سفر نامہ مصر: بحیرۂ عرب کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (3)

·

احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ بحرِ احمر کی موجوں پر

مصر کا ہمارا یہ دوسرا سفر تھا۔ اس سے قبل ہم لندن جاتے ہوئے قاہرہ میں مختصر قیام کے دوران اہرامِ مصر، الازہر یونیورسٹی، اسلامی قاہرہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ دریائے نیل میں قلوپطرہ نامی ایک بحری بجرے پر آدھی رات بھی گزار چکے تھے۔ ہمارا موجودہ سفر پچھلے سفر سے اس طرح مختلف تھا کہ یہ کوئی فائیو اسٹار ٹرپ نہیں تھا، جس میں ہم نے اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ائیرپورٹ سے ہی سٹی ٹور کے لیے امریکی ڈالرز میں خطیر رقم ادا کی اور وہیں سے ٹور کمپنی نے ڈرائیور کم انگلش اسپیکنگ گائیڈ ہمارے ساتھ کر دیا۔ اس مختصر سفر کے تجربات سے ہم نے جو کچھ سیکھا، اس کے بعد ہم نے بھول کر بھی کبھی پیکج ٹور کا نام نہ لیا۔

یہ ہمارا اپنا ترتیب دیا ہوا عوامی پیکج تھا، جس میں ہم نے موو اینڈ پک ائیرپورٹ ریزورٹ کے بجائے مغربی طرز کے بیک پیکنگ ہاسٹلز، جو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ بھی کہلاتے ہیں، کو ترجیح دی۔ اس نوعیت کی رہائش کے کم خرچ بالانشیں ہونے کے ثبوت ہم مناسب مقامات پر واضح کرتے جائیں گے۔ اب تو بکنگ ڈاٹ کام اور ایئر بی این بی کی وجہ سے بہت آسانیاں ہو گئی ہیں رہائش کے آپشن کے حوالے سے۔ اس وقت ہم نے ٹرپ ایڈوائزر اور ورچوئل ٹورسٹ وغیرہ جیسی ٹورسٹ ویب سائٹس پر سیاحوں کے ریویوز  سے مدد لی جن کی تلاوت ہم اس دور میں بہت کرتے تھے- یاد رہے یہ ٢٠٠٧ کا سال تھا اور نومبر کا مہینہ تھا۔ یوں سفر سے قبل ہم الاقصر، قاہرہ اور اسکندریہ میں ہاسٹلز بذریعہ انٹرنیٹ بک کروا چکے تھے اور سفر کا ’لچکدار‘ پلان پوری طرح تیار تھا۔

یعنی احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ

ٹریول ایجنسی کے ترتیب کردہ سفر، انفرادی سفر کے مقابلے میں آسان ہوتے ہیں، لیکن اس میں جو انحصار آپ کو اپنے گائیڈ یا ٹور کمپنی پر کرنا پڑتا ہے، وہ بعض اوقات آپ کو خوار کروا دیتا ہے۔ بسا اوقات، بلکہ مسلم ممالک میں ہمیشہ، یہ آپ کو زبردستی مخصوص دکانوں پر لے جاتے ہیں، جہاں آپ کی شاپنگ پر دکانداروں سے ان کا کمیشن طے ہوتا ہے اور آپ کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ چونکہ آپ کے ساتھ عموماً دیگر افراد بھی ہوتے ہیں، اس لیے آپ اپنی مرضی سے پروگرام میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی، جیسا ہم نے بتایا، ہمیں ابنِ بطوطہ بننے کے شوق نے اردو اور انگریزی دونوں کا سفر خوب کروایا، اور الحمدللہ آج تک کروا رہا ہے۔

اگر آسانیاں ہوں، زندگی دشوار ہو جائے

ہمارے سفری مرشد ابنِ بطوطہ نے بھی مراکش سے حج کے سفر کے لیے کارواں کے بجائے صحرا میں اکیلے پُرخطر سفر کو ترجیح دی تھی۔ وہ مراکش سے حج کے لیے نکلے اور پلان میں معمولی تبدیلیوں کے سبب تقریباً تیس سال بعد گھر واپس لوٹے۔ درمیان میں اکیلے سفر کی لچک کا فائدہ اٹھا کر چین، ہندوستان، انڈونیشیا اور جانے کہاں کہاں مارے مارے پھرے۔ ایک یورپی مصنف کے مطابق، ریل گاڑی کی ایجاد سے پہلے اتنا لمبا سفر دنیا کے کسی اور سیاح نے نہیں کیا۔ کوئی ٹور پیکج لیا ہوتا تو چند سیلفیز لے کر اور چند دکانوں سے سووینئر خرید کر چند روز میں مراکش واپس چلے گئے ہوتے۔ بزعمِ خود ہم بھی اپنے آپ کو قرونِ وسطیٰ کے اس سیاح کا سفری وارث تصور کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں الله نے مراکش کے شہر طنجہ میں ان کے مزار پر بھی حاضری کا موقعہ دیا جو ہماری بہت پرانی خواہش تھی مگر اس کا تذکرہ پھر سہی۔
مصر کا ہمارا موجودہ سفر بھی بنجاروں کا سفر تھا، مگر پہلے سے بلا مبالغہ چالیس پچاس گنا زیادہ دیکھنے کا موقع ملا اور مقامی آبادی سے کھل کر تبادلۂ خیال بھی ہوا۔ گو وقت بھی زیادہ تھا، یعنی پانچ دن کی رخصت میں دو ویک اینڈز ملا کر پورے نو دن۔ یہ واضح تھا کہ ہم ہر تاریخی مقام اس مختصر وقت میں نہیں دیکھ سکیں گے۔ 

مملکت میں ویک اینڈ بدھ کے روز سے شروع ہو جاتا ہے۔ اتفاق سے ایک فیری، یا چھوٹا بحری جہاز کہہ لیں، بدھ کی دوپہر مصر کے لیے نکل رہا تھا، اس میں بکنگ کروالی گئی۔ ہم حسن کے ہسپتال سے واپسی کا انتظار کر رہے تھے کہ مینائے ضبا، یعنی ضبا پورٹ، پر ملازمت کرنے والے پاکستانی دوستوں نے اطلاع دی کہ جلدی پہنچیں، جہاز روانہ ہونے والا ہے، اور ہم اسے سمجھا بجھا کر روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک تو قارئین سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ جہازوں، ٹرینوں اور بسوں کو مس (انگریزی والا) کرنا ہماری تاریخی عادت رہی ہے۔ بندرگاہ پہنچے تو واقعی چیک اِن کرنے والے آخری مسافر ہم ہی تھے۔

امیگریشن سے فارغ ہوکر پورٹ کی بس کے ذریعے فیری ٹرمینل پہنچے۔ ریڈ سی جیٹ نامی اس تیز رفتار فیری میں، جو عقبہ کے علاوہ شرم الشیخ بھی جاتی تھی، ٨٠٠ مسافروں اور ١٧٣ گاڑیوں کی گنجائش تھی۔ حسن نے انتظامی پیچیدگیوں، راستوں اور عربی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر گاڑی نہ لے جانے کا فیصلہ کیا، جو الحمدللہ بہت مناسب ثابت ہوا۔ تقریباً ساڑھے تین بجے فیری نے بندرگاہ چھوڑی۔

سفر شروع ہوا تو بچے جہاز کے مختلف حصوں میں گھومتے رہے۔ دور دور تک نیلا اور کہیں کہیں ہرا مائل سمندر، آسمان پر ہلکے بادل، جہاز کا سفید رنگ، ہمارا عزم اور ولولہ بیدار ہو گیا۔ دھوپ میں پانی پگھلی ہوئی چاندی کی مانند چمک رہا تھا۔ بچے بحری سفر کے لیے بہت پُرجوش تھے، اور ان سے زیادہ ہم خود۔ اور دل ہی دل میں ہم یہ دعا کر رہے تھے کہ بچے اور حسن اس بیک پیکنگ ٹرپ کو بھرپور انجوائے کریں، وگرنہ مستقبل میں ہماری آوارہ گردی پر مبنی منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد موبائل سگنلز بند ہو گئے۔ پھر مصر سے اورنج موبائل کے ذریعے “Welcome to Egypt” کا میسج آیا اور رومنگ شروع ہوگئی۔ برطانیہ سے یورپ چار مرتبہ انگلش چینل کراس کرنے کا موقع ملا، لیکن اتفاق سے ہر دفعہ رات کا وقت ہوتا، جس کے سبب نظارہ فوت ہو جاتا۔ آج جی بھر کے سمندر کے بیچوں بیچ ڈوبتے سورج کے نظارے کا موقع ملا۔ شمالی عرب کے شعلہ رو سرخ انگارے جیسے ڈوبتے سورج کے ہم ویسے بھی اس وقت تک دلدادہ ہو چکے تھے۔ انگلش چینل والے جہاز میں عرشے پر جانے کی اجازت تھی، جب کہ یہاں تمام راستے بند تھے۔ دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی، آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔ پگھلی ہوئی چاندی دھیرے دھیرے سیال سونے کا روپ دھار رہی تھی، لیکن ہم نشست گاہ میں مقید کھڑکیوں کے روزن سے نظارے پر مجبور تھے۔

جہاز تقریباً خالی ہی تھا۔ عصر کی نماز جہاز کی بالائی منزل پر ادا کی، جہاں جہاز کے عملے کے کیبن اور عرشے پر جانے کا راستہ بھی تھا۔ کپتان کے کیبن کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ کیمرہ ہاتھ میں دیکھ کر ہمارا مدعا بغیر کہے ہی سمجھ گیا اور اس نے کھڑکی سے بلائنڈ ہٹا دیا۔ کھڑکی کیا تھی، قدِ آدم شیشے کی دیوار۔ سمندر ہمارے سامنے بے پردہ ہو گیا۔ ہمارے اشارے پر اس نے عرشے کا دروازہ بھی کھول دیا۔ ہم نے بھی اس کی فیاضی کا فائدہ اٹھا کر جی بھر کے سمندر کے بچوں بیچ غروبِ آفتاب کا نظارہ کیا۔

قارئین کو اگر یاد ہو تو حضرت موسیٰؑ نے مصر سے ہجرت کر کے مدین کی سرزمین پر قیام کیا، اور ہم مدین سے مصر کی جانب گامزن تھے۔

غروبِ آفتاب کے کچھ ہی دیر بعد غرقدہ شہر کی روشنیاں نظر آنے لگیں اور ہم مصر کی سرزمین پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔ ہم سے پیشتر ہیروڈوٹس، سکندرِ اعظم، جولیس سیزر، مارک انتھونی، ابنِ بطوطہ، ابنِ خلدون، نپولین، آئن اسٹائن وغیرہ اپنی اپنی باری پر یہ شرف حاصل کر چکے تھے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں