سوال: آپ کو بچپن میں کس کتاب نے زیادہ متاثر کیا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: مجھے اپنی ابتدائی عمر سے جس چیز نے متاثر کیا وہ وہ قرآن پاک اور اخبار تھا، سب گھر والے ہر صبح روزانہ کی بنیاد پہ دونوں کے مطالعہ میں منہمک پائے جاتے، گویا کہ یہ کھانے پینے کی طرح کوئی لازمی امر ہے۔ سارا دن گھر میں قرآن پاک پڑھنے والی لڑکیاں کسی نہ کسی آیت کی دہرائی کرتیں تو مجھے کچھ نہ کچھ لفظ یاد ہو جاتے جن کو میں اپنی تنہائیوں میں دہراتی رہتی چونکہ وہ دو قسم کی آیات کے چند لفظ حافظے میں رہتے تو بزرگ منع کرتے کہ اس طرح نہ پڑھو اور مجھے دلی صدمہ ہوتا اور میں رونے لگ جاتی اور چادر میں چھپ کر پڑھنے لگتی اس خیال سے کہ میں کسی کو نظر نہیں آتی تو میری آواز بھی کسی کو نہیں جاتی ہوگی۔
گھر کے ماحول کی نسبت سے قرآن پاک سے میرا قلبی لگاؤ غیر معمولی ہو گیا تھا۔ یہ میری پہلی محبت تھی جس نے مجھے ساری عمر تھامے رکھا۔ اور یہ پہلی کتاب تھی جس نے مجھے کتابوں کا دیوانہ بنا دیا تھا۔ قرآن پاک جیسی ضخیم کتاب میں میرے لیے بچپن سے بے پناہ کشش تھی۔ نورانی قاعدہ کا سبق بھی قرآن پاک میں رکھ کر پڑھنا پسند تھا۔ اوائل عمر میں قرآن پاک ناظرہ ختم کر لیا اور میرے استاد قاری عبد الغنی رحمہ اللہ مجھ سے ہمیشہ خوش رہے اور نصف صدی کے بعد بھی ملنا ہوا تواپنی پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے مجھے پہچان لیا اور میرا قرآن پاک سے لگاؤ انہیں یاد تھا۔ سبحان اللہ!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین ۔
سوال: جس ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی، وہ کیسا تھا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: ہر قریبی رشتہ دار کے گھر کا ماحول اپنے گھر جیسا ہی تھا اس لیے اپنے صبح وشام ایک جیسے علمی ماحول میں ہی گزرے۔
اسکول جانے سے پہلے ہی والدہ ماجدہ نےاردو پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اردو کی استانی کے لیے میرا اردو پڑھنا ایک عجوبہ تھا۔ دوسری کلاس میں داخلہ ہوا تو تب استانی ساتویں یا آٹھویں کلاس کی اردو کی کتاب یا سٹاف روم میں پڑے اخبار اٹھاتیں اور مجھے سٹاف روم میں بلا کر پڑھواتیں اور سب استانیوں کو حیرت میں مبتلا کرتیں۔ میں گھر آکر امی جان سے پوچھتی کہ:
جب پڑھنا سیکھ لیا ہے تو کچھ بھی پڑھ لیں، کورس کی کتاب کیا اسی کلاس میں پڑھنا ضروری ہے؟ تو امی شفقت سے مجھے دیکھتیں اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر میرے چہرے پہ پھونک مار دیتیں۔
سوال: لکھنا کب اور کیسے شروع کیا؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: مجھے اسکول کے زمانے کی چند باتیں یاد ہیں۔ میں اس وقت پانچویں کلاس میں تھی ملکہ فرح کی تاجپوشی ایران میں ہونی تھی لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پہ پاکستان میں بھی خوشی کی تقریبات منائی جارہی تھیں ، تقریریں ، خاکے ، تیارہو رہے تھے ہمیں ایک خاکے کی مشق کروائی جارہی تھی، پروگرام کی نگران آپی ملک نے کہا کہ کوئی نظم بھی ہونی چاہیے، مجھے گھر آکر چند مصرعے الٹے سیدھے جو سمجھ آئے وہ میں نے کاپی پہ لکھ لیے اور اگلے دن استانی کو دکھائے تو وہ اچھل پڑی ۔
کس نے لکھے؟ انہوں نے مارے اشتیاق کے مجھے دیکھا
مجھے یہ لگا کہ اگر میں نے یہ کہا کہ میں نے لکھے ہیں تو مانیں گی نہیں تو میں نے کہا چچا نے لکھے ہیں، اسی طرح مجھے اکثر کسی تقریر یا ڈرامے کو لکھ کر لانے پہ اپنا آپ چھپانا پڑتا تھا ۔
جہانیاں سکول کی کوئی لائبریری نہ تھی مگر کتابیں پڑھنے کی چاٹ نشے کی طرح چمٹی ہوئی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر نئے تعلیمی سال پہ کورس کی کتابیں چند دنوں میں پڑھ کے فارغ ہو جاتی، پھر ان کتابوں کو بار بار پڑھنا بہت ناگوار کام لگتا۔ ہر روز ایک نئی کتاب نہ پڑھ لی جاتی تو لگتا کہ طبیعت میں قرار نہیں ہے۔ جب سکول کی سہیلیوں کو پتہ چلا کہ اس کے ساتھ دوستی کی بنیاد رسالہ یا کتاب دینا ہے تو پھر روزانہ نت نئے رسالے اور کتابیں میرے بستے میں گھر پہنچ جاتیں۔
گھر کے پاکیزہ ادبی ماحول کا معیار برقرار رکھنے کے لیے باہر سے لائے گئے رسالے ناول پہ والدین مکمل نگاہ رکھتے تھے۔
والدہ محترمہ نے محسوس کر لیا ہوگا کہ میرے اندر لکھنے کی طرف رجحان ہے تو میری حوصلہ افزائی فرمائی اور تربیت بھی کی۔ سکول کی ابتدائی جماعت سے ہی مجھے بیرون شہر مقیم رشتہ داروں کو خط لکھنے کی مشق کروائی اور ان پڑھ خواتین خط لکھوانے آتیں تو وہ بھی مجھ سے لکھوا لیتیں۔ مطالعہ کتب کا شوق عمر کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا رہا۔ میرے ایک ماموں سکول میں استاد تھے، چھٹیوں میں ان کے پاس وہاڑی اماں جی کے ساتھ جانا ہوتا تو مزے ہو جاتے۔ وہ اپنے سکول کی لائبریری سے روزانہ کئی کتابیں لاتے اور نانی نواسی مل کر انہیں پڑھتیں۔ فیروز سنز کی ساری کتابیں انہی دنوں میں پڑھی تھیں۔
سوال: پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم: تیسری جماعت میں پہلی تحریر ماہنامہ ’نور‘ میں شائع ہوئی۔ جس پہ گھر کے سب بزرگوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور انعام میں کتابیں ملیں۔ گھر میں رسالے اور کتابیں خصوصی توجہ سے محفوظ رکھی جاتی تھیں۔ چھ ماہ کے رسالوں کو جلد کروا کر رکھنا اور ڈائجسٹ کی جلد بندی کروائی جاتی۔ اوائل عمر میں ہی گھر میں موجود سب پرانے رسالے سب بچوں نے پڑھ لیے تھے جس میں ادبی، سیاسی اور طبی رسائل شامل تھے۔ ساتویں جماعت میں جب نسیم حجازی کے ناول پڑھنے کی چاٹ لگی تو ہر رات میں ایک ناول پڑھا جاتا۔ جب چاند جوبن پہ ہوتا تو گرمیوں کی راتیں تاریخی ناول کے ساتھ بہت یادگار ہو جاتیں۔ ان ناولوں نے تاریخ اسلام پڑھنے کی طرف متوجہ کیا۔
چچا جان ان دنوں پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کر رہے تھے، ان کی ساری کتابیں پڑھ لیں۔ تاریخ اسلام ان دنوں مجھے ازبر ہوگئی تھی۔ چچا جان( عبدالوکیل علوی ادارہ معارف اسلامی) لاہور سے آتے توہم دونوں رات بھر مختلف موضوعات پہ گفتگو کرتے۔ چچا جان میری کتب بینی کی بہت حوصلہ افزائی کرتے۔ اور خوش ہوتے کہ سکول کی طالبہ ایم اے کے طالب علم جیسی مدلل گفتگو کر لیتی ہے۔ آٹھویں جماعت میں تھی جب میری کہانیاں بچوں کے رسائل و اخبارات میں اکثر شائع ہونے لگی تھیں۔
اب رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمان کے ناول پڑھنے کی باری آئی۔ اور ’بتول‘ کے علاوہ خواتین کے دیگر رسائل بھی سہیلیوں کے ذریعے ہاتھ لگ جاتے تھے مگر گھر میں ان کی پذیرائی نہ ہوئی۔ بامقصد ادب کے لیے جو ذہن سازی ہو گئی تھی اس نے عامیانہ سوچ کے ادب کو قبول ہی نہ کیا۔ اسلامک پبلیکشنز کی ادبی کتابیں جن میں دین کا شعور بھی تھا والدہ ماجدہ نے سبقاً سبقاً پڑھائی تھیں، جن میں ’ہماری کتاب‘ خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔ ادارہ بتول اور الحسنات کی کتابیں اور کہانیوں، افسانوں اور نظموں کے مجموعے بار بار پڑھنے پہ بھی نیا لطف دیتے۔ مثبت سوچ اور نیکی کی طرف رجحان میں ان کے علاوہ دیگر سنجیدہ کتابوں اور رسالوں کا بنیادی کردار ہے۔ پرانے جرائد ہفتہ وار ماہانہ یا سہ ماہی مثلا چراغ راہ، قندیل، چٹان، سیاره، ترجمان القرآن، اردو ڈائجسٹ وغیرہ جو اباجان نے ترتیب وار جلد کروا کر الماری میں رکھے تھے۔
’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘، نے میری ذہن سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ حدیث کی کتاب بلوغ المرام اور تفہیم القرآن کا پہلا حصہ جماعت ہفتم میں پڑھ لیا تھا۔
مطالعہ کے لیے نشست کتاب کی نوعیت پہ منحصر تھی۔ ہلکا پھلکا کچھ پڑھنا ہوتا تو گھر میں ڈالے جھولے پہ بیٹھ کر پڑھنے کا عجب لطف تھا۔ جاسوسی یا خوفناک کہانیاں تنہائی میں پراسرار ماحول بنا کر پڑھنے میں مزہ آتا۔ کبھی نیم چھتی کے روشندان میں بیٹھ کر مزے لیتے۔ کبھی سکون سے بستر پہ لیٹ کر اور کبھی جاء نماز پہ اعتکاف کی حالت میں کتاب پڑھنے کا لطف آتا۔ یہی تفریح تھی، یہی آرام۔۔۔ اور یہی ہر دکھ درد کا مداوا کرنے والا ساتھی۔ اگر ایک کتاب سے طبیعت تھک جاتی تو پر سکون ہونے کے لئے کسی اور کتاب کی پناہ میں چلی جاتی۔
آٹھویں جماعت کے بعد مجھے چچا جان عبد الوکیل علوی (مؤلف تفہیم الاحادیث و سیرت سرور عالم ) کے پاس رہنے کا موقع ملا۔ میٹرک لاہور سے ہی کیا تھا۔ چچی جان ثریا بتول ( بنت عبدالرحمان کیلانی، مفسر تیسیرالقرآن) بھی علمی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ دونوں نے میری کتاب دوستی کو مزید پروان چڑھایا۔ چچا جان ان دنوں مختلف اداروں کی کتابوں کو شائع ہونے سے پہلے پروف ریڈنگ کیا کرتے تھے تو وہ مجھے کتاب پکڑا کر بہ آواز پڑھنے کو کہتے اور خود مسودہ دیکھتے جاتے اس طرح میرا تلفظ بھی درست ہوتا اور تاریخ کی موٹی موٹی کتابیں پڑھنے کا چسکا بھی پورا ہوجاتا، اور بہت سے ناقابل فہم باتیں اور مسائل ساتھ ساتھ زیر بحث آجاتے۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ اور ’تفسیرابن کثیر‘ کا کچھ حصہ اور چاند کمپنی کے ترجمہ قرآن کی پروف ریڈنگ تو مجھے اچھی طرح یاد ہے، ان کے علاوہ کتابیں اور کتابچے بھی بہت تھے۔ چچاجان نے کتاب کی تلخیص و تالیف کا طریقہ بھی اسی دوران سمجھایا۔ مختلف انعامی تحریری مقابلوں میں حصہ لینے کی طرف رغبت دلائی اور میری کہانی کو ایک مقابلے میں پہلا انعام ملا تو بہت شاباشی ملی ۔ انہی دنوں وہ قرآن پاک کے ترجمے پہ (چاند کمپنی سے شائع شدہ) کام کر رہے تھے اس میں بھی مجھے شامل رکھا اور مجھے چچا جان اور چچی جان نے ترجمہ اور تفسیر اور حدیث پڑھائی۔ مختلف تراجم اور تفاسیر سے استنباط کی مشق کروائی۔
اس طرح سنجیدہ کتابوں کا مطالعہ میری زندگی کا حصہ بن گیا۔ (جاری ہے)
تبصرہ کریں