children learning with toys

پاکستان اور برطانیہ کے نظامِ تعلیم کا ایک تقابلی جائزہ

·

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنے مضمون ’اسلامی نظامِ تعلیم اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر‘ میں ہمارے نظامِ تعلیم کے ایک نہایت بنیادی نقص کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

’یہ تعلیم خدا پرستی اور اسلامی اخلاق سے تو خیر خالی ہے ہی، مگر غضب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں وہ بنیادی انسانی اخلاقیات تک پیدا نہیں کرتی جن کے بغیر کسی قسم کی دنیا میں ترقی کرنا تو درکنار، زندہ رہنا بھی مشکل ہے۔‘

اس کے بعد مولانا مودودیؒ نے رشوت خوری، خویش پروری، سفارش، بلیک مارکیٹنگ، ناجائز درآمد و برآمد، قانون شکنی، فرائض سے جی چرانے، حقوق العباد پامال کرنے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کرنے جیسے رویوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ہمارا نظامِ تعلیم ایسے افراد تیار کر رہا ہے تو پھر اس تعلیم کی حقیقی افادیت کیا ہے؟

یہ اقتباس آج سے کئی دہائیاں پہلے لکھا گیا تھا، مگر اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہمارے موجودہ معاشرے کا آئینہ ہو۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نظامِ تعلیم میں واقعی اخلاقی تربیت کا فقدان ہے؟ اور اگر ہے تو کیا دنیا کے دوسرے تعلیمی نظاموں نے اس مسئلے کا کوئی بہتر حل تلاش کیا ہے؟

اس سلسلے میں برطانیہ، بالخصوص انگلستان کے تعلیمی نظام کا مطالعہ ہمارے لیے خاصا مفید ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ برطانیہ کا ہر نوجوان لازماً سچا، دیانت دار، وقت کا پابند اور وعدے کا پاس رکھنے والا ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کا ہر نوجوان اس کے برعکس ہے۔ کسی معاشرے کے اخلاق پر گھر، خاندان، مذہب، قانون، ریاستی ادارے، پولیس، عدلیہ، معاشی نظام، کاروباری ماحول اور سماجی روایات سب اثرانداز ہوتے ہیں۔

تاہم ایک اہم فرق ضرور قابلِ غور ہے: انگلستان نے بنیادی انسانی اور شہری اقدار کو صرف نصابی اسباق تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اسکول کے ماحول، معمولات، عملی سرگرمیوں، شہری تربیت، اساتذہ کے کردار اور ادارہ جاتی نگرانی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

یہی پہلو ہمارے لیے خاص طور پر قابلِ غور ہے۔

ہماری ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اگر نصاب میں ’سچائی‘، ’امانت‘، ’دیانت داری‘، ’وقت کی پابندی‘ اور ’احترام‘ جیسے الفاظ شامل کر دیے جائیں تو کردار سازی کا کام مکمل ہوگیا۔ حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ بچہ ان اقدار کو صرف بیان کرنا سیکھتا ہے یا ان پر عمل کرنا بھی؟

مثلاً طالب علم امتحان میں لکھ سکتا ہے:سچ بولنا اچھی عادت ہے۔ لیکن اگر وہ امتحان میں نقل کرتا ہے، استاد اسے نظر انداز کرتا ہے، والدین اس کی غلط بیانی کو معمولی بات سمجھتے ہیں اور معاشرہ کامیابی کے لیے سفارش اور تعلقات کو جائز ذریعہ سمجھتا ہے تو کتاب کا سبق بچے کی شخصیت میں کہاں منتقل ہوا؟اسی طرح بچہ ’وقت کی پابندی‘ پر مضمون لکھ سکتا ہے، لیکن اگر اسکول کی اسمبلی وقت پر شروع نہ ہو، استاد کلاس میں تاخیر سے آئے، والدین بچے کو روزانہ دیر سے اسکول پہنچائیں اور ادارہ اس تاخیر کو معمول سمجھ لے تو بچے کے ذہن میں حقیقی سبق کیا محفوظ ہوگا؟

یہاں اصل فرق سامنے آتا ہے:اخلاقی تعلیم صرف یہ نہیں کہ بچے کو بتایا جائے کہ کیا اچھا ہے؛ اخلاقی تربیت یہ ہے کہ اسے اچھا عمل کرنے کی عادت بھی ڈالی جائے۔

انگلستان کے نظامِ تعلیم کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ کردار سازی کو محض ایک الگ مضمون کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ اسکول کے مجموعی curriculum اور ماحول میں بچوں کی اخلاقی، سماجی، ذہنی اور شہری نشوونما کو اہمیت دی جاتی ہے۔

قومی نصاب کے مقاصد میں بچوں کی spiritual, moral, cultural, mental and physical development اور انہیں آئندہ زندگی کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنا شامل ہے۔اسی طرح ابتدائی جماعتوں میں Relationships Education کے ذریعے بچوں کو احترام، مہربانی، دوسروں کا خیال، باری کا انتظار، سچائی، اپنی حدود اور دوسروں کے حقوق جیسے بنیادی رویے سکھائے جاتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہے۔بچے کو صرف یہ نہیں بتایا جاتا کہ:’سچ بولنا چاہیے۔‘بلکہ اس کے سامنے سوال رکھا جاتا ہے:

’گر تم سے غلطی ہوگئی ہے تو کیا کرو گے؟‘، ‘اگر تمہیں کسی دوسرے بچے کی چیز مل جائے تو کیا کرو گے؟‘،’اگر تمہارا دوست جھوٹ بول رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟‘،’اگر تم کسی سے اختلاف کرتے ہو تو اپنی بات کس طرح کہو گے؟‘یعنی اخلاقی قدر کو حقیقی صورتِ حال، فیصلہ سازی اور عملی رویے سے جوڑا جاتا ہے۔

کردار سازی کا ایک اہم اصول تسلسل ہے۔مثلاً اگر ’سچائی‘ کو ایک مرکزی قدر بنایا جائے تو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک اس کی سطح بتدریج بلند ہونی چاہیے۔

پہلی جماعت میں بچے سے پوچھا جاسکتا ہے:اگر تم نے پنسل توڑ دی تو کیا کرو گے؟اسے غلطی تسلیم کرنے کی عادت ڈالی جائے۔

تیسری جماعت میں سوال کچھ مشکل ہوجائے:علی غلطی سے دو پنسلیں گھر لے گیا، کسی کو معلوم بھی نہیں۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟

پانچویں جماعت میں معاملہ سماجی دباؤ سے جوڑ دیا جائے: ’تمہارے دوست نے امتحان میں نقل کی اور استاد نے تم سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ تم کیا کرو گے؟‘

ساتویں جماعت میں سوال کو  مزید پیچیدہ کردیاجائے: ’اگر سچ بولنے سے تمہارے دوست کو سزا مل سکتی ہو تو کیا پھر بھی سچ بولنا چاہیے؟‘

نویں جماعت میں سچائی کو ادارہ جاتی دیانت سے جوڑا جائے:اگر کسی سرکاری دفتر میں کوئی شخص اشارۃً کہے کہ کچھ اضافی رقم دے دیں تو کام جلد ہوجائے گا، آپ کیا کریں گے؟

گیارہویں یا بارہویں جماعت میں یہی اصول پیشہ ورانہ زندگی تک پہنچے: ’اگر آپ کسی ادارے کے سربراہ ہیں اور آپ کا قریبی رشتہ دار ملازمت کے لیے درخواست دیتا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‘

یہاں بچہ صرف ’سچائی‘ نہیں پڑھ رہا۔ وہ integrity، merit، conflict of interest، transparency اور accountability جیسے تصورات سمجھ رہا ہے۔ یہی کردار سازی کا تدریجی یا spiral approach ہے۔

ہم اکثر بچوں کو کہتے ہیں کہ ’وقت بہت قیمتی ہے‘، لیکن وقت کی قدر سکھانے کا سب سے مؤثر ذریعہ تقریر نہیں بلکہ ادارے کا اپنا معمول ہے۔ اگر اسکول میں اسمبلی مقررہ وقت پر شروع ہوتی ہے، کلاس مقررہ وقت پر شروع اور ختم ہوتی ہے، اسائنمنٹ کی آخری تاریخ مقرر ہے، لائبریری کی کتاب وقت پر واپس کرنی ہے، کھیل کی مشق وقت پر شروع ہوتی ہے اور مسلسل تاخیر کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں تو بچہ رفتہ رفتہ یہ سمجھتا ہے کہ وقت کی پابندی صرف امتحان کا سوال نہیں بلکہ زندگی کا اصول ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم اخلاقی تصور پیدا ہوتا ہے:میرے وقت کی طرح دوسرے انسان کا وقت بھی قیمتی ہے۔اسی لیے انگلستان میں attendance اور punctuality اسکول کے نظم و ضبط کا باقاعدہ حصہ ہیں اور اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے ادارہ جاتی نظام میں بھی ان امور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

وعدہ وفا بھی اسی طرح صرف ایک اخلاقی جملہ نہیں ہونا چاہیے۔ چوتھی جماعت کے بچے کو یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے:اس ہفتے کلاس کے پودوں کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے۔ہفتے کے آخر میں اس سے پوچھا جائے:

کیا میں نے اپنا کام کیا؟اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟کیا رکاوٹ پیش آئی؟اگلی مرتبہ میں کیا بہتر کروں گا؟

آٹھویں جماعت میں یہی اصول گروپ پروجیکٹ پر لاگو کیا جاسکتا ہے: ’میں نے تحقیق کا ایک حصہ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا میں نے اپنا وعدہ پورا کیا؟‘

بعد کی جماعتوں میں یہی چیز volunteer work، community service اور professional responsibilities تک پہنچ سکتی ہے۔اس طرح وعدہ → ذمہ داری → عمل → جائزہ → جواب دہی کا سلسلہ بنتا ہے۔

یہاں ہمارے نظامِ تعلیم کے لیے سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم بچوں کو صفائی سکھاتے ہیں، تو کیا اسکول میں انہیں صفائی کی ذمہ داری دی جاتی ہے؟ اگر ہم انہیں قانون پسندی سکھاتے ہیں تو کیا اسکول کے قوانین سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں؟ اگر ہم انہیں میرٹ سکھاتے ہیں تو کیا اسکول کے تمام مواقع واقعی میرٹ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں؟ اگر ہم انہیں امانت داری سکھاتے ہیں تو کیا امتحانی نظام میں نقل کے خلاف حقیقی اصول موجود ہیں؟ اگر ہم انہیں احترام سکھاتے ہیں تو کیا استاد طلبہ کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں؟

بچہ وہ کم سیکھتا ہے جو ہم اسے بتاتے ہیں، اور وہ زیادہ سیکھتا ہے جو وہ ہمیں کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔

اسی لیے استاد خود ایک چلتا پھرتا نصاب ہے۔کتاب میں لکھا ہے:وقت کی پابندی اچھی عادت ہے۔لیکن استاد روزانہ پندرہ منٹ دیر سے آتا ہے۔

کتاب میں لکھا ہے:انصاف کرو۔لیکن استاد پسندیدہ طلبہ کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے۔

کتاب میں لکھا ہے: ’دیانت داری اختیار کرو۔‘ لیکن امتحان میں نقل کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ بچہ کتاب کے بجائے کس بات کو قبول کرے گا؟اسی لیے character education کا کوئی بھی مؤثر نظام teacher modelling کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔اساتذہ کی تربیت میں بھی punctuality، fairness، assessment integrity، وعدہ پورا کرنا، احترام، شفافیت اور professional responsibility جیسے رویوں کو اہمیت دینی ہوگی۔

انگلستان کے citizenship curriculum میں democracy، government، rights and responsibilities، rule of law، justice system، Parliament، elections، volunteering اور responsible activity جیسے موضوعات شامل ہیں۔لیکن اصل اہمیت صرف ان موضوعات کے ناموں کی نہیں، بلکہ اس طریقۂ تعلیم کی ہے جس میں بچے کو سوال کرنے، دلیل دینے، اختلاف کرنے اور ذمہ دارانہ عمل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

مثلاً آٹھویں جماعت میں سوال ہوسکتا ہے: ’کیا ہر قانون لازماً عادلانہ ہوتا ہے؟‘نویں جماعت میں: ’اگر کسی قانون سے آپ متفق نہیں تو ایک شہری کیا کرسکتا ہے؟‘دسویں جماعت میں: ’پولیس، عدالت اور پارلیمنٹ کے کیا مختلف کردار ہیں؟‘گیارہویں جماعت میں: ’کسی پالیسی کے خلاف قانونی اور جمہوری طریقے سے آواز کیسے اٹھائی جاسکتی ہے؟‘اس طرح طالب علم محض ’شہریت‘ کا سبق یاد نہیں کرتا بلکہ ذمہ دار شہری بننے کی مشق کرتا ہے۔

کردار سازی کا ایک مؤثر ذریعہ Service Learning ہے۔بچوں کو معاشرے سے جوڑنا، انہیں دوسروں کے لیے کچھ کرنے کا موقع دینا اور پھر اس تجربے پر غور کرانا ان کی شخصیت میں ذمہ داری، ہمدردی، تعاون اور civic responsibility پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

طلبہ اسکول کی لائبریری کی ذمہ داری سنبھالیں؛بزرگوں کی مدد کا منصوبہ بنائیں؛محلے یا اسکول کے ماحول کی صفائی کریں؛شجرکاری مہم چلائیں؛ضرورت مندوں کے لیے اشیائے ضرورت جمع کریں؛نئے طلبہ کی رہنمائی کریں؛مقامی مسئلے پر سروے کرکے رپورٹ تیار کریں۔لیکن یہاں بھی صرف سرگرمی کافی نہیں۔سرگرمی کے بعد بچے سے پوچھا جائے:

آپ  نے کیا کیا؟کس کو فائدہ پہنچا؟آپ کو کون سی مشکل پیش آئی؟آپ نے اپنے بارے میں کیا سیکھا؟اگر دوبارہ موقع ملے تو آپ  کیا مختلف کریں گے؟

عمل + تجربہ + غور و فکر = تربیت۔

 یعنی محض کسی اچھی قدر کے بارے میں جان لینا کافی نہیں۔ جب طالب علم کسی قدر کو عمل میں برتتا ہے، اس عمل سے تجربہ حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے تجربے پر غور و فکر کرتا ہے تو یہی عمل آہستہ آہستہ اس کے اندر تربیت اور کردار کی تشکیل کا ذریعہ بنتا ہے۔

مولانا مودودیؒ کے مذکورہ اقتباس کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کے بڑے اخلاقی مسائل کو نصاب میں شامل کرنا چاہیں تو ’رشوت‘ ایک بہترین مثال ہوسکتی ہے۔ نویں یا دسویں جماعت میں صرف یہ نہ پڑھایا جائے: ’رشوت ایک بری چیز ہے۔‘بلکہ پورا سبق عملی نوعیت کا ہو۔

پہلا مرحلہ: رشوت کیا ہے؟دوسرا مرحلہ: رشوت، جائز فیس، تحفہ اور کمیشن میں کیا فرق ہے؟تیسرا مرحلہ: ایک حقیقی صورتِ حال: ’آپ کا سرکاری کام کئی دن سے رکا ہوا ہے۔ اہلکار کہتا ہے کہ کچھ چائے پانی کا انتظام کردیں تو کام ہوجائے گا۔ آپ کیا کریں گے؟‘چوتھا مرحلہ: Role Playایک طالب علم شہری، دوسرا سرکاری اہلکار، تیسرا نگران افسر اور چوتھا صحافی بنے۔ پانچواں مرحلہ: بحث  مباحثہ:رشوت سے میرٹ، انصاف، معیشت، اداروں اور عوام کے اعتماد پر کیا اثر پڑتا ہے؟چھٹا مرحلہ: اسلامی زاویہ  نگاہ: قرآن و حدیث اور اسلامی قانون کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھا جائے۔ ساتواں مرحلہ: شہریت کا نقطہ نگاہ:قانونی اور اخلاقی طور پر رشوت کے خلاف کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟آخر میں طالب علم سے پوچھا جائے:

’اگر مستقبل میں آپ کو رشوت کے دباؤ کا سامنا ہو تو آپ اس صورتِ حال سے کیسے نمٹیں گے؟‘

یہ اخلاقی تعلیم ہے۔صرف ’رشوت حرام ہے‘ لکھ دینا اخلاقی تربیت نہیں۔

یہاں ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔پاکستان کے موجودہ قومی نصاب میں بھیکردارسازی (Character Education) کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔کردارسازی کے نصاب (Character Education Curriculum) میں دیانت داری (Honesty)، راست گوئی (Truthfulness)، امانت داری (Integrity)، انصاف (Fairness)، محنت (Hard Work)، ذمہ داری (Responsibility)، قانون کی پاس داری (Rule of Law)، بدعنوانی سے اجتناب (Resistance to Corruption)، رواداری (Tolerance)، انسانی حقوق (Human Rights)، جمہوریت (Democracy)، سماجی ہم آہنگی (Social Cohesion) اور شہری ذمہ داری (Civic Responsibility) جیسے موضوعات شامل ہیں۔یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستانی نصاب میں اخلاقی اقدار کے نام موجود نہیں۔مسئلہ زیادہ تر یہ ہے کہ ان اقدار کو مسلسل عملی تربیت، اسکول کلچر، استاد کے کردار، assessment اور ادارہ جاتی accountability سے کس حد تک جوڑا گیا ہے۔

یہ فرق نہایت اہم ہے۔ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کی اصلاح کے لیے ہر چیز مغرب سے درآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اپنے نصاب میں پہلے سے موجود اخلاقی مقاصد کو زیادہ مربوط اور عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

’اقدار‘ کو SLO میں تبدیل کرنا ہوگا۔مثلاً اگر قدر Honesty ہے تو موجودہ انداز میں SLO کچھ یوں ہوسکتا ہے: ’طالب علم سچائی کی اہمیت بیان کرسکے۔‘یہ ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔اس کے ساتھ دوسرا درجہ مہارت (skill) ہونا چاہیے:طالب علم مختلف اخلاقی صورتِ حال میں سچائی اور دیانت داری کی بنیاد پر مناسب فیصلہ کرسکے۔ اور تیسرا درجہ Behavior ہونا چاہیے۔ طالب علم روزمرہ زندگی میں اپنی غلطی تسلیم کرنے، نقل سے اجتناب کرنے، دوسروں کی چیز واپس کرنے اور غلط بیانی سے بچنے کا عملی رویہ ظاہر کرے۔ یہ تیسرا حصہ ہماری خاص توجہ کا محتاج ہے۔

اگر ہم واقعی اپنے نظامِ تعلیم کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کردار سازی کی ایک باقاعدہ Vertical Progression تیار کی جاسکتی ہے۔مثلاً:

جماعت اول: اپنی اور دوسرے کی چیز میں فرق              جماعت دوم: سچ بولنا

جماعت سوم: غلطی تسلیم کرنا                        جماعت چہارم: وعدہ پورا کرنا

جماعت پنجم: نقل سے انکار                                        جماعت ششم: دوستوں کے دباؤ میں صحیح فیصلہ

جماعت ہفتم: قواعد و ضوابط کی پابندی                              جماعت ہشتم: انصاف اور میرٹ

جماعت نہم: رشوت اور بدعنوانی کی پہچان                  جماعت دہم: مفادات کا ٹکراؤ (Conflict of Interest)

جماعت یازدہم: عوامی مال اور عوامی ذمہ داری           جماعت دوازدہم: پیشہ ورانہ دیانت، جواب دہی اور whistleblowing

اس طرح ایک ہی قدر ہر سال نئے اور زیادہ پیچیدہ درجے میں دہرائی جا ئے گی۔

ہر قدر کے لیے پانچ مراحل ہیں ۔کردار سازی کے لیے ایک سادہ مگر مؤثر ماڈل اختیار کیا جاسکتا ہے:

اول: Story — کہانی                                        قرآن، سیرت، تاریخ، ادب یا حقیقی زندگی کا واقعہ۔

دوم: Moral Dilemma — اخلاقی کشمکش              ’’اگر تم اس صورتِ حال میں ہوتے تو کیا کرتے؟‘‘

سوم: Role Play — کردار ادا کرنا۔                  طلبہ اس صورتِ حال کو خود enact کریں۔

چہارم: Real-life Practice — عملی مشق                ایک ہفتے یا ایک ماہ تک متعلقہ قدر پر عملی سرگرمی۔

پنجم: Reflection — محاسبہ:                      طالب علم لکھے:میں کہاں کامیاب ہوا؟کہاں ناکام ہوا؟

ناکامی کی وجہ کیا تھی؟آئندہ میں کیا بہتر کروں گا؟

یہ پانچ مراحل کسی بھی اخلاقی قدر کو محض ’سبق‘ سے ’عادت‘ میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کردار سازی اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک assessment کا طریقہ بھی نہ بدلے۔

اگر سوال ہو: ’Integrity کی تعریف لکھیں۔‘تو طالب علم تعریف یاد کرکے لکھ دے گا۔لیکن اگر سوال ہو: ’آپ کے دوست نے امتحان میں نقل کی۔ استاد نے آپ سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ آپ کیا کریں گے؟ اپنے جواب کی تین وجوہ بیان کریں۔‘

تو یہاں اخلاقی reasoning سامنے آئے گی۔اسی طرح self-assessment، peer assessment، teacher observation، projects، service learning اور reflection journals کو بھی مناسب حد تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔البتہ یہاں احتیاط ضروری ہے۔ ہر اخلاقی سرگرمی کو ’ثابت شدہ‘ character-building intervention قرار دینا علمی طور پر درست نہیں۔ character education کے بعض طریقوں کے بارے میں تحقیقی شواہد ابھی اتنے قطعی نہیں جتنے بعض بنیادی academic interventions کے بارے میں ہیں۔ اس لیے ہمیں جذباتی دعووں کے بجائے evidencebased curriculum design اختیار کرنا چاہیے۔

یہاں آکر مولانا مودودیؒ کی تنقید کی اصل معنویت سامنے آتی ہے۔ہمیں برطانیہ سے طریقۂ تربیت اور ادارہ جاتی mechanisms سیکھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسلامی نظامِ تعلیم کا مقصد اس سے کہیں وسیع ہے۔ مغربی character education میں honesty، responsibility، justice، respect، citizenship اور integrity جیسی اقدار اہم ہوسکتی ہیں۔ اسلام بھی ان سب اقدار کو اہمیت دیتا ہے، مگر اسلامی تصورِ اخلاق کی بنیاد صرف سماجی مفاد نہیں۔

اسلامی نظامِ تعلیم میں:عقیدہ → اللہ کی جواب دہی → تقویٰ → اخلاقی قدر → عملی عادت → حقوق العباد → آخرتایک مربوط سلسلہ بناتا ہے۔مسلمان سچ اس لیے نہیں بولتا کہ صرف معاشرہ اسے اچھا سمجھے، بلکہ اس لیے بھی کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ امانت میں خیانت اس لیے نہیں کرتا کہ صرف قانون اسے سزا دے سکتا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اسے معلوم ہے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔ وہ رشوت اس لیے نہیں لیتا کہ اس کے ادارے میں نگرانی کا نظام موجود ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ حلال و حرام کا شعور اس کے اندر موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی character education اپنی منفرد بنیاد حاصل کرسکتی ہے۔

ہمیں برطانیہ کی نقل نہیں، اپنا بہتر نظام بنانا ہے۔ اس پورے تقابلی جائزے سے میرے نزدیک سب سے اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے:’کیا انگریز ہم سے زیادہ بااخلاق ہیں؟‘بلکہ ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے: ’ہم اپنے بچوں میں مطلوبہ اخلاقی اوصاف پیدا کرنے کے لیے کون سا منظم تربیتی نظام قائم کررہے ہیں؟‘

اگر برطانیہ نے وقت کی پابندی کو اسکول کے روزمرہ معمولات، شہری ذمہ داری کو نصاب، اچھے رویّے کو اسکول کے مجموعی ماحول، رضاکارانہ خدمت کو عملی تجربے اور شخصیت سازی کو ادارہ جاتی جائزےسے جوڑنے کی کوشش کی ہے، تو ہمیں بھی غورکرنا ہوگا کہ صدق، امانت، عدل، احسان، حیا، ذمہ داری، قانون پسندی، وقت کی پابندی، میرٹ، مالی دیانت، خدمتِ خلق اور حقوق العبادجیسی اقدار کو محض کتابوں کے صفحات تک محدود رکھنے کے بجائےطلبہ کی عملی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے۔

ہمیں ایسا نظامِ تعلیم درکار ہے جس میں:سبق بھی ہو، مشق بھی؛معلومات بھی ہوں، عادات بھی؛امتحان بھی ہو، محاسبہ بھی؛استاد بھی پڑھائے اور خود نمونہ بھی بنے؛اسکول بھی تعلیم دے اور اسکول کا ماحول بھی تربیت کرے۔اور سب سے بڑھ کر:اخلاقی اقدار پہلی جماعت میں متعارف ہوکر بارہویں جماعت میں ختم نہ ہوجائیں، بلکہ ہر اگلی جماعت میں زیادہ گہری، زیادہ پیچیدہ اور زیادہ عملی شکل اختیار کرتی جائیں۔

مولانا مودودیؒ نے جس ’اخلاق سے خالی تعلیم‘ کا مسئلہ کئی دہائیاں پہلے بیان کیا تھا، اس کا حل صرف نصاب میں چند نئے ابواب شامل کرنا نہیں۔ حل یہ ہے کہ ہم تعلیم کو معلومات کی منتقلی سے شخصیت سازی کے عمل میں تبدیل کریں۔ ایسی تعلیم جو بچے کو یہ بتائے کہ سچ کیا ہے، وہ ضروری ہے۔لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری ایسی تعلیم ہے جو اسے سچ بولنے والا انسان بنائے۔ ایسی تعلیم جو اسے امانت کی تعریف بتائے، مفید ہے۔لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہ امانت دار بن کر زندگی گزارے۔ ایسی تعلیم جو قانون کی اہمیت سمجھائے، اچھی ہے۔لیکن مطلوبہ تعلیم وہ ہے جو اسے قانون کی پاسداری کرنے والا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا شہری بنائے۔اور یہی شاید ہمارے نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا امتحان ہے:

ہمارے  تعلیمی نظام سے کتنے لوگ ڈگریاں حاصل کرکے نکل رہے ہیں، یہ اہم ضرور ہے؛ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کس کردار کے انسان بن کر معاشرے میں داخل ہو رہے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے تعلیمی نظام میں دوبارہ تلاش کرلیا جائے تو شاید مولانا مودودیؒ کے اس دیرینہ  سوال کا ایک نیا اور زیادہ مؤثر جواب بھی ہمارے سامنے آ سکے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں