رشتہ نکاح باہمی الفت ومحبت یا غلامی و اسیری ؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر خولہ علوی

اگر آسمانی تعلیمات اور حقوقِ نسواں کے سب سے بڑے محسن و محافظ نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ سامنے رکھ کر حقوق نسواں کی بات کی جائے تو بجا طور پر یہ ناقابلِ تردید حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ "اسلام اس کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔”

عام طور پر منبر و محراب سے علماء کی تقاریر و خطابات، عمومی درس و تدریس اور مصنفین کی تحریروں میں شوہروں کے حقوق زیادہ بیان کیے جاتے ہیں لیکن بیویوں کے حقوق سے پہلو تہی کی جاتی ہے یا اس کی طرف نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔

اسلام نے شوہر کو اس کی ذمہ داریوں اور گھر کا نظم و ضبط چلانے کے لیے ایک درجہ برتری عطا کی ہے اور بیوی کو شوہر کا پابند بنایا ہے اور اس پر اس کی مختلف ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ
وَلَـھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ: (سورۃ البقرہ: 228)
ترجمہ: "اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق اور مردوں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔”

قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ
هن لباس لکم و انتم لباس لھن۔ (سورۃ البقرہ: 187)
ترجمہ: "وہ (بیویاں) تمہارا لباس ہیں اور تم (مرد) ان کا لباس ہو۔”

یہاں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لباس سے خوبصورت تشبیہ دی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بنایا گیا ہے۔

یہ بات معاشرے کے اس روایتی اور تہذیبی تصور کے بالکل خلاف ہے کہ عورت "پاؤں کی جوتی” ہے، جسے جب چاہے، بدل لیا جائے، یا عورت "لونڈی” کی مانند ہوتی ہے جس کی ذات اور بات کی کوئی اہمیت نہیں۔

یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں اور عورت کو مرد کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اس کا مخالف ، دشمن اور اس کے حقوق غصب کرنے والا ہے۔
در حقیقت عورت اور مرد کی مساوات مکمل طور پر ممکن ہی نہیں اور یہ فطری نظام کے بھی خلاف ہے۔ عورت اور مرد کی جسمانی ساخت، کیمسٹری ، سائیکالوجی ، قوت کار، استعداد اور فطری زمہ داریاں سب الگ الگ ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے دشمن اور مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے ناگزیر اور ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے ہیں۔

عورتوں کے "میرا جسم، میری مرضی” جیسے نعرے لگانے اور آواز بلند کرنے سے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔
اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان کا جسم اللہ کی امانت ہے۔ انسان اپنی مرضی سے نہ تو خود پیدا ہو سکتا ہے، نہ اپنی مرضی سے مرد یا عورت بن سکتا ہے۔ نہ ہی اپنے آپ کو بچے سے جوان اور نہ ہی جوان کو بوڑھا ہونے سے روک سکتا ہے۔ نہ وہ اپنی مرضی سے مر سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی بیماری سے خود ہی صحت یاب ہو سکتا ہے۔
جب انسان کا جسم اللہ تعالی کی امانت ہے ہے اس پر مرضی بھی اللہ تعالی ہی کی چلے گی۔ اور اس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ
الا لہ الخلق و الامر (سورۃ الاعراف:54)
ترجمہ: "یاد رکھو! اسی نے تخلیق کیا ہے تو حکم بھی اسی کا ہے۔”

دین اسلام چند مستثنیات کے علاوہ مجموعی طور پر تمام احکام ومسائل میں مرد و خواتین کو ایک جیسا قرار دیتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث نبوی ﷺ میں وضاحت بیان ہوئی ہے
"إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ”
ترجمہ: "خواتین تو مردوں ہی کی طرح ہیں”
(سنن ترمذی، ابوداؤد)

نکاح ایک مقدس عہد ہے اور اس میں مرد و عورت دونوں کو فرائض و ذمہ داریوں کی ادائیگی کا پابند کیا گیا ہے ۔یہ نہیں کہ بیوی کو شوہر کی لونڈی اور شوہر کو اس کا مالک کہا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"بیوی شوہر کی لونڈی ہوتی ہے” یہ جملہ جب کبھی پڑھا تو نہایت غیر مناسب اور نامعقول فقرہ محسوس ہوا۔ اور شدید تعجب، پریشانی اور کوفت بھی لاحق ہوئی کہ بیوی کے بارے میں ایسا تحقیرانہ مفہوم قرآن وسنت میں نہ کہیں پڑھا سنا تھا اور نہ ہی کبھی معاشرے میں عمومی طور پر پڑھا سنا تھا۔ مجھے یہ کسی ایسے فرد کی سوچ محسوس ہوئی جو ہندو مذہب کے پیروکاروں کی طرح بیوی کو "پیر کی جوتی” سمجھتا ہو یا لونڈی کی مانند گھٹیا اور حقیر خیال کرتا ہو۔

محسوس ہوا کہ شاید یہ تصور عقد نکاح اور اسلام کے مضبوط خاندانی نظام کا تصور (image) خراب کرنے کیلئے دیا جارہا ہے۔ اور نام نہاد NGOs اور feminism کو سپورٹ کرنے والا ہے۔

معاشرے میں اس قسم کے افکار و خیالات کی ترویج اور عمل سے این جی اوز اور بھانت بھانت کی تحریک نسواں کو کھل کھیلنے کا خوب موقع مل سکتا ہے۔

اسلام نے بیوی کو ہرگز بھی شوہر کی لونڈی نہیں بنایا۔ نبی کریم ﷺ کی سنت مطہرہ اور اسوۂ حسنہ سے آپ کی ازدواجی و عائلی زندگی سے یہ سب کچھ بہت واضح ہے کہ "بیوی بیوی ہوتی ہے اور لونڈی لونڈی ہوتی ہے۔” اور جو مرد اپنی بیوی کا نان و نفقہ اٹھا سکے اور دیگر ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کر سکے، وہی شادی کرے اور اسے احسن طریقے سے نبھائے۔

خواتین کے علاوہ دین دار مردوں کے نفس پر بھی یقیناً یہ تحریر بہت گراں گزری ہو گی۔
کیونکہ یہ انداز فکر نہایت قابل مذمت ہے ۔

اس سے شدید اختلاف اس لیے پیدا ہوا کہ اسلام کا ایسا مزاج نہیں۔ بلکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تواس قسم کے خیالات و افکار اور نظریات حکمت سے عاری اور مغربی ایجنڈے کو فروغ دینے والے بن جاتے ہیں۔

اور ہمارے معاشرے میں لبرل اور سیکولر قسم کی خواتین وقتاً فوقتاً من چاہا اور عجیب و غریب ڈرامہ و تماشہ پیش کرکے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ "وہی اس ملک میں حقوق نسواں کی علمبردار اور محافظ ہیں اور اس معاشرے میں اب خواتین بیدار ہو چکی ہیں اور صحیح معنوں میں اپنے حقوق جانتی اور پہچانتی ہیں اور ان کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔”

پھر غیر ذمہ دار شوہر جو پہلے ہی اپنی بیویوں کے حق میں اچھے نہیں ہیں، انہیں ان نظریات اور تصورات سے مزید شہ ملتی ہے۔ اور اپنی غیر شرعی حرکتوں اور غیر اخلاقی کاموں کے جواز کے لیے دینی دلائل اور بیوی کو طعنہ دینے کے لیے مواد مہیا ہو جاتا ہے۔
لہٰذا یہ سوچ وفکر، یہ عمل اور یہ تقریر و تحریر نہایت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

اسلام سے قبل دور جاہلیت میں عورت منکوحہ ہوکر بھی بہت حد تک لونڈی ہی تھی۔ اسلام نے اسے گھر کی سیدہ، راعیۃ اور مالکہ قرار دیا۔
لیکن اگر آج منکوحہ بیوی کو لونڈی قرار دے دیا جائے تو کتنا عجیب وغریب معاملہ ہے!!!

نوجوان نسل پہلے ہی نکاح سے متنفر ہو رہی ہے ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ملالہ نے بھی ورلڈ میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ
"نکاح کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا پارٹنر بن کر نہیں رہا جا سکتا؟”
اگرچہ بعد میں خود ملالہ نے بھی نکاح کیا تھا اور اس کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

اسی طرح اس بات سے مڈل کلاس گھریلو خواتین کے جذبات کو نہایت ٹھیس پہنچتی ہے جو اپنی زندگیاں اپنے گھروں، شوہروں اور بچوں کے لیے گزار دیتی ہیں اور اسے ہی حاصل زندگی تصور کرتی ہیں۔ یہ ان کے لیے سوہان روح ہے کہ "وہ خاتون خانہ، گھر کی مالکہ یا گھر والی نہیں بلکہ لونڈی ہیں۔”

نبی کریمﷺ نے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہما دونوں کو آزاد کرکے ان سے نکاح کیا تھا۔ یہ دونوں لونڈیاں بن کر مال غنیمت کی صورت میں نبی کریم ﷺ کو ملی تھیں۔ اگر نکاح کے بعد عورت لونڈی ہی بنتی یا رہتی ہے تو نبی کریم ﷺ ان کو آزاد ہی نہ کرتے۔

اگر ہم رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کو دیکھیں تو نبی مہربان ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ہمیشہ محبت و شفقت اور عزت و احترام کا معاملہ رکھا ۔۔۔
لونڈی سے ایسے محبت کہاں کی جاتی ہے ؟ اسے اتنی عزت کب دی جاتی ہے؟

سنت میں کئی مثالیں موجود ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے عین حالتِ جنگ میں اپنی زوجہ مطہرہ سے مشورہ فرمایا۔
ہم نے کبھی کسی حساس اور سنگین مسلئہ میں اپنی ملازمہ سے مشورہ کیا ہے؟

ایک سفر میں ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے اپنے اونٹ پہ چڑھا نہیں جارہا تھا تو آپ ﷺ نے اپنا گھٹنا مبارک نیچے زمین پہ رکھا اور ام المومنین اس پہ پاؤں رکھ کے اونٹ پر سوار ہوئیں۔

اہلِ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں نے شادی کو سماج میں کھیل تماشا بناکر رکھا ہوا ہے۔ وہاں نکاح اور بیوی ناپسندیدہ اور زنا اور گرل فرینڈ پسندیدہ ہیں۔ نکاح مشکل اور زنا آسان بنا دیا گیا ہے۔ اور اب اسلامی معاشرے میں بھی یہی دجالی تہذیب نافذ کرنا ان کا مشن اور پروپیگنڈا ہے۔ غالباً اسی کے ایک تار پود کی شکل یہ اختیار کی گئی ہے کہ "بیوی کو شوہر کی لونڈی بنا دیا جائے۔”

اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر کے لیے اس کی نیک و صالح بیوی دنیا جہاں کی بہترین متاع بے۔ اور بیوی بھی اپنے گھر کی ملکہ اور ذمہ دار ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی عزت و عصمت کے محافظ و نگہبان، ایک دوسرے کے ایمان اور ذات کی تکمیل کا باعث، اور دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں۔

کیا ایک مالک اور لونڈی کے درمیان تعلقات اور الفت و محبت کی یہ نوعیت ہو سکتی ہے؟

                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عقد نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک مقدس شرعی و قانونی معاہدہ ہوتا ہے، جبکہ لونڈی اور اسکے مالک کا تعلق حق ملکیت سے وجود میں آتا ہے۔

عقد نکاح کی صورت میں اللہ تعالی نے بیوی کو شوہر کی اطاعت کا پابند کیا ہے لیکن
"لاطاعة المخلوق فی معصية الخالق” کی شرط کے ساتھ۔ اور اسی طرح خاوند کو بھی بیوی کی حقوق کی ادائیگی کا پابند بنایا۔

یہ بات نصوص، آثار اور اہل علم کے اقوال سے واضح طور پر ثابت ہے کہ بیوی اور لونڈی میں نمایاں فرق ہے۔ جو حقوق وفرائض بیوی کے ہیں وہ ایک لونڈی کے نہیں ہیں۔

بیوی اور لونڈی میں فرق

نکاح اور غلامی میں تو بہت فرق ہوتا ہے ۔
اسی طرح ایک آزاد عورت اور ایک لونڈی کے مقام ومرتبہ (status) اور حقوق و فرائض میں بہت فرق ہوتا ہے۔

اگر بیوی اور لونڈی میں کوئی فرق نہیں تو قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ اور کتب فقہ میں ان کا الگ الگ تذکرہ نہ ہوتا۔

  1. بیوی سے رشتہ کفو کے لحاظ سے جوڑا جاتا ہے جبکہ لونڈی کے معاملے میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

بیوی سے شادی کے موقع پر اس کی عزت افزائی کے لیے2. تحفتاً اسے حق مہر کی ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ لونڈی کو خریدا جاتا ہے۔

3. بیویوں کو بوقت ضرورت معاشی سرگرمیوں اور تجارت کی اجازت ہے لیکن لونڈیوں کو نہیں۔

4. زوجین ایک دوسرے سے سکون بھی حاصل کرتے ہیں یعنی یہاں دونوں میں برابری کا لیول ہے۔

اگر شوہر فوت ہو جائے تو بیوی کو وراثت بھی ملتی ہے5. لیکن لونڈی کو نہیں۔ بلکہ لونڈی تو خود مال وراثت شمار کی جاتی ہے۔

بعض اوقات لونڈی خریدی جاتی ہے یا جنگ وجدل کے بعد مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوتی ہے جبکہ بیوی عقد نکاح کے تحت ملتی ہے۔

بیوی کو علیحدگی یعنی خلع کا حق حاصل ہوتا ہے جبکہ7. لونڈی کو نہیں۔

بیوی کو شوہر کے مال میں حق تصرف دیا گیا ہے جبکہ لونڈی کو اپنے مالک کے مال میں سے کچھ بھی اس کی اجازت کے بغیر لینے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

تعددِ ازواج کی صورت میں ایک مرد کو ایک وقت میں چار بیویوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ جبکہ لونڈیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں۔

10. اگر بیوی اور لونڈی دونوں برابر ہوتیں تو پھر اسلام غلامی کو ختم کر کے لونڈی کی تربیت کرنے کے بعد اس سے نکاح کرنے کو ترجیح کیوں دیتا؟

11. بیوی کو قرآن مجید میں سیدہ، صاحبہ کہا گیا ہے جبکہ حدیث میں خیر متاع الدنیا، قواریر قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ لونڈی کے لیے ایسے کوئی الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔

دیگر بھی بہت سے معاملات ہیں جن میں بیوی کو لونڈی سے کہیں اونچا اور اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہے۔
بیوی کو لونڈی کی مانند سمجھنا نہایت غیر دانشمندانہ اور خلاف مصلحت فکر و نظر ہے.

قرآن وسنت میں نکاح اور حقوق الزوجین کے بارے میں بہت واضح ارشادات بیان کیے گئے ہیں جن سے گھر اور معاشرے کی بھلائی و بہتری مقصود ہے۔

بیوی کو وہ احترام اور وہ حقوق بجا طور پر ملنے چاہئیں جو اسلام نے اسے دیے ہیں۔اور یہ تمام حقوق بیوی کو لونڈی سے ممتاز کرتے ہیں۔

نکاح کی خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لیے اس طرح کے نظریات کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ یہ اسلام کے مضبوط خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ یہ لبرلز کا ایجنڈا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی تقریر و تحریر کی جاتی ہے ۔

؎ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

                 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور جاہلیت میں عورت منکوحہ ہوکر بھی بہت حد تک لونڈی ہی تھی۔ یہ اسلام کا عورت پر احسان ہے کہ اللہ تعالی نے ماں، بہن بیٹی اور بیوی کو مقام و مرتبہ عطا کیا۔ بیوی کی حیثیت سے بھی اس کی نہایت عزت و تکریم کی اور اسے حقوق عطا کیے۔

اگر عورت نکاح کے بعد مرد کی بیوی کے بجائے لونڈی ہی بنتی ہو تو اللہ تعالی کے اس فرمان میں بیوی کے حقوق بھی اسی طرح بتائے جارہے ہیں جیسے اس کے فرائض۔
بس مردوں کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کی وجہ سےایک درجہ اضافی فضیلت عطا کی گئی ہے۔

حضرت ہند بنت عتبہ رضي اللہ تعالی عنہا (زوجہ ابوسفیان رضي اللہ تعالی عنہ) نے جب نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی کہ "ابوسفیان اس پر اور بچوں پر ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتا” تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں فرمایا تھا :
ترجمہ: "تم اپنے اور اپنی اولاد کے لیے جو کافی ہو، اچھے انداز سے لے لیا کرو۔”

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوسفیان کی بیوی ہندبنت عتبہ رضي اللہ تعالی عنہما نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اورکہنے لگیں کہ :
"اے اللہ کے رسول ﷺ ! ابوسفیان بہت حریص اور بخیل آدمی ہیں، مجھے وہ اتنا کچھ نہيں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو۔ الا یہ کہ میں اس کا مال اس کے علم کے بغیر حاصل کرلوں، توکیا ایسا کرنا میرے لیے کوئی گناہ تو نہیں ؟”
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ
"تم اس کے مال میں سے اتنا اچھے انداز سے لے لیا کرو جتنا تمارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔” (صحیح بخاری :5049 ؛ صحیح مسلم: 1714)

عقد نکاح کی صورت میں اللہ تعالی نے عورت کو مرد کی اطاعت کا پابند ضرور کیا ہے لیکن
"لاطاعة المخلوق فی معصية الخالق” کی شرط کے ساتھ
اور اسی طرح شوہر کو بھی بیوی کی حقوق کی ادائیگی کا پابند بنایا۔

بیویوں کی تعداد کی تعیین خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی کہ ایک وقت میں چار بیویاں رکھ سکتا ہے جبکہ لونڈیاں زیادہ رکھ سکتاتھا ہے۔

اللہ تعالی نے نسلوں کے تحفظ کا ضامن نکاح کو بنایا تاکہ بے حیائی کی روک تھام ہو اور معاشرہ مضبوط ہو۔
اور اس کا ایک بنیادی مقصد عورت کا تحفظ اور اسے مقام و مرتبہ دینا ہے، نہ کہ اسے غلامی کے کھونٹے سے باندھنا۔
ورنہ اس دور جاہلیت کی لونڈی آج کی نام نہاد لبرل آزاد سے زیادہ محفوظ تھی کہ وہ کم ازکم کسی کی ملکیت تو تھی۔ اتنی بے لگام تو نہ تھی کہ جب اور جدھر چاہے اور جس کے ساتھ چاہے، چل پڑے۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ لبرلز کا ایجنڈا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اس قسم کے غلط تصورات پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن جس کو بلند کرنے والی اللّہ رب العزت کی ذات ہو، اسے کون گھٹا سکتا ہے۔

بیوی کے عظیم مقام ومرتبہ اور معاشرے میں اس کے مضبوط اور مستحکم کردار کو تسلیم کرکے ہی مضبوط خاندانوں کی تعمیر و تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔

؎ شہروں کا تبدیل ہونا، شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں، عورتوں کے دم سے ہیں
********************


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “رشتہ نکاح باہمی الفت ومحبت یا غلامی و اسیری ؟”

  1. طہورا Avatar
    طہورا

    بہت عمدہ اور مؤثر آرٹیکل ہے ۔