روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور روسی فوج کے جرنیل

کیا روسی صدر پیوٹن گھیرے میں آ چکے ہیں؟

·


29 اگست کو ماسکو کی ایک یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے روس کے طاقتور ترین حکمران ہیں، نے اچانک کہا کہ قاتل وہیل مچھلیاں یعنی اورکا (Orcas) قطبی ریچھوں کو کھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’یہی تو قدرتی غذائی زنجیر ہے۔ بچوں کو یہ بات سکھانی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ہم کس دنیا میں رہتے ہیں اور یہ بھی کہ ہم ’خصوصی فوجی آپریشن‘ کیوں کررہے ہیں۔‘ روسی حکومت یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کو اسی عنوان سے موسوم کرتی ہے۔

پیوٹن کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے؛ اورکا کے کسی قطبی ریچھ کو کھانے کا کوئی مستند واقعہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس عجیب مثال سے پیوٹن کے ذہن میں بسی دنیا کی ایک جھلک ضرور ملتی ہے، ایک ایسی دنیا جہاں طاقت ہی حق کا معیار ہے، جہاں قوی کمزور کو نگل جاتا ہے اور زندگی دراصل بقا کی ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش کا نام ہے۔

مغربی ممالک کو اب اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ پیوٹن کی یہ سوچ انہیں کہاں لے جاسکتی ہے۔ یوکرین میں روسی فوج کی پیش قدمی طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، جبکہ ہر ماہ دسیوں ہزار روسی فوجی ہلاک یا شدید زخمی ہورہے ہیں۔ جنگ اب ڈرونز اور میزائلوں کی ایک تباہ کن جنگ میں بدل چکی ہے؛ اس کی ضربیں اگرچہ یوکرین کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، لیکن روس بھی اس کی ہولناک قیمت ادا کرنے سے محفوظ نہیں رہا۔

اس کے باوجود، پیوٹن کے رویے میں پسپائی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خدشہ یہ ہے کہ وہ اس بند گلی سے نکلنے کے لیے، جسے روسی زبان میں ’توپیک (tupik) کہا جاتا ہے، وہی راستہ اختیار کرسکتے ہیں‘ جو وہ ماضی میں بھی اپناتے رہے ہیں: جنگ کو کسی نئے طریقے سے مزید طول دیا جائے۔

مغربی دنیا کی بڑھتی ہوئی تشویش کے آثار اب نمایاں ہیں۔ 25 اگست کو جان ریٹکلف (John Ratcliffe)، امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ، اچانک ماسکو پہنچے۔ ان کے دورۂ روس کے مقصد کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔

بعض کے مطابق وہ پیوٹن کو خبردار کرنے گئے تھے کہ روس نیٹو کے رکن ممالک پر حملہ نہ کرے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ وہ روس کے مستقبل کے بارے میں ایک انتہائی مایوس کن تجزیہ پیش کرنے اور پیوٹن کو مذاکرات پر آمادہ کرنے گئے تھے۔

ادھر پیوٹن نے روس کے اندر یوکرینی ڈرون حملوں پر اپنی طویل خاموشی بھی توڑ دی ہے۔ یوکرین نے روس کی تیل صاف کرنے والی متعدد ریفائنریوں، رسد کے مراکز اور گوداموں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جن میں روس کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیلر کمپنی وائلڈ بیریز (Wildberries) کے گودام بھی شامل ہیں۔

22اگست کو ایک خطاب میں پیوٹن نے یوکرین پر ’پنڈورا باکس‘ کھولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اب اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی اور روس یوکرین کی معیشت کے انتہائی حساس اور اہم شعبوں کو نشانہ بنائے گا۔ اسی روز اپنی جماعت یونائیٹڈ رشیا (United Russia)، جو کریملن کی حکمران سیاسی جماعت ہے، کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جنگ ختم کرنے کے کسی بھی امکان کو یکسر مسترد کردیا۔ ان کے الفاظ تھے: ’خصوصی فوجی آپریشن جاری ہے۔ ہم صرف پیش قدمی کریں گے۔‘ کریملن کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے موسمِ گرما میں کئی ہفتوں تک غوروفکر کرنے کے بعد اب جنگ کو مزید شدید کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پیوٹن کے ایک دیرینہ ساتھی کے مطابق وہ غالباً امریکی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کے ماسکو آنے کو امریکی کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں۔

اس کی وجہ ایک سابق واقعہ بھی ہے۔ نومبر 2021ء میں ولیم برنز (Bill Burns)، جو اس وقت امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے، روس گئے تھے اور پیوٹن کو یوکرین پر حملہ کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ لیکن پیوٹن نے تین ماہ بعد یوکرین پر حملہ کردیا۔ ان کے قریبی حلقے کے ایک شخص کے مطابق پوتن نے اس دورے کو بھی امریکی کمزوری کے طور پر دیکھا تھا۔

کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پیوٹن کے ذہن میں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ تاہم جنگ کو مزید بھڑکانے کے ان کے محرکات، بالکل اسی طرح جیسے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ، عالمی سیاست سے کہیں زیادہ روس کی داخلی اقتدار کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ پیوٹن کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہمیشہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا رہا ہے، اور اب ان کی اپنی جان کا تحفظ بھی اسی اقتدار سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔

کریملن کے لیے اب ایک نئی تشویش یہ ہے کہ روسی عوام کی جنگ کے بارے میں خاموش تائید کی اُس دیوار میں اب آہستہ آہستہ دراڑیں پڑنے لگی ہیں جو اب تک قائم تھی۔ یوکرینی ڈرون حملوں نے روس کی تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں اور آن لائن کاروباری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر معمول کی زندگی کے اس مصنوعی سکون کو تہہ و بالا کردیا ہے، جبکہ روسی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے عائد انٹرنیٹ پابندیوں نے معمولاتِ زندگی پر پڑا ہوا پردہ بھی چاک کردیا ہے۔

آزاد روسی ادارہ لیوادا سینٹر (The Levada Centre) کے مطابق 57 فیصد روسی شہری موجودہ صورتِ حال کو ’کشیدہ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کی تشویش کی بڑی وجوہات جنگ، ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، فوج میں جبری بھرتی، ڈرون حملے اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن کے پروپیگنڈے پر عوام کا اعتماد بھی کم ہورہا ہے، جبکہ نوجوان سوشل میڈیا پر جنگ ختم کرنے کے مطالبات کررہے ہیں۔ خود پیوٹن کی مقبولیت بھی بتدریج کم ہورہی ہے۔

روس کے طاقتور اشرافیہ میں بے چینی اس سے بھی زیادہ ہے۔ کریملن کے ایک باخبر ذریعے کے مطابق اشرافیہ کی سب سے بڑی تشویش معیشت یا جنگ میں ناکامی نہیں بلکہ ضائع ہوجانے والا وقت ہے۔ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو، تقریباً پانچ برس سے جاری یہ جنگ اب خود ایک ناکامی سمجھی جانے لگی ہے۔

روس کے ایک اور مقتدر حلقے کے رکن کے بقول اب اشرافیہ میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ’بادشاہ برہنہ ہے‘، یعنی وہ طاقتور حکمران جس کی طاقت کا تاثر اب تک سب کو مرعوب کیے ہوئے تھا، اس کی کمزوریاں اب نمایاں ہونے لگی ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس کے معاشی یا سیاسی مسائل فوری طور پر پیوٹن کی حکومت ختم کرسکتے ہیں۔ پیوٹن کے پاس اب بھی جنگ جاری رکھنے کے لیے معاشی وسائل اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ایک مضبوط ریاستی جبر کا نظام موجود ہے۔ لیکن اقتدار کی سیاست میں صرف حقیقت ہی اہم نہیں ہوتی، اس کا تاثر بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ پیوٹن اپنے جنگی مقاصد کو اگرچہ عالمی سیاست اور جغرافیائی مفادات کی زبان میں بیان کرتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کے طرزِ عمل کی رہنمائی ان کے نظام کی جرائم پیشہ اور مافیائی منطق کرتی ہے: کمزوری کبھی ظاہر نہ کرو۔

روس کا موجودہ نظام تشدد کو برداشت کرسکتا ہے، لیکن ناکامی کو برداشت نہیں کرتا۔ غالباً پیوٹن سمجھتے ہیں کہ اگر وہ جنگ کو کسی واضح کامیابی کے بغیر ختم کردیں اور کم از کم اپنا بنیادی مقصد، یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس (Donbas) پر مکمل قبضہ، بھی حاصل نہ کرسکیں تو ان کی اپنی جسمانی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ روسی مقتدر حلقوں کے ایک باخبر شخص کے مطابق، جنگ کے دوران ایک موقع پر پیوٹن نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا تھا: ’وہ مجھے پھانسی دے سکتے ہیں۔‘[1]

لیکن جنگ کو موجودہ انداز میں جاری رکھنا بھی کوئی قابلِ عمل حل نہیں۔ روسی اشرافیہ کے ایک رکن کے مطابق محض حالات کے بہاؤ میں جنگ کو جاری رکھے رہنا کریملن کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اس طرح روس کے معاشی وسائل مسلسل خرچ ہوتے رہیں گے اور اس کا سیاسی سرمایہ بھی ضائع ہوتا جائے گا۔

ممکن ہے روس یوکرین کے اتحادی ممالک کے خلاف ’ہائبرڈ جنگ‘ اور تخریب کاری میں اضافہ کرے اور یورپ سے یوکرین جانے والے اسلحے اور دیگر فوجی سامان کی رسد کے راستوں کو نشانہ بنائے۔ مغربی خفیہ اداروں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ روس یورپ میں ان فیکٹریوں کو نشانہ بناسکتا ہے جہاں یوکرین کی جنگی ضروریات کے لیے فوجی سازوسامان تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم مغربی حکام کا خیال ہے کہ پیوٹن فی الحال نیٹو کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم نہیں چاہتے۔

یوکرین کے اندر جنگ کو مزید شدید کرنے کا مطلب بڑی حد تک وہی کارروائیاں مزید بڑے پیمانے پر کرنا ہوگا جو روس پہلے ہی کررہا ہے۔ 30 اگست کو روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہے۔ لیکن یوکرین پہلے ہی اس طرح کے حملوں کی توقع کررہا ہے، کیونکہ روس موسمِ سرما میں اس کی مزاحمت توڑنے کے لیے توانائی کے نظام کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

زمینی جنگ کے حوالے سے روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن مزید تین سے چار لاکھ فوجی جنگ کے میدان میں جھونکنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے انہیں نئی جبری بھرتی کا باقاعدہ اعلان کرنے کی بھی ضرورت نہیں، کیونکہ ابتدائی موبلائزیشن کا حکم ابھی تک منسوخ نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ علاقائی حکومتوں پر دباؤ ڈال کر مزید فوجی بھرتی کیے جائیں گے تاکہ عوامی بے چینی کو مقامی سطح تک محدود رکھا جاسکے۔ روس نے بھرتی کے اس نئے نظام کی آزمائش ماسکو سے تقریباً 750 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع پینزا (Penza) کے علاقے میں شروع بھی کردی ہے۔

پوتن روس کے اندر اپنے نام نہاد ’دشمنوں‘ کے خلاف ریاستی جبر کا دائرہ بھی وسیع کرسکتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ یہ لوگ واقعی ان کے اقتدار کے لیے کوئی بڑا خطرہ بن چکے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ایسے نظام میں طاقت کا مظاہرہ خود ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ لیکن جنگ کو مزید بھڑکانے کے ان میں سے کسی بھی راستے سے روس کے بنیادی مسائل حل ہونے والے نہیں۔ اس کے برعکس، اس کا نتیجہ روسی عوام کی مشکلات میں اضافے، ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور روس سے باہر عدمِ استحکام کے مزید پھیلاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔


[1] https://www.economist.com/europe/2026/08/30/cornered-vladimir-putin-plans-to-escalate-his-war?itm_source=parsely-api

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں