہیں ہے تو اعلان کردہ انعامات عوام میں تقسیم کریں ورنہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

یہ ہماری طرف سے الزام نہیں بلکہ بول والوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی ساکھ بچائیں اور عوام کو فراڈ سے بچائیں ۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں