ناوی پلے، نوبیل امن انعام جیتے والی غیر معمولی خاتون کون ہیں؟

·

ناوی پلے کی زندگی محض ایک جج یا انسانی حقوق کی علم بردار کی کہانی نہیں، بلکہ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے ماحول میں پرورش پانے والی ایک ایسی خاتون کی داستان ہے جس نے قانونی تعلیم، عدالتی جدوجہد اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے ذریعے بین الاقوامی شناخت حاصل کی۔

ان کی اصل شہرت اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی سابق جج اور انسانی حقوق کی عالمی سطح پر سرگرم شخصیت کے طور پر ہے۔

 ناوی پلے کو 9 اکتوبر 2026 کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔  نوبیل انعام کی کمیٹی کے مطابق انہیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

ناوی پلے کا پورا نام ناوانیتھم پلے (Navanethem Pillay) ہے۔ انہیں عام طور پر ناوی پلے کہا جاتا ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن کے علاقے کلیئر ووڈ میں ایک غریب تامل نژاد بھارتی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان سے تھا اور ان کے دادا ان مزدوروں میں شامل تھے جنہیں انیسویں صدی کے آخر میں معاہدوں کے تحت جنوبی افریقہ کے گنے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔

ان کا بچپن کسی خوش حال گھرانے میں نہیں گزرا۔ ان کے والد نارائن سوامی نادو بس ڈرائیور تھے اور خاندان کی کفالت کے لیے محنت کرتے تھے۔ ان کی والدہ سانتامّا نادو  گھریلو خاتون تھیں۔

اس گھرانے میں آٹھ بچے تھے۔ ناوی پلے ان میں پانچویں نمبر پر تھیں۔ گھر کے وسائل محدود تھے، لیکن والدین نے بچوں کی تعلیم کو اہمیت دی۔ اس دور میں غریب خاندانوں، خصوصاً بھارتی نژاد اور سیاہ فام بچوں، کے لیے اعلیٰ تعلیم تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔

ان کے خاندان کی کہانی میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی والدہ خود تعلیم حاصل نہیں کر سکی تھیں، مگر انہوں نے اپنی بیٹیوں کے لیے تعلیم کا راستہ بند نہیں ہونے دیا۔

ناوی پلے کی پرورش جنوبی افریقہ کے اس دور میں ہوئی جب ملک میں نسلی امتیاز کا نظام، جسے اپارتھائیڈ (Apartheid) کہا جاتا ہے، معاشرتی اور قانونی زندگی پر حاوی تھا۔

اس نظام کے تحت لوگوں کو نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا تھا۔ سیاہ فام، بھارتی نژاد اور دیگر غیر سفید فام افراد کو سفید فام آبادی کے مقابلے میں مختلف اور اکثر کمتر حقوق حاصل تھے۔ رہائش، تعلیم، آمدورفت اور عوامی مقامات تک رسائی میں بھی امتیاز برتا جاتا تھا۔

ناوی پلے نے بعد میں اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ وہ ایسے ماحول میں بڑی ہوئیں جہاں بعض پارکوں اور ساحلوں پر سفید فام افراد کو ترجیح حاصل تھی اور غیر سفید فام لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

ان کے لیے نسل پرستی محض کتابوں میں پڑھنے کا موضوع نہیں تھی؛ یہ روزمرہ زندگی کا تجربہ تھا۔

ان کے بچپن کا ایک اہم سبق یہ تھا کہ معاشرتی ناانصافی صرف قانون کی کتابوں میں موجود الفاظ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ ایک انسان کہاں جا سکتا ہے، کیا پڑھ سکتا ہے اور اسے دوسروں کے برابر سمجھا جائے گا یا نہیں۔

ناوی پلے کے لیے وکیل بننے کا راستہ ابتدا ہی سے آسان نہیں تھا۔

جب انہوں نے کم عمری میں وکیل بننے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی وسائل اور مضبوط خاندانی پس منظر ضروری ہیں۔

ان کے والد ایک بس ڈرائیور تھے۔ خاندان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ آسانی سے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتا۔

لیکن ناوی پلے کی کہانی میں ایک غیر معمولی کردار ان کی مقامی برادری نے ادا کیا۔ کلیئر ووڈ کے لوگوں نے ان کی صلاحیت کو پہچانا اور یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کرنے میں حصہ لیا۔

یوں ان کی تعلیم صرف ایک خاندان کی کوشش نہیں رہی، بلکہ ایک پوری برادری کی مشترکہ امید بن گئی۔

یہ ان کی زندگی کا پہلا بڑا موڑ تھا۔ ایک ایسی بچی جس کے لیے اعلیٰ تعلیم تک پہنچنا غیر معمولی بات تھی، اب قانون کے شعبے میں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔

ناوی پلے نے یونیورسٹی آف نیٹل ، جو آج یونیورسٹی آف کوازولو نیٹل کے نام سے جانی جاتی ہے، میں تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے 1963ء میں بی اے اور 1965ء میں قانون کی ڈگری ایل ایل بی (LLB) حاصل کی۔ یونیورسٹی میں ان کا واسطہ ایسے طلبہ اور سیاسی حلقوں سے بھی پڑا جو نسلی امتیاز کے خلاف سرگرم تھے۔ انہوں نے اس دور میں بائیکاٹ اور احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

ان کی یونیورسٹی کی زندگی بھی مشکلات سے خالی نہیں تھی۔ نسلی تفریق کے باعث غیر سفید فام طلبہ کے لیے تعلیمی سہولتیں محدود تھیں۔ بعض اوقات انہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل دوسرے طلبہ کے ساتھ بانٹنے پڑتے تھے۔

وہ تعلیم کے لیے پیسے بچانے کی خاطر کبھی کبھی بس کا کرایہ خرچ نہیں کر سکتی تھیں۔ ایسے مواقع پر وہ یونیورسٹی کی لائبریری میں وقت گزارتی تھیں۔

یہی لائبریری ان کے فکری سفر میں ایک اہم مقام بن گئی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں نازی رہنماؤں کے خلاف چلنے والے نیورمبرگ مقدمات نے ناوی پلے کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ ان مقدمات میں یہ اصول سامنے آیا تھا کہ سنگین بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب پر افراد کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ان مقدمات کی کارروائیوں اور قانونی دستاویزات کا مطالعہ کیا۔ ان کے ذہن میں یہ سوال اہم ہوتا گیا کہ اگر عالمی قانون طاقت ور افراد کو جواب دہ بنا سکتا ہے تو پھر جنوبی افریقہ میں نسلی ظلم کے شکار لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے بھی قانونی اصولوں کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

یہی دلچسپی بعد میں انہیں بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی جرائم کے قانون تک لے گئی۔

قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ناوی پلے نے وکالت کے شعبے میں قدم رکھا۔ لیکن انہیں ملازمت حاصل کرنے میں نسل اور جنس، دونوں کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔

اس زمانے میں جنوبی افریقہ کے قانونی اداروں میں سفید فام مردوں کا غلبہ تھا۔ ناوی پلے کے مطابق بعض قانونی دفاتر انہیں اس لیے ملازمت دینے سے ہچکچاتے تھے کہ وہ ایک غیر سفید فام خاتون تھیں۔ ان سے یہ سوال بھی کیا جاتا تھا کہ آیا شادی اور ممکنہ حمل ان کے کام پر اثر انداز ہوں گے۔

انہوں نے دوسروں کی منظوری کا انتظار کرنے کے بجائے اپنا راستہ خود بنانے کا فیصلہ کیا۔

1967ء میں ناوی پلے نے نیٹل صوبے میں اپنا قانونی دفتر قائم کیا اور اس طرح اس خطے میں اپنی قانونی پریکٹس شروع کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔ ان کی شناخت ایک ایسی خاتون وکیل کے طور پر بھی ہوئی جس نے نسلی امتیاز کے دور میں قانونی پیشے میں غیر سفید فام خواتین کے لیے راستہ کھولا۔

یہ قدم اس لیے اہم تھا کہ انہوں نے ایسے نظام میں کام شروع کیا جو خود ان کی نسل اور جنس کی بنیاد پر ان کے امکانات محدود کرتا تھا۔

ناوی پلے نے اپنی قانونی زندگی میں انسانی حقوق کے مقدمات کو مرکزی حیثیت دی۔

وہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے کارکنوں اور سیاسی قیدیوں کی وکالت کرتی رہیں۔ ان کے مؤکلوں میں ایسے افراد شامل تھے جنہیں اپارتھائیڈ کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے روبن آئی لینڈ  میں قید افراد کے حقوق کے لیے قانونی کوششیں کیں۔ یہ وہی جزیرہ تھا جہاں نیلسن منڈیلا نے طویل عرصہ قید میں گزارا تھا۔

یہاں ایک تاریخی وضاحت ضروری ہے۔ ناوی پلے نے منڈیلا کے ساتھ قانونی اور سیاسی جدوجہد کے وسیع تر ماحول میں کام کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ منڈیلا کی ذاتی وکیل تھیں۔ ان کا نمایاں کام سیاسی قیدیوں اور دوسرے مخالفینِ اپارتھائیڈ کی نمائندگی سے متعلق تھا۔

ان کی قانونی جدوجہد میں چند اہم پہلو شامل تھے:

  • سیاسی قیدیوں کو قانونی نمائندگی تک رسائی دلانے کی کوششیں۔
  • جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر قانونی اعتراضات۔
  • تشدد اور غیر منصفانہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانا۔
  • نسلی امتیاز کے قوانین کے تحت ہونے والی ناانصافی کو عدالتوں میں چیلنج کرنا۔

ان کے لیے قانون صرف پیشہ ورانہ آمدنی کا ذریعہ نہیں رہا؛ یہ مظلوم افراد کے لیے دستیاب ایک اہم راستہ بن گیا۔

ناوی پلے کی زندگی کا ایک پہلو ان کا خاندانی سفر بھی ہے۔

ان کی شادی پرانجوتھی عرف گیبی انتھونی پلے  سے جنوری 1965ء میں ہوئی۔ ان کے شوہر بھی اپارتھائیڈ کے دور میں سیاسی جبر کا سامنا کرنے والوں میں شامل تھے۔ ناوی پلے نے اپنے شوہر کے قانونی معاملات میں بھی کام کیا۔

اس طرح سیاسی جبر اور انسانی حقوق کا مسئلہ ان کے لیے محض ایک نظریاتی بحث نہیں تھا؛ اس کے اثرات ان کی اپنی گھریلو زندگی تک پہنچتے تھے۔ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں۔

ناوی پلے نے جنوبی افریقہ میں وکالت کے دوران محسوس کیا کہ قومی قوانین ہمیشہ انصاف کی ضمانت نہیں دیتے، خصوصاً اس وقت جب ریاستی نظام ہی امتیاز پر قائم ہو۔

نوبیل انعام کے صحیح حق دار، نام جان کر آپ انگلیاں دانتوں تلے ٹھونس لیں گے

نوبیل امن انعام کے لیے ٹرمپ سے بہتر کون؟

نادیہ مراد، داعش کے قبضے سے فرارہوکرنوبل انعام پانے والی عراقی خاتون کی حیرت انگیزداستان

اسی لیے انہوں نے بین الاقوامی قانون کی تعلیم کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

وہ 1980ء کی دہائی میں امریکا کی ہارورڈ لا اسکول پہنچیں، جہاں انہوں نے:

  • 1982ء میں قانون میں ماسٹرز (LL.M.) مکمل کیا۔
  • 1988ء میں ڈاکٹر آف جیوریڈیکل سائنس (S.J.D.) کی ڈگری حاصل کی۔

ان کی ڈاکٹریٹ کی تعلیم اس زمانے میں غیر معمولی کامیابی تھی، کیونکہ وہ ایک ایسے ملک سے آئی تھیں جہاں نسلی امتیاز نے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مواقع پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

ہارورڈ میں ان کی تعلیم نے ان کے قانونی تجربے کو عالمی تناظر فراہم کیا۔ اب ان کی دلچسپی صرف جنوبی افریقہ میں انصاف کے حصول تک محدود نہیں رہی تھی۔ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ عالمی ادارے جنگی جرائم، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیسے کر سکتے ہیں۔

1990ء کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کا نظام ختم ہونے کی طرف بڑھا اور ملک جمہوری تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہوا۔

نیلسن منڈیلا کی قیادت میں نئی جمہوری ریاست کی تشکیل نے ان افراد کے لیے نئے امکانات پیدا کیے جنہیں ماضی میں نسل کی بنیاد پر محدود کیا گیا تھا۔

1995ء میں ناوی پلے کو جنوبی افریقہ کی ہائیکورٹ میں جج مقرر کیا گیا۔ وہ اس عدالت میں جج بننے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں۔

یہ تقرری ان کے لیے ذاتی کامیابی کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کی قانونی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بھی تھی۔

ایک ایسی خاتون جو کبھی نسل کی بنیاد پر قانونی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی تھی، اب خود عدالت میں بیٹھ کر مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہی تھی۔

ان کی تقرری کا مطلب یہ بھی تھا کہ جنوبی افریقہ کے عدالتی اداروں میں ایسے افراد کی نمائندگی بڑھ رہی تھی جنہیں ماضی میں اقتدار اور فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا تھا۔

1994ء میں افریقی ملک روانڈا میں بڑے پیمانے پر نسل کشی ہوئی۔ اس دوران لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور توتسی آبادی کو منظم تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ نے ان جرائم کے ذمہ دار افراد کے احتساب کے لیے انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل فار روانڈا  قائم کیا۔

1995ء میں ناوی پلے اس ٹریبونل کی جج مقرر ہوئیں۔ بعد میں وہ اس کی صدر بھی بنیں اور 1999ء سے 2003ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔

یہ ان کے کیریئر کا ایسا مرحلہ تھا جس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر نمایاں کر دیا۔

روانڈا ٹریبونل میں ناوی پلے کے کردار سے متعلق سب سے اہم قانونی پیش رفت اکایسو مقدمہ تھا۔

اس مقدمے میں عدالت نے 1998ء میں ایک تاریخی فیصلہ دیا کہ اگر کسی محفوظ گروہ کو تباہ کرنے کی مخصوص نیت کے ساتھ جنسی تشدد کیا جائے تو حالات اور شواہد کے مطابق اسے نسل کشی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے اہم تھا کہ اس نے واضح کیا کہ نسل کشی صرف بڑے پیمانے پر قتل کرنے تک محدود نہیں؛ بعض حالات میں جنسی تشدد بھی کسی گروہ کو تباہ کرنے کے عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس قانونی پیش رفت نے جنگی حالات میں خواتین کے خلاف تشدد اور نسل کشی کے جرائم کو سمجھنے اور ان کے احتساب کے طریقوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

روانڈا کی نسل کشی کے دوران میڈیا اور پروپیگنڈے نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ عدالت نے اس امر پر توجہ دی کہ بعض حالات میں کسی گروہ کے خلاف تشدد پر اکسانا سنگین بین الاقوامی جرم بن سکتا ہے۔

ناوی پلے کی عدالتی خدمات کا ایک اہم حصہ اس قانونی اصول کی تشکیل میں معاونت تھا کہ نفرت انگیز پروپیگنڈے اور نسل کشی پر اکسانے کے الزامات کو بھی قانونی طور پر جانچا جا سکتا ہے۔

ان کے کام نے اس بحث کو آگے بڑھایا کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور تشدد پر اکسانے کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے۔

2003ء میں ناوی پلے کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ  کی جج مقرر کیا گیا۔ یہ عدالت نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم ہے اور مخصوص حالات میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔

انہوں نے 2003ء سے 2008ء تک اس عدالت میں خدمات انجام دیں۔

روانڈا کے ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں ان کے تجربے نے ان کی مہارت کو مزید وسعت دی۔ اب وہ ان اداروں کا حصہ تھیں جو یہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انتہائی سنگین جرائم پر قومی سرحدوں سے بالاتر ہو کر کس طرح قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالتِ انصاف ایک ہی ادارہ نہیں ہیں۔ پہلی عدالت افراد کے خلاف مخصوص بین الاقوامی جرائم کے مقدمات سنتی ہے، جبکہ عالمی عدالتِ انصاف بنیادی طور پر ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات سنتی ہے۔

ناوی پلے نے اپنے کیریئر میں دونوں اداروں سے وابستہ ہو کر خدمات انجام دیں۔

2008ء میں ناوی پلے کو اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اس عہدے پر 2014ء تک خدمات انجام دیں۔

یہ عہدہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک ہے۔

ان کی ذمہ داریوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دلانا، ریاستوں کو ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا، متاثرہ افراد کے تحفظ کی حمایت کرنا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کو مضبوط بنانا شامل تھا۔

ان کے دور میں انسانی حقوق سے متعلق مختلف معاملات پر توجہ دی گئی، جن میں شامل ہیں:

  • نسلی اور صنفی امتیاز کا خاتمہ۔
  • خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ۔
  • سیاسی قیدیوں اور تشدد کے متاثرین کے حقوق۔
  • پناہ گزینوں اور کمزور طبقات کا تحفظ۔
  • مسلح تنازعات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احتساب۔
  • انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کی معاونت۔

ناوی پلے کی اہمیت یہ تھی کہ وہ انسانی حقوق کو صرف اخلاقی اپیل کے طور پر پیش نہیں کرتی تھیں، بلکہ انہیں بین الاقوامی معاہدوں، قانونی ذمہ داریوں اور احتساب کے نظام سے جوڑتی تھیں۔

اس عہدے پر ان کا کام انہیں دنیا بھر کی حکومتوں، سفارت کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

ناوی پلے کی جدوجہد صرف جنگی جرائم تک محدود نہیں رہی۔

وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایکولٹی ناؤ (Equality Now) کی شریک بانیوں میں شامل ہیں۔ اس تنظیم کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی قوانین اور دیگر ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔

ان کے نزدیک خواتین کے حقوق کا مسئلہ معاشرے کے وسیع تر عدالتی اور سماجی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

ان کی اپنی زندگی اس کی ایک مثال ہے: انہیں محض خاتون ہونے اور بھارتی نژاد ہونے کی وجہ سے پیشہ ورانہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تجربے نے انہیں اس بات پر زور دینے کی طرف مائل کیا کہ قانونی برابری صرف کاغذ پر درج اصول نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آنی چاہیے۔

ناوی پلے کے حالیہ بین الاقوامی کردار میں فلسطین اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی نمایاں ہے۔

2021ء میں انہیں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل کی سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 2025ء تک اس کمیشن کی سربراہی کی۔

اس کمیشن کا کام انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر نتائج مرتب کرنا تھا۔

2025ء میں اس کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسرائیل نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

ناوی پلے کی سربراہی میں کمیشن نے بین الاقوامی قانون اور جواب دہی کے اصولوں پر زور دیا۔ ان کے اس کردار نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی اور ان کی شخصیت بین الاقوامی قانونی مباحث میں مزید نمایاں ہوئی۔

یہ بھی ان کے نوبیل امن انعام کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، کیونکہ ان کا پورا کیریئر اس اصول کے گرد گھومتا رہا ہے کہ جنگ اور سیاسی طاقت کے استعمال کے دوران بھی قانون کی پابندی اور انسانی وقار کا تحفظ ضروری ہے۔

ناوی پلے کا ایک اور اہم موجودہ کردار عالمی عدالتِ انصاف  سے وابستہ ہے۔

2019ء سے وہ میانمار کے خلاف گیمبیا کی جانب سے نسل کشی کے کنونشن کے تحت دائر مقدمے میں ایڈہاک جج کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس مقدمے کا تعلق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی سے ہے۔

یہاں ایڈہاک جج کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص مقدمے میں ریاستوں کے درمیان عدالتی کارروائی کے لیے متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ایک جج مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ عہدہ مستقل جج ہونے سے مختلف ہے۔

روہنگیا معاملے میں ناوی پلے کا تجربہ اس لیے اہم ہے کہ وہ نسل کشی کے بین الاقوامی قانون، شواہد اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق طویل عدالتی تجربہ رکھتی ہیں۔

تاہم، ان کے موجودہ عدالتی کردار کو کسی مقدمے کے حتمی نتیجے کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ عدالت کے فیصلے اور قانونی نتائج کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی کے مطابق ہوتا ہے۔

9 اکتوبر 2026ء کو نوبیل امن انعام کی کمیٹی نے ناوی پلے کو 2026ء کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے مطابق ان کا انتخاب امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی طویل جدوجہد کے اعتراف میں کیا گیا۔

ان کے انتخاب کے پس منظر میں ان کی زندگی کے کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں:

اول: نسل پرستی کے خلاف قانونی جدوجہد۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے دور میں متاثرہ افراد اور سیاسی قیدیوں کی نمائندگی کی۔

دوم: بین الاقوامی عدالتی نظام میں کردار۔ انہوں نے روانڈا کے ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں کام کیا، جہاں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق قانونی اصولوں کی تشکیل میں حصہ لیا۔

سوم: انسانی حقوق کا عالمی تحفظ۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر کی حیثیت سے انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی سطح پر نگرانی اور تحفظ کے لیے کام کیا۔

چہارم: جواب دہی اور قانون کی بالادستی۔ ان کا کیریئر اس مؤقف سے وابستہ رہا کہ ریاستی طاقت یا سیاسی اثر و رسوخ کسی کو سنگین بین الاقوامی جرائم کے احتساب سے بالاتر نہیں بنانا چاہیے۔

ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ بین الاقوامی قانون صرف معاہدوں اور عدالتوں کا مجموعہ نہیں؛ یہ ان لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے جن کے پاس اپنے دفاع کے لیے سیاسی طاقت یا مالی وسائل نہیں ہوتے۔

ناوی پلے کی زندگی سے چند بڑے موضوعات سامنے آتے ہیں۔

تعلیم کو سماجی رکاوٹوں پر ترجیح دینا

انہوں نے محدود وسائل اور نسلی امتیاز کے باوجود تعلیم حاصل کی۔ مقامی برادری کی مدد اور ان کی اپنی محنت نے انہیں ایک ایسے پیشے تک پہنچایا جہاں ان کے لیے مواقع بہت کم تھے۔

قانون کو کمزور افراد کے دفاع کے لیے استعمال کرنا

ان کی ابتدائی وکالت سیاسی قیدیوں اور نسل پرستی کے متاثرین کے حقوق کے لیے تھی۔ اسی تجربے نے ان کی بعد کی بین الاقوامی خدمات کی بنیاد رکھی۔

سنگین جرائم کے احتساب کے لیے عالمی قانون کی حمایت

روانڈا کے ٹریبونل میں ان کا کردار نسل کشی اور جنسی تشدد سے متعلق قانونی اصولوں کے ارتقا کے حوالے سے اہم رہا۔

انسانی حقوق کو عالمی ذمہ داری سمجھنا

اقوام متحدہ میں ان کی خدمات اور بعد کے عدالتی کردار نے اس تصور کو آگے بڑھایا کہ انسانی حقوق کا تحفظ صرف کسی ایک ملک کا اندرونی معاملہ نہیں۔

ناوی پلے کی زندگی کو صرف ایک کامیاب خاتون جج کی کہانی سمجھنا کافی نہیں۔ ان کے سفر میں جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ تاریخ، غریب خاندان کی تعلیمی جدوجہد، سیاسی قیدیوں کی وکالت، بین الاقوامی فوجداری قانون کی تشکیل اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں خدمات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہونے والی بچی، جہاں تعلیم حاصل کرنا بھی ایک مشکل جدوجہد تھی، ہارورڈ سے ڈاکٹریٹ تک پہنچی، جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت میں جج بنی، روانڈا کے نسل کشی ٹریبونل کی قیادت کی اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب تک پہنچی۔

ان کی زندگی کا مرکزی سبق یہ ہے کہ قانون کی اہمیت اس وقت سب سے زیادہ سامنے آتی ہے جب طاقت ور افراد یا ریاستی اداروں کے سامنے کمزور انسانوں کے حقوق کا سوال کھڑا ہو۔ یہی وہ بنیادی موضوع ہے جس نے ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو بین الاقوامی اہمیت دی اور 2026ء کے نوبیل امن انعام کے لیے ان کے انتخاب کی بنیاد فراہم کی۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں