تحریر: میر بابر مشتاق
بین الاقوامی سیاست میں بعض جملے صرف جملے نہیں ہوتے، وہ سفارتی سگنل ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے ریاستی مفادات، طاقت کے توازن اور مستقبل کی حکمت عملی پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سفیر برائے بھارت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے برائے جنوبی و وسطی ایشیا سرجیو گور کا سرینگر میں کھڑے ہو کر جموں و کشمیر کو ’’بھارت کا اہم حصہ‘‘ قرار دینا محض ایک سفارتی دورے کے دوران کہی گئی معمول کی بات قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کشمیر سات دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے۔ پاکستان نے فوری طور پر امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا اور واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
احتجاج ضروری تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج کافی ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام آباد کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
امریکی سفیر کا بیان ایک ایسے خطے میں سامنے آیا ہے جہاں بھارت اور امریکا کے تعلقات مسلسل گہرے ہورہے ہیں۔ واشنگٹن کے لیے بھارت محض جنوبی ایشیا کی ایک بڑی ریاست نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک اہم علاقائی شراکت دار بھی ہے۔ بحر ہند، انڈو پیسیفک، دفاعی تعاون، تجارت اور ٹیکنالوجی کے معاملات نے بھارت کی اہمیت امریکی پالیسی میں مزید بڑھا دی ہے۔
ایسے ماحول میں کشمیر امریکا کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتا جو پاکستان کے لیے رکھتا ہے۔ یہی پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی چیلنج ہے۔
پاکستان کے لیے کشمیر تاریخی، قومی اور جذباتی مسئلہ ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسی زیادہ تر مفادات کے ترازو میں تولی جاتی ہے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا کشمیر کو محض پاکستان اور بھارت کا پرانا تنازع نہ سمجھے بلکہ اسے حقِ خود ارادیت، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے مسئلے کے طور پر دیکھے تو اسے اپنی سفارتی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔
5 اگست 2019 اس حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور انتظامی و سیاسی سطح پر ایسے اقدامات کیے جن کا مقصد کشمیر کی حیثیت کو نئی شکل دینا تھا۔ پاکستان نے سخت احتجاج کیا، سفارتی اقدامات کیے اور عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی کوشش کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ عالمی طاقتوں کی ترجیحات دوسرے مسائل میں الجھتی گئیں۔
یہاں پاکستان کو اپنے آپ سے ایک مشکل سوال کرنا ہوگا: کیا ہم نے کشمیر کے مقدمے کو عالمی سطح پر مسلسل، منظم اور جدید سفارتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا؟
صرف تقریریں کافی نہیں ہوتیں۔ صرف یومِ یکجہتی کشمیر منانا کافی نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ میں ایک تقریر بھی کافی نہیں ہوتی۔ عالمی سیاست میں مستقل مزاجی، معاشی قوت، میڈیا بیانیہ، سفارتی سرگرمی اور قابلِ اعتماد ریاستی پالیسی مل کر کسی مقدمے کو وزن دیتے ہیں۔
بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد اپنے موقف کو عالمی سطح پر معمول بنانے کی کوشش کی۔ آج امریکی سفیر سرینگر پہنچتا ہے، مقامی حکومت سے ملاقات کرتا ہے، سیکیورٹی صورتحال کی تعریف کرتا ہے اور پھر کشمیر کو ’’بھارت کا اہم حصہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک خاص سفارتی تاثر پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان کو اس تاثر کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان امریکا سے محاذ آرائی شروع کردے۔ خارجہ پالیسی جذبات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہے۔ امریکا پاکستان کے لیے اہم ہے اور پاکستان بھی امریکا کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہوسکتا ہے۔ افغانستان، وسطی ایشیا، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور خطے کا جغرافیہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔
لیکن دوستی اور قومی مفاد میں فرق ہوتا ہے۔
پاکستان کو امریکا سے تعلقات بھی رکھنے ہیں اور کشمیر پر اپنا بنیادی مؤقف بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہی سفارت کاری کا فن ہے۔
اسلام آباد کو واشنگٹن سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ سرجیو گور نے ایسا کیوں کہا؛ اسے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ امریکی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی ہے؟ اگر نہیں تو امریکی انتظامیہ کو اس بیان کی باضابطہ وضاحت کرنی چاہیے۔ اگر ہاں، تو پاکستان کو اس نئی حقیقت کے مطابق اپنی سفارتی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کا کشمیر پر اخلاقی مقدمہ صرف لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف کے حالات سے مضبوط نہیں ہوگا۔ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں بھی جمہوری حقوق، سیاسی آزادی، معاشی ترقی اور عوامی سہولتوں کی صورت حال اس مقدمے کی اخلاقی قوت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
دنیا صرف یہ نہیں دیکھتی کہ آپ اپنے مخالف کے زیر انتظام علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیا کہتے ہیں؛ دنیا یہ بھی دیکھتی ہے کہ آپ اپنے زیر انتظام علاقوں کے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
اگر آزاد کشمیر میں عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کریں اور ان کے احتجاج کا جواب طاقت سے دیا جائے، اگر عوامی معاہدوں پر سوال اٹھیں اور معاشی محرومیاں بڑھتی رہیں تو پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک اخلاقی سوال ضرور پیدا ہوگا۔
کشمیر کا مقدمہ مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں کو بھی مثالی ترقی، جمہوری حقوق اور عوامی اعتماد کا نمونہ بنانا ہوگا۔
یہی پہلو ہماری روایتی کشمیر پالیسی میں اکثر نظر انداز ہوتا ہے۔
ہم کشمیر کو عالمی فورمز پر ایک سیاسی مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اسے انسانی، معاشی اور جمہوری مسئلے کے طور پر بھی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو جدید میڈیا، عالمی جامعات، تھنک ٹینکس، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی صحافت کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ نئی نسل تک پہنچانا ہوگا۔
بھارت اس میدان میں پاکستان سے زیادہ منظم انداز میں کام کررہا ہے۔
اسلام آباد کو اب دفاعی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر فعال سفارت کاری اختیار کرنا ہوگی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کو صرف واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ چین، ترکیہ، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، یورپ اور مسلم دنیا کے ساتھ کشمیر پر مسلسل سفارتی رابطہ ضروری ہے۔ او آئی سی کو محض قراردادوں کی تنظیم کے بجائے ایک فعال سفارتی پلیٹ فارم بنایا جاسکتا ہے۔
سب سے خطرناک صورت حال یہ نہیں کہ کوئی طاقت پاکستان کے مؤقف سے اختلاف کرے؛ سب سے خطرناک صورت حال یہ ہے کہ دنیا کشمیر کو بھول جائے۔
اگر کشمیر عالمی سیاست کے ایجنڈے سے خاموشی سے نکل گیا تو بھارت کے لیے اپنی پیدا کردہ نئی زمینی حقیقت کو مستقل بنانے کی راہ آسان ہوتی جائے گی۔
سرجیو گور کا بیان اسی لیے اہم ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ یہ بیان مکمل طور پر امریکی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا اعلان ہو۔ ممکن ہے یہ ایک سفارتی بیان یا پالیسی سے ہٹ کر تبصرہ ہو۔ لیکن پاکستان کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے اسے اپنے حق میں استعمال کیا اور پاکستان کو فوری طور پر وضاحت اور احتجاج کی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔
یہ سفارتی منظرنامہ اسلام آباد کو ایک بنیادی سبق دیتا ہے: خارجہ پالیسی میں خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اگر آپ اپنا بیانیہ نہیں بنائیں گے تو کوئی دوسرا آپ کے لیے بیانیہ بنا دے گا۔
اب سوال یہ نہیں کہ سرجیو گور نے کیا کہا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اسلام آباد اب کیا کرے گا؟
کیا چند دن بعد یہ معاملہ ایک اور پریس ریلیز بن کر فائلوں میں دفن ہوجائے گا؟ یا پاکستان امریکا سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گا، عالمی دارالحکومتوں میں سفارتی مہم شروع کرے گا، اقوام متحدہ میں معاملہ اٹھائے گا اور دنیا کو یاد دلائے گا کہ کشمیر کسی ایک ملک کا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ بین الاقوامی تنازع ہے؟
پاکستان کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کشمیر اس کی خارجہ پالیسی کا حقیقی ترجیحی مسئلہ ہے یا محض قومی تقاریب کا موضوع۔
دنیا کمزور اور غیر مستقل بیانیوں کو زیادہ دیر سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ زندہ رہے تو اسے اپنی معیشت مضبوط کرنا ہوگی، داخلی سیاسی استحکام پیدا کرنا ہوگا، عوامی اعتماد بحال کرنا ہوگا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گورننس بہتر بنانی ہوگی اور سب سے بڑھ کر ایک مستقل قومی خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔
کشمیر کا مقدمہ جذبات سے نہیں، حکمت، طاقت، تسلسل اور سچائی سے لڑا جائے گا۔
سرینگر میں امریکی سفیر کا بیان پاکستان کے لیے ایک سفارتی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسے نظر انداز کرنا شاید وقتی طور پر آسان ہو، لیکن تاریخ خاموشی کی قیمت بھی وصول کرتی ہے۔
اسلام آباد کے سامنے اب دو راستے ہیں: احتجاج کے بعد خاموشی، یا احتجاج کے بعد ایک بھرپور سفارتی حکمت عملی۔
فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے۔
کیونکہ کشمیر صرف ایک جغرافیہ نہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے عزم کا امتحان بھی ہے۔
اور آج یہ امتحان صرف واشنگٹن کا نہیں، اسلام آباد کا بھی ہے۔









