میر بابر مشتاق

ہڑتال تو ہوگی!

·


’ہڑتال تو ہوگی!‘

یہ جملہ اِن دنوں کچھ لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، کچھ کے لیے مذاق کا موضوع اور کچھ کے لیے اسے جماعت اسلامی کی ایک اور سیاسی سرگرمی قرار دینا آسان ہے۔ مگر ذرا ٹھہریے!

3 ستمبر کی ہڑتال کو صرف جماعت اسلامی کے جھنڈے سے مت دیکھیے۔ ذرا ان چہروں کو بھی دیکھیے جو اس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوں گے۔ ان ہاتھوں کو دیکھیے جن میں شاید بجلی کے بل ہوں گے، ان آنکھوں کو دیکھیے جن میں بچوں کی فیس، گھر کے راشن، مکان کے کرائے اور اگلے مہینے کی فکر ہوگی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ 3 ستمبر کو ہڑتال ہوگی یا نہیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ آخر عوام کو ہڑتال تک پہنچایا کس نے؟

یہ سوال ان سوشل میڈیا کے شہزادوں کو شاید اچھا نہ لگے جو دن رات دھرنوں اور ہڑتال کے خلاف دلائل دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعی سیاسی اختلاف رکھتے ہوں گے، کچھ کو جماعت اسلامی پسند نہیں ہوگی اور کچھ کا خیال ہوگا کہ احتجاج سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اختلاف ان کا حق ہے۔

لیکن ان سے ایک سوال ضرور بنتا ہے:

کبھی غریب کا بجلی کا بل بھی بھرا ہے؟

کبھی مہینے کے آخر میں دس ہزار روپے کا بل ہاتھ میں لے کر سوچا ہے کہ اب بچوں کا راشن آئے گا یا بجلی کا بل جمع ہوگا؟ کبھی رکشہ چلا کر، ریڑھی لگا کر یا دیہاڑی لگا کر گھر واپس آئے ہیں اور گھر سے آواز آئی ہو کہ بچوں کی فیس بھی دینی ہے، دودھ بھی لینا ہے، راشن بھی ختم ہے اور بجلی کا بل بھی آخری تاریخ کے قریب ہے؟

اگر نہیں تو ذرا غریب کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

کیونکہ غریب جب بولتا ہے تو اس کے پیچھے اکثر بہت طویل خاموشی ہوتی ہے۔

200 سے 201، اور غریب کی دنیا بدل گئی!

ہماری معاشی حکمت عملی کا ایک شاہکار دیکھیے۔

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والا ایک خاص رعایت کا مستحق ہے، لیکن جیسے ہی میٹر 201 پر پہنچا، گویا گھر میں اچانک اشرافیہ پیدا ہوگئی!

ایک یونٹ نے غربت ختم کردی!

کمال ہے!

ایک طرف پانچ بچے، بوڑھے والدین، چھوٹا سا گھر، ایک پنکھا، چند بلب اور پانی کی موٹر۔ دوسری طرف بجلی کا میٹر کہتا ہے:

201!

بس جناب!

اب آپ غریب نہیں رہے۔

ریاست کے حساب میں شاید آپ نے عیاشی شروع کردی ہے۔

غریب سوچتا ہے: میں تو وہی ہوں، میری آمدنی وہی ہے، میرے بچے وہی ہیں، میری ضروریات وہی ہیں، پھر صرف ایک یونٹ نے میری معاشی حیثیت کیسے بدل دی؟

مگر نظام کو غریب کی زندگی سے کیا؟ اسے تو صرف میٹر کی ریڈنگ دیکھنی ہے۔

حال ہی میں ایک رکشہ ڈرائیور میرے پاس بجلی کا بل لے کر آیا۔ چہرے پر پریشانی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میٹر ریڈنگ میں مبینہ ہیرا پھیری کے باعث اس کے یونٹس 200 سے تجاوز کرگئے اور بل تقریباً دس ہزار روپے تک پہنچ گیا۔

وہ تقریباً رو رہا تھا۔

کہنے لگا:

’میں گھر میں چلاتا ہی کیا ہوں؟ پنکھا، لائٹ اور پانی کی موٹر کے علاوہ کچھ نہیں۔ پھر اتنا بل کیسے آگیا؟‘

میں اسے کیا جواب دیتا؟

اس کے گھر میں کوئی فیکٹری نہیں تھی، کوئی اے سی کا محل نہیں تھا، کوئی صنعتی مشین نہیں تھی۔ صرف ایک غریب خاندان تھا جو گرمی میں پنکھا چلانے کی جسارت کر بیٹھا تھا۔

شاید 3 ستمبر کی ہڑتال اسی سوال کا جواب مانگ رہی ہے:

کیا بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی اب جرم ہے؟

دو سال قبل حافظ نعیم الرحمٰن نے راولپنڈی میں آئی پی پیز کے خلاف چودہ روزہ دھرنا دیا تو ایک بڑا عوامی سوال سامنے آیا۔ قوم کو معلوم ہوا کہ بجلی کے شعبے میں بعض معاہدوں اور کپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ کس طرح عوام کے بلوں تک منتقل ہوتا رہا۔

اس وقت حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی معاہدے ہیں، حکومت مجبور ہے، کچھ نہیں ہوسکتا۔

جماعت اسلامی نے کہا: حل موجود ہے۔

دھرنا ہوا، مذاکرات ہوئے، معاہدوں پر نظرثانی کا عمل شروع ہوا اور کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاملات بھی طے کیے گئے۔

پھر حکومت نے خود قوم کو بتایا کہ ان اقدامات سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔

تو سوال یہ ہے:

جو کام کل ناممکن تھا، وہ آج ممکن کیسے ہوگیا؟

اور اگر جماعت اسلامی کے اٹھائے گئے سوالات غلط تھے تو پھر حکومت نے مذاکرات کیوں کیے؟

جماعت اسلامی نے راستہ دکھایا، حکومت نے کچھ قدم اٹھائے، فائدہ بھی ہوا، مگر جماعت اسلامی کو کریڈٹ دینے کی ہمت نہ ہوئی۔

خیر!

جماعت اسلامی کو کریڈٹ سے زیادہ عوام کا فائدہ عزیز ہے۔

اب پیٹرولیم لیوی کا سوال

آج یہی سوال پیٹرولیم لیوی کے بارے میں اٹھایا جا رہا ہے۔

حکومت عوام سے پٹرولیم لیوی وصول کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کا مقصد کیا ہے؟ یہ کہاں خرچ ہوتی ہے؟ اور اس کے بدلے عوام کو کیا ملتا ہے؟

اگر عوام سے برسوں رقم وصول کی جائے مگر اس کے فوائد عام آدمی تک نہ پہنچیں تو سوال تو بنتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصول ہے:

جو رقم عوام سے لی جائے، اس کا حساب بھی عوام کو دیا جائے۔

ہر مسئلے کا حل عوام کی جیب پر نیا بوجھ ڈالنا نہیں ہوسکتا۔

حکومت اگر کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، مالی مشکلات ہیں اور ٹیکس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا تو پھر جماعت اسلامی کا سوال بالکل سیدھا ہے:

ٹیکس اور لیوی کا بوجھ بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ کیوں نہیں؟

اور اگر راستہ معلوم نہیں تو حافظ نعیم الرحمٰن کی ٹیم کے ساتھ بیٹھیں۔ وہ صرف تنقید نہیں کریں گے، ہوم ورک کے ساتھ بیٹھیں گے، مسئلہ سمجھائیں گے، اعداد و شمار رکھیں گے اور متبادل راستہ بھی بتائیں گے۔

ہڑتال جماعت اسلامی کی، مسئلہ کس کا؟

یہ سب سے بڑا مغالطہ ہے کہ چونکہ 3 ستمبر کی ہڑتال کی کال جماعت اسلامی نے دی ہے، اس لیے یہ صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ ہے۔

بھائی!

بجلی کا بل جماعت اسلامی کا نہیں۔

مہنگائی جماعت اسلامی کی ایجاد نہیں۔

ٹیکس جماعت اسلامی نے نہیں لگائے۔

پیٹرولیم لیوی جماعت اسلامی وصول نہیں کرتی۔

پھر مسئلہ صرف جماعت اسلامی کا کیسے ہوگیا؟

آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے اختلاف کریں، اس کے طریقۂ احتجاج سے اختلاف کریں، اس کی پالیسیوں کو مسترد کریں، یہ آپ کا حق ہے۔

مگر غریب کے مسئلے سے اختلاف کس بات کا ہے؟

اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بجلی سستی ہونی چاہیے، ٹیکس کا بوجھ کم ہونا چاہیے، پیٹرولیم مصنوعات عوام کی پہنچ میں ہونی چاہئیں اور اشرافیہ کی مراعات ختم ہونی چاہئیں تو اس مطالبے کو صرف اس لیے مسترد کردیا جائے کہ اسے ایک سیاسی جماعت اٹھا رہی ہے؟

تو پھر مسئلہ سیاسی جماعت نہیں، ہماری سیاسی نفسیات ہے۔

احتجاج سے اتنی تکلیف کیوں؟

بعض دانشور بڑے اعتماد سے کہتے ہیں:

’دھرنوں سے کچھ نہیں ہوتا۔‘

عرض ہے:

اگر دھرنوں سے کچھ نہیں ہوتا تو حکومتیں دھرنوں سے پریشان کیوں ہوتی ہیں؟

اگر احتجاج بے معنی ہے تو احتجاجی آواز ایوانوں تک پہنچتے ہی مذاکرات کیوں شروع ہوتے ہیں؟

اصل سوال احتجاج نہیں، احتجاج کی وجہ ہے۔

جب گھر کا خرچ آمدنی سے بڑھ جائے، بجلی کا بل تنخواہ کا بڑا حصہ کھا جائے، بچوں کی فیس، راشن، کرایہ، دوا اور ٹیکس سب ایک ساتھ سامنے کھڑے ہوں تو ایک دن آدمی حساب کتاب کی میز سے اٹھ کر سڑک پر آتا ہے۔

یہ محض سیاست نہیں۔

یہ معاشرتی دباؤ ہے۔

غریب کو خیرات نہیں، انصاف چاہیے

غریب ہر وقت حکومت سے مفت چیزیں نہیں مانگتا۔

وہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت کا کچھ حصہ اس کے گھر بھی رہ جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ بچوں کو تعلیم ملے، بیمار ماں باپ کی دوا خرید سکے، بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر میں آٹا بھی آسکے۔

وہ یہ چاہتا ہے کہ ٹیکس دینے کے بعد ریاست اسے بنیادی سہولتیں بھی دے۔

یہ کوئی انقلاب کی فرمائش نہیں۔

یہ ایک مہذب ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

3 ستمبر کو شاید کچھ لوگ جماعت اسلامی کے کارکن ہوں گے، کچھ ہمدرد، کچھ عام شہری اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں سیاست سے زیادہ اپنے بجلی کے بل کی فکر ہوگی۔

ان سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شاید درست نہ ہو، مگر ان کے مسئلے کو ایک نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔

کیونکہ بجلی کا بل کسی سے سیاسی حلف نامہ نہیں پوچھتا۔

وہ صرف رقم مانگتا ہے۔

مہنگائی کسی سے پارٹی کا جھنڈا نہیں پوچھتی۔

وہ سیدھا گھر کا بجٹ کھاتی ہے۔

ٹیکس کسی سے نظریہ نہیں پوچھتا۔

وہ تنخواہ اور کاروبار سے وصول ہوتا ہے۔

اسی لیے 3 ستمبر کو صرف سیاسی عینک سے نہیں، عوامی عینک سے بھی دیکھیے۔

ممکن ہے کچھ لوگ اسے جماعت اسلامی کی ہڑتال کہیں۔

مگر غریب اسے اپنی زندگی کا ایک اور دن سمجھ کر سڑک پر آئے گا۔

اس کے ہاتھ میں شاید جھنڈا نہ ہو، مگر بجلی کا بل ضرور ہوگا۔

اس کی زبان پر شاید سیاسی نعرہ نہ ہو، مگر دل میں ایک سوال ضرور ہوگا:

میں کب تک قربانی دیتا رہوں؟

اور شاید اسی لیے کہنا پڑے گا:

ہڑتال تو ہوگی!

کیونکہ جب شکایت سننے والا نہ ہو تو احتجاج جنم لیتا ہے۔

جب احتجاج کو نظرانداز کیا جائے تو غصہ جنم لیتا ہے۔

اور جب غصے کو بھی مسلسل دبایا جائے تو تاریخ اپنا فیصلہ خود لکھتی ہے۔

یاد رکھیے!

غریب کو خیرات نہیں چاہیے، اسے انصاف چاہیے۔

اسے کسی کا احسان نہیں چاہیے، اسے اپنی محنت کی عزت چاہیے۔

اور اگر حکمران آج بھی عوام کی آواز سننے کے بجائے اسے محض سیاسی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے تو کل یہی آواز مزید بلند ہوگی۔

3 ستمبر صرف ہڑتال کی تاریخ نہیں۔

یہ اس سوال کی تاریخ ہے کہ:

اس ملک میں بجلی کا بل غریب دے گا، ٹیکس غریب دے گا، مہنگائی غریب برداشت کرے گا، قربانی بھی غریب دے گا—تو پھر مراعات اور عیاشی کس کے لیے ہے؟

حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے۔

عوام کے مطالبات سنیں، مذاکرات کریں، غیر ضروری بوجھ کم کریں، اشرافیہ کی مراعات پر ہاتھ ڈالیں اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دیں۔

ورنہ پھر صرف ایک بات باقی رہ جائے گی:

ہڑتال تو ہوگی!

اور اس ہڑتال میں شاید جماعت اسلامی کا جھنڈا ہو یا نہ ہو،

مگر عوام کا درد ضرور ہوگا۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔