majestic Karnak Temple Complex

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (5)

·

ہم رات تقریباً آٹھ، ساڑھے آٹھ بجے امیگریشن سے فارغ ہوئے۔ وہیں سے ہم نے سعودی ریالوں کے بدلے مصری کرنسی ایکسچینج کروائی۔

حسن کا خیال تھا کہ رات غرقدہ (Hurghada) میں ہی قیام کیا جائے اور آرام کر کے کل اگلی منزل، یعنی الاقصر شہر، کی طرف کوچ کیا جائے، لیکن اس سے ہمارا ایک پورا قیمتی دن ضائع ہو جاتا۔ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت، اس لیے طے یہ پایا کہ آگے نکلا جائے۔ الاقصر سے غرقدہ کا ہوائی فاصلہ 210کلومیٹر ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم بہ آسانی اگلے دو سے تین گھنٹے میں الاقصر پہنچ سکتے تھے، پھر تاخیر چہ معنیٰ دارد؟

لیکن امیگریشن اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ہم کوئی ساڑھے دس بجے غرقدہ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ معلوم ہوا کہ رات کے اس پہر الاقصر کے لیے براہِ راست ٹرانسپورٹ ملنی مشکل ہے۔ ٹیکسی والے جہاز کا کرایہ مانگ رہے تھے۔ ہم نے ان سے معذرت کر کے قنا کے لیے وین پکڑی، جو وہاں مائیکروبس کہلاتی تھی۔ قنا خطے کا مرکزی شہر ہے اور الاقصر سے کوئی ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سوچا، قنا پہنچ کر دیکھا جائے گا، آگے کی منزل کیسے طے کی جائے۔

کراچی جیسی سڑکیں اور کراچی کی منی بسوں جیسا ہی ڈرائیور۔ اس خطرناک حد تک تیز رفتار ڈرائیونگ سے حظ اٹھاتے ہوئے، ہم ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے گزرتے ہوئے رات تین بجے قنا پہنچے تو بچوں اور حسن کے علاوہ ہم بھی تھکن سے چور ہو چکے تھے۔ تھکن کی ایک بڑی وجہ قوالی اور پاپ میوزک کے ملاپ سے پیدا ہونے والی وہ تیز موسیقی تھی، جس سے مائیکروبس کا ڈرائیور پتا نہیں لطف اندوز ہو رہا تھا یا نیند سے بچاؤ کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

قنا کے سنسان بس اسٹینڈ پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کے علاوہ دور دور تک ہمارے استقبال کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ ہم نے عاجزی سے مجبور ہو کر اس استقبال کو غنیمت جانا اور پچاس مصری پاؤنڈ کے عوض الاقصر کے مشرقی کنارے کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔

قنا سے الاقصر کے سفر میں، دورانِ سفر، نیل سے نکلی ہوئی لاتعداد نہریں ہماری ہم رکاب تھیں۔ پورے چاند کی روشنی میں ان کے کنارے گھنے کھیت نیل کی مٹی کی زرخیزی کا پتا دے رہے تھے۔ سڑک پر دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آ رہی تھی، مگر حسنی مبارک کی تصاویر جا بجا مصری قوم کی اپنے ڈکٹیٹر سے محبت کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کر رہی تھیں۔ یہ بالی ووڈ فلموں کی طرح مر مٹنے والی محبت صرف مشرقِ وسطیٰ کے ہی لیڈروں کے حصے میں آتی ہے، ورنہ امریکا اور یورپ کے عوام کو اس کا کیا ذوق؟ پھر یاد دلا دیں کہ یہ سن 2007 تھا۔

ٹیکسی کی بند کھڑکیوں سے بھی سردی اپنے وجود کا احساس دلا رہی تھی۔ سونے کے لیے ایک آرام دہ بستر کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی اور ہم اپنی منزل، الاقصر کے قابلِ دید مقامات، کے بجائے نیوبیا اوئیسس ہاسٹل کے بارے میں سوچ رہے تھے، جہاں ہم نے کمرہ بک کروا رکھا تھا۔ دل ہی دل میں ہم اپنے ایڈونچر کی خاطر بچوں اور حسن کو اس طرح بے آرام کرنے پر پشیمانی بھی محسوس کر رہے تھے۔ اب قارئین ہمارے لچکدار پروگرام کی پیچیدگیوں کو کچھ کچھ سمجھنے کے قابل ہو گئے ہوں گے۔

آج ہم ان سطور کو تحریر کرتے وقت یہ سوچ رہے ہیں کہ قنا سے الاقصر کے اس سفر کے دوران، اس ویران رات میں، ہمارے ساتھ کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا؟ ٹیکسی ڈرائیور اگر کسی مقام پر ہمیں لوٹنے کی کوشش کرتا تو اللہ کے سوا ہمیں بچانے والا کون تھا؟ یا اگر قنا کے بس اسٹاپ پر وہ واحد ٹیکسی والا موجود ہی نہ ہوتا اور ہمیں وہیں صبح کرنی پڑتی؟ اس حوالے سے ہمارے تجربات کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کا ان سے بڑھ کر خیال رکھنے والا ہے۔ وہ ہمارے لیے محفوظ راستہ کہیں نہ کہیں سے نکال لیتا ہے، ایسے کہ ہم آنے والی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں کر پاتے اور اس کا حل تیار ہوتا ہے۔

مصر عمومی طور پر سیاحوں کے لیے محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے۔ کم از کم 2007ء میں یہ بہت محفوظ تھا، حالانکہ شرم الشیخ، مملوک دور کی تعمیر کردہ قاہرہ کی خان الخلیلی، کے علاوہ الاقصر کے مغربی کنارے پر خاتون فرعون حتشپسوت کے مندر پر بھی اس سے پیشتر دہشتگرد حملے ہو چکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے الاقصر سے اسکندریہ تک مصر کو مغربی ممالک کی طرح ہی محفوظ پایا، اور یہی اس دور میں مغربی سیاحوں کی رائے تھی جو مصر کا سفر کر چکے تھے۔ یہاں تک کہ مغربی ٹورسٹ ویب سائٹس، ٹریپ ایڈوائزر اور ورچوئل ٹورسٹ، اکیلی خواتین سیاحوں کے لیے بھی مصر کو محفوظ قرار دیتی تھیں، گو انہیں مناسب ڈریس کوڈ وغیرہ کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ اسی دور میں یہی مشورہ ہندوستان کے ثقافت کے وزیر نے تاج محل دیکھنے آگرہ آنے والی مغربی خواتین کو بھی دیا تو ایک شور سا مچ گیا کہ وزیر صاحب انہیں برقعہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیر، یہ تو جملۂ معترضہ ہے۔

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک(2)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (3)

سفر نامہ مصر: بحیرۂ احمرکے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (4)


فجر سے کچھ قبل ہم الاقصر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ شہر دریائے

نیل کے مشرقی کنارے پر ہے اور فراعنہ کے مندر اور زیرِ زمین مقبرے مغربی کنارے پر۔ مگر شہر کے بیچوں بیچ الاقصر کا مندر دورِ فراعنہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے موجود ہے، اور مندر کے اندر قرونِ وسطیٰ کی ایک مسجد بھی۔ شہر کو اندھیرے نے گھیر رکھا تھا، مگر پھر بھی الاقصر کے عالی شان مندر کے دیوہیکل ستون دور سے ہیبت کا منظر پیش کر رہے تھے۔ ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ ہم عرصۂ دراز سے جن کھنڈرات کی خاک چھاننے کے لیے مچل رہے تھے، وہ آج نظروں کے سامنے تھے۔

ہاسٹل ڈھونڈنے کے چکر میں ہم نے ٹیکسی میں چھوٹے سے شہر کے کوئی تین چکر لگا لیے۔ فجر کے وقت تھوڑی روشنی پھیلنے پر دو نوجوان بڑے بڑے پروفیشنل کیمرے لیے الاقصر کے مندر کے باہر نظر آئے، مگر شارعِ فرید کا پتا ندارد۔ آخرکار نائٹ ڈیوٹی کرنے والے ایک گارڈ نے ہماری رہنمائی کی اور ہم وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جہاں سے ہم دو دفعہ پہلے بھی گزر چکے تھے۔

پتلی مگر لمبی سی گلی اور آس پاس ہو کا عالم۔ نیوبیا اوئیسس ہاسٹل — ’آپ کا دوسرا گھر‘ — کا نیون سائن ٹرانسپیرنٹ شیشے کی دیوار پر اندھیرے میں بھی جگمگا رہا تھا۔ اندر نہ آدم نہ آدم زاد۔ پتا نہیں ہمارے خوف نے در و دیوار کو ویران کر دیا تھا یا غلطی ہماری اپنی تھی کہ بے وقت شہر میں داخل ہوئے۔ کھٹکھٹانے پر ایک سیاہ فام لڑکا آنکھیں ملتا باہر آیا۔ انگریزی میں یہ بتانے پر کہ ہم فون پر ہاسٹل بک کروا چکے ہیں، اس نے ہمارے مندرجات نوٹ کیے اور بغیر کچھ کہے ہمارا سامان اٹھا کر اوپر لے گیا۔

تیسرے فلور پر پہنچ کر اس نے کمرہ کھولا۔ کمرہ دیکھ کر طبیعت خوش ہو گئی۔ وال ٹو وال کارپٹ، کلف لگی سفید چادروں میں ملبوس بیڈ، صاف و شفاف تولیے، اور اٹیچڈ باتھ — ہمیں اور کیا چاہیے تھا؟ گو عمارت پرانی تھی اور ہاسٹل کی ظاہری حالت اچھی نہ تھی، مگر بڑی تعداد میں مغربی سیاحوں کی آمد و قیام کے سبب ان ہاسٹلوں کو سروس کا معیار بہتر بنانا پڑتا ہے۔ الاقصر شہر، بلکہ سارے مصر میں، ایسے کئی بیک پیکرز ہاسٹل ہیں۔ ہم نے نیٹ پر ریویوز کی بنیاد پر اس ہاسٹل کا انتخاب کیا تھا۔

محمد ہمارا سامان رکھ کر واپس جا رہا تھا کہ ہم نے آواز دے کر ناشتے کے بارے میں دریافت کیا۔ ناشتہ صبح آٹھ بجے، (اور ابھی چھ بھی نہیں بجے تھے) اور کچن؟ ہم نے بچوں کی دودھ کی بوتلیں دکھائیں۔ ہماری چار سے سات سالہ تینوں بیٹیاں خیر سے فیڈر سے ہی دودھ پیتی تھیں۔ وہ ہمیں چھت پر لے گیا۔ وسیع روف ٹاپ نیوبیا کے روایتی رنگوں کے امتزاج سے سجائی گئی تھی۔ افریقی انداز کا اوپن ایئر ریسٹورنٹ، فرش سے کوئی ڈیڑھ فٹ اونچا کشادہ ٹی وی لاؤنج، دبیز قالین اور بھاری بھرکم کشن سے مزین فرش، شیشے کے دروازے والا چھوٹا سا فریج، جس میں شراب کی بوتلیں جھانک رہی تھیں۔ یاد آیا کہ ہم حجاز کی سرزمین چھوڑ کر افریقہ میں داخل ہو چکے ہیں۔

غنیمت، کچن کا فریج اُمّ الخبائث سے پاک تھا۔ جیلی کے پیکٹ، ڈبل روٹی، دودھ اور ناشتے کا سامان، تازہ پھل وغیرہ، وافر مقدار میں موجود تھے۔ محمد سے پوچھ کر ہم نے ڈبل روٹی کے کچھ ٹکڑے، جیلی کے پیکٹ اور پھل وغیرہ اٹھائے تاکہ پیٹ کی آگ کو کچھ تو ٹھنڈا کر سکیں، جو ساری رات کے سفر کے بعد اب شدت سے ہمارے حضور گڑگڑا رہی تھی۔ واپس کمرے میں آ کر دودھ بچوں کے حوالے کیا، اور ہم نے اور حسن نے دو چار لقمے زہر مار کیے اور سونے لیٹ گئے۔

صبح کی روشنی کے ساتھ نیچے بازار کا شور بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلند ہوتا گیا اور اس کی مناسب مقدار کمرے کی واحد کھڑکی کے ذریعے اوپر پہنچتی رہی، لیکن ہم اس سے بے نیاز، ڈھیٹ بن کر، صبح دس بجے تک اپنی نیند پوری کرتے رہے۔

بچوں کو اٹھانے اور تیار کرنے کے بعد ناشتے کے لیے اوپر گئے تو ایک کورین لڑکی کو محمد کے ساتھ تیزی سے ناشتہ تیار کرتے پایا۔ ناشتے میں ڈبل روٹی، آملیٹ، پنیر، تازہ پھل، جیلی، اورنج جوس اور چائے شامل تھے۔ ہم نے بھی اگلے پچھلے سارے بدلے نکال ڈالے۔ سفر سے بچوں کی بھوک کھل چکی تھی اور وہ بھی اوپن ایئر ڈائننگ اسپیس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

ہمارے ساتھ ناشتے پر مغربی خواتین اور مرد سیاح موجود تھے۔ ایک دو خواتین سے مختصر گفتگو رہی۔ اب ہم اپنی پسندیدہ منزل کارنک جانے کے لیے تیار تھے۔ یاد رہے، یہ رامسس دوم نامی فرعون کے دور میں مصر کا مرکزِ حکومت تھا۔ اس فرعون کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اسی فرعون کے گھر حضرت موسیٰؑ کی پرورش ہوئی۔ کارنک مصر کا سب سے عالی شان مندر ہے، جس کی تعمیر میں دوسرے فراعنہ کے ساتھ ساتھ رعمسیس دوم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا، لیکن خیالِ اغلب ہے کہ قرآن میں جہاں جادوگروں سے حضرت موسیٰؑ کا مقابلہ کروانے کے لیے تمام شہر جمع ہوا، وہ یہی کارنک ہو گا۔ اور نہ بھی ہوا تو ہمارے تخیل کی پرواز تو یہی کہہ رہی تھی۔

چلیں، آپ کو کارنک لے چلتے ہیں، جو ہمارے نزدیک قاہرہ کے نواح میں موجود اہرامِ فراعنہ سے بھی زیادہ حیرت انگیز تعمیر ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں